مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
تحریک آزادی میں سابق طلباء کے کردار پر مبنی گیلری کا اے ایم یو میں افتتاح
علی گڑھ، 16 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے مولانا آزاد لائبریری میں ایک مستقل گیلری کا افتتاح کیا جس میں اے ایم یو کے اُن ممتاز سابق طلباء و طالبات کی نایاب تصاویر اور تحریریں شامل کی گئی ہیں جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس گیلری کے ذریعہ مولانا محمد علی جوہر ، حسرت موہانی، خان عبدالغفار خان، بھارت رتن ڈاکٹر ذاکر حسین، راجہ مہندر پرتاپ، عبدالمجید خواجہ اور قاضی عدیل عباسی سمیت چار درجن سے زائد حریت پسندوں کی تحریک آزادی میں ولولہ انگیز شراکت کو دکھایا گیا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر منصور نے کہا ’’تحریک آزادی میں اے ایم یو کے سابق طلباء کے اہم اور ناقابل فراموش کردار کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے ہم نے مولانا آزا د لائبریری میں ایک علیحدہ گیلری بنانے کا فیصلہ کیا جس میں یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے مجاہدین آزادی کی تحریریں اور تصاویر رکھی گئی ہیں‘‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ مخصوص گیلری، دسمبر 2020 میں اے ایم یو کی صد سالہ تقریب میں عزت مآب وزیر اعظم شری نریندر مودی کی اس تقریر سے تحریک پاکر قائم کی گئی ہے جس میں انھوں نے مجاہدین آزادی کی خدمات کو نمایاں کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
اے ایم یو لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ نے کہا ’’خاص طور پر خاتون حریت پسندوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جیسے کہ بیگم نشاط النساء موہانی اور بیگم خورشید خواجہ جنہوں نے جذبہ ہمت اور بے باکی کے ساتھ جدوجہد آزادی میں حصہ لیا اور مشکلات کا سامنا کیا‘‘۔
پروفیسر نشاط فاطمہ نے کہا ’’جب آزادی کے لیے لڑنے والے مردوں کو قید کیا گیا تو ہندوستانی خواتین بشمول اے ایم یو کی ممتاز سابق طالبات نے آگے بڑھ کر تحریک کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان عظیم خواتین کی فہرست کافی طویل ہے جنھوں نے اپنے عزم و حوصلے سے ملک کے لئے عظیم قربانیاں دیں‘‘۔
پروفیسر نشاط نے کہا: ’’یہ گیلری نہ صرف سیاسی شخصیات کی خدمات کو نمایاں کرتی ہے، بلکہ اس میں سعادت حسن منٹو، حیات اللہ انصاری، علی سردار جعفری، جوش ملیح آبادی، عصمت چغتائی اور خواجہ احمد عباس جیسی عظیم ادبی شخصیات کی کتابوں اور دیگر تحریروں کو دکھایا گیا ہے جنہوں نے جدو جہد آزادی کے دوران ہندوستانی شعور کی تشکیل میں مدد کی۔ گیلری میں اے ایم یو کے مجاہدین آزادی کی انگریزی، ہندی اور اردو میں ایک سو سے زائد کتابیں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں‘‘۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں یومِ آزادی تقریبات کے تحت محفلِ مشاعرہ کا انعقاد
علی گڑھ، 16؍اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی، شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام یومِ آزادی تقریبات کے تحت ایک شاندار محفلِ مشاعرہ کا انعقاد بوائز پالی ٹیکنک میں کیا گیا جس میں ملک کے نامور شعراء نے حب الوطنی اور عام سماجی موضوعات پر اپنا کلام پیش کیا۔ کووِڈ 19 وبا کے تعطل بھرے دور کے بعد منعقد ہونے والے اس آف لائن مشاعرے میں حاضرین کثیر تعداد میں موجود رہے۔
وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے مشاعرے کی صدارت کی جب کہ مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسر آذرمی دخت صفوی شریک ہوئیں۔ پروفیسر صفوی نے اپنے مختصر خطاب میں کہاکہ مشاعروں سے ادبی و تہذیبی ذوق کی آبیاری ہوتی ہے اور انسان کے جذبات اور عقل کو جس انداز میں شعراء متاثر کرتے ہیں کوئی اور نہیں کرتا ۔ آرٹس فیکلٹی کے قائم مقام ڈین کے طور پر پروفیسر عارف نذیر مشاعرے میں موجود رہے ۔
مشاعرے کی ابتداء میں استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پروفیسر محمد علی جوہر نے حاضرین کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہاکہ جشن آزادی مشاعرے کا مقصد اپنے اسلاف و اکابر کے کارہائے نمایاں اور قربانیوں کی یادیں تازہ کرنا ہے۔ پروفیسر جوہر نے کہاکہ شعرائے اردو اور علی گڑھ کے فارغین نے تحریک آزادی میں اہم کردار کیا جس میں مولانا حسرت موہانی، علی برادران، معین احسن جذبی، علی سردار جعفری، شمیم کرہانی، کیفی اعظمی وغیرہ کے نام فوراً ہی ذہن میں آتے ہیں۔ انھوں نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ثقافتی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ کثرت میں وحدت کی جلوہ گری ہندوستان کی منفرد شناخت ہے۔
مشاعرے کی نظامت پروفیسر سید سراج اجملی نے کی۔ شعراء کا منتخب کلام پیش خدمت ہے:
دل نے کہا کہ مانگ لوں، میں نے کہا نہ مانگ
صدیوں سے بے وفا ہے جو اس سے وفا نہ مانگ
(پروفیسر خالد محمود)
گھر چاہئے تمھیں تو اِدھر عاشقوں میں آؤ
وہ جو رقیب ہیں در و دیوار لوگ ہیں
(فرحت احساس)
لئے پھرتے ہیں غم اِس کا اور اُس کا
کہ جیسے اپنا کوئی غم نہیں ہے
(ڈاکٹر مہتاب حیدر نقوی)
اک زیاں جان کا ہوتا تو کوئی بات نہ تھی
اس سے ملنے میں کئی طرح کی دشواری تھی
( پروفیسر احمد محفوظ)
اے میری خاک وطن کب ہے ضرورت میری
میں بھی تیار ہوں تیار ہے مٹی میری
( پروفیسر کوثر مظہری)
بس ایک وہ نہیں آیا جسے پکارا تھا
جنھیں پکارا نہیں تھا وہ بار بار آئے
(عالم خورشید)
تذکرہ ایسے مسیحا کا بھلا کیا کرتے
جس نے خود اپنے ہی بیمار سے پرہیز کیا
(پروفیسر شہاب الدین ثاقب)
وہ تو نکلا ہی نہیں ہے گھر سے
حشر پھر کیسے بپا ہوگیا ہے
(سراج اجملی)
ٹوپی ہے سجی ماتھے پہ، داڑھی بھی گھنی ہے
مشکوک میری اس لئے حب الوطنی ہے
(عابد علی عابد)
دنیا کی بات بات پہ اس کی نظر تو ہے
شاید میرے عزیز کو میری خبر نہیں
(ڈاکٹر سلمیٰ شاہین)
ناامیدی سے جدا امید ہوتی ہے مگر
فرق اب کرتا یہاں دیوار و در میں کون ہے
(راحت حسن)
بس اسی وجہ سے قائم ہے مری صحت عشق
یہ جو مجھ کو تیرے دیدار کی بیماری ہے
(سالم سلیم)
ساقی شراب دے کہ نہ دے اس کا غم نہیں
لیکن مجھے جواب نہ دے بے رخی کے ساتھ
(معراج نشاط)
عجیب ضد ہے یہ گھر توڑ دے گی رشتے بھی
وہ چاہے کوئی ہو دیوار مت اٹھانے دے
(سرور ساجد)
تمھارے واسطے اک کھیل ہے کارِ محبت
مگر اس کھیل میں نقصاں ہمارا ہورہا ہے
(سرفراز خالد)
یہ کیسا جنوں ہے کہ سوالات کرے ہے
قسمت میں فقط لفظِ تمنا ہے کہ تم ہو
(ممتاز اقبال)
مشاعرے میں عابد علی عابد کی کلیات کا اجراء بھی عمل میں آیا۔
٭٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں وسیع پیمانے پر شجرکاری
علی گڑھ، 16 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کیمپس میں ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کے تحت وسیع پیمانے پر شجرکاری ہوئی۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے فیکلٹی آف آرٹس میں شجرکاری مہم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ’’یوم آزادی کی تقریبات میں لوگوں کو شامل کرنے کے لیے پودے لگانا سب سے پر لطف اور ماحول دوست سرگرمیوں میں سے ایک ہے۔ درخت سیلاب کے خطرے کو کم کرتے ہیں، ہوا کے معیار کو بہتر کرتے ہیں ، سورج کی تمازت کو کم کرتے ہیں ، ہمیں سایہ دیتے ہیں اور پرندے ان میں بسیرا کرتے ہیں‘‘۔
پروفیسر ایس امتیاز حسنین (ڈین، فیکلٹی آف آرٹس) نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا’’ موسمیاتی تبدیلی کا اثر عالمی پیمانے پر محسوس کیا جارہا ہے،اور صرف درخت ہی نقصان دہ گردوغبار اور آلودگی کو صاف کرکے ہوا کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں‘‘۔
پروفیسر ذکی انور صدیقی (ممبر انچارج، شعبہ لینڈ اینڈ گارڈن) نے کہا کہ یونیورسٹی نے یوم آزادی کی تقریبات میں ’درخت لگائیں، کرہ ارض کو بچائیں‘ موضوع پر شجر کاری مہم کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
اسی طرح فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز میں ڈین پروفیسر رئیس احمد نے مختلف شعبہ جات کے سربراہوں، طلبہ اور غیر تدریسی عملے کے ساتھ ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ اور ہفتہ بھر جاری رہنے والے جشن آزادی کے موقع پرپودے لگائے۔
پروفیسر رئیس نے کہا ’’کئی دہائیوں تک جنگلات کی کٹان سے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں ریکارڈ سطح پر اضافہ ہوا ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کا مقابلہ پودے لگا کر کریں‘‘۔
آفتاب ہال میں پروفیسر محمد محسن خان (یونیورسٹی فنانس آفیسر) نے ڈاکٹر سلمان خلیل (پرووسٹ) اور ہاسٹل کے عملے کے ساتھ پودے لگائے۔
پروفیسر محسن خان نے کہا کہ یوم آزادی ہر ہندوستانی کے لیے قابل فخر مواقع میں سے ایک ہے اور قومی تہوار کے موقع پر پودے لگانا ملک کو سرسبز و شاداب رکھنے اور آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ہماری لگن کا عکاس ہے۔
ڈاکٹر سلمان خلیل نے یونیورسٹی میں شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے طلباء اور اساتذہ سے بھرپور شرکت کی اپیل کی۔ ڈاکٹر ارشاد حسین (این ایس ایس کوآرڈینیٹر) نے بھی فنانس آفیسر اور ہال پرووسٹ کے ساتھ پودے لگائے۔
شعبہ عربی میں، پروفیسر ایس امتیاز حسنین (ڈین، فیکلٹی آف آرٹس) اور پروفیسر محمد سمیع اختر (چیئرمین، شعبہ عربی) نے فیکلٹی ممبران اور طلباء کے ساتھ ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کے موقع پر پودے لگائے۔
پروفیسر سمیع اختر نے کہا کہ درخت بنیادی طور پر انسانوں اور دیگر جانداروں کے لئے ضروری ہیں، جو ہمیں غیر مشروط طور پر خوراک، آکسیجن اور بقا کے لیے مختلف قسم کی دیگر سہولت بہم پہنچاتے ہیں ۔
جیوگرافیکل سوسائٹی، شعبہ جغرافیہ کے ذمہ داران نے بھی یوم آزادی کے موقع پر شعبہ کے احاطے میں پودے لگائے۔ پروفیسر جابر حسن خان (قائم مقام چیئرمین) نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے پودے لگانے کی اہمیت پر بات کی۔
ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی (معاون کوآرڈینیٹر) پروگرام کے کنوینر تھے۔
عبداللہ ہال میں یوم آزادی کی تقریب پر ڈاکٹر غزالہ ناہید (پرووسٹ) نے ہال وارڈن اورا سٹاف کے ساتھ مختلف پودے لگائے۔ اپنی تقریر میں انھوں نے طالبات اور تمام دیگر لوگوں کو صاف و شفاف ماحول کے لیے پودے لگانے کی ترغیب دی۔
یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی اور دیگر تقریبات کے بعد اے ایم یو سٹی گرلز ہائی اسکول کی طالبات اور اساتذہ نے بھی اسکول کے احاطے میں مختلف پودے لگا کر یونیورسٹی کی شجرکاری مہم میں شمولیت اختیار کی۔
مہمان خصوصی پروفیسر عابد علی خاں (ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائریکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن، اے ایم یو) نے اپنے خطاب میں کہا ’’جنگلاتی زندگی کی بہت سی اقسام اپنی زندگی کے لیے درختوں پر منحصر ہیں۔ درخت بہت سے چرند و پرند کے لیے غذا، تحفظ اور گھر فراہم کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے طالبات کو عظیم مجاہدین آزادی سے تحریک لینے کی تلقین کی۔
اسکول پرنسپل ڈاکٹر محمد عالمگیر نے طالبات کو اتحاد و یکجہتی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی۔ اسکول کی طالبات نے تقریریں کیں اور حب الوطنی کے نغمے گائے۔پروگرام کی نظامت اسکول کی اساتذہ عروج خان اور صائمہ ندیم نے کی۔ فرزانہ نذیر (کلچرل کوآرڈینیٹر) نے تقریب کا اہتمام کیا۔
سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) میں بھی طلباء اور اساتذہ نے ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ منانے کے لیے شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔
کارگزار پرنسپل ڈاکٹر صبیحہ اے سلام نے بتایاکہ ڈائرکٹر آف اسکول ایجوکیشن پروفیسر اصفر علی خاں، پروفیسر ذکی انور صدیقی (ممبر انچارج، لینڈ اینڈ گارڈن)، پروفیسر عابد علی خان (ڈپٹی ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن )، پروفیسر انور شہزاد اور ڈاکٹر علی جعفر عابدی (یونیورسٹی ہیلتھ آفیسر) نے اس موقع پر پودے لگائے۔
پروفیسر اصفر علی خاں نے روزمرہ کی زندگی میں پودوں کی اہمیت پر زور دیا اور طلباء کو زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی تلقین کی۔
Comments are closed.