گیان واپی مسجد کیس کی سماعت اب ۲۲اگست کو ہوگی

 

وارانسی۔ ۱۸؍اگست: اترپردیش کے وارانسی میں ڈسٹرکٹ جج ڈاکٹر۔ اجے کرشنا وشویش کی عدالت میں سماعت ہوئی۔ فریقین نے عدالت میں جوابی دلائل کے لیے مزید مہلت طلب کی ۔ جواب دہندہ نے کہا کہ ان کے مرکزی وکیل ابھے ناتھ یادو کی موت کے بعد ایڈوکیٹ یوگیندر پرساد سنگھ اور شمیم احمد ان کی جگہ اس کیس کا دفاع اور جرح کریں گے۔ اس لیے جوابی دلائل کی تیاری کے لیے ۱۰دن کا اضافی وقت دیا جائے۔عدالت نے معاملے میں تاخیر پر مدعا علیہ پر پانچ سو روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے سماعت کی اگلی تاریخ۲۲اگست مقرر کی۔ اس سے پہلے مدعا علیہ کے اہم وکیل ابھے ناتھ یادو کے انتقال کے بعد عدالت نے پندرہ دن کا وقت دیتے ہوئے۱۸ اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔ مقدمے میں مدعا علیہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ یہ کیس قابل سماعت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی مدعی کی پانچ خواتین کی جانب سے ان کے وکلاء نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ مقدمہ کسی بھی صورت میں قابل سماعت ہے۔ انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی جانب سے مدعیان کے وکلاء کے دلائل کا جواب دیا جانا ہے۔مدعی نمبر دو سے پانچ اور مدعی نمبر ایک کے وکیل راکھی سنگھ نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ملک کی آزادی کے دن سے لے کر سال ۱۹۹۳تک ما شرنگار گوری کی باقاعدہ پوجا ہوتی تھی۔ سال ۱۹۹۳میں اس وقت کی ریاستی حکومت نے اچانک رکاوٹیں لگا کر درشن اور پوجا روک دی۔ انہوں بتایا کہ دعویٰ صرف ماں شرنگار گوری کے باقاعدہ درشن اور پوجا کا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مندر کی تباہی سے اس کا وجود ختم نہیں ہوگا۔ ۱۹۳۷میں دین محمد کیس کا فیصلہ آیا۔ یہ سب پر پابند نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی ہندو پارٹی نہیں تھی ۔وکلاء نے کہا کہ مسلم قانون میں یہ واضح ہے کہ جو جائیداد وقف کو دی جاتی ہے وہ صرف مالک ہی دے سکتا ہے۔ گیانواپی کے سلسلے میں کوئی وقف نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اوپیندر سنگھ کے معاملے میں واضح کیا ہے کہ مذہبی حقوق دیوانی قانونی چارہ جوئی کے دائرے میں آتے ہیں۔ شری کاشی وشوناتھ مندر ایکٹ میں اراضی نمبر ۹۱۳۰کو دیوتا کا مقام سمجھا گیا ہے۔ ضابطہ دیوانی میں، جائیداد خسرہ یا چوہدی کی ملکیت ہے۔

Comments are closed.