شان رسالتﷺ میں بی جے پی ایم ایل اے کی گستاخی پر مسلمانوں میں زبردست غم وغصہ
ملعون ٹی راجہ سنگھ کو پولس نے فوراً گرفتار کرلیا، ۱۴؍ دنوں کی عدالتی تحویل لیکن ٹرائل کورٹ نے فوراً ضمانت منظور کرلی، پارٹی سے معطل، ۱۰؍ دنوں میںجواب طلب، حیدرآباد میں مسلمانوں کا زبردست احتجاج، کاروبار بند، پولس فورس تعینات، اویسی نے حضورﷺ اور مسلمانوں سے نفرت کوبی جے پی کی پالیسی قرار دیا، بدزبانوں کو لگام دینا حکومت کی ذمہ داری : مسلم پرسنل لا بورڈ
حیدرآباد۔۲۳؍ اگست: شان رسالتﷺ میں بی جے پی لیڈر کی گستاخی کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ حیدرآباد سمیت ملک بھر کے مسلمانوں میں زبردست غم وغصہ ہے، تلنگانہ حکومت کی جانب سے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملعون کی گرفتاری کے باوجود حالات قابو میں نہیں ہیں۔ بی جے پی لیڈران کی گستاخی کا سلسلہ دریدہ دہن نوپور شرما ، نوین کمار جندل سے ہوتے ہوئے اب ٹی راجہ سنگھ تک پہنچ گیا ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین نے اس کے خلاف مورچہ سنبھالا اور پارٹی کی جانب سے ویڈیو وائرل ہونے کے فوری بعد رات میں ہی پولس اسٹیشنوں میں ایف آئی آر درج کروائی گئی۔پارٹی صدر اور حیدرآباد سے ممبرپارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہاکہ حضورﷺ اور مسلمانوں سے نفرت بی جے پی کی پالیسی کا حصہ ہے۔ دریں اثناء مسلمانوں نے اس گستاخی کے خلاف جگہ جگہ ایف آئی آر درج کرائی اور کل رات سے ہی مظاہرے کا سلسلہ جاری ہے۔شہر کے کئی مصروف ترین بازار احتجاج بند کردئیے گئے، مظاہروں کی وجہ سے پولس کی جانب سے پورے شہر میں الرٹ ہے، شہر وریاست کے تمام پولس تھانوں کو چوکس کردیاگیا ہے۔ مظاہروں کے پیش نظر چندررائن گٹہ فلائی اوور کی افتتاحی تقریب ملتوی کردی گئی، بی جے پی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اسے معطل کرکے دس دنوں کے اندر وجہ بتائو نوٹس جاری کیا ہے۔تادیبی کمیٹی کے سکریٹری اوم پرکاش نے رکن اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے متنازعہ اور قابل اعتراض ریمارکس پر اندرون دوستمبر تک جواب دیں۔بی جے پی نے اس گستاخانہ بیان پر راجہ سنگھ سے اظہار لاتعلقی کیا ہے۔اسی دوران بی جے پی کے ترجمان کرشناساگر راو نے کہاکہ ہماری پارٹی تمام عقائد کا احترام کرتی ہے اور کوئی اس سے انحراف کرتا ہے تو ہم اس معاملہ پر کارروائی کریں گے۔ہماری قومی پارٹی ہے،جو عقائد میں اختلافات کو نہیں مانتی۔بی جے پی تمام کو یکساں مانتی ہے۔ہم نفرت کی تقریر کی تصدیق نہیں کرتے اور راجہ سنگھ نے اگر اس سے انحراف کیا ہے تو پارٹی اس معاملہ سے نمٹ لے گی۔ واضح رہے کہ گوش محل سے ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ نے گذشتہ دنوں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کے شو کی مخالفت کرتے ہوئے ایک ویڈیو میں حضورﷺ کی شان اقدس میں انتہائی نامناسب اور بدبختانہ تبصرہ کرتے ہوئے اسے وائرل کیا۔ گستاخانہ ویڈیو ۲۲ اگست کی رات سوشل میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر آنے کے بعد حیدرآباد کے مسلمانوں نے کمشنر آفس سمیت شہر کے دیگر پولس اسٹیشنوں کے سامنے اور اہم شاہراہوں پر رات بھر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ایف آئی آر درج کروائی۔ پولس نے ۲۳ اگست کی صبح راجہ سنگھ کو آئی پی سی کی دفعات ۱۵۳، ۱۵۳ اے، ۱۸۸، ۱۲۱، ۲۹۵ اے، ۲۹۸، ۵۰۵(۱) (بی) (سی)، ۵۰۵ (۲) اور ۵۰۶ کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا۔ اورسہ پہراسے نامپلی کریمنل کورٹ میں پیش کیا گیا، فاضل مجسٹریٹ نے اسے ۱۴؍دن تک عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔ پولیس نے ملعون کو جیل منتقل کردیا۔ بعد میں راجہ سنگھ کے وکیل نے ضمانت کی درخواست دائر کی۔ ٹرائل جج نے CrPC 41-A کے تحت ضمانت منظور کی۔ جج نے کیس کی تفتیش میں پولیس حکام سے تعاون کرنے کا حکم دیا۔دریں اثناء گستاخی پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تمام مسلمانوں کو اُن کے اپنے وجود اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے، اور اُن کی شان میں ہتک ادنی سے ادنی مسلمان کے لئے بھی ناقابل برداشت ہے، افسوس کہ ادھر فرقہ پرست قائدین نے مسلمانوں کے جذبات کو بر انگیختہ کرنے کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر زبان کھولنا شروع کر دیا ہے، جس کی ایک تازہ مثال حیدرآباد کے بی جے پی لیڈر ٹی راجہ سنگھ کا بے ہودہ اور ناشائستہ بیان ہے، حکومت کو چاہئے کہ ایسے بدزبان لوگوں کو لگام دے، اس سلسلہ میں مؤثر قانون بنائے اور پہلے سے جو قانون موجود ہے، پوری قوت کے ساتھ اس کو نافذ کرے، مذہبی مقدس شخصیتوں سے لوگوں کے جذبات وابستہ ہوتے ہیں، تمام لوگوں پر اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور مسلمان علماء اور دانشوروں نے ہمیشہ اس کا لحاظ رکھا ہے، مولانا رحمانی نے مسلمانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صبر اور تحمل سے کام لیں، حکومت سے اس سلسلہ میں نمائندگی کریں اور ایسے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے قانون کی طاقت کا استعمال کریں، مولانا رحمانی نے مزید کہا کہ مستقبل قریب میں ربیع الاول کا مہینہ آرہا ہے، اس کو تعارف پیغمبر کا مہینہ بنایا جائے، مسلم تنظیمیں، مدارس، مسجدوں کے ذمہ داران قرب وجوار کے غیر مسلم بھائیوں کو مدعو کر کے اُن کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اور سچی سیرت پیش کریں؛ کیوں کہ جہالت کا اندھیرا بُرا بھلا کہنے سے ختم نہیں ہوگا، اس وقت ختم ہوگا جب سچائی کا چراغ روشن کر دیا جائے۔اسد الدین اویسی نے گستاخی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلامﷺ اور مسلمانوں سے نفرت بی جے پی کی سرکاری پالیسی بن چکی ہے۔انہوں نے حیدرآباد میں پارٹی ہیڈکوارٹرس دارالسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی تکثیریت اور وحدت کوبرباد کرنا بی جے پی کی سرکاری پالیسی بن چکی ہے۔بی جے پی کو بھارت کے سماجی تانے بانے کی کوئی فکر نہیں ہے۔اس کو تارتارکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ رکن اسمبلی کے آواز کے نمونے لیب کو بھیجے جائیں اور اس فوجداری معاملہ کو مضبوط بنایاجائے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی تلنگانہ میں امن کو خراب کرنا اوریہاں پر فرقہ وارانہ فسادات کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ اس کو متنازعہ بیان نہیں کہاجاسکتابلکہ یہ جان بوجھ کر دیاگیا بیان ہے کیونکہ نپورشرمانے پیغمبراسلامؐ کے بارے میں نازیبا الفاظ کااستعمال کیاتھا یہ اسی کا سلسلہ ہے۔اس طرح کی جان بوجھ کر کی گئی حرکت سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ بی جے پی، پیغمبراسلام ؐ اورمسلمانوں سے نفرت کرتی ہے۔اسی لئے وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کوتکلیف پہنچانے،اشتعال دلانے کیلئے بی جے پی اپنی نفرت پیغمبراسلامؐ اوربھارت کے مسلمانوں کے تعلق سے دکھارہی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ بی جے پی ایسا کیوں کررہی ہے؟بی جے پی نے نپور شرما کے بیان پر معافی مانگی۔اس کے باوجود آج حیدرآباد میں بی جے پی کے رکن اسمبلی نے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کیلئے پیغمبراسلامؐ کی شان میں توہین کی کوشش کی۔انہوں نے پوچھا کہ بی جے پی کو اس سے کیاحاصل ہونے والا ہے؟بی جے پی کیا بھارت کے سماجی تانے بانے کو توڑنا چاہتی ہے۔بی جے پی کیایہ نہیں سمجھتی کہ بھارت میں کئی قسم کے ماننے والے رہتے ہیں اور ہر ایک کا اپنا عقیدہ ہوتا ہے۔مسلمانوں کے لئے پیغمبراسلامؐ سے بڑھ کر کوئی بھی چیز نہیں ہے۔اگرہم مسلمان ہیں تو پیغمبراسلامؐ کی وجہ سے مسلمان ہیں۔بتادیں کہ ملعون ٹی راجہ سنگھ حیدرآباد کے غوث محل ودھان سبھا سیٹ سے ممبر اسمبلی اور پارٹی کا چیف وہپ ہے، پہلی بار اس نے ۲۰۱۴ میں غوث محل سے جیت درج کی تھی، ۲۰۱۸ میں تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی لہر میں بھی جیتنے والوں میں شامل تھا، بجرنگ دل سے بھی تعلق رہا ہے، ۲۰۰۹ میں اس نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا، پہلے ٹی ڈی پی سے کارپوریٹر بنا، پھر ۲۰۱۴ میں لوک سبھا انتخاب سے قبل اپریل ۲۰۱۳ میں ٹی ڈی پی چھوڑ کر بی جے پی میں آگیا، اگست ۲۰۱۸ میں اس نے گئو رکشا آندولن کےلیے خود کو وقف کرنے کےلیے بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا، اس دوران اس نے ٹی آر ایس پر گئو رکشا کےلیے ضروری قدم نہیں اُٹھانے کا بھی الزام عائد کیا، ۲۰۱۴ میں بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سے یہ اس کا تیسرا استعفیٰ تھا لیکن ہر بار وہ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹتا رہا، ٹی راجہ اوبی سے ذات کے لودھ سے تعلق رکھتا ہے، اس پر ۷۵ سےمقدمہ درج ہیں، اور علاقے میں رائوڈی شیٹر کے نام سے معروف ہے۔
Comments are closed.