موجودہ اہل اقتدار کا آزادی میں ذرہ برابر کردار نہیں : مولانا سید ارشد مدنی
دارالعلوم دیوبند سمیت جملہ مدارس میں پرچم کشائی کے ساتھ نہایت جوش و خروش سے منایاگیا یوم آزادی
دیوبند،16؍ اگست(سمیر چودھری؍بی این ایس)
دینی مدارس میں یوم آزادی نہایت جوش و خروش کے ساتھ منایاگیا، عالمی اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی اور صدر المدرسین مولانا سید ارشد مدنی نے پرچم کشائی کی۔اس موقع پر منعقد جشن آزادی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ علمائے دیوبند نے 200 سال تک جنگ آزادی لڑی ہے، لیکن آج ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، یہ حقیقت ہے کہ جن کے بزرگوں نے ملک کے لیے جانیں قربان کی ہیں، ان کی نسلوں کو ملک دشمن کہا جا رہا ہے، لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اصل غدار وہ ہیں جو ماحول خراب کر کے ملک میں نفرت پھیلاتے ہیں اور دلوں کو تقسیم کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے حکمراں جماعتوں پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اقتدار میں رہنے والوں کا ملک کی آزادی میں ذرہ برابر بھی تعاون نہیں، چند ہزار جھنڈے بانٹنے سے کوئی مجاہد آزادی نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اس ملک سے محبت، بھائی چارے اور اتحاد و سالمیت کو مضبوط کرنے کے لیے کام کیا ہے لیکن آپ نے صرف 10 سال میں اس ملک کو نفرت کی آگ میں جھونک دیا۔انہوں نے کہا کہ جس وقت کسی میں انگریزوں کے خلاف منہ کھولنے کی ہمت نہیں تھی، اْس وقت علمائے کرام نے اس ملک کی آزادی کا بگل بجا دیا تھا۔ انہوں نے شہید ٹیپو سلطانؒ ،شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ،شاہ اسماعیل شہیدؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ،شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒاوردارالعلوم دیوبند کی خدمات سمیت آزادی ٔ میں کی پوری تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی ارو کہاکہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمان اور مدارس کے طلباء بھی اپنے بزرگوں کی ملک کے لیے دی گئی قربانیوں کو بھول گئے ہیں۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم سمیت تمام مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ ملک کی آزادی کے لیے دی گئی علمائے کرام کی قربانیوں کو مدارس کے نصاب میں شامل کریں۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جو اپنے بزرگوں کی قربانیوں اور تاریخ سے واقف نہیں ہوتے ان کا مستقبل روشن نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ملک تقسیم ہوا جس کا درد بیان نہیں کیا جا سکتا۔اس دور ان جملہ اساتذہ اور طلبہ موجودرہے۔دوسری جانب دارالعلوم وقف دیوبند میں مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے پرچم کشائی کی اور آزادی کی اہمیت کو
بیان کیا۔ جامعہ امام محمد انور شاہ میں مہتمم مولانا سید احم خضر شاہ مسعود نے پرچم کشائی کی۔ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم زکریا دیوبند میں مہتمم مفتی شریف خان قاسمی پرچم کشائی کی،اس دوران انہوں نے اپنے خطاب میں آزادیٔ وطن کے لئے اکابرین دیوبند کی قربانیوں سے طلبہ کوروبروکرایا۔ اس دوران جملہ اساتذہ اور طلبہ موجودرہے۔جامعہ رحمت گھگرولی سہارنپور میں جامعہ کے مہتمم مولانا عبدالمالک مغیثی،سماجی کارکن ماسٹر محمد یوسف اور چودھری ہاشم نے پرچم کشائی اور ترنگالی ریلی نکال کر لوگوں کو آزادی کی اہمیت سے روشناس کرایا۔جامعۃ الشیخ حسین احمد مدنی خانقاہ دیوبند میں ادارہ کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی نے پرچم کشائی کے بعد جشن آزادی کی اہمیت سے طلبہ کو روشناس کرایا۔جامعۃ القدسیات محلہ گوجرواڑہ دیوبند میں مولانا قاری واصف عثمانی، سید حارث ،چودھری صادق اور مہتمم قاری محمد عامر عثمانی نے پرچم کشائی کرکے یوم آزادی کے حوالہ سے گفتگو کی۔ادھر،جامعہ دعوۃ الحق معینیہ چررھو رامپور منیہاران میں یوم آزادی کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس دوران جامعہ کے مہتمم الحاج صوفی محمد شمشاد پردھان حاجی یٰسین کے ہاتھوں پرچم کشائی کی گئی۔ بعد ازاں طلبہ نے تقاریر مکالمہ جات کے ذریعہ مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا۔مدنی یوتھ سینٹر کیندکی میں جشن آزادی کی مناسبت سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی نے اپنے خطاب میں شہیدان وطن اور مجاہدین آزادی کی قربانیوں کا تذکرہ کیا۔جامعہ زینب للبنات میں یوم آزادی کا جشن سادگی کے ساتھ منایا گیا ، پرچم کشائی ادارے کے ذمہ دار اور مولانا محمود مدنی کے صاحبزادے مولانا حسین احمد مدنی نے کی ۔
Comments are closed.