بلقیس بانو کے مجرموں کی رہائی !
یہ تو ہونا ہی تھا حیرت کیوں؟
شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
بلقیس بانو کے ’ مجرم ‘ رہا ہو گیے !
مجھےبلقیس بانو کے مجرموں کی ’ رہائی ‘ پر نہیں ، ’ رہائی ‘ پر حیرت کا اظہار کرنے والوں پر حیرت ہو رہی ہے ۔ اگر آنے والے دنوں میں ، اس ملک میں ، صرف مسلمانوں ہی کانہیں ، تمام اقلیتی فرقوں ، پچھڑوں اور آدی واسیوں — اور غریبوں و دلتوں ، کہ اونچی ذات والوں کے لیے ، یہ بے وجود ہیں ، اور ان کی خواتین کا پراچین کال سے استحصال ہوتا چلا آ رہا ہے — کا ریپ ، زنابالجبر جائز قرار دے دیا جائے ، تب بھی مجھے کوئی حیرت نہیں ہوگی ۔ ریپ یعنی زنابالجبر کو ’ جرم ‘ نہ ماننا ایک مخصوص ’ ازم ‘ یا آسان لفظ میں کہیں تو ’ نظریے ‘ کے ماننے والوں کی نظر میں ’ جرم ‘ ہی نہیں ہے ، بشرطیکہ جس کا ریپ ہوا ہو ، جس کے ساتھ زنابالجبر کیا گیا ہو ، وہ ’ دشمنوں ‘ میں سے ہو ۔ بلقیس بانو کہاں ان کی ’ دوست ہے ‘ ! وہ اگر دشمن نہ ہوتی تو اس کا ریپ ہی کیوں ہوا ہوتا ! یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے نہ صرف ان مجرموں کو — میں انہیں مجرم کہنا پسند نہیں کرتا کہ مجرم تو پھر بھی انسان ہوتے ہیں ، یہ انسانوں میں شمار نہیں کیے جا سکتے ، اور یہ حیوان بھی نہیں ہیں کہ حیوان ان سے بہتر ہوتے ہیں ، لیکن مجرم اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کوئی ایسا گھناؤنا لفظ یاد نہیں آ رہا ہے جو ان کی ذات پر درست بیٹھے — رہا کیا بلکہ سرٹی فیکٹ بھی دے دیا کہ یہ ’ سنسکاری ‘ ہیں ؟ یہ کون لوگ ہیں جن کی زبانوں پرایسے تالے پڑے ہوئے ہیں کہ ، وہ اس ’ رہائی ‘ کے خلاف کچھ نہیں بول رہے ہیں ؟ کیوں اس ملک کے سیاست دانوں کو ، چند ایک کو چھوڑ کر جیسے کہ راہل گاندھی اور مہوا موئترا ، مجرموں کی یہ رہائی ’ بھا ‘ رہی ہے ، بالخصوص یرقانیوں کو ؟ کیوں اب تک اُس سپریم کورٹ کو ، جو جمہوری قدروں کا اور انسانی حقوق کا محافظ ہے ، اب تک یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ’ رہائی ‘ کے معاملہ پر توجہ دے کر سب ہی مجرموں کو پھر سے جیل بھجو ا دیتی ؟ یہ سوال وہ لوگ اٹھا رہے ہیں جنہیں اس معاملے کی حساس نوعیت کا اندازہ ہے ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ’ رہائی ‘ کا یہ عمل اس ملک ہی کی ، نہیں ساری دنیا کی خواتین کی توہین ہے ، بے عزتی ہے ۔ یہ سوال گجرات بی جے پی کے رکن اسمبلی راؤل جی نہیں اٹھا سکتے ، وہ تو صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’’ یہ زنابالجبر کے جو گیارہ مجرم رہا کیے گیے ہیں وہ برہمن ہیں اور ان میں اچھے سنسکار ہیں ، یہ مہذب لوگ ہیں ۔‘‘ یہ وہی راؤل جی ہیں جنہوں نے ، ان گیارہ مجرموں کی ’ رہائی ‘ پر ان کا پھولوں سے استقبال کیا تھا اور مٹھائیاں کھلا کر ان کا منھ میٹھا کیا تھا ، یوں جیسے یہ ملک کے لیے ، کوئی بہت بڑا یدھ ( جنگ ) جیت کر آئے ہیں ۔ یہ وہی راؤل جی ہیں جو اس ریاستی کمیٹی کا حصہ تھے جس نے ان مجرموں کو معاف کرنے کی سفارش کی تھی ۔ ان کی بے شرمی کا اندازہ اس ؓانتہائی ذلالت بھرے جھوٹ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہے یا نہیں ، لیکن یہ سب برہمن ہیں اور برہمن اچھے سنسکار والے لوگ ہوتے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ کسی کا ان کو پھنسانے اور سزا دلانے کا برا ارادہ ہو ۔‘‘ مطلب یہ کہ ، راؤل جی نے یہ تک ماننے سے انکار کردیا ہے کہ ان گیارہ مجرموں نے بلقیس بانو کا ریپ کیا تھا ۔ صرف ریپ ہی نہیں ، ان مجرموں نے بلقیس بانو کی ساڑھے تین سالہ بیٹی کو ، زمین پر اس طرح ، جیسے کوئی دھوبی گندے کپڑے کو لکڑی کے پاٹ پر پٹکتا ہے ، پٹک پٹک کر قتل کر دیا تھا ۔ بلقیس بانو پانچ مہینہ کے حمل سے تھی ، اس کا حمل ضائع کیا تھا ۔ گجرات کے ۲۰۰۲ ء کے مسلم کش فسادات کے دوران بلقیس بانو اپنے گھر کے سولہ افراد کے ساتھ ، اپنے گاؤں رندھیک پور سے بھاگی تھی ، سب نے چھپّر واڑہ میں پناہ لی تھی ، جہاں ۳، مارچ ۲۰۰۲ ء کے روز کوئی ۳۰ آدمیوں کے ہجوم نے ، جو لوہے کی سلاخوں ، تلواروں وغیرہ سے لیس تھے ، انہیں گھیر لیا تھا ، بلقیس بانو کا ریپ تو کیا ہی اُس کی عمردراز ماں اور مزید تین خواتین کا ریپ کیا ، ان سب کو قتل کیا ، تمام مرد سوائے ایک کے ، قتل کر دیے ۔ بلقیس بانو اس لیے بچ گئی کہ اسے یہ مجرم مردہ جان کر چھوڑ گیے تھے ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجروں کے چہرے اجاگر ہونا تھے اس لیے اس کی جان بچی رہی ۔ مزید ایک تین سال کا بچہ بچا رہا ۔ کُل ۱۷ افراد میں سے صرف تین بچ سکے باقی ۱۴ لوگ ان ’ سنسکاریوں ‘ کے ہاتھوں قتل کر دیے گیے ۔ ان کے ساتھ مزید ’ سنسکاری ‘ بھی تھے ، جو قانونی داؤ پیج میں پہلے ہی بری ہو چکے ہیں ۔ قانون کا معاملہ بھی دیکھ لیں کہ اس قدر گھناؤنے جرم کے باوجود ان مجرموں کو پھانسی کی سزا نہیں سنائی گئی ، جبکہ اس سے پہلے نربھیّا ریپ معاملہ کے مجرموں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی ۔ اس وقت یہ سوال ، جسے اس وقت سارے دیش کو اٹھانا تھا ، نٹالیا جارج نام کی ایک ایکٹوسٹ نے اٹھایا تھا کہ ’ کیا بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری نربھیا سے کوئی کم غیر انسانی (یعنی ظالمانہ) تھی؟‘۔ سوال دریافت کرنے کی وجہ ، دونوں ہی معاملوں میں دو مختلف طرح کے عدالتی فیصلے تھے ۔ نربھیا معاملے میں عدالت نے مجرموں کو ، جن کی تعداد پانچ تھی پھانسی کی سزا سنائی تھی ، جبکہ بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں مجرموں کو سزائے عمر قید دی تھی ۔ یہ سوال پھرسے پوچھا جا رہا ہے کہ بھلا دونوں فیصلوں میں فرق کیوں تھا؟
نربھیا معاملے میں سزا کا خیر مقدم کیاگیا تھا اور یہ یقین تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظیر بنا کر نربھیا جیسے معاملوں میں نچلی عدالتیں بھی سخت ترین سزائیں سنائیں گی ، لیکن یہ صرف بھرم تھا ، اور اب اس ’ رہائی ‘ کے بعد کوئہ بھرم بھی نہیں بچا ہے ۔ نربھیا کی عصمت دری کرنے والوں نےد رندگی کی انتہا کردی تھی ، نربھیا کے نازک مقام کو مسخ کردیا اور جسمانی اعضا کو شدید ضربیں پہنچائی تھیں ۔ اندرونی چوٹ بہت شدید تھی ، چندروز موت و زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے نربھیا چل بسی تھی ۔ سارا ملک نربھیا کو انصاف دلانے کے لیے سڑکوں پر اُتر آیا تھا اور اسے انصاف ملا ، چار سال بعد ہی سہی ۔ کیا اُس وقت بلقیس بانو کا معاملہ نربھیا سے کوئی مختلف تھا یا آج بھی کچھ مختلف ہے ؟ بلا شک و شبہ بلقیس بانو معاملہ کی بربریت ، درندگی اور بہیمیت نربھیا سے کم نہیں تھی بلکہ کچھ زیادہ ہی تھی ۔ بلقیس بانو ۲۰۰۲ کے گجرات کے مسلم کش فسادات کی ان ہزاروں متاثرین میں سے ہے ، جن کی زندگیاں آج ’ مودی راج ‘ میں سیکولر اور جمہوری اقدار کی پامالیوں کا جیتا جاگتا ثبوت بن گئی ہیں ۔ بلقیس بانو کو انصاف دلانے کے لیے ملک میں اس وقت کوئی احتجاج نہیں ہوا تھا ، انڈیا گیٹ پر کوئی بھیڑ بھی اکٹھا نہیں ہوئی تھی ۔ کسی نے نہیں کہا تھا کہ مجرموں کو پھانسی چڑھایا جائے ۔ مودی نے ، جو اس وقت وزیر اعلیٰ تھے ، زبان تک نہیں کھولی تھی ، اور نہ آج زبان کھول رہے ہیں ۔ پولس نے معاملہ درج کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ بلقیس بانو نے اپنے چند ہمدردوں کی مدد سے یہ لڑائی لڑی تھی ۔ یہ لڑائی ملک کے انتہائی بااثر افراد کے خلاف تھی ، وہ افراد جو بلقیس بانو کی عصمت دری کے معاملے پر پردہ ڈالنا اور مجرموں کو بچانا چاہتے تھے ، وہ افراد کامیاب ہو گیے ، مجرم کل ’ رہا ‘ نہیں ہوئے تھے تو کیا آج ان افراد نے انہیں ’ رہائی ‘ دلوا دی ہے ۔ لیکن یہ سوال برقرار رہے گا کہ بھلا کیوں بلقیس بانو کے مجرموں کو پھانسی پر نہیں چڑھایاگیا ، اور اب ’ رہا ‘ کر دیا گیا ؟ اس کا خاندان قتل کردیاگیا ، اس کی بیٹی قتل کردی گئی ، وہ حاملہ تھی ، کیا یہ سب غیر انسانی حرکتیں نہیں تھیں؟ بلقیس بانو کی انصاف کے لیے لڑائی پندرہ سال تک چلی ، لیکن سچ یہی ہے کہ نہ اُسے اُس وقت انصاف ملا تھا ، اور نہ ہی اب مجرموں کو ’ رہا ‘ کر کے اس کے ساتھ انصاف کیا جا رہا ہے ۔ اس وقت بھی ملک کی اقلیتوں کی نظر میں فیصلہ جانبدارانہ ہی تھا اور آج بھی کہ مجرم ’ رہا ‘ ہو گیے ہیں ، فیصلہ جانبدارانہ ہی ہے ، بلکہ ’ چڑانے ‘ والا ہے ۔
میں نے ’ ازم ‘ کی ’ نظریہ ‘ کی بات کی تھی ۔ پہلے یہ جان لیں کہ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی لندن میں کہا تھا کہ ’ ریپ ریپ ہے اسے سیاسی رنگ نہ دیا جائے ‘۔ انہوں نے اسی گزرے ہوئے ۱۵، اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے خواتین کے سمّان کی بات کی تھی ۔ لیکن آج وہ خاموش ہیں ، بلقیس کے مجرموں کی ’ رہائی ‘ پر کچھ نہیں بول رہے ہیں ۔ دراصل ’ ہندو مہا سبھا ‘ کے بانی ونائک دامودر ساورکر نے ، جنہیں آج آر ایس ایس اور بی جے پی اپنا روحانی گرو مانتی ہے ، مراٹھی زبان میں ایک کتاب لکھی تھی ’’ ہندو عہد کے چھ عظیم الشان دور ‘‘ اس میں انہوں نے ریپ کو ’ سیاسی رنگ ‘ دے دیا تھا ۔ کتاب جھوٹ کا پلندہ ہے ، اس میں مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں پر گھناؤنے الزامات لگائے گیے ہیں ( کچھ الزامات ان میں صحیح بھی ہو سکتے ہیں ) اور ان کی بنیاد پر یہ ’ فرمان ‘ جاری کیا تھا کہ دشمنوں کی خواتین کے ریپ کا عمل درست ہے ۔ ساورکر نے لکھا ہے ، ’’ چونکہ جابرمسلمان ہندو خواتین پر جبر کرتے رہے ہیں ، اسی لیےہندو فاتحین کو بھی مغلوب ہونے والی مسلم خواتین کے ساتھ یہی سلوک کرنا چاہیے ۔‘‘ یہ وہ ’ نظریہ ‘ ہے جس پر عمل کیا جا رہا ہے ، اور اس ’نظریہ ‘ کو جو مانتے ہیں ، وہ اپنی زبانیں بند رکھے ہوئے ہیں ۔ ایسے بھی ہیں جو اس ’ نظریہ ‘ کو نہیں مانتے لیکن خوف سے ان کی زبانیں بند ہیں ۔ لیکن آواز اٹھنی چاہیے ، جیسے کہ نربھیّا کی ماں آشا دیوی نے آواز اٹھائی ہے ۔ میں اسے یہاں دوہرا دیتا ہوں ، ’’ اگر وہ لوگ سنسکاری ہیں تو انہوں نے ایک عورت کا ریپ کیوں کیا ؟ کیا یہ کہیں لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ پنڈت ہیں اور ایک عورت کا ریپ کرتے ہیں تو ، آپ کو رہا کر دیا جانا چاہیے ؟ میں ان کی رہائی کی حمایت نہیں کرتی ۔ انہیں سزائے موت دی جانی چاہیے ۔‘‘
Comments are closed.