منافقانہ مزاج کے دانشور

الطاف جمیل شاہ
۔۔۔۔اتفاق لازمی نہیں ہے۔۔۔۔۔
موجودہ دور میں کچھ علماء یوٹیوبر نے اپنی کوتاہ نگاہ کے ساتھ ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جو عوام کے لئے جاذب نظر و قلب تھا اور پھر مخصوص انداز میں گمراہ عقائد کی نشر و اشاعت شروع کی جس میں پہلا کام یہ کیا کہ بڑے ہی مہذب انداز میں اصحاب نبوی ازدواج مطہرات رضوان اللہ علیہم اجمعین پر دشنام طرازی کی امیر معاویہؓ امی عائشہ صدیقہؓ علی کرم اللہ پر جرح کی مختلف فیہ مسائل کو اپنی من مرضی مطابق حل بتایا اور ایک گروہ اپنے ان باطل اور احمقانہ نظریات کی ترویج و اشاعت پر لگا دیا خوب کمائی بھی ہوئی اور دنیا میں نام بھی ہوا پر عقبیٰ کی رسوائی مقدر ہوگی۔
جب یہ بد زبان صحابہ پر الزام لگاتے ہیں یا ائمہ اربعہ پر تو ان کے معتقدین کہتے ہیں یہ تحقیق ہے اب ان جاہلوں پر کوئی نقد کرے تو دیں دشمن یہ ائمہ کرام یا کسی معروف علمی شخصیت کی عزت ریزی کریں تو تبلیغ و تحقیق اب ان بد زبانوں کو کوئی ان کی زبان میں جواب دے تو بد زبان عجیب مخلوق ہے ان کی ان کی دم پر گر غلطی سے بھی قدم پڑ جائے تو چلانے لگتے ہیں اور اپنا دفاع اس قدر غلیظ زبان سے کرتے ہیں مہذب انسان چاہ کر بھی ان سے بات کرنے سے خوف زدہ ہوجاتا ہے اب کوئی گردے والا گر ان سے ٹکرا جائے ان کے ہی انداز میں تو سمجھو تمام کپڑے گیلے ہوجائیں ان کے۔
یہ ظالم تحقیق کے نام پر
زہر فروخت کرتے ہیں امت مسلمہ کو اپنے اکابرین سے اسلاف سے علماء سے متنفر کر دیتے ہیں خود ان کی اپنی علمی حیثیت یہ کہ مسائل استنجا تک سے ناواقف ہوتے ہیں پر جرح و تعدیل اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں انہیں تدوین فقہ کا مفہوم گوگل پر ڈھونڈنا پڑتا ہے پر جرح ائمہ اربعہ پر کریں گئے ہمارے ہاں ان کی تعداد اب دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور ان منافقانہ روش پر چلنے والوں کے ہتھے سب سے زیادہ وہ دین پسند نوجوان چڑھ جاتے ہیں جو سہولت پسند اور آرام طلب ہوتے ہیں انہیں بنیادی عقائد و نظریات سے کوئی مطلب نہیں ہوتا بس کوئی ان کی کسی برائی کے لئے کوئی گنجائش بیان کر دے تو وہ علامہ زماں ۔
خیر
ان دانشور نما فسادیوں کو خود پر نقد و جراح کسی صورت گوارا نہیں کئی ایسے ہیں جنہیں اپنے لا مثال اور عالم بے بدل ہونے کے خمار نے بدمست سانڈ بنا کر رکھ دیا ہے ان کا حال یہ ہے کہ بخاری یا مسلم کی روایات کو اصل متن کے ساتھ پڑھنے سے قاصر ہیں اب گر کسی روایت پر زیر زبر وغیرہ نہیں ہیں تو ان کی زبان پھنس جاتی ہے پڑھتے ہوئے پھٹ جو یہ اس روایت کا حشر کر دیتے ہیں وہ اللہ ہی جانتا ہے ۔
ان لوگوں کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ توحید و سنت کی نشر و اشاعت کے نام پر یہ لوگوں کو بہلاتے ہیں پھر ضد انا انانیت نفرت و کدورت سے ان کے اذہان کو پراگندہ کرکے وحشی بنادیتے ہیں اپنے متبعین کو ان متبعین کا حال یہ ہے کہ ائمہ کی تقلید کو حرام کہنے سے جھکتے نہیں پر اپنے امام یوٹیوبر کی اتباع کے معاملے اس قدر غلو کرتے ہیں کہ الامان و الحفیظ ۔
التماس ہے با قاعدہ علماء سے جڑے رہیں اس میں خیر ہی ورنہ ایمان و عقائد کے نام پر آج کل جو فساد فی الارض کی صورت بنی ہوئی ہے آپ اس طوفان میں بہہ جائیں گئے اور خبر بھی نہ ہوگئی اس لئے جو علماء کرام آپ کے آس پاس دور اصلاح میں زمینی سطح پر سرگرم ہوں اور جن کے اخلاق و کردار پاکیزہ ہوں ان سے جڑ کر اپنی آخرت برباد ہونے سے بچائیں ۔
سنو اور سمجھو !
آپ کے آس پاس بھی آج کل ایسے کئی چہرے ہوں گئے جو دعوت اصلاح کے نام پر اپنی لاعلمی کو پردہ میں چھپا کر زبان کی چاشنی سے آپ کو متاثر کرسکتے ہیں پر یاد رکھیں زبان کا میٹھا ہونا صاحب علم ہونے کی علامت نہیں ہے اور نہ ہی اخلاقی سے عاری ہونا کوئی کمال ہے ۔
مذکورہ تحریر کا پس منظر
……
اس تحریر کا کسی بھی عالم سکالر یا دانشور سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی کسی خاص شخصیت یا شخصیات کے لئے لکھی گئی ہے گر اتفاق سے کوئی اس کو اپنے سکالر یا دانشور کے گلے باندھ کر شروع ہوجائے وہ اپنی بدزبانی کا خود ذمہ دار ہوگا ۔
فی امان اللہ

Comments are closed.