آزادی کا نظریہ اور ہندوراشٹر کافلسفہ!

از: ڈاکٹر آصف لئیق ندوی،عربی لیکچرارمانو
asiflaiquenadwi@gmail.com

دنیا کے بہت سے الفاظ اور اصطلاحات کی طرح آزادی کا مفہوم بھی اسلامی لغت اور ڈکشنری میں اس مفہوم سے بہت مختلف ہے، جو دنیا کی دوسری قوموں نے اس لفظ سے سمجھ رکھاہے، مغرب میں آزادی کا جو مفہوم وچلن رائج ہے، وہ مشرق میں اس مفہوم وچلن سے بالکل جدا ہے، ہرقید وبند سے آزادی اور ہرضابطہ سے چھٹکارا اور ہرطرح کی نگرانی سے (خواہ اس کا سرچشمہ خود انسان کی ذات ہو) نجات پانے کا نام مغرب میں آزادی ہے، چنانچہ اہل مغرب کے نزدیک آزادی کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو چاہیں کریں، جو چاہیں کھائیں، جو چاہیں پہنیں اور جیسا چاہیں عقیدہ رکھیں، کسی انسانی سماج میں اس قسم کی بے مہار آزادی کیا گل کھلائے گی! اس کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے، بلکہ اس آزادی کا بھیانک نتیجہ ہماری اور آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے، آج جو قوم وملک جتنا زیادہ اس آزادی کا پروردہ ہے، وہ اتنا ہی زیادہ بڑے بڑے جرائم ومظالم جیسے، چوری، قتل وغارت گری، عصمت دری، جنسی بے راہ روی، خیانت اور بداخلاقی کی آماجگاہ ہے، جبکہ اسلام میں آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا ہر اطاعت اور بندگی سے آزاد ہو جائے، یہاں تک کہ خود اپنے نفس، اپنی خواہشات اور اپنی قوم کی حاکمیت کا کوئی پھندا بھی اس کی گردن میں باقی نہ رہے! اسلام میں آزادی کو کتنا بلند مقام حاصل ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اسلامی عقیدے کو اختیار کرنے کے معاملے میں بھی اسلام نے انسان کو مجبور نہیں کیا ہے، جیساکہ نصِ قرآنی سے ثابت ہوتا ہے: سورہ دہر کی آیت نمبر 03 میں ہے، جسکا ترجمہ اور مفہوم ہے: کہ ہم نے اس کو راہ سجھادی، چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ایمان، عقیدہ اور توحید سے متعلق معاملات میں، جو کہ سب سے زیادہ اہم معاملات ہیں، انسان کو اختیار اور آزادی عطا کی ہے۔ یعنی سمیع و بصیر بنا کر اور اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعے شکر وکفر کا راستہ بتاکر اس کو اختیار دے دیا کہ وہ جس راستے کو چاہے اپنے لیے منتخب کرے، جو راستہ بھی وہ اختیار کرے گا، اس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا، چنانچہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 256 میں ہے: دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے، ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے، تو جس نے طاغوت سے انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے مضبوط رسی پکڑلی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ سورہ یونس، آیت نمبر 99 میں اللہ فرماتا ہے: اور اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین پر جتنے لوگ بھی ہیں، سب ایمان قبول کرلیتے، تو کیا تم لوگوں کو مجبور کروگے کہ وہ مومن بن جائیں؟ سورہ غاشیہ کی آیات21-22 میں اللہ کا کھلا فرمان ہے کہ: تم یاددہانی کرادو، تم بس ایک یاددہانی کرانے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ مقرر نہیں کئے گئے ہو۔

اسلام چونکہ دین فطرت ہے، اس لیے اس نے افراط و تفریط کی غیر فطری روش سے ہٹ کر اعتدال کی راہ اپنائی ہے۔ اسلام کی نظر میں انسان پابند محض نہیں ہے کہ اس کو کسی طرح کے ارادہ واختیار کی آزادی نہ ہو، اسی طرح وہ اس قسم کی موہوم اور بے مہار آزادی کو خارج کرتا ہے، جو سماج میں انتشار اور بد امنی کا سبب بنے یا جس سے فساد فی الارض رونما ہوتا ہو، اسلام ارادہ واختیار کی آزادی کو سراہتے ہوئے، جبر واکراہ کو مسترد کرتا ہے، اسلام آزادی کو انسان کا بنیادی حق قرار دیتا ہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ایک ایسا فریضہ تصور کرتا ہے، جس سے دست برداری جائز نہیں، وہ ایک خدائے واحد کی بندگی کا پابند بناکر سینکڑوں خداؤں کی بندگی اور باطل افکار ونظریات سے انسان کو آزادی دلاتا ہے، بندوں کی غلامی اور دنیا والوں کی تنگ نظری سے نکال کر آزادی اور بلند نظری کے وسیع دائرے میں داخل کرتا ہے، انسانی بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے اور تمام انسانوں کو خدا کا ایک کنبہ قرار دیتا ہے، انسانیت اور آدمیت کے اصول کو تقویت پہنچا کر مضبوط، پائیدار اور صحت مند سماج ومعاشرہ کی تشکیل میں اہم رول ادا کرتا ہے،بلا امتیاز مذہب و ملت ہرفرد وبشر کی جان ومال، دین وعقل اور عزت وآبرو کی بقا وتحفظ کو یقینی بناکر ترقی وخوشحالی کے وسیع امکانات پیدا کرتا ہے اور منضبط آزادی کا پروانہ عطا کرکے انسان کو سعادت دارین کی شاہراہ پر گامزن کردیتا ہے۔

اس لئے اسکے نزدیک اس اخلاق ونظریے سے زیادہ خطرناک اور تشویشناک کوئی اخلاق ونظریہ نہیں ہوسکتا کہ جس سے نفرت کا ماحول اورخوف کا سماں پیدا ہواور قوت کا سہارا لے کر کسی قوم ومذہب کو ٹارگٹ کیا جائے، انکے بنیادی انسانی حقوق چھینے جائیں، ان پر ظلم وزیادتی کے پہاڑ توڑے جائیں، ان کے افکار و آراء کو کسی خاص نظریے کے تحت غلام بنایا جائے، ان کے خلاف حد درجہ تنگ نظری کا مظاہرہ کیا جائے اور مختلف مراعات کے ذریعے اسے الحاد وارتداد کا شکار بنایا جائے، گھر واپسی کا میڈیا کے ذریعے واویلامچایا جائے، لوجہاد اور تبدیلی مذہب کا قانون پاس کیا جائے ، اسی طرح اسکے نزدیک ایسے انسان سے بدتر کوئی انسان نہیں ہوسکتا کہ جنکا کا آئینہ ظاہر باطن کا عکس نہ ہو، ان کا قول انکے اعتقاد قلب کا عنوان نہ ہو اور ان کی زبان ان کے دل کی سفیر نہ ہو، امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اپنے مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے متوجہ ہوکر جبکہ ان کے فرزند نے کسی مصری کو بلاوجہ کوڑے سے مارا تھا، اسکا بدلہ دلوانے کے باوجود انہوں نے حاکم مصر سے جو تاریخی جملہ کہا تھا کہ "تم نے لوگوں کو کب سے اپنا غلام بنا رکھا ہے، جب کہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا..؟” اسلامی عدل وانصاف اور فطری آزادی کی بہترین مثال ہے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ کے نزدیک اخلاق کی جان حریتِ رائے، استقلال فکر اور آزادی قوم ہے جو اب ہمارے آزاد ملک سے مفقود ہوتا نظر آرہا ہے۔

کم وبیش آٹھ سوسال تک اسی استقلال، حریت اور فطری آزادی کے جذبات واحساسات سے سرشار ہوکر تمام مسلم حکمرانوں نے ملک ہندوستان میں اپنی حکمرانی کا جو بہترین نمونہ پیش کیا کہ برادران وطن نہ صرف انکے دلدادہ ہوئے، بلکہ انکو اپنا اور اپنے ملک کا مخلص اور محسن سمجھ کر طویل حکمرانی کا موقع فراہم کیا اور بادشاہوں نے انہیں اپنی رعایا سمجھ کر ہرطرح کے ظلم و ستم اور حق تلفی و ناانصافی سے مامون ومحفوظ رکھا، معاشی واقتصادی طور پر انہیں مضبوط کیا اور اپنے عمل سے اسلامی عدل وانصاف کا جو نظریہ پیش کیا کہ وہ مذہب اسلام کے ایسا گرویدہ ہوگئے کہ بعضوں نے بلاجبر و اکراہ اپنے بادشاہ کا دین قبول کرلیا، اسی اتحاد، سالمیت، جمہوریت، اخلاص ومحبت اور مساوات کی بنیاد پر مسلم حکمرانوں نے باجود اقلیت کے اکثریت پر حکومت کی کہ ملک دنیا کاامیر ترین اور دولتمند ملکوں میں سر فہرست شمار ہونے لگا، دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ تن تنہا یہ ملک پیدا کرتا تھا ،اورنگ زیب عالمگیرکا زمانہ اس بات کا شاہد ہے ،جنہوں نے اسی خلوص ومحبت اور ترقی وخوشحالی کیساتھ تنہاپچاس برس وہ مثالی حکمرانی پیش کی کہ جن کے دور اقتدار میں مندرو مسجداور ہندومسلم کا کوئی تنازع پیدا نہیں ہوا، وہ اگرچہ بہت نیک طبع، پاک طینت اور اسلامی مزاج کے متحمل بادشاہ تھے، انکے تقوی و پرہیزگاری کی حد تو یہ تھی کہ وہ حکومت کے بیت المال سے ایک پائی بھی نہ لیتے تھے اور بناتنخواہ کے خود قرآن کے نسخے لکھتے تھے، ٹوپیاں تیارکرتے تھے اور اسے فروخت کرکے اپنا گھر بار چلاتے تھے، جنہوں نے مندروں کیلئے فنڈ جاری کیا اور مسجدوں کو بھی آباد کیا، ملک کے اعلی ذات برہمنوں کو نہ صرف حکومت سے قریب کیا بلکہ انکو بڑے بڑے عہدوں اور منصبوں پر فائز کیا، نفرت وعداوت اور بھید بھاؤ کے جذبات سے بالاتر ہوکر خود بھی قومی محبت سے سرشار رہے اور سب کو اسکا مکلف بنایا اور سب کے ساتھ اخوت ومودت اور یکجہتی ویگانگت کا بہترین معاملہ کیا ، سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کا حقیقی ماحول پیدا کیا اور اپنی حکمت وفراست سے ملک کو گنگاجمنی تہذیب کا بہترین گہوارہ بنادیا، سب کیساتھ یکساں بنیادی انسانی حقوق کابرتاؤ وسلوک کیا اور مساوی درجہ فراہم کرکے اپنی خودداری، انسانیت اور آدمیت کا ثبوت فراہم کیا، مگر افسوس کہ ان حقائق سے منہ موڑ کر کسی خاص نظریے اور پالیسی کے تحت بڑےمتقی، پرہیز گار ،مدبر اور اعلیٰ درجے کے منتظم شہنشاہ عالمگیر کے بجائے انکے بڑے بھائی داراشکوہ کاخوب نام لیا جارہا ہے ۔اسطرح ملک کا ماحول عالمگیر کے حق میں بگاڑاجارہا ہے اور انکے کارناموں کو اجاگر کرنے اور ان سے متصف ہونے کے بجائے انہیں مسخ کیا جارہا ہے اور طرح طرح کے الزامات کا بوچھار کرکے انکے ناقابل تردید کارناموں پر پانی ڈالاجارہا ہے، جو نہایت بزدلی اور احسان فراموشی کی بات ہے۔

یاد رہے کہ ملک پر اگر کوئی ایسا نظریہ جبرا تھوپا جائے، جس میں مساوات،آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کا کوئی پاس ولحاظ باقی نہ رہے اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیساتھ ویسا برتاؤ وسلوک نہ کیاجائے اور برابری کا وہی درجہ انہیں فراہم نہ کیاجائے جو مسلم حکمرانوں کے دور میں برادران وطن بالخصوص برہمنوں کو حاصل تھا، تو یہ موجودہ ارباب اقتدار کی تنگ نظری اور چشم پوشی کی واضح دلیل ہوگی جو ملک کے اتحاد، سالمیت، جمہوریت، حریت اور معیشت کو مستحکم کرنے کے بجائے اسے بدنظمی اوربدامنی کا شکار بنادے گی۔کوئی بھی ایسا نیا دستور وآئین جو جمہوری نظام سے متصادم ہو، جس میں ذات پات کا بھید بھاؤ ہو، اقلیتوں کے حقوق کی جس سے پامالی کا خطرہ ہو اور انکے ساتھ لاحق خطرات و خدشات کو دور کرنے بجائے اسے مزید خوف ویاس اور حق تلفی وناانصافی کا داعی ہو تواسے مخلص برادران وطن بھی کبھی برداشت نہیں کریں گے، کوئی محب قوم اور خیرخواہ انسانیت کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے صدیوں پرانے پڑوسی مسلم اور عیسائی بھائی کا وہ حق چھین لیا جائے جو انہیں موجودہ جمہوری ملک میں آزادی کے بعد سے مسلسل حاصل ہے، خواہ وہ ہندو راشٹر کے فلسفے یا اسکے نظریے کے ذریعہ کیوں نہ ہو، اسے کبھی پسند نہیں کیا جائے گا،اب اخبارات کے حوالے سے جس مسودہ کی تیاری کااعلان آچکا ہے، جس میں کاشی، وارانسی کو دلی کے بجائے ہندوراشٹرکی راجدھانی کے طور پر متعارف کرایا جارہا ہے، پرنٹ میڈیا کی خبروں سے اس بات کی تائید ہورہی ہے کہ مسلمانوں کو اس راشٹرمیں ووٹنگ کے حق سے محروم کردیا جائے گا ،بھلا وہ دستور کیسے محبوب اور ملک کاپسندیدہ دستور بن سکتا ہے جو ملک میں صدیوں سے آباد رہنے والے اپنے ہی اقلیتی بھائی کو ووٹنگ کے حق سے محروم کردے اور اسے دوسرے درجے کا شہری قرار دےدے وغیرہ وغیرہ، ایسے متنازع افکار اور نقائص کے حامل نظریے کو ملک میں کیونکر نافذ کیا جاسکتاہے، جب کہ ملک میں پہلے سےایک بہترین جمہوری دستور وآئین موجود ہے، جو تمام نقائص سے پاک ہے، جس میں ذات پات اور بھید بھاؤ کی کچھ باتیں نہیں ہیں، ورنہ ملک کے باشندے آزادی اورچین وسکون کی زندگی گزارنے سے قاصر ہوجائیں گے، انہیں خوشحال اور پرامن زندگی گزارنے کی صحیح طلب اور جستجو پیدا ہو گی۔ اسکے لئے وہ آخر کہاں جائیں گے؟
دل ہو بھی چکا ٹکڑے ٹکڑے، حد ہو بھی چکی بربادی کی۔۔۔کمزور کہاں تک جھیلیں گے اپنوں کے جفا غیروں کے ستم
مولانا آزاد نے صحیح تجزیہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ ابھی کل کی بات ہے کہ ہم اپنے ملک کی آزادی کے لئے رو رہے تھےاور تمام دنیا میں ہندوستان کی قومی جاگرتی کا شور مچ گیا تھا، کیا کیا نقش نہیں ہیں؟ جو ہم نے آزاد ہندوستان کو نہیں دئے اور کیا کیا خواب نہیں ہیں؟ جو ہم نے قومی زندگی کی نئی اٹھانوں کیلئے نہیں دیکھے، آج وہ سب کہاں چلے! کیا ہمارے دماغ کے کسی کونے میں بھی ان کی پرچھائی باقی رہی، ہماری آزادی کے مخالفوں نے ہمیشہ کہا تھا کہ ہندوستانیوں کے ہاتھ پاؤں جب تک غلامی کے بندھنوں سے بندھے ہوئے ہیں، اسی وقت تک امن و چین ہے، جہاں یہ بندھن ٹوٹے اور انہوں نے ایکدوسرے کی گردنیں کاٹناشروع کردیں۔ آج آزاد ہندوستان کو اسکی زندگی کا سب سے بڑا خطرہ پیش آگیا ہے، وہ ایک بڑی گہری خندق کے کنارے کھڑا ہے، اسکی قسمت اس خندق میں جھول رہی ہے۔مل کے سب امن و چین سے رہئے۔۔۔لعنتیں بھیجئے فسادوں پر ۔۔آزادی کے حصول کے بعد ڈاکٹر بھیم راؤامبیڈکر نے بڑے بڑے دانشوران کے مشورے سے دستور وآئین کا وہ مسودہ تیار کیا جو رنگ ونسل کے تمام نقائص سے پاک ہے ، سب کو اسمیں مراعات ومساوات حاصل ہیں، جسکو ملک کے دانشوران کیساتھ ساتھ مولانا آزاد کی دوررس نگاہوں نے بھی دیکھا اورانکےدل ودماغ نے اسے پسند کیا بلکہ انکے مشورے بھی اسمیں شامل ہیں، بھلا کیسے وہ حریت، استقلال اور آزادی کے وسیع مفہوم کا کوئی پاس و لحاظ نہ رکھواتے! پندرہ اگست اور 26 جنوری کے موقع سے ملک کے ارباب اقتدارکی جوتقریریں ہوتی ہیں، جن میں قوم و ملک کی فلاح وبہبود کے بڑے تذکرے اور اسکی تعمیر وترقی کےجن عزائم ومنصوبے کااسمیں اظہار کیاجاتا ہے، کاش کہ اس پر مکمل عمل بھی ہوتا مگر بعد میں وہ صرف الفاظ کا مجموعہ اورکھوکھلانعرہ بن کر رہ جاتا ہے، قول وعمل کے بڑے تضاد سےقوم وملک کا بڑا نقصان ہورہاہے بلکہ اب تواس دستور کی بھی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، جسکے لئے ہمارے پرکھوں نے اپنی جان و مال کی بیش قیمت قربانیاں پیش کی تھیں اورفرنگیوں کی انہی شاطرانہ چالوں، غاصبانہ قبضوں اور ظالمانہ حرکتوں سے تنگ آکر علما نے جنگ وجدال کا فتوی صادر کیا تھا اور بہترین تصورات وتوقعات کے پیش نظر بالآخرانہیں آزادی حاصل ہوئی اور دستور کا وہی مسودہ بھی تیار ہواتھا، جسکا انہوں نے آزادی سے قبل خواب دیکھا تھا۔

آج ہمیں انگریزوں سے آزادی حاصل کیے ہوئے 75 سال بیت گئےاور آزادی کی اس تعمیر شدہ عمارت جسکی بنیاداوردیوار میں لاکھوں مسلمانوں کا خون اورہزاروں علما ودانشوارن کی قربانیوں کا لہو شامل ہے،آج ہم جس آزاد ملک میں انکے بنائے ہوئے لال قلعہ کی فصیل اور اس کی بلندی سے آزادی کاجوترنگا لہراتےہیں وہ انہی مجاہدین آزادی کی مرہون منت اورعلامتی ترنگا ہے جنہیں ہم اب ایک ایک کرکے بھلاتے اورانکی خدمات کوفراموش کرتے جارہے ہیں اور انکی نسلوں کیساتھ احسان کے بدلے نفرت وعداوت کا نارواسلوک و برتاؤ کر رہے ہیں ، اگر انکی قربانیاں نہ ہوتیں توآج بھی ہم غاصب انگریز کے غلام بنے ہوتے اور چاہ کر بھی اپنے اس ظالمانہ رویے کیوجہ سے آزادی حاصل نہیں کرسکتے تھے!یہ تو ہمارے پرکھوں کی قربانی اور پروردگارعالم کا احسان عظیم ہے کہ انکی بدولت میں ہمیں آزادی حاصل ہوگئی اور ہم اس ملک کے آزاد شہری قرارپائے ۔جہاں ہم آزادی کاجشن تومناتے ہیں مگر اسکے مطالبات اور تقاضے کی تکمیل کرنے سے اپنی آنکھیں بند کرتے ہیں ۔جو بہت افسوسناک بات ہے۔

کسی بھی صورت میں ہم اس نعمت غیرمترقبہ کے مستحق نہیں تھے کیونکہ ہمارامتضاد قول وعمل اس بات کا شاہد وگواہ ہے ،ایک طرف ترنگے سے محبت کا شور بپا ہے دوسری طرف سیاسی پستی ،اخلاقی انارکی، طبقاتی کشمکش اور مذہبی فرقہ پرستی کے وسائل وعناصر کو مٹانے کے بجائے ہم اس کےحصہ دار بن رہے ہیں ،محسن قوم ونسل کیساتھ نفرت وعداوت ، ذات پات اور بھیدبھاؤ کابرتاؤکرنا اور پرامن ماحول وفضا کو انکے لئے پراگندہ کرنا ہمارا غلط دستور بن گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک غربت وافلاس کا شکار بن گیاہے ، آمدنی کے بجائے ملک قرض کے بوجھ تلے ڈوبا جارہا ہے، مہنگائی میں آسمان چھوتا جارہا ہے، قوم ترقی کے میدان میں پیچھے ہوتی جارہی ہے، ان رویوں اور حرکتوں سے ملک کےمنقسم ہونے اور ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، جبکہ یہی ملک مسلم حکمرانوں کے دور اقتدار میں دنیا کا امیرترین ملک تھا بلکہ سونے کی چڑیا کہلاتا تھا، دنیا کی دولت کا ستائیس فیصد حصہ واحد اس ملک کو دستیاب تھا، آج ہم چوپن فیصدقرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، پھر کیسے ہم انگریزوں کی سازشوں سے نجات حاصل کرسکتےتھے؟! جب تک ہم فرنگیوں کے ورثے میں ملی ان تمام امراض واسقام اور اخلاقی بیماریو ں سے توبہ نہیں کرلیں اورانکا صحیح علاج و معالجہ انہی اصولوں اور بنیادوں پر کر نہیں کرلیں جن بنیادوں پر ہمارے پرکھوں نے اس ملک کو دنیا کا مالدار اور سونے کی چڑیا کہلانے کا حقدار بنایا تھا اورہندو مسلم یکجہتی ویگانگت ،اخوت ومودت اور گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ اور وہ تاریخی کردار پیش کیا تھا جسکاکوئی جواب نہیں، آٹھ سوسال کا طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی اس کی بنیادیں متزلزل نہیں ہوئی تھیں،اسوقت تک ملک میں برکت وسعادت کا دروازہ نہیں کھل سکتا! مگرہماری ہی منحوسیت، مخبری اور انگریزوں کی سازشوں نے بالآخر اس عمارت کو نہ صرف منہدم کردیا بلکہ ہندو مسلم پھوٹ کی جوداغ بیل ڈالی جس کا اثر آزادی کے پچھترسال گزر جانے کے باوجود بھی ہمارے ذہن ودماغ میں پرورش پارہا ہے جوبہت تعجب خیز بات ہے؟انگریزوں نے اس ملک کو لوٹااور برباد کیا،ہماری حکومتیں بھی اب اسی طرز پر وہی کارنامہ انجام دی رہی ہے جو بہت افسوسناک بات ہے کہ اب تک ہم اس نحوست و منافرت کا بوجھ اپنی بدبختی وبدقسمتی کے باوجود بھی ڈھوتے چلے آرہے ہیں اور فرنگیوں کی وفاداری کا ہرجگہ ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔جن سے ہمارے آبا و اجداد نے مسلسل تین صدیو ں تک خونزیزجنگ کی تھی اور ملک کو ان کے ظالم پنجوں سے آزاد کرایا تھا۔

یہی وہ اخلاقی بیماریاں ہیں، جو حریت ،استقلال اور آزادی کے تصور و نظریے اور دیگر انسانی حقوق کو نقصان پر نقصان پہونچاتے جارہے ہیں جو بالکل دستور و آئین کے منافی اور خلاف ہیں، جن کے خطرات کووڈ اور منکی پاکس کے خطرات سے زیادہ مہلک اور ضرررساں ہیں، جو ہمارے ملک کے معاشی نظام اوراقتصادیات کو دیمک اور گھن کی طرح کھاتی جارہی ہیں اور ہماری ترقیات کے راستے کو بھی مسدود کرتی جارہی ہیں۔ قوم وملک کو اگر معیشت کی بدحالی، وبائی بیماری اور بے روزگاری و مہنگائی کے قہر وعذاب سے باہر نکالنا ہے تو ہمیں اپنی نیت اور کردارکولازما درست کرنا ہوگا اور دوہرے معیار جیسے طریقوں اور برے اعمال سے مکمل اجتناب کرنا ہوگاورنہ ملک کی کمر تقریبا ٹوٹ ہی چکی ہے مزید ہم کسی اور بڑے انحطاط و زوال کے شکار ہوسکتے ہیں!پھر چاہ کر بھی ہم ہلاکت وبربادی سے نہ تو اپنے آپ کوبچا سکتے ہیں اور نہ قوم وملک کو۔ مزید اب کسی غار میں گرنے یا اس انتظار میں بیٹھے رہنے کے بجائے ہمیں اب اس کا فورا سدباب کرنا ہوگا، یہی حالات کا تقاضا بھی ہے کہ ہم حقیقی حریت، استقلال اور آزادی کے خوگر بن جائیں ، ملک میں آباد تمام قوموں کو آزادی اورمساوی حقوق دلائیں اورانسانیت وآدمیت کا لبادہ اوڑھ کر خیرخواہی کے جذبات واحساسات سے سرشارہوجائیں۔

خدا کرے! آزادی کا یہ پچھترواں سال اورامرت مہوتسو مہم نہ صرف جشن و نمائش تک ہی محدود رہ جائے بلکہ یہ پختہ عزائم ومنصوبے کا جامع وپیکر بنکر ہر فرد کی زندگی میں نئے انقلاب کا ضامن بن جائے اورکامیابی وکامرانی کا روح رواں ثابت ہوجائے۔جبھی آزادی کا امرت مہوتسو مہم اور 2047کاجوبلی فیسٹیول کاخواب شرمندہ تعبیر ہوگا اور ہم کامیابی سے ہم کنار ہوسکیں گے اورقوم وملک کے حق میں بھلا بھی یہی ہوگا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بدترین آزادی سے بہترین غلامی کے تصوروخیال سے نکال کر ملک کا بہترین اور مخلص شہری بنائے اور ملک کے اتحاد،سالمیت ،جمہوریت اور حقیقی حریت کا جامع وپیکر بنائے۔آمین

Comments are closed.