حریتِ فکرِ نو
(یہ مقالہ یورپین و انڈونیشین جامعات كی مشتركہ گریجویٹ كانفرنس میں پیش كیا گیا ہے، افادیت كے لئے قسط وار یاں مكمل شائع كیاجاسكتاہے)
حسن مدنی ندوی (ریسرچ اسكالر)
دہلی کے قدیم چائے خانوں میں اٹھتے ہوئے دھوئیں کی خوشبو ہو یا ڈھاکا کی پرپیچ گلیوں کی چہل پہل؛ حیدرآباد و ممبئی کے پرہجوم بازار ہوں یا کراچی کے ساحلی شہر کی وسعتیں ہر جگہ ایک خاموش مگر نہایت گہری فکری تبدیلی کا سفر جاری ہے۔ یہ تبدیلی کسی نقارے کی گونج کے بغیر خاموشی سے دلوں اور ذہنوں میں سرایت کر رہی ہے۔ آج کا نوجوان مسلمان، طالب علم، انجینئر، محنت کش اور یہاں تک کہ گھروں کی مستورات بھی، اپنے مقامی مفتی یا روایتی مولوی کے حجرے کا رخ کرنے کے بجائے اپنی جیب میں موجود ‘اسمارٹ فون’ کی اسکرین پر حقائق تلاش کر رہے ہیں۔ وہ اب محض مصلے پر بیٹھے مقلد نہیں، بلکہ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع اور بے کراں بازار میں بکھرے ہوئے بیسیوں محاضرات، مذہبی مباحثوں اور فکری استدلال کے ذریعے اپنے مذہبی نتائج تک پہنچ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ ایمان سے دوری یا الحاد کی کوئی کہانی نہیں ہے، بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے: یہ ایمان کے ایک نئے اور گہرے شعور کی دلیل ہے۔ یہ ایک ایسی جستجو ہے جو نئے انداز، جدید ذرائع اور نئی امیدوں کے ساتھ اپنی منزل کا سراغ لگا رہی ہے۔ بقولِ اقبال:
نئی بجلی چمکتی ہے جب اس بادل کے سینے میں
تو پھر اک ندرتِ پیدا ہے بزمِ حق گزیں میں
صدیوں سے برصغیر کی دھرتی پر علمائے کرام اسلامی علوم کے نگہبان اور مذہبی اقدار کے معتبر محافظ رہے ہیں۔ ان کا یہ منصب بلاشبہ قابلِ صد احترام رہا ہے، مگر آج یہ ‘محافظت’ کا کردار ایک بے مثال اور تاریخی دباؤ کی زد میں ہے۔ یہ دباؤ کسی بیرونی دشمن یا لادینیت کی طرف سے نہیں، بلکہ خود مسلم معاشرے کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسی نسل کی پکار ہے جو ڈیجیٹل طور پر پوری دنیا سے جڑی ہوئی ہے، جس کا تجسس گہرا ہے اور جس کی علمی بنیادیں نہایت مستحکم ہیں۔ وہ اب کسی بات کو محض اس لیے تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ وہ کہی گئی ہے، بلکہ وہ اس کی عقلی و نقلی سند کا مطالبہ کرتی ہے۔
مذہبی اجارہ داری اور عام فکری شمولیت کے مابین یہ کشیدگی جنوبی ایشیا کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس خطے نے ماضیِ قریب میں ایسے بیباک مصلحین کو جنم دیا جنہوں نے فکری جمود کے بتوں کو پاش پاش کیا، ناقدانہ علمیت کا پرچم بلند کیا اور حریتِ فکر کا نعرہ لگایا۔ آج کی ڈیجیٹل فکری لہر دراصل اسی تاریخی تسلسل کا عصری اظہار ہے، جسے ٹیکنالوجی نے مہمیز کر دیا ہے۔ یہ رجحان اگرچہ اپنے اندر چند خطرات بھی سموئے ہوئے ہے، مگر اس کی جڑیں اسی خالص اسلامی روایت میں پیوست ہیں جو سوال کرنے، استدلال کرنے اور مسلسل تجدیدِ فکر کی دعوت دیتی ہے۔
قراَن وسنت كا حكم نامہ
مسلم نوجوانوں کی یہ علمی بے قراری اور فکری بے چینی ہرگز اسلامی اقدار سے انحراف نہیں ہے، بلکہ یہ عین منشائے الٰہی کی تعمیل ہے۔ قرآنِ حکیم عقلِ انسانی کو وحیِ الٰہی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا صراحت کے ساتھ حکم دیتا ہے۔ سورۃ ص میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور (تدبر) کریں اور دانشمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔”
یہاں لفظ ‘تدبر’ محض سرسری مطالعہ یا واجبی سوچ نہیں، بلکہ ایک ایسی گہری اور پائیدار فکر ہے جو حقیقت کی تہوں تک پہنچ جائے۔ قرآن میں غور و خوض، مشاہدے اور استدلال کی دعوت دینے والے ۷۵۰ سے زائد مقامات موجود ہیں۔ یہ قرآنی فریضہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام محض جذباتی وابستگی کا نام نہیں، بلکہ بصیرت کا تقاضا کرتا ہے۔
نوجوانی میں فکری سوالات اٹھانے کا بہترین نمونہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ہے، جنہوں نے آسمان کے ستاروں، چاند اور سورج کو دیکھ کر اپنے رب کی معرفت کے لیے سوالات اٹھائے۔ حتیٰ کہ جب انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:
"اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔”
تو یہ سوال کسی شک کی بنا پر نہ تھا، بلکہ یہ ایک بیدار مغز مومن کی جستجو تھی جو اپنے ایمان کو ‘ایمانِ ایقانی’ بنانا چاہتا تھا۔ ابراہیمؑ کا یہ اسوہ آج کے اس نوجوان کے لیے مشعلِ راہ ہے جسے اکثر یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ سوال کرنا بے ادبی یا کفر ہے۔
رسالت مآبﷺ نے نوجوانی کی عبادت کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث کے مطابق، قیامت کے روز جن سات خوش نصیبوں کو عرشِ الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا، ان میں ایک وہ نوجوان بھی ہے جس کی نشوونما اللہ کی عبادت میں ہوئی۔ امام نوویؒ جیسے اکابرین اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہاں ‘عبادت’ محض صوم و صلوٰۃ تک محدود نہیں، بلکہ علم کی سچی تلاش، حق کی جستجو، اخلاقی اقدار کی پاسداری اور فکری دیانتداری بھی عین عبادت ہے۔ وہ نوجوان جو وراثت میں ملی روایات کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتا ہے، وہ ہرگز دین سے دور نہیں بلکہ سنتِ نبویﷺ کے سائے میں ہے۔
برصغیر کا مسلم تنگ نظر مسلم معاشرہ
اس علمی تبدیلی کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس سماجی ڈھانچے کا تجزیہ کرنا ہوگا جس نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو جکڑ رکھا ہے۔ برصغیر کا مسلم معاشرہ اپنی علمی ثروت کے باوجود تاریخی طور پر ایک خاص قسم کی ‘تنگ نظری’ کا شکار رہا ہے۔ یہاں اسلام کی عالمگیر مساوات کے باوجود قبل از اسلام کے جاہلانہ سماجی ڈھانچے اور ذات پات کی تقسیم کو برقرار رکھا گیا۔
چودھویں صدی کے مؤرخ ضیاء الدین برنی نے "فتاویٰ جہانداری” میں جس طرح ‘اشراف و ارزال’ کی تقسیم کو مذہبی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی اور مناصبِ جلیلہ کو محض ‘اچھے نسب’ والوں کے لیے مخصوص کرنے کا مشورہ دیا، وہ سراسر غیر اسلامی اور جاہلانہ تعصب تھا۔ ڈاکٹر امتیاز احمد کی سماجی تحقیق بتاتی ہے کہ ہندو مت سے مستعار لی گئی ذات پات کی یہ جڑیں مسلمانوں کے ‘سماجی ڈی این اے’ میں اس قدر گہری ہو گئیں کہ سید، پٹھان اور صدیقی جیسے خانوادوں کو دیگر پر فوقیت دی جانے لگی، جو کہ سراسر قرآن کے "ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم” کے اصول کی نفی تھی۔
اسی طرح وراثت کے معاملات میں پنجاب اور شمال مغربی سرحدی علاقوں میں اسلامی شریعت کے واضح احکامات کے برعکس ‘روایتی قانون’ (Customary Law) کو ترجیح دی گئی، تاکہ زرعی زمین مردوں کے پاس رہے اور بیٹیوں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھا جائے۔ علماء اس ناانصافی سے واقف تو تھے، مگر معاشرتی دباؤ ان کے مذہبی اختیار پر غالب رہا۔
بیوہ عورت سے نکاح کے معاملے میں بھی برصغیر کا رویہ نہایت معاندانہ رہا۔ اللہ کے رسولﷺ نے خود بیواؤں سے نکاح کر کے اس سنت کی حوصلہ افزائی کی، مگر مغل دور کے بعد سے برصغیر کی اشرافیہ میں اسے عیب اور بے عزتی کی علامت سمجھا جانے لگا بالکل اسی طرح جیسے ہندو تصور میں بیوہ ہونا ایک سزا ہے۔ یہ سید احمد شہیدؒ جیسے مصلحین تھے جنہوں نے اس جاہلانہ رسم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور سنتِ نبویﷺ کو دوبارہ زندہ کرنے کی جدوجہد کی۔
برصغیر میں اسلام کی اشاعت میں صوفیائے کرام کا کردار کلیدی رہا ہے، لیکن ان کی عبقریت کا ایک پہلو ایسا بھی تھا جس نے معاشرے میں ‘علمی انحصار’ (Intellectual Dependency) پیدا کر دیا۔ مقامی روایات کو جذب کرنے کے عمل میں ‘عرس’ اور دیگر تہواروں میں ایسی رسومات در آئیں جو ہندووانہ رنگ لیے ہوئے تھیں۔ "مرشد-مرید” کا رشتہ بسا اوقات "گورو-چیلا” کی تقلید بن گیا، جہاں شاگرد اپنی تمام تر ناقدانہ صلاحیتوں کو پیر و مرشد کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا تھا۔ ڈاکٹر تارا چند کے مطابق، اس رویے نے معاشرے کو فکری طور پر مفلوج کر کے ‘مذہبی پنڈتوں’ کے حوالے کر دیا، جہاں سوال کرنا گناہ سمجھا جانے لگا۔
درسِ نظامی: ایک عہدِ رفتہ کی یادگار
تعلیمی میدان میں "درسِ نظامی”جس کی بنیاد ملا نظام الدین نے لکھنؤ کے فرنگی محل میں رکھی تھی، اپنے وقت کا ایک فکری شاہکار تھا۔ یہ مغل حکومت کے زوال کے عہد میں ایسے قاضی اور منتظمین پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جو منطق، فلسفہ، فقہ اور اصولیات میں ماہر ہوں تاکہ ان کی تجزیاتی صلاحیتیں بیدار ہوں۔ اٹھارہویں صدی میں یہ نصاب نہایت معتبر تھا، مگر شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اپنی تصنیف "حجۃ اللہ البالغہ” میں بروقت خبردار کیا تھا کہ جنوبی ایشیائی مسلمان مقامی عادات اور جامد روایات میں اس قدر گم ہو گئے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی عالمی روح سے رشتہ توڑ لیا ہے۔ انہوں نے درسِ نظامی کو مسترد نہیں کیا، بلکہ اس کے اندر اصلاح اور روح کی واپسی کا مطالبہ کیا۔
المیہ یہ ہے کہ بیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے یہ نصابِ تعلیم عصرِ حاضر کے تقاضوں سے کٹ کر ‘آؤٹ ڈیٹڈ’ ہو گیا۔ وہ منطق اور فلسفہ جو کبھی ذہنوں کو جلا بخشتا تھا، اب محض الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ گیا۔ اس سے پیدا ہونے والا عالم اب وہ کلاسیکی وسعتِ نظری نہیں رکھتا جو ماضی کا خاصہ تھی۔ سب سے بڑا نقصان اس خود ساختہ تقسیم نے کیا جس نے علم کو "دینی” اور "دنیوی” خانوں میں بانٹ دیا۔ یہ علمی تقسیم ملتِ اسلامیہ ہندیہ کے فکری زوال کا سب سے بڑا سبب بنی، جس نے ایک طرف ایسے افراد پیدا کیے جو دنیا سے ناواقف تھے اور دوسری طرف وہ لوگ سامنے آئے جو دین کی روح سے ناآشنا تھے۔
آج کا ڈیجیٹل انقلاب دراصل اسی دیوار کو گرانے کی ایک کوشش ہے، جہاں علم اپنی وحدت کی تلاش میں ایک بار پھر سرگرداں ہے۔
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے (اکبر الہ آبادی)
(مگر ان انڈوں سے نکلنے والی نئی نسل اب خود اپنی جڑیں تلاش کر رہی ہے)۔
روایتِ اصلاح و تجدید: ایک فکری ارتقاء اور عصرِ حاضر کی کشمکش
عہدِ حاضر کی علمی و فکری قلبِ ماہیت کسی خلا کی پیداوار نہیں، بلکہ یہ ایک طویل تاریخی تسلسل کا ثمر ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے دورِ ابتلا میں، جب برصغیر پاک و ہند نت نئے چیلنجز کی زد میں تھا، اس خطے کی کوکھ نے ایسی نابغہِ روزگار اور عبقری اسلامی شخصیات کو جنم دیا جنہوں نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ ان اکابرین نے ٹھیک اسی کشمکش کا سامنا کیا جو آج ہمیں درپیش ہے: یعنی ایک جانب روایت کی پاسداری اور اس کا علمی رعب، اور دوسری جانب تغیر پذیر دنیا کے کڑے تقاضے۔ اس مضمون میں ان عظیم ہستیوں کی چھوڑی ہوئی علمی میراث کو ایک ‘مقامی پل’سے تعبیر کیا گیا ہے، جو ماضی کے روایتی علمائے کرام اور عصرِ حاضر کے ڈیجیٹل آلات سے لیس جدید ذہن رکھنے والے نوجوانوں کے مابین رابطے کا واحد اور مستحکم ذریعہ ہے۔
سر سید احمد خاں: عقل و وحی کی ہم آہنگی جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کی خونچکاں اور ہولناک تباہی کے بعد، جب برصغیر کے مسلمان اپنے بدترین تہذیبی و وجودی بحران سے گزر رہے تھے، سر سید احمد خاں (۱۸۱۷-۱۸۹۸) نے ایک ایسا نظریہ پیش کیا جس کی جرأتِ رندانہ نے وقت کے جمود کو توڑ کر رکھ دیا۔ ان کا استدلال غایت درجے حیرت انگیز اور جاندار تھا: اسلام اور جدید عقلی و سائنسی تحقیق ہرگز ایک دوسرے کے حریف نہیں ہیں۔ سال ۱۸۷۵ء میں علی گڑھ کے مقام پر "محمڈن اینگلو اورینٹل کالج” کا قیام اسی پختہ عقیدے کی عملی بنیاد پر رکھا گیا تھا کہ ہر تعلیم یافتہ مسلمان کا یہ پیدائشی حق اور دینی فریضہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کو اپنی عقل و دانش کی کسوٹی پر ہم آہنگ کرے۔
"عالمِ فطرت خالقِ کائنات کا فعل ہے، اور قرآن اُس کا قول ہے۔ بھلا خدا کے قول اور فعل میں تضاد کیسے ممکن ہے؟”
اگرچہ سر سید پر یہ کڑی تنقید کی گئی کہ وہ اسلام کی روحانیت کو محض مادیت اور عقلانیت کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں، مگر ان کا سب سے گراں قدر علمی کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر علمی جواز کے کسی کی اندھی تقلید کرنا کوئی ایمانداری نہیں، بلکہ یہ سراسر عقلی سستی اور فکری جمود ہے جسے تقدس کے لبادے میں چھپایا گیا ہے۔ اسی جرأتِ اظہار نے اسلامی فکر میں تنقیدی شعور اور شمولیت کا وہ بیج بویا جو آج کے ڈیجیٹل دور میں تناور درخت بن کر پھل دے رہا ہے۔
علامہ شبلی نعمانی: تاریخ نگاری میں تنقیدی شعور علامہ شبلی نعمانی (۱۸۵۷-۱۹۱۴) کی عبقری شخصیت نے جنوبی ایشیا کی اسلامی و فکری زندگی میں تنقیدی اور تاریخی تحقیق
کی باقاعدہ داغ بیل ڈالی۔ اگرچہ ان کی اپنی پرورش اور تعلیم خالصتاً روایتی مدرسے کے ماحول میں ہوئی تھی، مگر وہ یورپی مستشرقین کے تحقیقی اسلوب سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔ علامہ شبلی نے اپنی شہرہ آفاق تصانیف، جن میں ضخیم "سیرت النبیﷺ” اور "الفاروق” (سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سوانح عمری) سرِفہرست ہیں، کے ذریعے اسلامی تاریخ اور فقہ پر تحقیق کے انتہائی کڑے اور سخت معیارات قائم کیے۔ لکھنؤ میں "ندوۃ العلماء” کا قیام دراصل درسِ نظامی کے محدود اور تنگ دائرے کے خلاف ایک منظم اور راست علمی ردعمل تھا، جس کا مقصد قدیم اور جدید علوم کو ایک ہی لڑی میں پرونا تھا۔
"ہمارے دور کے علماء یہ فراموش کر بیٹھے ہیں کہ علم کوئی جامد شے نہیں ہے۔ ابتدائی دور کے مسلم محققین مجتہد اور جدت پسند تھے۔ ہم نے تو محض پرانی باتوں کو دہرانے اور ان کی جگالی کرنے کو ہی اپنا منصب بنا لیا ہے، اور نئی سوچ کو گناہ تصور کر لیا ہے۔”
علامہ شبلی کی یہ مایوسی اور کرب آج جنوبی ایشیا کے نوجوان مسلمانوں کے دلوں میں پوری شدت سے گونجتا ہے۔ آج کا نوجوان جب احادیث کی تاریخی تدوین، فقہی مکاتبِ فکر کے ارتقاء، یا ابتدائی اسلامی قانون کی تشکیل میں کارفرما سیاسی محرکات کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے، تو اسے روایتی فتووں سے دھتکارنے کے بجائے، حقیقی اور مدلل علمی جوابات کی تشنگی ہوتی ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد: حریتِ فکر کا استعارہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد (۱۸۸۸-۱۹۵۸) برصغیر کی فکری روایت میں کلاسیکی اسلامی علوم اور بے باک حریتِ فکر کا حسین ترین امتزاج ہیں۔ اپنی مایہ ناز اور ضخیم تفسیر "ترجمان القرآن” میں، مولانا آزاد نے پوری قوت اور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ قرآنِ مجید کا بنیادی اور آفاقی پیغام انسانی آزادی اور حریت کا پیغام ہے۔ یہ کتابِ الٰہی کسی اور کو مخاطب کرنے سے قبل براہِ راست انسان کی عقل اور فہم سے کلام کرتی ہے۔
"قرآن سب سے پہلے انسانی عقل کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ کہتا ہے: غور کرو، استدلال کرو، سمجھو۔ یہ ہرگز نہیں کہتا کہ صرف وہ سنو اور مان لو جو تمہیں علماء نے بتا دیا ہے۔”
آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں مختلف اور بسا اوقات متصادم آراء کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے، مولانا آزاد کا یہ اسلوب نوجوان مسلمانوں کو فکری آزادی عطا کرتا ہے ایک ایسی آزادی جس میں وہ پڑھ سکتے ہیں، پرکھ سکتے ہیں، اور بغیر کسی احساسِ جرم کے غور و خوض کر سکتے ہیں۔ آزاد دراصل اسی آزادانہ فکری صلاحیت کو قانونی اور شرعی جواز فراہم کرتے ہیں جسے روایتی حلقے اکثر شک اور ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
علامہ محمد اقبال: بابِ اجتہاد کی بازیافت مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال (۱۸۷۷-۱۹۳۸) اس مقالے کے بنیادی استدلال کے حوالے سے غالباً سب سے زیادہ متعلقہ اور قدآور اصلاح پسند رہنما ہیں۔ اپنے مشہورِ زمانہ خطبات "تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ” میں، انہوں نے انتہائی دردمندی سے یہ دعویٰ کیا کہ نام نہاد ‘بابِ اجتہاد کا بند ہونا’
اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کی جانب سے اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف اور سب سے بڑا فکری المیہ تھا۔ یہ کوئی آسمانی یا الہامی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ محض انسانوں کا مسلط کردہ ایک فرسودہ تصور تھا۔
"اجتہاد کے دروازے کا بند ہونا، اسلام کی جامد قانونی سوچ کی تراشی ہوئی ایک خالص فکشن (افسانہ) ہے۔ کیا ہمارے فقہی مکاتبِ فکر کے بانیانِ عظام نے کبھی خود یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اجتہاد کے دروازے ہمیشہ کے لیے مقفل کر دیے ہیں؟”
علامہ اقبال کا خواب نہایت عظیم اور روشن تھا: انہوں نے اجتہاد کو جمہوریانے کا ولولہ انگیز مطالبہ کیا۔ ان کے نزدیک قانون سازی محض چند مخصوص پڑھے لکھے مذہبی طبقات یا پادری نما افراد کی جاگیر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ مسلم قانون ساز اسمبلیوں اور مشاورتی کونسلوں کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق مسلسل قانونی جدت اور اجتہاد کا فریضہ سرانجام دینا چاہیے۔ آج کا وہ نوجوان مسلمان جو بیک وقت کئی ڈیجیٹل اسکالرز کو سنتا ہے، ان کے دلائل کو تنقیدی نگاہ سے پرکھتا ہے، اور محض کسی ادارے کے رعب یا اختیار کی بنیاد پر آنکھیں بند کر کے فتوے قبول نہیں کرتا، وہ درحقیقت خواہ غیر رسمی اور نامکمل طور پر ہی سہی اقبال کے اسی تصورِ اجتہاد کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
سید ابوالاعلیٰ مودودی: فکری جمہوریت اور اس کی تحدید مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳-۱۹۷۹)، جو جماعتِ اسلامی کے بانی اور بیسویں صدی میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اسلامی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں، اس فکری تسلسل میں ایک انتہائی منفرد اور پیچیدہ مقام کے حامل ہیں۔ مولانا مودودی خود روایتی علمائے کرام کے ایک سخت ناقد تھے؛ ان کا استدلال تھا کہ ان حلقوں نے اسلام کو محض چند کھوکھلی رسوم و رواج تک محدود کر کے رکھ دیا ہے اور اسے اس کے ہمہ گیر سماجی، ریاستی اور سیاسی تصور سے مکمل طور پر کاٹ دیا ہے۔
"اسلام مغربی اصطلاح کے مطابق محض ایک ‘مذہب’ نہیں ہے۔ یہ ایک مکمل ضابطہِ حیات ہےایک ایسا جامع نظام جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہے۔”
اس سے بھی بڑھ کر، مولانا مودودی نے عملی طور پر اسلامی علوم کو خواص کے حجروں سے نکال کر عوام تک پہنچایا ۔ ان کی شہرہ آفاق چھ جلدوں پر مشتمل تفسیر "تفہیم القرآن”، جو سلیس اور عام فہم اردو میں لکھی گئی، برصغیر کی تاریخ میں تعلیم یافتہ عوام کو براہِ راست قرآن سے جوڑنے کا پہلا عظیم الشان فکری منصوبہ تھا۔ انہوں نے شعوری طور پر مدرسے کی روایتی اجارہ داری کو نظرانداز کیا تاکہ براہِ راست جدید تعلیم یافتہ طبقے کے ذہنوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ اس نہج پر چلتے ہوئے، انہوں نے درحقیقت وہ سازگار ماحول اور زمین تیار کی جس پر آج کے ڈیجیٹل اسلامی مواد تخلیق کرنے والےکھڑے ہیں۔
تاہم، مولانا مودودی نے اس راہ میں ایک سخت انتباہ بھی جاری کیا: انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی اور اساسی متون (قرآن و سنت) کے ساتھ منطقی اور منظم انداز میں جڑنا ناگزیر ہے۔ علم میں گہرائی کے بغیر محض سطحی اور سادہ فہمی زہرِ قاتل ہے۔ ان کی چھوڑی ہوئی یہ میراث دراصل اس پوری بحث کی مرکزی کشمکش کو ایک ہی ذات میں سمو دیتی ہے۔
تقسیمِ علم کا المیہ: دین اور دنیا کی تفریق
موجودہ علمی اور فکری بحران کی جڑیں جس سب سے بڑے ساختیاتی مسئلے میں پیوست ہیں، وہ علم کو ‘دینی علوم’ اور ‘دنیوی علوم’ کے خانوں میں بانٹنا ہے۔ یہ ایک ایسی مصنوعی تفریق ہے جس کی قرآنِ مجید یا سنتِ رسولﷺ میں کوئی اصل یا بنیاد موجود نہیں ہے۔ یہ تقسیم خالصتاً برصغیر میں نوآبادیاتی تسلط اور اس کے نتیجے میں مدافعانہ پوزیشن اختیار کرنے والے مسلم اداروں کے ردعمل کا شاخسانہ تھی۔
جب ۱۸۳۵ء میں لارڈ میکالے نے اپنے مشہور "منٹ آن انڈین ایجوکیشن” کے ذریعے برصغیر کے تعلیمی نظام کو تہہ و بالا کیا، تو اس کا واضح اور مکروہ ہدف ایک ایسی نسل تیار کرنا تھا جو: "خون اور رنگت کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو، لیکن اپنے ذوق، آراء، اخلاقیات اور فہم و فراست میں کماحقہٗ انگریز ہو۔” اس موقع پر مسلمانوں کو ایک کڑے وجودی انتخاب کا سامنا تھا۔ جنہوں نے اس نئے انگریزی نصاب کو گلے لگایا، وہ انتظامی اور پیشہ ورانہ مناصب پر تو فائز ہو گئے، لیکن اسلامی علوم اور اپنی روح سے اپنا تعلق کھو بیٹھے۔ دوسری جانب، جنہوں نے دین بچانے کی خاطر مدرسوں کے حجروں میں پناہ لی، انہوں نے بلاشبہ اپنی مذہبی شناخت تو محفوظ کر لی، لیکن وہ سائنسی، معاشی اور سماجی ترقی کے اس دھارے سے بالکل کٹ گئے جو ان کے اردگرد کی دنیا کو تیزی سے بدل رہا تھا۔ ان دونوں دنیاؤں کے درمیان کھڑی کی گئی یہ فولادی دیوار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دو بالکل مختلف معاشرے۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی زندگی کی وہ تلخ ترین اور حل طلب کشمکش ہے جو آج تک جاری ہے۔
حالانکہ اسلام کی اپنی مستند فکری روایت اس تفریق کی قطعی کوئی گنجائش نہیں دیتی۔ قرآنِ حکیم تو کائنات کی تسخیر اور مظاہرِ فطرت پر غور و خوض کو ایک دینی فریضہ قرار دیتا ہے:
"اور اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔” (القرآن)
امام غزالیؒ اپنی مایہ ناز تصنیف "احیاء علوم الدین” میں طب، ریاضی، اور طبعی علوم کی تحصیل کو "فرضِ کفایہ” (ایک اجتماعی دینی فریضہ) قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر کسی مسلم معاشرے میں قابل اور ماہر ڈاکٹرز، انجینئرز یا سائنسدان موجود نہیں ہیں، تو اس کوتاہی اور غفلت کا گناہ پورے معاشرے کے سر ہوگا۔ اسی طرح، برصغیر کے عظیم مفکر شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا "ارتفاقات” (انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقائی مراحل) کا نظریہ مادی اور سماجی ترقی کو منشائے الٰہی کے وسیع تر مقاصد میں شامل کرتا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے نزدیک، انسانی معاشرے کی مادی حالت اور اس کے تقاضوں کو سمجھے بغیر رضائے الٰہی کا ادراک ناممکن ہے؛ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
اسلامی تاریخ کے سنہری دور کے اکابرین اور عبقری شخصیات جیسے ابن سینا، فارابی، اور ابن الہیثمل نے کبھی علم کی اس تفریق کا سامنا نہیں کیا۔ وہ بیک وقت ماہرِ طب بھی تھے اور فلسفی بھی؛ وہ سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ متبحر عالمِ دین اور منصفِ اعلیٰ (قاضی) بھی تھے۔ ان کی روشن دنیا میں ‘خدا کی کتاب’ (قرآن) اور ‘فطرت کی کتاب’ (کائنات) الگ الگ نہیں تھیں، بلکہ وہ ان دونوں کا بہ یک وقت مطالعہ کرتے تھے۔ ‘دینی’ علم کو ‘عقلی’ علم سے بیگانہ کرنا دراصل ایک استعماری بیماری اور نوآبادیاتی سازش کا نتیجہ ہے، یہ ہرگز کوئی اسلامی اصول نہیں۔
ڈیجیٹل اسلامی فکریات کی تجلی اور عروج
علوم کی اس مصنوعی تفریق، سماجی گھٹن، اور علمی تعطل کے اسی تاریک پس منظر میں، ڈیجیٹل اسلامی فکریات کا ظہور ایک حقیقی اور تازہ صبح کی نوید ہے۔ وہ شخصیات جنہوں نے جنوبی ایشیا کی ڈیجیٹل اسلامی فضا میں سب سے زیادہ مقبولیت اور رسائی حاصل کی ہے جیسے جاوید احمد غامدی، انجینئر محمد علی مرزا، نعمان علی خان، ڈاکٹر ذاکر نائیک اور دیگر ممتاز سکالرز(یاد رہے ہمیں ان حضرات کی تمام باتوں سے اتفاق نہیں ہے ) ان سب میں چند ایسی قدرِ مشترک خصوصیات پائی جاتی ہیں جو انہیں روایتی طرزِ استدلال رکھنے والے علمائے کرام سے ممتاز کرتی ہیں، اور یہی ان کی نوجوان نسل میں بے پناہ مقبولیت کا راز بھی ہیں:
1. بنیادی مآخذ سے براہِ راست رجوع: سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت جیسے بنیادی اور اساسی متون کے ساتھ براہِ راست تعلق کو ترجیح دیتے ہیں۔ جہاں روایتی طرزِ تدریس عموماً کلاسیکی شروحات اور مخصوص فقہی مکاتبِ فکر کی دبیز تہوں کے ذریعے بات کرتا ہے، وہاں یہ ڈیجیٹل مفکرین براہِ راست قرآن اور احادیث کے متن کی طرف پلٹتے ہیں اور انتہائی سادہ، سلیس اور قابلِ فہم زبان میں استدلال پیش کرتے ہیں۔ یہ انداز اس نئی نسل کے مزاج سے مکمل مطابقت رکھتا ہے جس کی تربیت ہی کسی کی سنی سنائی بات پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے، ہر شے کے اصل ماخذ کو خود ‘گوگل’ کرنے پر ہوئی ہے۔
2. ‘کیا’ کے بجائے ‘کیوں’ پر توجہ: دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف احکامات بیان نہیں کرتے بلکہ ان کی حکمتیں بھی کھوجتے ہیں۔ آج کے جنوبی ایشیائی مسلمان نوجوان کا اصل سوال یہ نہیں ہے کہ "فلاں مسئلے پر اسلام کیا کہتا ہے؟” بلکہ اس کا سلگتا ہوا سوال یہ ہے کہ "اسلام یہ بات کیوں کہہ رہا ہے؟” روایتی نظامِ تدریس عموماً پہلے سوال کا جواب دینے میں تو طاق ہے، لیکن ڈیجیٹل مفکرین جو نفسیات، لسانیات، تقابلِ ادیان اور عمرانیات کے جدید علوم سے بھی آراستہ ہوتے ہیں عموماً اس دوسرے اور اہم ترین سوال کو موضوعِ بحث بناتے ہیں۔ وہ احکامات کے پیچھے چھپی وہ حکمتیں اور عقلی استدلال بیان کرتے ہیں جو بسا اوقات روایتی نصاب میں تشنہ رہ جاتی ہیں۔
3. اجتہاد کی جمہوریت کی نئی شکل: تیسری، اور علمی اعتبار سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ایک نئے طرز کی "جمہوریتِ اجتہاد” کو جنم دیا ہے۔
آج کا نوجوان مسلمان محض ایک غیر فعال سامع کے طور پر مذہبی معلومات کو نگل نہیں رہا؛ بلکہ وہ اس پر غور کرتا ہے، اسے پرکھتا ہے، مختلف آراء کا تقابل کرتا ہے، اور بسا اوقات دلائل کے ساتھ اس سے اختلاف بھی کرتا ہے۔ یہ اس فکری حریت اور علمی فعالیت کی وہ شکل ہے جسے روایتی نظامِ تعلیم نے بڑی حد تک ناپید کر دیا تھا۔
شریعتِ مطہرہ کی وسعت میں پنہاں حکمتِ الٰہی
اس تحریر کی روح اور دل ایک ایسے علمی استدلال پر دھڑکتا ہے جو موجودہ صورتحال کو محض ایک سماجی تبدیلی سے بڑھ کر ایک گہرے شرعی تناظر میں پیش کرتا ہے۔ عصرِ حاضر کی یہ فکری بیداری محض ٹیکنالوجی کے انقلاب یا نوآبادیاتی اثرات کے زائل ہونے کا نتیجہ نہیں ہے؛ بلکہ اس میں وحیِ الٰہی کی فطرت کے حوالے سے ایک بنیادی اور عظیم سچائی پوشیدہ ہے، جسے سمجھ کر ہی اس تبدیلی کا اصل قانونی اور شرعی جواز حاصل کیا جا سکتا ہے۔
قرآنِ مجید اور سنتِ نبویﷺ نے ہر اس جزوی اور وقتی صورتحال کے لیے پہلے سے بنے بنائے اور جامد ضابطے فراہم نہیں کیے جو رہتی دنیا تک انسانی معاشروں کو درپیش آنے والے ہیں۔ اور یاد رکھیے، یہ اسلام کی کوئی خامی یا کمی نہیں ہے۔ کلاسیکی علمی اور فقہی روایت نے روزِ اول ہی سے اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا: استدلال کے آلات جیسے اجتہاد (آزادانہ قانونی بصیرت)، قیاس (متوازی عقلی استدلال)، اجماع (علمی اتفاقِ رائے)، اور مصلحت (عوامی فلاح و بہبود) دراصل اسی لیے وضع کیے گئے تھے کیونکہ ابتدائی دور کے بالغ نظر مسلم علماء یہ بخوبی جانتے تھے کہ وحیِ الٰہی ہمیں بنیادی اصول، حدود اور خدوخال
۔ عطا کرتی ہے نہ کہ ہر آنے والے نئے مسئلے کے لیے کوئی میکانیکی اور روبوٹک ضابطہِ حیات
ہمارا استدلال یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی لامحدود حکمت اور بے پایاں رحمت سے، اسلامی قانون (شریعت) کے بعض پہلوؤں کو شعوری اور ارادی طور پر ایک ارتقائی اور کھلی حالت میں چھوڑا ہے۔ Open-ended
یہ کوئی نقص نہیں، بلکہ آنے والے زمانوں اور انسانی معاشروں کے لیے خالقِ کائنات کا ایک شعوری اور عظیم تحفہ ہے۔ نبیِ آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو ابدی بنیادیں عطا کی گئیں: فرائض، محرمات، دائمی اخلاقی اصول، اور انسانی ذمہ داریوں کا ایک وسیع اور لاثانی خدوخال۔ لیکن ان مضبوط بنیادوں کے اندر ایک بہت وسیع میدان خالی چھوڑا گیا تاکہ انسان اپنی عقل استعمال کریں، باہمی مشاورت کریں، حالات کے مطابق خود کو ڈھالیں، اور ان نت نئے مسائل کے حل دریافت کریں جن کی ساتویں صدی عیسوی کے حجاز میں کوئی پیش گوئی یا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، اور جو آج بیسویں اور اکیسویں صدی کی پیچیدہ شکلوں میں ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔
یہ نقطہِ نظر برصغیر کے جلیل القدر مفکر شاہ ولی اللہؒ کے "ارتفاقات” (انسانی تہذیب کے ارتقائی مراحل) کے تصور سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ شاہ صاحب اس بات کا گہرا ادراک رکھتے تھے کہ تاریخ کے مختلف ادوار اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلامی اصولوں کے اطلاق کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے۔ بیسویں صدی میں شاہ ولی اللہ کی فکری وراثت کے امین، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، نے پوری صراحت سے یہ ثابت کیا کہ اسلامی فقہ کو کبھی بھی پتھر پر لکیر یا جامد نہیں ہونا تھا؛ اسے تو انسانی معاشرے کے ارتقاء کے ساتھ قدم ملا کر
، بنیادی نصوص کی روشنی میں، ایک زندہ اور متحرک قانون کے طور پر پروان چڑھنا تھا۔ علامہ اقبال کا ‘تجدید’ کا مطالبہ بھی بعینہٖ اسی ٹھوس علمی بنیاد پر کھڑا تھا۔
قرآنِ مجید کا بار بار "تدبر” یعنی گہرے غور و خوض کا حکم دینا بذاتِ خود اس الہامی ڈیزائن کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ وہ دین جو قدم قدم پر اپنے پیروکاروں کو کائنات اور اپنی آیات پر غور کرنے، عقل لڑانے اور تفکر کے ذریعے بصیرت حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے، وہ یقیناً ایک ایسا دین ہے جو انسان کی عقل و خرد کو اخلاقی اور قانونی رہنمائی کے اس عظیم منصوبے میں اپنا شراکت دار اور قابلِ اعتماد ساتھی تسلیم کرتا ہے۔ اسلام کوئی ایسا دین نہیں جو اپنے قوانین کو ایک بند اور دم گھٹنے والے نظام کی صورت میں مسلط کرنا چاہتا ہو، جسے محض ایک موروثی پادری نما طبقہ کنٹرول کرے۔
تاہم، اس سب کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ قرآنِ مجید کے مطلق اختیار، سنت کی حتمی حیثیت، یا مستند اور باقاعدہ علمی تحقیق کی اہمیت کو ذرہ برابر بھی کم کیا جائے۔
اسلام کے بنیادی اور اساسی اصول توحید، ارکانِ اسلام، اور واضح اخلاقی تعلیمات ہرگز قابلِ مفاہمت یا قابلِ تبدیل نہیں ہیں۔ لیکن ان اٹل اصولوں کی حدود کے اندر، اسلامی شریعت ہمیشہ سے ایک زندہ اور دھڑکتی ہوئی روایت رہی ہے، اور منشائے الٰہی یہی تھا کہ یہ وقت، مکان، اور مسلم معاشرے کی اجتماعی دانش کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرے۔
عہدِ حاضر کا ڈیجیٹل علمی انقلاب، اپنے تمام تر اندیشوں اور خطرات کے باوجود، اسی زندہ روایت کی ایک نئی کوپل اور ایک نیا اظہار ہے، جو بے مثال اور انوکھے تاریخی حالات میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔
حاصلِ کلام اور لائحہ عمل
جنوبی ایشیا میں برپا ہونے والا یہ علمی و فکری انقلاب ایک ٹھوس حقیقت ہے؛ یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اب اس کی راہ میں بند باندھنا ناممکن ہے۔ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی نے مذہبی اختیار اور رہنمائی کے پرانے ڈھانچوں کو ہمیشہ کے لیے تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ آج کا نوجوان مسلمان جو متجسس ہے، عالمی دنیا سے جڑا ہوا ہے، اور بسا اوقات اپنے ایمان کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی بھی رکھتا ہے اس عظیم تبدیلی کے عین مرکز میں کھڑا ہے۔ اس وقت جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ نہ تو روایتی حلقوں کی جانب سے دیا جانے والا کوئی غصے اور دفاع سے بھرا ردعمل ہے، اور نہ ہی ڈیجیٹل آزادی کا اندھا دھند اور مادرِ پدر آزاد جشن ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو کچھ نیا وقوع پذیر ہو رہا ہے، اسے ایک بالغ نظر، سنجیدہ اور دیانتدارانہ فکری ڈھانچے کی مدد سے سمجھا اور سنبھالا جائے۔
یہ یہ تحریر درج ذیل لائحہ عمل پیش کرتی ہے۔ اسے کوئی حرفِ آخر نہ سمجھا جائے، بلکہ ان سنجیدہ مکالمات اور مباحث کا نقطہِ آغاز سمجھا جائے جن کی آج جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرے کو ضرورت ہے:
نظریاتی تشکیل کے لیے ڈیجیٹل مفکرین، اور فقہ و فتاویٰ کے لیے علمائے ربانیین
اسلامی علوم سے استفادہ حاصل کرنے کے دو بالکل مختلف اور واضح دائرے ہیں، اور ان میں تفریق کرنا بے حد ضروری ہے۔
پہلا دائرہ نظریاتی سیاسیات اور جدیدیت کے ساتھ اسلام کے تعلق کو سمجھنا ہے: یعنی ایک مسلمان کی عالمی سوچ کی تشکیل، جدید سائنس، تاریخ، صنف
اور اسلام کو ایک مکمل ضابطہِ حیات کے طور پر دل میں اتارنا۔ عصرِ حاضر کے ڈیجیٹل مفکرین اپنی وسیع تر رسائی، جدید سوالات کی تفہیم، اور احکامات کے پیچھے چھپی حکمت (‘کیوں’) کو بیان کرنے کی صلاحیت کی بدولت اس نظریاتی تشکیل کے لیے بہترین اور موزوں ترین افراد ہیں۔ ان کا یہ کام علامہ اقبال کے بیان کردہ "اسلام کی روح” اور مولانا ابوالکلام آزاد کے اخذ کردہ "قرآن کے حریت پسندانہ پیغام” سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
دوسرا دائرہ خالصتاً علمِ فقہ کا ہے: یعنی مخصوص اور روزمرہ کے عملی مسائل جیسے عبادات کے قواعد، عائلی قوانین، پیچیدہ مالیاتی امور، جدید میڈیکل ایتھکس اور حلال و حرام کے قطعی احکامات پر شریعت کا باریک بین اطلاق۔ اس دائرے میں روایتی اور باقاعدہ تربیت یافتہ علمائے کرام کی اہمیت اور اختیار مسلمہ ہے۔ فتاویٰ کا اجراء، شرعی احکامات کی باریکیاں، اور مخصوص فقہی الجھنیں ایک ایسی گہری، طویل اور تکنیکی تعلیم کی متقاضی ہیں جو اپنی بہترین شکل میں صرف مدارس کی مستند روایات ہی پیدا کر سکتی ہیں۔ ان معاملات میں، ایک عام مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مستند، اہل اور باقاعدہ تربیت یافتہ علمائے کرام کی طرف ہی رجوع کرے۔
علماء کی تقلید، مگر شعور و تفکر کے ساتھ
سب سے اہم بات یہ ہے کہ فقہی امور میں علمائے کرام کی رہنمائی حاصل کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان اپنی عقل اور فہم کو گروی رکھ دے۔ سورۃ ص (آیت ۲۹) میں قرآنِ مجید کا واضح حکم ہے کہ اس مبارک کتاب کی آیات پر غور و خوض کیا جائے اور اہلِ عقل اس سے نصیحت پکڑیں۔ یہ قرآنی حکم کسی مستند مفتی کا فتویٰ آ جانے کے بعد بھی ساقط نہیں ہوتا۔ جب ایک باشعور مسلمان کوئی فتویٰ حاصل کرتا ہے، تو اس کا کام محض اس پر اندھوں کی طرح عمل کر کے آگے بڑھ جانا نہیں ہے۔ اسے ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اس فتوے کو سمجھے، اس کے اندر پنہاں الٰہی حکمت کو تلاش کرے، اور اسے اپنے ایمان اور شعور کی کسوٹی پر پرکھے۔ محض ایک روبوٹ کی طرح اطاعت کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ شعور اور بصیرت کے ساتھ اطاعت کی جائے۔
یہ وہ شاہراہ ہے، وہ درمیانی اور معتدل راستہ ہے، جو ایک طرف اندھی اور جاہلانہ تقلید سے بچاتا ہے اور دوسری طرف بغیر علم اور صلاحیت کے مادرِ پدر آزاد اجتہاد (جس میں کوئی بھی شخص بغیر باقاعدہ علمی بنیادوں کے احکامات جاری کرنے لگے) کا بھی سدِ باب کرتا ہے۔ یہ بعینہٖ وہی اعتدال کی راہ ہے جس کی وکالت سر سید، شبلی، آزاد، اور اقبال نے کی، اور جسے مولانا مودودی نے ذرا محتاط اور منظم انداز میں پیش کیا۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ وہ صراطِ مستقیم ہے جس کا حکم خود قرآنِ مجید نے دیا ہے۔
علمائے کرام کی ذمہ داری
اس متوازن ڈھانچے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے، روایتی علمائے کرام پر بھی ایک بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ‘تنگ نظری’ اور محدود سماجی و فکری خول جو آج کل جنوبی ایشیا کے بعض مذہبی حلقوں کی پہچان بن چکا ہے، شریعت کا تقاضا ہرگز نہیں۔ یہ محض صدیوں کی تاریخی گرد اور جمود کا نتیجہ ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء کے بانیان اپنے دور کے انتہائی جری اور بہادر مصلحین تھے۔ علامہ شبلی نعمانی نے ندوہ کی بنیاد رکھی ہی اس لیے تھی تاکہ قدیم اور جدید علوم کے درمیان کھڑی دیوار کو مسمار کیا جا سکے۔ دورِ حاضر میں "ادارۂ تحقیقاتِ شرعیہ” جیسا ماڈل جہاں علمائے کرام اور جدید علوم کے ماہرین اکٹھے بیٹھ کر اجتماعی اجتہاد کریں وقت کی سب سے اہم اور اشد ضرورت ہے۔
مفتی تقی عثمانی، مولانا سلمان حسینی ندوی، اور ان جیسے دیگر جلیل القدر علماء جنہوں نے جدید معیشت، ڈیجیٹل معامالات، بائیو ایتھکس، اور معاصر فلسفے کے پیچیدہ سوالات پر پوری متانت اور سنجیدگی سے کام کیا ہے، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ جب علماء دفاعی خول سے باہر آتے ہیں تو وہ کتنی شاندار علمی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ ان حضرات کا جدید علوم کے ماہرین، سائنسدانوں اور ماہرینِ قانون کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا دراصل شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے اسی خواب کی تعبیر ہے کہ علم کو جامع اور مربوط ہونا چاہیے، اور اسے اس دنیا سے کٹ کر نہیں رہنا چاہیے جس کی رہنمائی اس کے ذمے ہے۔
علامہ اقبال کا استدلال بالکل برحق تھا: بابِ اجتہاد کا بند ہونا محض ایک انسانی فیصلہ تھا، جو مخصوص تاریخی حالات میں مخصوص افراد نے ان وجوہات کی بنا پر کیا جو اس وقت ان کے نزدیک معقول تھیں۔ یہ کوئی آسمانی صحیفہ یا الہامی فیصلہ نہیں تھا۔ اور جو دروازہ انسانوں نے بند کیا ہے، اسے دوسرے انسان بھرپور علم، عقل، باہمی مشاورت اور خلوصِ نیت کی چابیوں سے دوبارہ کھول سکتے ہیں۔
خرد کو غلامی سے آزاد کر جوانوں کو پیروں کا استاد کر
آج جو نئی نسل کراچی، دہلی، ڈھاکہ، لکھنؤ، اور ممبئی کے مسلم اکثریتی محلوں میں پروان چڑھ رہی ہے، اس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے اور دل میں بے شمار سلگتے ہوئے سوالات ہیں۔ یہ نسل ہرگز دین بیزار یا ایمان سے عاری نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نسل بے حد پیاسی ہے ایک ایسے اسلام کی پیاسی جو ان کی روزمرہ زندگیوں، ان کے شکوک و شبہات، ان کی آرزوؤں، اور ان کی جدید دنیا سے براہِ راست کلام کرے۔ اب یہ عصرِ حاضر کے تمام اہلِ علم خواہ وہ ڈیجیٹل مفکرین ہوں یا روایتی علمائے ربانیین دونوں کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مکمل دیانت داری، فکری گہرائی، اور حقیقی ہمدردی کے ساتھ اس نسل کی علمی پیاس کا احترام کریں اور اسے بجھائیں۔
قرآنِ مجید نے اس بات کو کس قدر خوبصورتی اور جلالت سے بیان فرمایا ہے۔ یہ بابرکت اور عظیم الشان کتاب اسی لیے نازل کی گئی ہے تاکہ اس کی آیاتِ بینات پر گہرا غور و خوض (تدبر) کیا جائے، اور تاکہ عقل و شعور والے اس سے نصیحت پکڑیں۔ ڈیجیٹل دور کا نوجوان مسلمان جب اپنے ایمان اور احکامات پر غور و خوض کرتا ہے، تو درحقیقت وہ وہی فریضہ سرانجام دے رہا ہے جس کا مطالبہ اس کتابِ الٰہی نے کیا ہے۔ اب سوال صرف یہ باقی رہ جاتا ہے کہ کیا ہماری علمی روایت اور ہمارے ادارے اس فکری بلوغت کے سفر میں ان نوجوانوں کی دستگیری کرنے کو تیار ہیں یا نہیں؟اور کیا مستقبل قریب میں ہم اس فکری جمود سے باہر آکر پھر سے حجازی اسلام کی طرف لوٹ آئیں گے.
Comments are closed.