لال قلعہ کی فصیل سے نکلنےوالی آوازآخر اتنی کمزورکیوں ؟

بلقیس بانوکےدرندوں کی رہائی اوران کاوالہانہ استقبال یہ ثابت کرتاہے کہ خطاب سچائی پرنہیں بلکہ لفاظی پرتھا جوکمزورہی ہوتاہے
طفیل ندوی
جشن یوم آزادی ۱۵؍اگست سے قبل’’ ہرگھرترنگا‘‘کی ایک مہم چلائی گئی ،اوراس مہم کو وطن عزیزکاہرباشندہ کامیاب کرنےکیلئے اپناقدم آگےبڑھایا،ہرگھر ،ہردوکان ،ہرگلی ،موٹرسائیکل ،کار تمام بڑی چھوٹی گاڑیوں پرجھنڈالہرانےلگایہ ضروری بھی تھاکیوں کہ ہندوستان اپنی آزادی کے ۷۵؍واں گولڈن جوبلی (آزادی کاامرت مہوتسو)کےنام سے منارہاتھاشاید آزادی کےبعد سے یہ پہلی مرتبہ تھا جو اس قدر قومی جھنڈےلہرائےگئے، مزید اس کوکامیاب کرنےکیلئے مختلف مقامات سےریلیاں نکالی گئیں،دیکھتےہی دیکھتے وہ دن آہی گیا جس دن ہماراوطن عزیزانگریزوں کےناپاک منصوبوں سے بیشمارقربانیوں کےبعد آزادہواتھا وزیراعظم کیلئے لال قلعہ کو مکمل طورپر فنکاروں کے ذریعےسجایاگیاہرجگہ کو ترنگےکارنگ دیاگیا ،مجاہدین آزادی کی چندتصاویردیواروں پر آویزاں کی گئیں،حفاظتی دستوںکےنظماءوصدورجمع ہوئے ان کے استقبال میں مرکزی وزراء حاضرہوئے، ان کی حاضری کو چارچاندلگانےکیلئے مختلف ریاستوں سےوہاں کے لباس میں خواتین کی موجودگی قابل توجہ رہی ،ان کی گاڑی لال قلعہ کےگیٹ سے گاڑیوں کےہجوم میں داخل ہوئی، سب کی نگاہیں اسی طرف تھی ،آہستہ آہستہ گاڑی آگےبڑھ رہی تھی کہ یکایک حفاظتی دستہ گاڑیوں سےنکل کر آگےبڑھا ،اوروزیراعظم کی گاڑی کی جانب دوڑکر ان کی گاڑی کادروازہ کھولا پھروزیراعظم نکلیں ،کیاخوشنمامنظرتھالال قلعہ کی فصیل سے آزادی ہند کا جشن امرت مہوتسوکےنام سے ترنگالہرایاگیا قومی ترانہ پڑھ کر سلامی پیش کی گئی، بعدہ وزیراعظم نے اپنی قابلیت کی بناپرملک وقوم کےنام تقریبا ایک گھنٹہ سےزائد خطاب پیش کیا جوابھی تک کاسب سے طویل خطاب تھا مختلف موضوعات پر قوم کوخطاب کیا جس میں ایک خطاب خواتین پربھی تھاان کی عزت پر،ان کےاحترام پر،ان کےتحفظات پرلیکن شاید وہ خطاب ،خطاب ہی رہا شایدوہ جوش اورولولوں میں دیدیاہوں ،کیوں کہ جب لال قلعہ کی فصیل سے باآوازبلندایک مضبوط وطاقتورشخصیت کی زبان سےخواتین کے تحفظات کیلئے اعلان ہورہاتھا،ان کے احترام ،ان کی طاقت وقوت کی تالیاں بجائی جارہی تھی تو وہیں دوسری طرف اسی دن ایک خاتون کوان کی زندگی سےمایوس کرکےان کےگیارہ مجرمین جومعاشرے وسوسائٹی کیلئے بدنماداغ تھے جیل کی سلاخوں میں سزائےعمرقیدکی سزاکاٹ رہےتھےرہائی کاپروانہ دیدیاگیا ،جس کی رہائی پر پوراملک حیران وششدررہ گیا کہ آخریہ کیسےہوگیا گجرات فسادجویقیناتاریخ کاایک سیاہ باب ہیں جو انسانیت کوشرمسارکرکےانسانوں کاقتل عام کیاگیا جب بھی کہیں فسادات کاذکر ہوگا اس میں یہ فسادبھی قابل ذکرہوگا جہاں بیشمار انسان قتل کئےگئے بچوں بوڑھوں یہاں تک کہ خواتین کوبھی نہیں بخشاگیا ان کی عزت وعصمت سے کھلواڑکیاگیا ان کی عزتیں تاڑتاڑکی گئیں ،ان کی عزت وعصمت کیساتھ جودرندگی اورحیوانیت کاکھیل کھیلاگیایقینا اس سےانسانیت ہی شرمسارنہیں ہوئی بلکہ درندہ بھی اپنی درندگی پےرویا جس وقت یہ وحشیانہ اوردرندگی کاکھیل کھیلاجارہاتھا اس وقت ہرشخص ڈرااورسہماہواتھا ہرایک اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہاتھا اور اسی ڈروخوف سے اپنے قیام گاہ کوچھوڑکر دوسری قیام گاہ کی تلاش میںلوگ راہ فراراختیارکررہےتھے، انہیں میں ایک نام بلقیس بانوکابھی تھا جو۵؍ماہ کی حاملہ بھی تھی اوراپنی تین سالہ چھوٹی بچی صالحہ اوروالدین ودیگر افرادکیساتھ جائےپناہ کی طرف جارہی تھی کہ راستےمیں درندوں نے انہیں گھیرلیا اور ان لوگوں کیساتھ وحشیانہ سلوک کیا چندافراد کو لقمہ اجل بنادیاگیا اور مظلومہ بلقیس بانوکیساتھ حاملہ ہونےکے باوجود ان کی عزت وعصمت کو اجتماعیت کیساتھ داغدارکیا اوراس طرح زدوکوب کیا کہ وہ کئی گھنٹوں تک بیہوش پڑی رہی ،مظلومہ کواس قیامت صغری بیتنےکے چند گھنٹےبعدکچھ ہوش آیاتوایک خاتون سےکپڑےمانگ کر اپنابےلباس جسم کوچھپایا اورہوم گارڈ کی مددسےپولس اسٹیشن شکایت درج کرائی ،جہاں اسےطبی معائنہ کیلئے سرکاری ہاسپٹل لےجایاگیا اس کامقدمہ قومی انسانی حقوق کمیشن اورسپریم کورٹ نے اٹھایا جس نےمرکزی تفتیش بیوروکوتحقیقات کاحکم دیا ممبئی کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت نے۲۱؍جنوری ۲۰۰۸ءکو انہیں عمرقیدکی سزاسنائی جس کوممبئی ہائی کورٹ نے بھی برقراررکھا مگر گذشتہ ۱۵؍اگست کو جب پوراملک آزادی کاامرت مہوتسومنارہاتھا اس وقت انہیں جیل سےرہاکردیا گیا ان کی رہائی پرایک ایم ایل اےنے انٹریومیں بےہودہ بیان دیتےہوئےکہا کہ عصمت دری کرنیوالے ۱۱؍افرادبرہمن تھے اوراچھےاخلاق کےمالک تھے ،واہ!!!!کیایہ لفظ بولتےوقت ان کی عقل سلیم سلب کرلی گئی تھی ،انہیں ذرہ برابربھی شرم وحیامحسوس نہیں ہوئی کہ ہم کیابول رہےہیں ،کیاکسی انسان کوقتل کردینا،معصوم بچی کوپٹخ پٹخ کرمارڈالنا، اورخواتین کی عزت کوتاڑتاڑکرنا یہ اچھےاخلاق میں سےہیں ،کیابرہمن ایسے ہوتے ہیں؟ کیاکوئی ایساکریگاتو وہ اچھےاخلاق والاکہلائیگا جن کاسوسائٹی سے بائیکاٹ کرناچاہیےتھا انہیں مالاڈال کر ان کے حوصلوں کوسلام پیش کیاجارہاہے ،ٹیکہ لگاکر ان کے جذبوں کو پروان چڑھایاجارہاہے ،اورمٹھائیاں پیش کرکے ایک طرف شاید عصبیت کاکھیل کھیلاجارہاہے ،وزیراعظم کوسامنے آکر اپناموقف واضح کرناچاہیےکہ کیاانہوں نےببانگ دہل امرت مہوتسوکےموقع پرملک کےنام جوخطاب ،پیش کیاتھا جس کوصرف ہندوستان کی ہی عوام نہیں بلکہ پوری دنیا کے کریم طبقات سنتےہیں ،کیوں کہ وہ کسی بھی ملک کی آزادی کادن اورخطاب ہو،ایک نمایاں دن ہوتاہے ، قوم کےنام اہم خطاب ہوتاہے اوراس میں تمام تعلقات کی ایک یاددہانی ہوتی ہے،ملک کےعزائم پیش کئے جاتےہیں ، اگرایسانہیں ہوااورسابقہ ادوارکی طرح اپنی خاموشی برقراررکھی تو اس سے یہ بات صاف اورواضح ہوجائےگی کہ لال قلعہ کی فصیل سے نکلنےوالی آوازکمزورہے، کیوں کہ وہ صرف الفاظ کی لفاظی تھی حقیقت میں کوئی معنی نہیں رکھتی ،اس معاملہ پر مظلومہ بلقیس بانونےکہاکہ ایک خاتون کوملنےوالاانصاف کایہ انجام کیسےہوسکتاہے ،مجھےملک کی عدالت پراعتمادتھا اورمیں آہستہ آہستہ اس صدمےکیساتھ جینےکیلئے مسلسل کوشاں تھی کہ یکایک ان مجرمین کی رہائی نےمجھے بےسکون کردیا اورانصاف کےنظام پرمیرےاعتمادکو ہلاکررکھ دیااب میرےاندرنہ صبرکی قوت ہے اورنہ ہی ہمت ،کیوں کہ ہم شکست کھاگئے۔

Comments are closed.