ترنگا یاترا کا مقصد نئی نسل کو آزادی کے لیے قربانیاں دینے والے لیڈروں سے واقف کرانا : محمد نوشاد

جالے میں سینئر کانگریسی لیڈر کی قیادت میں نکالی گئی ترنگا یاترا
جالے( محمد رفیع ساگر؍بی این ایس)کانگریس نے آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر ’آزادی کی گورو یاترا‘ مہم کے تحت جالے میں بھی ترنگا یاترا نکالا جس میں بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان نے حصہ لیا۔یہ یاترا کانگریس کے سینئر لیڈر محمد نوشاد کی قیادت میں جالے بلاک ہیڈکوارٹر سے شروع ہوئی اورگاندھی چوک پر جا کر ختم ہوئی۔اس دوران بابائے قوم مہاتما گاندھی کی مجسمہ پر گلپوشی کی گئی ۔ یاترا کے دوران سینئر لیڈر محمد نوشاد ،محمد ارشاد، فیاض احمد بابا، منور بیگ، نان پور بلاک کے سابق کانگریس بلاک صدر مختار عالم، نند کشور مہتو،برجو کمار اور محمد علی سمیت سینکڑوں کانگریس کارکنان کے ہاتھوں میں قومی پرچم موجود تھا۔ یاترا میں موجود پارٹی کارکنان نے مرکز کی بی جے پی حکومت کی عوام مخالف پالیسی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔
اس موقع پر سینئر کانگریسی لیڈر محمد نوشاد نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری سے ملک میں لوگوں کا جینا دشوار ہوتا جارہا ہے، یہاں کام کے بدلے فرقہ پرستی کو فروغ مل رہا ہے اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک ملک متحد نہیں ہوگا جمہوریت کمزور ہوتی رہے گی۔ بہار سے اب ملک کو جوڑنے کا آغاز ہوچکا ہے۔ وزیراعلی نتیش کمار کے عظیم اتحاد میں آنے سے بی جے پی کمزور ہوگئی ہے۔
مسٹر محمد نوشاد نے آگے کہا کہ ’’آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر یہ یاترا نکال کر کانگریس موجودہ نسل کو آزادی کے لیے قربانیاں دینے والے کانگریس لیڈران سے روشناس کرانا چاہتی ہے۔ ان لیڈروں کی قربانیوں کو یاد کیا جا رہا ہے جنہوں نے تاناشاہ انگریزی حکومت کا مقابلہ کرتے ہوئے آزادی کی لڑائی لڑی‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’ہندوستان کو اس وقت بین الاقوامی سطح پر جو عزت اور وقار حاصل ہے وہ جدید ہندوستان کی تعمیر میں کانگریس پارٹی کے تعاون کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ یہ یاترا نفرت اور تشدد کو مٹانے کے عزم کے ساتھ محبت، خیر سگالی، بھائی چارے کا پیغام دیتے ہوئے کانگریس کی قربانیوں کو یاد دلاتی ہے۔
محمد نوشاد نے کہا کہ انگریزوں کے خلاف ملی آزادی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ یہ ہمارے پرکھوں کی طویل قربانیوں کا نتیجہ ہے،یہی وہ آزادی ہے جس کی خاطر اس ملک کی آبرو کی حفاظت کرنے والے ہمارے پرکھے جیل کی سلاخوں سے لے کر پھانسی کے پھندے تک کو چوما مگر انگریزوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے،انہوں نے کہا کہ آج وہ لوگ ہر گھر ترنگا کی بات کر رہے جنہوں نے کبھی ترنگے کے احترام کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنایا۔انہوں نے کہا کہ ترنگا تو ہر سچے ہندوستانی کے دل میں بستا ہے لیکن نفرت کی سیاست کرنے والے لوگ اس کی عظمت کو نہیں سمجھ سکتے۔

Comments are closed.