مغربی چمپارن ستیہ گرہ اورباہمی اتحادکی سرزمین ہے
بی ایڈ کالج میں پرچم کشائی تقریب سے مولانا انیس الرحمن قاسمی کا خطاب
ساٹھی مغربی چمپارن:16/اگست (پریس ریلیز)
روایتی تزک و احتشام کے ساتھ شمس ٹیچرس ٹریننگ کالج،کٹہری ساٹھی کے وسیع وعریض میدا ن میں یوم آزادی کی تقریب منعقد ہوئی، اسی طرح ابوالکلام بی ایڈکالج میں بھی پرچم کشائی کی گئی۔ان دونوں موقع سے ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیرمین مولانا انیس الرحمن قاسمی قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل نے پرچم کشائی کی۔پرچم کشائی کے بعد طلبہ واساتذہ اورتمام حاضرین نے قومی ترانہ پڑھا۔ملک کی 75ویں یوم آزادی کے موقع پر منعقد رنگا رنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا انیس الرحمن قاسمی نے مجاہدین آزادی کے کرداراوران کی قربانیوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا۔مولاناقاسمی نے کہا چمپارن کی سرزمین آزادی کے جدوجہد کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے،یہ وہی سرزمین ہے جہاں سے بابائے قوم مہاتما گاندھی نے ستیہ گرہ تحریک
شروع کی،ستیہ گرہ تحریک 1917ء میں چمپارن سے شروع کی گئی تھی،خاص طورپر وہ کٹہری ساٹھی میں آئے تھے،اوریہاں کے ہندومسلم مجاہدین کے ساتھ مل کرنیل کی کھیتی سے متعلق انگریزوں کے ظلم وبربریت کے خاتمہ کے لیے تحریک چلائی تھی،یہ سرزمین سوسال کے آپسی اتحادومحبت کی مثال ہے۔ یہ گاندھی کی قیادت میں پہلی تحریک تھی،گاندھی جی نے کسانوں کی آوازبلندکی اوران کے حقوق کے لیے اپنی جنگ کاآغازیہیں سے کیا۔گاندھی 1915ء میں ساؤتھ افریقہ سے واپس آئے توہندوستانی کسانوں کی حالت زار دیکھ کر وہ پریشان ہوئے،انگریزوں کے ظلم وستم نے انہیں مجبور کیا اورانہوں نے چمپارن کی سرزمین سے برطانوی حکومت کے خلاف اپنی مشہور تحریک شروع کی۔مولانا قاسمی نے مزید کہا کہ ملک کی آزادی میں ابتدائی دورسے لے 1947ء تک بہار اورمسلمانوں نے بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ہندوستان کی تاریخ علماء صادق پورکی قربانیوں کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ اسی طرح علمائے دیوبند اوردارالعلوم کے بغیر یہ ملک آزادی نہیں ہوسکتا تھا۔مولاناقاسمی نے کہا کہ جنگ آزدی میں بہار یوں نے جوقربیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔مولانا قاسمی نے کہا کہ آج ضرورت ہے کہ اسلاف کی قربانیوں کی لاج رکھ لیں۔اوربھائی چارہ،اتحاد اورآپسی محبت کے ساتھ ملک کی ترقی کے لیے کوششیں کریں۔اس موقع پر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ ہر علاقے کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ اپنے اپنے علاقہ کے مجاہدین آزادی اورشہدائے آزادی پر چھوٹے بڑے سیمینارکروائیں اوراس سیممینارکے مقالوں ہندی اوراردوزبانوں میں شائع کروائیں۔مولانا قاسمی نے مزیدکہا کہ کسی بھی قوم اورملک کی ترقی لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن افسوس آزادی کے 75/سال کے بعد ہم تعلیمی میدان میں دوسری ترقی یافتہ قوموں سے بہت پیچھے ہیں۔اوربطورخاص ہماری ریاست بہار تواوربھی پیچھے ہیں،کیرالہ میں شرح خواندگی 90%سے زائد ہے۔اورہمارے یہاں شرح خواندگی 50%بھی نہیں ہے۔ عالمی تناظرمیں تقابل کریں تو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی شرح خاندگی 99اورسوفیصد ہے۔ جب تک ہم ہندوستانی سوفیصدشرح خواندگی کا ہدف حاصل نہیں کریں گے،ہم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شمار نہیں کئے جاسکتے۔اسی طرح یوسف انٹرنیشنل اسکول میں 75ویں جشن یوم آزادی کی تقریب انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر شمس ٹیچرٹریننگ کالج کے سکریٹری انجینئرعبیدالرحمن،حفیظ الرحمن سکریٹری ابوالکلام مائنوریٹی ٹیچرس ٹریننگ کالج،ڈاکٹر سہیل احمد ڈائرکٹر چمپارن نرسنگ کالج،علی احمد مشہورقومی رہنما، شوکت علی سابق سابق مکھیا،ابھے کمار پرنسپل شمس ٹیچرس ٹریننگ کالج،ارون کمار پرنسپل شمس ٹیچرسٹریننگ کالج،ساٹھی تھانہ انچارج اوردیگر پولیس افسران،قاضی عبدالحق،گڈوپٹیل،مولانا ضیاء الحق، اورمولانا نسیم احمد قاسمی وغیرہ شریک تھے۔
Comments are closed.