مولانامحمودحسن حسنی ندوی کی زندگی کا سرمایہ علم وقلم تھا:انیس الرحمن قاسمی
مولاناکی وفات پر آل انڈیا ملی کونسل بہار میں تعزیتی نشست منعقد
پھلواری شریف:13/اگست (پریس ریلیز)
آل انڈیا ملی کونسل بہار کے ریاستی دفتر پھلواری شریف،پٹنہ میں تعمیر حیات کے نائب مدیر اورملک کے ممتاز عالم دین مولانامحمودحسن حسنی ندوی کی وفات پر تعزیتی نشست حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کی صدارت میں ہوئی۔اس تعزیتی اور اوردعائیہ نشست کا آغاز مولانا محمد جمال الدین قاسمی صاحب کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔مولانا انیس الرحمن قاسمی نے مولانا محمود حسنی ندوی کی وفات پر اپنے رنجم وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا حسنی کی وفات صرف حسنی خانوادہ کا نہیں،بلکہ زبان و اددب کا خسارہ ہے، مولانا اردو،عربی زبان پر یکساں قدرت رکھتے تھے،اوران کے مضامین تعمیر حیات اورملک کے دیگر مجلات میں مسلسل شائع ہوتے رہے،اللہ تعالی ٰ نے انہیں زود نویسی کا عجیب ملکہ عطاکیا تھا،کم وقت میں متعدد علمی،ادبی کتابیں تصنیف فرمائیں۔وہ بہترین سوانح نگار تھے،بزرگوں کی سوانح لکھنا ان کی زندگی کا مشغلہ تھا،بطورخاص خانوادہ علم اللہ رائے بریلی کی سوانح کے تووہ حافظ تھے،تعمیر حیات نائب مدیرکی حیثیت سے سینکڑوں کتابوں پر انہوں نے تبصرے کئے، ان کے تبصرے بڑے قیمتی اورعلمی ہواکرتے تھے،وہ زندگی کے آخری لمحہ تک علم وقلم کو اپناسرمایہ حیات بنانے رکھے تھے، اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطادفرمائے۔مولانا قاسمی نے خانداوہ حسنی،ندوۃ العلماء اوربطورخاص مرشد الامۃ حضرت مولانا سید محمدرابع حسنی ندوی سے اظہار تعزیت فرمایا۔اس تعزیتی نشست میں آل انڈیا ملی کونسل بہار کے کاگزار جنرل سکریٹری مولانا محمد نافع عارفی، مولانا اسعد اللہ ندوی، مولانا رضاء اللہ قاسمی، مولاناقاری صہیب صاحب مظفرپور، مولانا نعمت اللہ ندوی، مولاناابونصرہاشم وغیرہ شریک تھے۔
Comments are closed.