اجتماعی عصمت دری اور قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے گجرات کے گیارہ ملزمین کی رہائی انتہائی شرمناک اور قابل مذمت
نئی دہلی، 16 اگست (پریس ریلیز)ویلفیئر پارٹی آف انڈیا عمرقید کی سزا کاٹ رہے ان گیارہ مجرمین کی 15 اگست کو گجرات حکومت کے ذریعہ رہائی کی پرزور مذمت کرتی ہے جنھیں گجرات دنگوں کے دوران قتل اور عصمت دری کا مجرم پایا گیا تھا۔ یہ دراصل انصاف کا قتل ہے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ گجرات حکومت کی ایک پینل کی سفارش پر ان گیارہ مجرموں کی رہائی جو 2002 گجرات دنگوں کے دوران بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری اور کئی افراد جن میں ایک چھوٹا بچہ بھی شامل تھا کے قتل کے مجرم قرار پائے تھے، انتہائی شرمناک ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ کس طرح عدالت اور حکومت عدل و انصاف کا مذاق اڑا رہی ہے۔
انہوں نے کہا ان مجرمین کو ممبئی کی سی بی آئی کورٹ نے جنوری 2008 میں اجتماعی عصمت دری اور بلقیس بانو کے گھر کے سات افراد جس میں ان کا تین سال کا بچہ بھی تھا، عمر قید کی سزا سنائی تھی۔اس واقعہ نے صرف اندرون ملک بلکہ پوری دنیا کو غم اور غصہ کی کیفیت میں مبتلا کردیا تھا۔
انہوں نے آگے کہا کہ یکے بعد دیگرے انتہائی شرمناک واقعات کا ایک تسلسل ہے جو ان دنوں سامنے آرہا ہے۔ سب سے پہلے اپنے ایک فیصلہ میں عدالت عظمیٰ نے ذکیہ جعفری کی اس درخواست کو مسترد کردیا جس میں گجرات دنگوں میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ شری نریندر مودی کے رول کی جانچ کرنے کے لئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں SIT قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اس کے بعد ہیومن رائٹس اکٹی وسٹ تیستا سیتل واد اور گجرات کے سابق DGP سری کمار کو گرفتار کیا گیا اور اب ان گیارہ مجرمین کی رہائی۔ یہ سب زبان حال سے ملک میں قانون کی حکمرانی کی بگڑتی صورت حال کو بیان کررہی ہے۔ویلفیئر پارٹی مطالبہ کرتی ہے ان گیارہ بدترین مجرموں کی رہائی کو فی الفور منسوخ کرکے گرفتار کیا جائے- تیستا سیتل واد اور سری کمار اور دیگر سچائی کے علمبرداروں کو بھی فوری طور پررہا کیا جائے تاکہ 2002 گجرات کے مظلومیں کو انصاف مل سکے۔
Comments are closed.