چور اورپولیس کی دلچسپ سچی کہانیاں
ڈاکٹر سلیم خان
ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب مریض کی نبض پکڑکر حکیم بیماری کی تشخیص کر لیا کرتے تھے لیکن پھر سائنسی ایجادات نے دنیا بدل دی ۔ ایکس رے سے ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کا پتہ چلنے لگا ۔ سٹی اسکین آیا تو پٹھوں، دل اور دماغ جیسے نرم اعضاء کی معلومات بھی ملنے لگی اور ایم آر آئی نے تو اعصاب تک رسائی حاصل کرلی ۔یہ تو خیر افراد کی صحت کا معاملہ ہے ۔ سماجی بیماریوں کا پتہ اس میں رونما ہونے والے واقعات سے چلتا ہے۔ پہلے جب ذرائع ابلاغ کی پہنچ محدود تھی تولوگوں کو اس کا علم اخبارات وغیرہ سے ہوتا تھا۔ زبان کی خواندگی کا مسئلہ تھا ۔ خبریں اول تو دور راز کے علاقوں میں پہنچ نہیں پاتی تھیں یا اس قدر تاخیر ہوجاتی تھی قاری کی اس میں دلچسپی باقی نہیں رہ پاتی تھی ۔ سوشیل میڈیا اور انٹر نیٹ نے حالات بدل دیئے اور پوری دنیا کو عملاً ایک عالمی گاوں بناکر رکھ دیا۔ اب منٹوں میں خبریں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے تک پہنچ جاتی ہیں۔ ایسے میں کئی ایسی دلچسپ خبریں بھی نظر نواز ہوتی ہیں کہ جن کو پڑھ کر بیک وقت ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی آتا ہے۔
ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش ہے۔ وہیں پر وزیر اعظم کا حلقۂ انتخاب وارانسی ہے اس لیے وہ ان کی کرم بھومی ہے ۔ ان کی سیاسی وراثت کا سب سے بڑا دعویدار اس صوبے کا وزیر اعلیٰ یوپی میں ڈبل انجن سرکار چلا رہا ہے۔ وہاں آئے دن ماورائے قانون بلڈوزر چلتے ہیں اور انکاونٹر ہوتے ہیں۔ ایسے میں گولی چلاکر کسی بے قصور کی جان لینے کا اختیار رکھنے والا کوئی پولیس اہلکاراگر کام کے طویل اوقات اور بیرکوں میں ملنے والے’غیر معیاری‘ کھانے کی شکایت کردے تعجب لازم ہے ۔ اپنی دو منٹ طویل ویڈیو میں منوج کمار نامی 26 سالہ افسر کھانے کے معیار پر بولتے ہوئے روتا نظر آتاہے۔ وہ نمناک آنکھوں کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ ’کوئی بھی ہماری بات نہیں سنتا۔ مجھے صبح سے بھوک لگی ہے، میں کس سے بات کروں؟‘منوج کمار نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کوان کا وعدہ یاد دلایا کہ جس میں انہوں نے پولیس حولداروں کو غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کے لیے الگ سے 1,875 روپے مختص کیے تھے ۔ اس وائرل ویڈیو کو ہزاروں افراد نے دیکھا اور ٹوئٹر پر پولیس فورسز کی ناقص غذا پر مذمت کرنے لگے ۔
پچھلے ساڑھے آٹھ سال سے ملک کے عوام وزیر اعظم کے من کی بات جھیل رہے ہیں لیکن منوج کمار نے جب میڈیا میں اپنے من کی بات کہی تو انہیں’طویل چھٹی‘ پر بھیج دیا گیا اوراب ملازمت بھی خطرے میں ہے۔ ان کا الزام ہے کہ سینیئر افسران انہیں بدنام کرنے کی خاطر یہ بیانیہ تخلیق کررہے ہیں کہ ان کا ذہنی توازن درست نہیں ہے حالانکہ اس معاملےکی پردہ پوشی کے لیے یہ جھوٹا پروپگنڈا کیا جارہا ہے۔ منوج کمار کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعدانہیں تکلیف پہنچائی گئی اور ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ ان کا فون چھین کر پورا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ انہیں آگرہ کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ ہاسپٹل لے جانے کی کوشش گئی۔ یعنی مودی یگ میں کوئی سمجھداری کی بات کرے تو اس کے ساتھ نازیبا سلوک کیا جاتا ہے۔ منوج اب بھی اپنی بات پر قائم ہیں اور اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ ان کے خلاف تحقیقات زیر التوا ہیں۔ اس طرح نڈر پولیس اہلکاروں کو ڈرانا دھمکانا مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ جو ہزاروں کروڈ روپئے گودی میڈیا پر نام و نمود کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی عوامی فلاح و بہبود پر صرف ہوجائے تو اس طرح کی شکایت نہیں ہوگی مگرسیاستدانوں کے نزدیک انتخابی کامیابی کے لیے روٹی سے زیادہ تشہیر کی اہمیت ہے۔
اتر پردیش کے اندر ایماندار پولیس اہلکار پریشان ہے جبکہ پڑوس کی ریاست بہار سے ایک نہایت دلچسپ خبرحال میں منظر عام پر آئی۔ بہار کے شہر بانکا میں چند دھوکے باز افراد نےآٹھ ماہ تک ایک گیسٹ ہاؤس میں جعلی پولیس تھانہ چلانے کا کا رنامہ انجام دیا ۔ ان جیالوں نے یہ پولیس اسٹیشن کسی ایسے علاقہ میں نہیں کھولاکہ جہاں اصلی تھانہ موجود ہی نہ ہو بلکہ وہ تو صرف پانچ سو میٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔ ان فریب کاروں نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ا پولیس کی ناک کے نیچے اس جعلی تھانہ میں سینکڑوں افراد سے خوب وصولی کی ۔ ’ہندوستان ٹائمز‘کے مطابق اچانک ایک بڑے پولیس افسر کی نظر پولیس کے مخصوص جھنڈے پر پڑ گئی تو اس پر کارروائی ہوئی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا دیگر چھوٹے پولیس اہلکار آنکھیں موندکر آتے جاتے تھے یا ان کی آنکھوں پر بدعنوانی کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ بعید نہیں کہ یہ کاروبار ان کی ملی بھگت سے چل رہا ہو؟ ان سوالات کا درست جواب کبھی سامنے نہیں آئے گا کیونکہ اس کی تحقیقات کرنے والے افسران کو تو اپنے لوگوں کا خیال رکھنا ہی پڑے گا۔
جعلی تھانہ پر بانکا پولیس نے جب چھاپہ مارا تو گینگ میں شامل ایک مرد اور خاتون نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی۔ان میں سے ایک سب انسپکٹر اور دوسراڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی استعمال شدہ وردی زیب تن کیے ہوئے تھا ۔ گرفتار شدہ انیتا مرمو اور آکاش کمار منجھی بالترتیب ا سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے بیجز لگا رکھے تھے۔ جعلی پولیس تھانے سےایک دیسی پستول، چار پولیس یونیفارم، سرکاری ہاؤسنگ سکیم کے پانچ سو سے زیادہ درخواست فارم، 40ووٹر کارڈ، بینک چیک بکس، پانچ موبائل فون اور جعلی شناختی کارڈ برآمد ہوئے مگر گروہ کا سرغنہ بھولا یادو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔اس کام میں مردو زن کی شمولیت کا یہ عالم تھا کہ جملہ پانچ افرادمیں دو خواتین بھی تھیں ۔ان لوگوں نے سرکاری ریوالرز کی بجائے دیسی ساختہ پستول لٹکا کرپولیس کے وقار کا کچھ تو لحاط کیا مگر بھولے بھالےعوام ان دونوں میں فرق کرنے سے رہے۔
ان حیرت انگیز واقعات کو پڑھتے وقت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کاروبار کیونکر پھل پھول رہا تھا ۔ اس بابت انیتا مرمو کا اعتراف رہنمائی کرتا ہے۔ ملک میں فی الحال بیروزگاری بامِ عروج پر ہے ان لوگوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی لوگوں کوپچاس ہزار رشوت کے بدلے ملازمت کا موقع فراہم کرنے کا وعدہ کرکے اپنی دوکان چمکائی ۔ چھاپے ماری میں گرفتار ہونے والی دو خواتین نے بتایا کہ انہیں پولیس میں ملازمت کی پیشکش کی گئی ۔ اس کے لیے بھولا یادو نے بالترتیب 99 ہزار اور 55 ہزار روپے لیے لیکن اصلی پولیس تھانے میں ملازمت دلوانے کی بجائے گینگ کے اندر بھرتی کر لیا۔ اس طرح ان بدمعاشوں نے کم ازکم وعدہ تو نبھایا ورنہ ہندوستانی عوام تو گزشتہ نوسال سے دوکروڈ سالانہ ملازمت اور پانچ لاکھ کے بینک بیلنس کا انتظار کرتے ہی رہ گئے ۔ وزیر اعظم اگر اپنا وعدہ پورا کردیتے تو یہ نوبت نہ آتی ۔ وزیر داخلہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان لوگوں نے سرکاری ٹھیکے داروں کو ڈرا دھمکا کر ان سے بھتہ بھی وصول کیا یعنی حکومت کے سارے کام وہاں جاری و ساری تھے۔
ان واقعات میں سے ایک ایماندار پولیس اہلکار اور دوسرا وردی میں چھپا جعلی پولیس والے نظر آتے ہیں لیکن اس کے بعد ایک خالص چوروں کا قصہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے ۔ یہ معاملہ بہار کی راجدھانی پٹنہ سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر دور امیاوار گاؤں کا ہے۔ وہاں پر چوروں گروہ نے خود کو سرکاری محکمہ آبپاشی کا اہلکار ظاہر کرکے 60 فٹ لمبا اور پانچ سو ٹن وزنی لوہے کا پل ’چوری کر لیا۔ اب وہاں نہ پل ہے اور نہ چور۔ پولیس کا محکمہ دونوں کی تلاش کررہا ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ پل کے ٹکڑے بطور کباڑ کے فروخت کر دیئے گئے ہوں اور چور کسی بڑے سیاستداں کی پناہ میں عیش کررہے ہوں ۔ اس گاوں میں تقریباً 45 سال پہلے ایک نہر پر بنائے جانے والے پل کا اب استعمال بند ہوگیا تھا ۔ گاؤں کے لوگوں کو اس سے نہ جانے کیا تکلیف تھی کہ انہوں نے محکمہ آبپاشی سے اس پل کو توڑنے کی درخواست کردی ۔یہی وجہ ہے کہ جب پل کو کاٹنے کا کام شروع ہوا تو رہائشی سمجھے کہ سرکاری اہلکار ان کی درخواست پرکام کررہے ہیں ۔ چوروں کے اس دبنگ گروہ نے گیس کٹر اور زمین کھودنے والی مشینوں کا بھی استعمال کیا۔
چشم دید گواہوں کے مطابق یہ کام دن کے وقت دو روز تک بلاروک ٹوک جاری رہا اور پل کے لوہےکو ٹرک میں لاد کر لے جایا گیا۔ اس دوران سرکار اور اس کے سارے افسران خواب خرگوش میں مبتلا رہے ۔ دیہاتیوں کوجب احساس ہوا کہ وہ سرکاری اہلکار نہیں تھے اور معاملے میں کوئی گڑبڑ ہو سکتی ہے تو جاکر شکایت لکھوائی گئی ۔ اب جبکہ چڑیا چگ گئی کھیت تو سرکار نے تحقیقات کا حکم دیا اور چھان بین شروع کی کہ آخر پل کیسے اور کب چوری ہوا؟پولیس اہلکار سبھاش کمار نے گینگ کے کچھ ارکان کو شناخت کرنے کا دعویٰ تو کیا ہے لیکن کیا ان کو سزا ہوگی ؟ یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ جس حکومت عوام کا ٹیکس چراکر خود دیوالیہ بتانے والے ڈھونگیوں سے ساز باز کر کے گیارہ لاکھ کروڈ قرض معاف کردیا اس کے لیے پل کے پانچ سو ٹن کباڑ کی بھلا کیا اہمیت ہے؟ ان سچی کہانیوں کے بطن سے ہمارے سماج کی کئی تلخ سچائیں ٹوکور ٹوکور جھانک رہی ہیں ۔آخر ان سے کب تک نظر چرائی جاتی رہے گی اور ان سے نمٹنے کے لیے عوام کب نبرد آزما ہوں گے ؟ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو چورپولیس کا یہ کھیل چلتا رہے گا اور عوام اس کی چکی میں پستے رہیں گے۔
Comments are closed.