زندگی مثل بلال حبشی ؓرکھتے ہیں !

ازقلم: محمد رضا
پی جی ریسرچ اسکالر : دارالہدی اسلامک یونیورسٹی،ہدایہ نگر چماڈ ، ملاپورم ،کیرالا
ہم مسلمان اس رب کریم کی ذات سے کبھی مایوس نہیں ہوتے ہیں اور نا ہی کبھی اس سے کوئی شکوہ و گلہ رکھتے ہیں کیوں کہ اس نے نوع انسانیت کو اس عالم فانی میں سب سے اعلی اور بہتر مخلوق بنا ہے جیسا کہ قرآن مقدس میں ذکر ہے ‘‘ لقد خلقنا الانسا ن فی أحسن تقویم ‘‘ کہ ہم نے انسان کو سب سے بہتر مخلوق بنایاہے ۔وہ ہمیں جس حال میں رکھے ہم شکر بجالاتے ہیں کیوں کہ اللہ تعالی کی تمام باتوں میں کوئی نا کوئی حکمت پرشیدہ ہوتی ہے جو سارے مخلوق کو خصوصا انسان کو اور ان میں أخص الخاص مسلمانوں کو تمام مشکلات سے نکال کر ایک اچھی زندگی گزارنے کا سنہرا موقع فراہم کرتی ہے ۔ انسان کو اللہ تعالی نے تمام مخلوق میں سب سے بہتر بنا یاہے اس لیے تو یہ انسان اللہ کے بہت مقرب بندے بن جاتے ہیں اور کتنے تو ایسے ہیں جو اللہ کی معرفت کو جان کر اس سے بہت قریب ہوجاتے ہیں اور ان کی ساری دعائیںمقبول ہوتی ہے کیوں کہ انہیں قرب الہی حاصل ہوجاتاہے ۔ ہم الحمد اللہ ا س کی عطا کردہ نعمتوں کا کا شکر کرتے ہیں اور اگرچہ ہمارے اوپر کتنی بھی مصائب کے پہاڑ ہی کیوں نا ڈھا دیے جائے مگر ہم ہمہ وقت صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں او ر تمام کاموں کو بحسن خوبی بہتر سے بہتر انداز میں کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیںکیوں کہ اگر ہم اس رب کریم کی ذات پر بھروسہ رکھ کر کام کرتے ہیں تو ہم ہر جگہ اور ہرمیدان میںفتح یاب ہوکب لوٹتے ہیں اور ہمیں مایوسی کا سایہ تک دکھنے کو نہین ملتاہے اللہ کے فضل و کرم سے ہم ہر جگہ اور میدان عمل میں کامیاب ہوتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔
یہ کہنا تو بڑا آسان ہوتاہے کہ ہم زندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیں کیوں کہ ہمیں اس کا مکمل مفہوم ہی نہیں معلوم ہے کہ اس کا در اصل اس مصرعے کا مفہوم کیا ہے ؟ آخر اس شعر میں ہم امت مسلمہ کو کیا بیغام مل رہا ہے ؟ علامہ اقبال کی لکھی گئی یہ شعر ہمیں اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس امت محمدیہ کو مثل بلال حبشی زندگی گزانے کی کوشش کرنی چاہئے, ان جیسا شریعت کے احکام پر پابندی کرنی چاہئے , ان کی طر ح ہمارے دلوں میں عشق نبی موج زن ہوناچاہئے , ان کی طرح ہمارا ہر کام شریعت محمدیہ کے مطابق ہونا چاہیے , ان کی طرح صبر و تحمل کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھنا چاہئے, ان جیسا بننے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے دل کو تمام برائیوں سے پاک کرنا پڑیگا, ہمیں ان کی طرح بننے کے لیے خود کو قرآن مقدس کی تعلیم پر کھرا اتارنا پڑیگا, ان کی مثل زندگے گزانے کے لیے خود کو راہ حق پر قربان کرنا پڑیگا , ان کی ہم مثل سرمایہ حیات پانے کے لے ان کی ہر ادا کو ہمیں ہماری عملی زندگی میں مکمل طور پر لانا پڑیگااور ان کی طرح بننے کے لے ہمہ وقت نماز کی پابندی کرنی پڑیگی کیوں کہ بلال حبشی کی زندگی ہمارے نسلوں کے لیے نمونہء حیات ہے ۔
آج کے دور جدید میں اگر یہ امت محمدیہ قوم مسلم چاہتی ہے ان کی کھوئی ہوئی عزت و وقاردوبارہ لوٹ آئے اور ان کی بھی زندگی خوشحال زندگی گزرے۔اور اگر اس دور کے نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی بھی بلال حبشی کی طرح ممتاز ہوجائے , فتنے فساد سے امن امان میں رہے , امن آشتی کے پیغام کو باآسانی حاصل کرلے , بھائی چارگی کے درس مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھے, آپس میں اختلاف پیدا نا ہو , سماج میں ذلت و رسوائی کاسامنا نا کرنا پڑے, ہم اپنے سماج میں وقار سے زندگی گزارے , لوگ ہمیں عزت بھری نگاہ سے دیکھیں اور ہم اللہ رب العزت کے محبوب ترین بندوںمیں سے ایک مقرب بندے بن جائیں تو ہمیں سب سے پہلے پانچ وقتہ نماز کی پابندی کرنی پڑیگی, نماز باجماعت خلوصیت کے ساتھ اداکرنا ہوگا , زکاۃ کو مستحقین کو ادا کرنا ہوگا, مسکینوں اور فقیروں کی امداد کرنے پڑیگی , اپنے پڑوسیوں کا پورا خیال رکھنا پڑیگا , دوست و اقارب سے محبت بھری انداز میں ملاقات کرنی پڑیگی, اپنے والدین کی عزت کونی ہوگی , قرآن مقدس کی تلاوت میں اضافہ کونا ہوگااور شریعت کے تمام حکموں پر بلا جھجھک عمل پیراں ہونا پڑیگا الغرص اگر میں کہوں تو ہمارا ہر کام شریعت محمدیہ اور رسول اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق صحیح معنوں میں ادا کرناپڑیگا کیوں کہ رسول اکرم ﷺارشاد فرماتے ہیں ‘‘ من أحبّ سنتی فقد أحبّنی ومن أحبّنی فقد أجبّہ اللہ ومن أحبّ اللہ فقد دخل الجنۃ‘‘ کہ جس بھی شخص نے میری سنت کو پسند کیا گویاکہ اس نے مجھے پسند کیا او رجس نے مجھے پسند کیا گویاکہ اللہ نے سے پسند کیااور جسے اللہ نے خود پسند کیاہو بھلاپھر وہ جنت مین کیسے نا داخل ہوگا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی بھی بلال حبشی کی طرح ہوجائے اور ان کی طرح ہمارا بھی دل منور ہوجائے تو ہمیں ان کی طرح رسول اکرم ﷺ سے دل کی عمیق گہراؤیوں سے محبت کرنا پڑیگا, ان کی حیات کو مکمل طور پر نمونہء حیات بناپڑیگااور اپنے بچوں کو ان کے قصّے سناکران کے دل کو منور کرنا ہوگاان بچوں کو بھی قرآن مقدس کی تعلیم عقیدت مندی کے ساتھ دینا پڑیگا تب جا کر آج کے اس پر فتن ماحول اور دور جدید میں نمایاں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔
آئیے اب ذرا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے اس واقعے سے اپنے دلوں کو منو ر کرتے ہیں ۔ بلال حبشی رضی للہ عنہ رسول اکرم ﷺ کی بارگاہ آجاتے ہیں اور رسول اکرم ﷺکے دامن مبارک کو پکڑ کر رونے لگتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں یارسول اللہ مجھے عتبہ بلاتاہے اور میں جاتاہوں , مجھے شیبہ بلاتاہے او رمیںجاتاہوں , امیہ بن خلف بلاتاہے اور میں جاتاہوں اور ابوجہل بلاتاہے اور میں جاتاہوں رسول اکرم ﷺ یہ کفار مکہ مل کر مجھ پر ظلم کے پہاڑ ڈھاتے ہیں یارسول اللہ امیہ بن خلف مجھے گرم گرم ریت پر لیٹادیتے ہیں اور میرے سینے پر گرم پتھر کو رکھ دیا کرتے ہیں میں ان کے ظلم کی انتہاء سے بہت پریشان ہوگیاہوں یہاں تک ابو جہل بھی مجھے نہیں چھوڑ تاہے یہ بھی بے انتہاء ظلم کرتا ہے ۔اور بس میں برداشت کرتاہوں مگر میرے حبیب میں آپ کے سایہء کرم میں آنا چاہتا ہوں میں نے سنا ہے کہ آپ بہت ہی زیادہ رفیق اور رحم د ل ہیں غریبوں اور مسکینوں کی امداد کرتے ہیں اور مظلوموںکی نصرت فرماتے ہیں یا رسلول اللہ میں بھی مشرف با اسلام ہونا چاہتاہوں مجھے بھی آپ کی دین پر ایمان لاناہے میں بھی مذہب اسلام کے اندر آنا چاہتاہوں تو رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اے بلال تو پڑھ کہ ‘‘ أشہد أن لا الہ الّا اللہ و أشہد أن محمدا عبدہ و رسولہ‘‘ کہ میں یہ گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں توبلا حبشی محبت بھر ی اندام میں جھوم کر بول اٹھتے ہیں ‘‘ أشہد أن لا الہ الّا اللہ و أشہد أن محمدا عبدہ و رسولہ‘‘ کہ میں یہ گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔
پھر رسول اکرم ﷺبلال حبشی ؓ سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ اے بلا ل اب تیری حیثیت بدل گئی ہے تیرا مقام بھی متبادل ہو گیا ہے او رآنے والی تیری زندگی بھی سنور جائیگی ۔ اور ارشاد فرماتے ہیں کہ اے بلال چڑھ جا کعبے کی چھت پر او رآذان دینا شرو ع کردو اب آپ بلائیں گے تو ابوبکر الصدیق آئیں گے , آپ بلائیں گے تو عمر الفاروق آئیں گے , آپ بلائیں گے تو عثمان بن عفان آئیں گے , آپ بلائیںگے تو علی المرتضی آئیں گے , آپ بلائیں گے تو عبد اللہ بن عباس آئیں گے ,آپ بلائیں گے تو عبد اللہ بن مسعود آئیں گے , آپ بلائیں گے تو ابو ھر یرہ آئیں گے اور آپ بلائیں گے میںخود چلا آئوں گا تو بلال حبشی ؓ کعبے کی چھت پر چڑھ جاتے ہیں او رآذان دینا شرو ع کر دیتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی اذان سن کر ابو بکر الصدیق ؓ چلے آرہے ہیں , ان کی آواز سن کر عمر بن خطاب ؓ چلے آرہے ہیں , ان کی آذان سن کر عثمان غنی چلے آرہے ہیں , ان کی آذان سن کر حیدر کرار چلے آرہے ہیں , ان کی آواز سن کر عبد اللہ بن مسعود چلے آرہے ہیں , ان کی آ واز سن کر عبد اللہ بن عباس ؓ چلے آرہے ہیں , ان کی آذان سن کر ابو ھریرہ چلے آرہے ہیں اور ساتھ ہی یہ دکھتے ہیں کہ ان کی آذان سن کر خود رسول اکرم ﷺ ان طرف چلے آرہے ہیں اتنا دیکھنا تھاکہ بلال حبشیؓ رسول اکر م ﷺ کے قدموں گر جاتے ہیں او ریہ عقیدت سے جھوم کر کہنے لگتے ہیں: یارسول اللہ
جب تک بکے نہ تھے کوئی پوچھتا تا ناتھا
آپ نے مجھے خرید کر انمول کر دیا
معزز دوستوں ! ہمیں اپنے بچوں کو صحابہء کرام رضی اللہ عنہم کی قصّے اور کہانیاں سنائیں تاکہ ان بچون کی دلوںمیں بھی عشق رسول کی آگ بڑھ اٹھے , ابوبکر الصدیق ؓ کی صداقت کے بار ے میں بچوں کو بتائیں , عمر الفاروق ؓ کے بارے میں اپنے بچوں کو کہانیاں سنائیں , عثمان غنی ؓ کی سخاوت کے بارے میں اپنی بچوں کومتعارف کرائیں, علی المرتضیؓ کی شجاعت کے بارے میں اپنے بچوں کو روشناس کرائیں تاکہ آپ کہ بچے بھی ان طرح بننے کی کوشش کرے کیوں کہ میرے دوستو ں یہی تو دین کی بنیاد ہے اگر ہما را ایمان ہی درست نہیں ہوگا تو ہمارے افعال کیسے صحیح ہوںگے او راس سے ہمار ے بچے اسلامی تواریخ کو ذوق و شوق سے پڑھیں او ررسول اکرم ﷺ کی کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرے ۔ انہیں تما م باتو ں کو یاد کرتے ہوے مجھے علامہ اقبال کی یہ شعری بہت یاد آتی ہے :
آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثل بلال حبشی ؓ رکھتے ہیں

Comments are closed.