دار کی خاموش فضاؤں میں ایک مسلمان کا درد بھوج شالہ فیصلہ عدالت جیت گئی، دل ہار گئے

 

✍️ سید آصف امام کاکوی

 

دار کی فضاؤں میں آج ایک عجیب سا درد تیر رہا ہےایسا لگتا ہے جیسے شہر کی ہوا بھی آہستہ آہستہ سسک رہی ہو۔ مسجدوں کے مینار خاموش ہیں خانقاہوں کے چراغ بجھے بجھے محسوس ہوتے ہیں اور ایک مسلمان کا دل اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے۔ آج صرف ایک عدالتی فیصلہ نہیں آیا آج کئی صدیوں کی یادیں زخمی ہوئی ہیں۔ آج بہت سے لوگوں نے صرف ایک عمارت نہیں ہاری بلکہ اپنے وجود، اپنی تاریخ، اپنی پہچان اور اپنے اعتماد کا ایک حصہ کھو دیا۔ ایک عجیب خوف ہے ایک ایسا خوف جسے لفظوں میں مکمل بیان کرنا ممکن نہیں۔وہ خوف کہ کہیں اب ہماری عبادت گاہیں بھی محفوظ نہ رہیں وہ خوف کہ کہیں ہماری تاریخ کو بھی ہم سے چھین نہ لیا جائے وہ خوف کہ کہیں اس ملک میں ہماری خاموشیوں کو ہماری کمزوری نہ سمجھ لیا جائے۔دار کی سڑکوں پر شاید بھیڑ ویسی ہی ہے بازار شاید آج بھی کھلے ہیں مگر مسلمانوں کے دلوں میں ایک سنّاٹا اتر آیا ہے۔ لوگ بات کم کر رہے ہیں اور سوچ زیادہ رہے ہیں۔ کیا واقعی یہی وہ ہندوستان تھا جس کے بارے میں ہمارے بزرگوں نے کہا تھا کہ یہاں سب برابر ہیں؟ کیا یہی وہ ملک تھا جہاں صوفیوں نے محبت کے چراغ جلائے تھے؟ جہاں حضرت کمال الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے انسانیت کو مذہب سے بڑا بتایا تھا؟ آج ان کے آستانے کے قریب کھڑا مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر کب تک اس کی تاریخ عدالتوں میں کھڑی کی جاتی رہے گی؟ کب تک ہر مسجد اپنی شناخت ثابت کرتی رہے گی؟ کب تک ہر مسلمان خوف کے سائے میں جیتا رہے گا؟ یہ درد صرف دیواروں کا نہیں یہ درد دلوں کا ہے۔ یہ درد اس احساس کا ہے کہ شاید اب محبت کمزور پڑتی جا رہی ہے اور نفرت طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ آج دار کی فضا میں خاموشی نہیں بلکہ ایک زخمی قوم کی دبی ہوئی چیخیں ہیں۔ دار کی فضاؤں میں آج ایک عجیب سا سکوت ہے ایسا سکوت جو صرف خاموشی نہیں ہوتا، بلکہ دلوں کے اندر اٹھنے والے طوفانوں کی آواز ہوتا ہے۔ سڑکیں ویسی ہی ہیں، بازار ویسے ہی آباد ہیں، لوگ ویسے ہی چل پھر رہے ہیں… مگر کچھ بدل گیا ہے۔ شاید لوگوں کی آنکھوں میں اعتماد کم ہوا ہےشاید دلوں میں خوف بڑھا ہے اور شاید روحوں پر ایک ایسا بوجھ اتر آیا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کچھ لوگ جشن منا رہے ہیں، مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں، اسے اپنی آستھا کی جیت قرار دے رہے ہیں۔ لیکن انہی گلیوں میں کچھ آنکھیں ایسی بھی ہیں جن میں نمی ہے کچھ دل ایسے بھی ہیں جو مسلسل یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر اس ملک میں ایک مسلمان کی جگہ کہاں ہے؟ کیا اس کی تاریخ محفوظ ہے؟ کیا اس کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں؟ کیا اس کے جذبات کی کوئی قیمت باقی رہ گئی ہے؟ یہ سوال صرف عدالت کے فیصلے سے پیدا نہیں ہوئے یہ سوال برسوں سے مسلمانوں کے دلوں میں پل رہے اس خوف کا نتیجہ ہیں جو وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ بھوج شالہ یہ صرف پتھروں کی ایک عمارت نہیں تھی۔ یہ صرف تاریخ کی ایک نشانی نہیں تھی۔ یہ اس ملک کی اس مشترکہ تہذیب کی علامت تھی جس میں صدیوں تک مختلف مذاہب نے ایک ساتھ سانس لی۔ جہاں اذان بھی گونجتی تھی اور عبادت کی دوسری آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔ جہاں لوگ مذہب سے پہلے انسان تھے۔ لیکن آج ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر پرانی عمارت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ہر مسجد کو عدالت میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔ ہر تاریخی ورثے کو مذہب کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے۔ اور ہر مسلمان کے دل میں ایک نیا خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔ ایک ذمہ دار مسلمان ہونے کے ناطے دل کانپ اٹھتا ہے۔ کیونکہ مسئلہ صرف ایک مسجد یا ایک مندر کا نہیں ہے مسئلہ اس احساس کا ہے کہ کہیں یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن مسلمان صرف اپنی تاریخ کے ملبے پر کھڑے رہ جائیں۔ دار کی اس سرزمین پر حضرت مولانا کمال الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے محبت کا چراغ جلایا تھا۔ وہ صوفی تھےاور صوفی نفرت نہیں بانٹتے۔وہ دلوں کو جوڑتے ہیں۔انہوں نے کبھی کسی انسان سے اس کا مذہب نہیں پوچھا۔ان کی خانقاہ میں ہر مذہب کے لوگ آتے تھے۔ کوئی خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا تھا۔ وہاں انسانیت سب سے بڑا مذہب تھی۔ مگر افسوس آج انہی صوفیوں کی سرزمین کو نفرت کے نعروں میں بانٹا جا رہا ہے۔ وہ جگہ جہاں کبھی محبت کے قصیدے پڑھے جاتے تھے، آج عدالتوں اور سیاست کے شور میں گھِر چکی ہے۔ ایک مسلمان کے دل کا درد صرف یہ نہیں کہ ایک عمارت پر تنازع ہوا درد یہ ہے کہ اس کے جذبات کو بار بار امتحان میں ڈالا جا رہا ہے۔ درد یہ ہے کہ ہر بار اسے یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ شاید وہ اس ملک میں مکمل محفوظ نہیں۔ جب بابری مسجد گری تھی، تب بھی مسلمانوں کے دل ٹوٹے تھے۔ اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ اب سب ختم ہو جائے گا، اب آگے کوئی تنازع نہیں ہوگا۔ لیکن وقت گزرتا گیا اور نئے نئے مسئلے سامنے آتے گئے۔ کبھی گیان واپی، کبھی شاہی عیدگاہ، کبھی سنبھل، کبھی بھوج شالہ ایک عام مسلمان آخر کب تک ڈرے؟ کب تک اپنی عبادت گاہوں کے لیے فکر مند رہے؟ کب تک ہر صبح یہ سوچ کر اٹھے کہ آج کہیں اس کی تاریخ پر نیا سوال تو نہیں اٹھ جائے گا؟ یہ خوف حقیقی ہے۔ اور اس خوف کو محسوس کرنے کے لیے مسلمان ہونا ضروری نہیں، انسان ہونا کافی ہے۔ اس ملک کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کی گنگا جمنی تہذیب رہی ہے۔ یہاں ہولی پر مسلمان رنگ لگاتے تھے اور محرم میں ہندو سبیل لگاتے تھے۔ یہاں درگاہوں پر ہر مذہب کے لوگ چادر چڑھاتے تھے۔ یہاں انسانیت مذہب سے بڑی ہوا کرتی تھی۔ مگر اب ایسا لگتا ہے جیسے لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کیا جا رہا ہے۔ دلوں میں شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں۔ اور تاریخ کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے کہ نفرت بڑھتی جائے۔ تاریخ کبھی مکمل سفید یا مکمل سیاہ نہیں ہوتی۔ ہر دور میں جنگیں بھی ہوئیں، محبتیں بھی ہوئیں،غلطیاں بھی ہوئیں، عظمتیں بھی پیدا ہوئیں۔ لیکن اگر ہر صدی پرانے زخم کو دوبارہ کھولا جائے گا، تو پھر کبھی سکون پیدا نہیں ہوگا۔ کیا واقعی ماضی کی لڑائیاں آج کے ہندوستان کو مضبوط بنائیں گی؟ کیا عدالتوں میں تاریخ کے مقدمے لڑنے سے نوجوانوں کو روزگار مل جائے گا؟ کیا نفرت کے نعروں سے ملک ترقی کرے گا؟ یہ سوال ہر انصاف پسند انسان کے دل میں اٹھ رہے ہیں۔ ایک مسلمان جب عدالت کے فیصلے سنتا ہے، تو وہ صرف قانونی پہلو نہیں دیکھتا وہ اپنے مستقبل کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے چہروں کو دیکھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیا آنے والی نسلیں بھی اسی خوف میں زندگی گزاریں گی؟ یہ خوف شاید لفظوں میں مکمل بیان نہ ہو سکے یکن یہ خوف حقیقی ہے۔ اور یہی خوف آج دار کی فضاؤں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ م

 

 

سلمان اس ملک سے محبت کرتا ہے۔ یہ اس کی سرزمین ہے۔ اس کے بزرگوں کی قبریں یہیں ہیں۔ اس کی تہذیب یہیں پلی بڑھی ہے۔ اس کی زبان، اس کا ادب، اس کی شاعری، اس کی روحانیت سب اسی مٹی کی خوشبو رکھتے ہیں۔ لیکن جب بار بار اس کی شناخت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، تو دل زخمی ہو جاتا ہے۔ آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں اعتماد بحال کیا جائے۔لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ہندوستان سب کا ہے۔ یہاں کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں ہر مذہب کو عزت حاصل ہے۔ کیونکہ اگر ایک طبقہ مسلسل خوف میں رہے گا، تو ملک کبھی حقیقی سکون حاصل نہیں کر سکے گا۔ عدالتوں کا احترام اپنی جگہ ضروری ہے۔ قانونی راستے اختیار کرنا جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ مسلم فریق نے بھی کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ جائے گا۔ یہ ان کا آئینی حق ہے۔ مگر عدالتوں کے فیصلوں سے بھی زیادہ اہم لوگوں کے دل ہوتے ہیں۔ اگر دلوں میں نفرت بھر دی جائے، تو پھر کوئی آئین، کوئی قانون، کوئی فیصلہ معاشرے کو نہیں بچا سکتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ نفرت کے بجائے محبت کی زبان بولیں۔ ایک دوسرے کے درد کو سمجھیں۔ تاریخ کو جنگ کا ہتھیار نہ بنائیں۔ کیونکہ اگر ہر نسل صرف پرانے زخم گنتی رہی، تو آنے والی نسلیں محبت کرنا بھول جائیں گی۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا دل ہی تو ہے جہاں خدا بستا ہے، کسی کا دل مت توڑو۔ مگر آج لگتا ہے جیسے دل توڑنا آسان ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانا آسان ہو گیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگے ہیں۔یہ ہندوستان کی روح کے لیے خطرناک ہے۔ یہ ملک صرف اکثریت کے نعروں سے نہیں چلے گا۔ یہ ملک تبھی بچے گا جب یہاں ہر مذہب کا انسان خود کو محفوظ محسوس کرے گا۔ جب یہاں مسجد کی اذان اور مندر کی گھنٹیاں ایک دوسرے سے خوفزدہ نہیں ہوں گی۔ جب یہاں سیاست نفرت نہیں، انسانیت کے نام پر ہوگی۔ دار آج صرف ایک شہر نہیں بلکہ ہندوستان کے ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ یہ فیصلہ شاید تاریخ میں درج ہو جائے گا، مگر آنے والی نسلیں یہ بھی یاد رکھیں گی کہ اس دور میں لوگوں نے نفرت کو بڑھایا تھا یا محبت کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ ایک مسلمان کے دل میں آج بے چینی ہے لیکن اس کے باوجود امید ابھی زندہ ہے۔ امید اس بات کی کہ ہندوستان کی روح مکمل طور پر زخمی نہیں ہوئی۔امید اس بات کی کہ انصاف کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ اور امید اس بات کی کہ ایک دن لوگ سمجھیں گے کہ ملک صرف زمین سے نہیں بنتے ملک دلوں سے بنتے ہیں۔ اگر دل ڈر جائیں، تو ہر جیت ادھوری رہ جاتی ہے۔ آج دار کی فضاؤں میں شاید خاموشی ہے مگر اس خاموشی کے اندر ہزاروں سوال چیخ رہے ہیں۔ اور ایک بے چین مسلمان صرف اتنا پوچھ رہا ہے کیا اس ملک میں محبت اب بھی زندہ ہے؟ فیصلوں سے عمارتیں تقسیم ہو سکتی ہیں، مگر دلوں کی وراثت کبھی تقسیم نہیں ہوتی۔ درد اتنا تھا کہ آواز بھی رو پڑی، ہم خاموش رہے… مگر شہر بول پڑا۔ نفرت کے بازار میں محبت سستی ہو گئی، اور انسانیت تنہا کھڑی رہ گئی۔

 

Comments are closed.