ہمارے بزرگوں کی قربانیاں کسی کے سامنے کچھ ثابت کرنے یا دکھاوے کیلئے نہیں تھی
جمعیۃ علماء شہر ، حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن اورجامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمؤ کانپورمیں ”جشن یوم آزادی و تقریب پرچم کشائی“ کا انعقاد
کانپور(پریس ریلیز) ملک کی 76ویں یوم آزادی کے موقع پر جمعیۃ علماء شہر و حق ایجوکیشن اینڈریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جمعیۃ بلڈنگ رجبی روڈپر ”جشن یوم آزادی و تقریب پرچم کشائی“ شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کی زیر صدارت منعقد کی گئی۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء شہر کے صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں و جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے مشترکہ طور پر رسم پرچم کشائی انجام دی۔ اس موقع پر موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے کہا کہ اس ملک کو آزاد کرانے کیلئے دی گئی ہمارے بزرگوں کی قربانیاں کسی کے سامنے کچھ ثابت کرنے یا دکھاوے کیلئے نہیں تھی، بلکہ وہ اس ملک کو اپنا ملک سمجھتے تھے،ملک پر اگر کوئی آفت آ رہی ہے یا کوئی ملک والوں کو غلام بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ اس کے خلاف میدان میں آنے کو اپنا فریضہ سمجھتے تھے، اپنی ذمہ داری سمجھ کر وہ میدان میں آئے تھے، اسی بنیاد پر آج ہم سینہ چوڑا کرکے کہتے ہیں کہ اس وطن کی مٹی میں جتنا ہمارے بزرگوں کا خون ہے اتنا ان کا پسینہ بھی نہیں ہے، اس لئے اگر ہم بھی اسے اپنا ملک کہتے ہیں تو ہمیں بھی اس ملک کی ضروریات کے پیش نظر ہر طرح کی قربانی کا جذبہ اپنے دل میں رکھنا چاہئے، تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی سینہ چوڑا کرکے کہہ سکیں کہ یہ ہمارا ملک ہے۔ آج کے حالات میں جبکہ ملک اور ملک والوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ایسے میں اس بات کا اعادہ کرنا اور اس عہد کی تجدید کرنا اور ضروری ہو جاتا ہے کہ جس طرح ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں اور غلامی کو قبول نہیں کیا تھا، اسی طرح ہم بھی ہر طرح کی قربانی دیں گے لیکن غلامی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
جمعیۃ علماء شہر کانپور کے نائب صدر مولانا نو رالدین احمد قاسمی نے کہا کہ ملک دشمن طاقتوں کی سازش ہے کہ یہاں بسنے والوں کو تقسیم کر دیا جائے، غلط فہمیاں پیدا کرکے برادران وطن کے اندر مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر بھر دیا جائے، اس لئے ضروری ہے کہ سدبھاؤنا اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کیا جائے۔ہمارے بزرگوں نے ایک ہندوستان کا خواب دیکھ کر اس ملک کو آزادی اسی لئے دلائی تھی کہ یہاں صرف انسانیت کی بنیاد پر سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا، مذہب، ذات، رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی کے ساتھ تفریق نہیں کی جائے گی۔ ہمیں یہ بات بتانی چاہئے کہ بھلے ہم مسلمان، آپ ہندو،سکھ،عیسائی، پارسی ہیں لیکن اسی کے ساتھ ہم سب ہندوستانی ہیں، ہندوستانی کی ترقی اورآزادی کی حفاظت کیلئے ہم سب متحد ہیں، اگر ہم نے اپنی فکر نہیں بدلی تو خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ ہم پھر کسی کی غلامی کے اندر مبتلاہو جائیں۔
سینئر سکریٹری زبیر احمد فاروقی نے اپنے بیان میں وزیر اعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے ہمارے بزرگوں کونظر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج ہمارے ہی ملک میں ہمیں دوسرے نمبر کا شہری بنانے کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا جا چکا ہے۔انہوں نے مثالیں دے کر بتایا کہ جب تک ہماری انفرادیت اجتماعیت میں تبدیل نہیں ہوگی، ہم کامیاب نہیں ہوں گے۔
حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے سینئر استاذ مولانا جاوید علی قاسمی نے کہا کہ اگر ہم حق پر ہیں توہمیں ظالم کے ظلم سے کبھی گھبرانا نہیں چاہئے، ظالم کا آخری انجام شکست ہی ہے۔ صحیح فکر اور نہج کو وقتی طور پر طاقت کے زور پر دبایا جا سکتا ہے، لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا ہے، ہماری تاریخ کے اتارچڑھاؤ سے اس کا بخوبی اندازہ لگایاجا سکتا ہے۔
سکریٹری مولانا انصا راحمد جامعی نے تاریخ کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے مقاصد میں ایک مقصدیہ تھا کہ اس ادارہ سے مجاہدین آزادی پیدا کئے جائیں۔ اس ملک کی آزادی میں علماء اور مدارس کا بہت بڑا کردار ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اس ملک کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، آج بھی ہمارے اندر یہ حوصلہ اور جذبہ موجود ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ملک کیلئے اپنا سب کچھ حتی کہ جان بھی دینے کیلئے تیار ہیں۔
نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مولانا محمد نعیم نے کہا کہ کسی بھی زندہ قوم کی تاریخ کا ہر صفحہ شہید کے خون سے رنگین ہوا کرتی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ایک ایک کرکے اپنی جانیں تو دے دیں لیکن انگریزوں کی غلامی کو قبول نہیں کیا۔ 15اگست یوم آزادی کے موقع پر ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اپنے ان بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کریں۔
اس سے قبل قاری محمد نیہال نے قرآن پاک کی تلاوت سے تقریب کا آغاز کیا۔ مولانا سلمان مامون نے نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ مولانا محمد سلمان نے ہندی زبان میں تقریر کی۔ مولانا تاج الاسلام نے ساتھیوں کے ساتھ قومی ترانہ ”سارے جہاں سے اچھا، ہندوستان ہمارا“ پیش کیا۔ تقریب میں جمعیۃ علماء شہر کے تمام عہدیداران واراکین کے ساتھ حق ایجوکیشن اینڈریسرچ فاؤنڈیشن میں زیر تعلیم تمام علمائے کرام موجود تھے۔
دوسری جانب سابق صدر جمعیۃ علماء اترپردیش حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نور اللہ مرقدہ‘ کی قائم کردہ مشرقی اتر پردیش کی عظیم دینی و تربیتی درسگاہ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم میں ملک کی 76ویں یوم آزادی کے موقع پر جشن یوم آزادی و تقریب پرچم کشائی منعقد کی گئی۔ جس میں جامعہ کے ناظم مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء اترپردیش نے تمام طلباء، اساتذہ و مقامی عوام کی موجودگی میں رسم پرچم کشائی ادا کی۔ رسم پرچم کشائی کے بعد مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے موجود تمام لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، نعمت کی اگر قدر کی جائے تو اللہ اس میں اضافہ کرتے ہیں، اگر اس کی ناقدری کی جائے تو وہ نعمت چھین لی جاتی ہے،اللہ ناراض ہوتے ہیں اورگناہ بھی ملتا ہے۔ انسانی آزادی کیلئے بنیادی چیزوں میں ہے کہ انسان بحیثیت انسان آزاد ہو، یہ اسلام اور شریعت کا فلسفہ ہے، انسان کی تعلیم، تہذیب اور اس کے معاشی مسائل بنیادی ضروریات میں شامل ہیں،انگریز جب ہندوستان آئے تو انہوں نے انسانوں کو ہر اعتبار سے غلام بنالیا تھا۔سب سے پہلے یہاں کی سرکاری زبان جو پہلے یہاں کی مادری زبان تھی اسے تبدیل کر دیا، انگریزی کو سرکاری زبان کر دیا گیا۔ یہاں کے اداروں میں کام کرنے والوں کو انگریزی سیکھنی پڑی اور انہیں انگریزی سکھانے پڑھانے کیلئے بڑی تعداد میں انگلینڈ سے اپنے لوگوں کو بلوائے، ان کا کام صرف زبان سکھانا نہیں تھا، بلکہ یہاں لوگوں کے ذہن میں انگریز وں کی غلامی اور اس کی حاکمیت کو پیوست کرکے بیٹھانااور اپنی تہذیب کو نافذ کرنا تھا۔ جن لوگوں نے ان کی چیزوں کو اپنا لیا انہیں انگریز دوسرے درجہ کا شہری مانتا تھا، اور جنہوں نے نہیں اپنایا وہ ان کی نظرمیں انسان ہی نہیں تھے۔ جبکہ شریعت کا فلسفہ اور موجودہ ہندوستان کا دستور یہ کہتا ہے کہ بحیثیت انسان سب برابر ہیں، سب کو برابر کا حق ملنا چاہئے۔ انگریزوں نے انسانوں میں فرق پیدا کیا، اسی کی بنیاد پر اپنے قوانین بناکر ظلم و تشدد کیا۔ مولانا نے کہا کہ مغل اور انگریز دونوں ہی باہر سے آئے تھے، لیکن مغل جب ہندوستان آئے تو وہ ہندوستان کے ہوکر رہ گئے، ان کی نسلیں ہندوستان کی ہو کر رہ گئیں۔ انہوں نے اپنی ساری صلاحیت ہندوستان کو بنانے میں لگا دیا۔ لیکن انگریزوں نے تقریباً350سال کی حکومت کے دوران یہاں اپنا ہیڈ آفس تک نہیں بنایا تھا،برطانیہ سے پوری حکومت چلائی گئی۔مغل آئے تو وہ ہندوستان کے رنگ میں رنگ گئے، جبکہ انگریزوں نے ہندوستانیوں کواپنے تہذیب میں رنگنے کاکام کیا۔ ہمارے اکابر نے اس کی مخالفت کی۔ جس کی طویل داستان ہمارے سامنے ہے۔ یوم آزادی ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کی یادگار ہے، اس موقع پر ہم ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کیونکہ ان کی قربانیوں کی بدولت ہی آج ہم آزاد ہیں۔ اسی کے ساتھ ہمارا عہد ہے کہ ہمارے بڑوں نے کبھی کسی کی غلامی قبول نہیں کی،ہم بھی کسی کی غلامی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ موجودہ وقت میں ایک طاقت ہے جو غلامی پسند ہے، ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو انگریزی دور حکومت میں بھی انہوں نے کبھی انگریزوں کی مزاحمت نہیں کی، ان کی مخالفت نہیں کی بلکہ حکومت کے سامنے سر جھکاکر معافی نامے تک لکھے، آزادی کے بعدبھی پچاسوں سال تک اپنے اداروں میں قومی پرچم ’ترنگا‘ نہیں فہرایا۔ مشیعت خداوندی ہے کہ وہ لوگ آج حاکم بنے ہوئے ہیں اور کسی نہ کسی شکل میں پھر سے ہندوسانیوں کو غلام بنانا چاہتے ہیں، ایسے حالات میں اس عہد کی تجدید بہت ضروری ہو جاتی ہے کہ ہر سال 15اگست کے موقع پر جمع ہو کراپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کریں اوردنیا کے سامنے یہ اعلان کریں کہ ہمارے بزرگوں نے تم سے پہلے والوں کی غلامی قبول نہیں کی، ہم تمہاری غلامی کیسے قبول کر لیں گے۔ جب انگریز 350سال حکومت کرنے کے بعد ہمیں اپنا غلام نہیں بنا سکے تو یہ چند سال کے حاکم ہمیں اپنا غلام بنا پائیں گے؟ مولانا نے کہا کہ چونکہ یہ آزادی ہمارے بزرگوں کی دین ہے، اس لئے اس کی حفاظت اور ملک کی امن مخالف طاقتوں کے خلاف مزاحمت کرنا ہمارا مذہبی فریضہ بھی ہے اور ہمارا ملکی فریضہ بھی ہے۔
اس سے قبل مولانا جامعہ کے سینئر استاذ مولانا نور الدین احمد قاسمی نے کہا کہ سارے ہندوستانی آپس میں بھائی بھائی ہیں، ہم ان کے اندر تفریق اور کسی کے ساتھ بھی سوتیلاپن گوارہ نہیں کریں گے۔
یوم آزادی کی ماقبل شام جامعہ محمودیہ کے طلباء کی انجمن جمعیۃ الاصلاح کے زیر اہتمام ”آزادیئ وطن کیلئے اسلاف کی قربانیاں اور ہماری ذمہ داریاں‘ کے عنوان سے جلسہ منعقد کیاگیا۔ جس میں جامعہ کے تمام طلباء نے اپنا الگ الگ پروگرام پیش کیا۔ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی دعاء پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
Comments are closed.