مفکر اسلام! تیری عزیمت کو سلام

 

(درد چشم سے درد امت تک)

 

✒️ محمد نفیس خان ندوی

(24/اگست2026)

 

1964ء کا سال ہندوستان کی تاریخ کا ایک انتہائی کرب ناک اور ہول ناک سال تھا۔ فرقہ وارانہ فسادات نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ جمشیدپور اور راؤرکیلا میں خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں، بستیاں کی بستیاں نذر آتش کردی گئی تھیں، لوگوں کو گھروں سے گھسیٹ گھسیٹ کر زندہ جلایا جارہا تھا، ہجومی تشدد کے واقعات پیش آرہے تھے، بے گناہوں کی جانیں تلف ہورہی تھیں اور عصمتیں بے دردی سے پامال کی جارہی تھیں۔ موت کا ایسا "ٹانڈو” برپا تھا کہ تین ہزار سے زائد مسلمان ان فسادات کی نذر ہوگئے۔

 

حالات نہایت نازک تھے۔ مسلمان شدید خوف اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا تھے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال بھی گردش کرنے لگا تھا کہ کیا ایسے حالات میں ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ درست تھا؟

 

ان حالات سے جن مسلم علماء اور قائدین کی حساس طبیعت سب سے زیادہ متاثر ہوئی، ان میں حضرت مفکر اسلام کی شخصیت سب سے نمایاں تھی۔ آپ کی حساس طبیعت اور بیدار ضمیر نے آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اگر فسادات کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور اس کے سدباب کے لیے مؤثر اور سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔

 

چنانچہ حضرت مفکرِ اسلام کی معیت میں علماء و دانشوروں کی ایک جماعت نے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا، متاثرین سے ملاقاتیں کیں، حالات کا جائزہ لیا، مختلف طبقات کے لوگوں سے گفتگو کی اور اپنے خطابات کے ذریعے صورت حال کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔

 

اس کے بعد یہ طے پایا کہ ملک گیر سطح پر ایک کل ہند مشاورتی اجلاس منعقد کیا جائے، تاکہ موجودہ صورت حال پر غور و خوض کرکے مسلمانوں کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر لائحۂ عمل طے کیا جاسکے۔ چنانچہ 18 اگست 1964ء کی تاریخ مشاورتی اجلاس کے لیے مقرر کردی گئی۔

 

یہ ایام حضرت مفکر اسلام کی زندگی کے انتہائی سخت اور آزمائشی ایام تھے۔ ایک طرف ملک کے ابتر اور ناگفتہ بہ حالات نے آپ کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، تو دوسری طرف آنکھ کی شدید تکلیف نے آپ سے چین و سکون چھین رکھا تھا۔ ادھر اجلاس کی تیاریاں زوروں پر تھیں اور ادھر آنکھ کی تکلیف اس قدر شدت اختیار کرگئی کہ آپ کو ہنگامی طور پر ممبئی جانا پڑا، جہاں آپ کی آنکھ کا آپریشن کیا گیا۔

 

آپریشن کامیاب ضرور رہا، لیکن آنکھ کی حالت نہایت نازک اور حساس تھی۔ مکمل صحت یابی کے لیے خاص نگہداشت اور آرام کی ضرورت تھی۔ ڈاکٹروں نے بھی آپ کو "فل بیڈ ریسٹ” کی ہدایت دی اور زیادہ گفتگو کرنے اور بلند آواز سے بولنے سے منع کردیا تھا۔

 

اجلاس کی تاریخ 18 اگست متعین تھی۔ پہلے ہی ہفتے میں آپ ممبئی سے واپس تشریف لے آئے۔ اجلاس کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں، آنکھ میں سخت تکلیف تھی، تاہم اسی کیفیت میں آپ نےاپنا پیغام تحریر کر بھیج دیا..

 

چونکہ یہ اہم اجلاس لکھنؤ ہی میں منعقد ہورہا تھا، اس لیے اپنی کمزور صحت اور آنکھ کی شدید تکلیف کے باوجود آپ خود کو اجلاس میں شرکت سے روک نہ سکے۔

 

مشاورتی اجلاس اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوا۔ مختلف طبقات کے نمائندے اس میں شریک تھے۔ جماعتوں، تحریکوں اور اداروں کے اپنے اپنے ترجیحی نظریات تھے۔چنانچہ فروعات کو بھی اصولوں کی طرح اختیار کیا جانے لگا۔ رفتہ رفتہ حالات اتحاد کے بجائے انتشار کی طرف بڑھنے لگے اور امت کا شیرازہ بکھرنے کی دہلیز تک جا پہنچا۔

 

ذرا تصور کیجیے! ایک طرف ملک کے سنگین حالات، مسلمانوں کی زبوں حالی، خوف و اضطراب کی فضا اور مستقبل کے اندیشے؛ اور دوسری طرف امت کی منتخب شخصیات کا قافلہ جو منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی اختلاف کی نذر ہوتا دکھائی دینے لگا..

ایسے نازک اور فیصلہ کن لمحے میں مفکر اسلام کا تڑپ اٹھنا فطری تھا۔ خدا خدا کرکے امت کے مختلف نمائندے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے تھے؛ اگر یہ اجتماع بھی انتشار کی نذر ہوجاتا تو اس کا نقصان پوری امت کو اٹھانا پڑتا۔ چنانچہ آپ خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے صورت حال کا رخ بدلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ طبیعت نڈھال تھی، آنکھ کا آپریشن ابھی تازہ تھا اور ڈاکٹروں نے زیادہ گفتگو کرنے سے بھی منع کر رکھا تھا لیکن آنکھ کے درد پر امت کا درد غالب آگیا۔

 

آپ نے غیرتِ ایمانی اور حمیتِ دینی سے لبریز ایک زوردار خطاب کیا، عمائدین ملت کو ان کے مقام و منصب کا احساس دلایا، امت کی نازک صورتِ حال سے آگاہ کیا اور انہیں اس فیصلہ کن گھڑی میں اپنے اختلافات سے بالاتر ہوکر اتحاد و یکجہتی کی راہ اختیار کرنے کی دعوت دی۔

 

یہ خطاب ’’از دل خیزد، بر دل ریزد‘‘ کا کامل مصداق تھا۔ الفاظ میں اخلاص کی حرارت، درد ملت کی تڑپ اور خیرخواہی کی صداقت تھی؛ چنانچہ خطاب نے حاضرین کے دلوں پر گہرا اثر ڈالا اور مجلس کی فضا یکسر بدل گئی۔ اختلافات کو فراموش کیا گیا اور اتحاد کی راہ اختیار کی گئی۔

 

البتہ اس کامیابی کی ایک ایسی قیمت بھی ادا کرنی پڑی جس کا تصور ہی دل کو دہلا دیتا ہے، "حضرت مفکر اسلام کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی”.

 

ایک عظیم کامیابی کے لیے ایک عظیم قربانی!

 

حضرت نے پوری عزیمت اور کامل اخلاص کے ساتھ اس قربانی کو برداشت کیا، صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھا اور پوری زندگی کبھی اس پر حرف شکایت تک زبان پر نہ لائے۔

 

مسلمانوں کی قومی یکجہتی، ملی اتحاد اور قومی مفاد کے لیے اپنی ذات کی قربانی اور پھر اس قربانی پر صبر و استقامت کی ایسی عظیم مثال ہندوستان کی تاریخ میں شاید ہی کہیں ملے!

 

أولئك آبائي فجئني بمثلهم

إذا جمعتنا يا جرير المجامع

Comments are closed.