شان رسالتﷺ میں گستاخی قطعی ناقابل برداشت

 

دہلی میں مسلم تنظیموں کا دو روزہ نمائندہ اجلاس ، اعلامیہ جاری

نئی دہلی۔ ۲۳؍اگست: دہلی ۲۰ اور ۲۱ اگست کو مسلم تنظیموں کا دو روزہ نمائندہ اجلاس ہوا جس میں ملک بھر کی اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ اس دو روزہ اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیاگیا جس میں کہاگیا کہ ’’ملک کے مختلف علاقوں،تنظیموں اور اداروں کے افراد پر مشتمل یہ نمائندہ اجلاس اجتماعی غور وخوض اور مشاورت کے بعد امت مسلمہ سے یہ اپیل کرتا ہے کہ اپنے اقدار اور تہذیبی تشخص کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس کا بھر پور دفاع کریں۔نیز سب کے ساتھ انصاف اور امن عامہ کے لیے کوشاں رہیں۔یہ اجلاس اعلان کرتا ہے کہ کسی کے بھی ذریعہ ناموس رسالت ﷺکے خلاف قول وعمل کا کوئی بھی رویہ ناقابل برداشت ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ توہین ناموس رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے میں تساہلی سے اجتناب کرے۔اس سلسلہ میں دانشوران ملت اگر حق بیانی سے قاصر ہیں تو خاموش رہیں۔نیز اس تعلق سے مسلمانان ہند پر یہ بات لازم ہے کہ برادران وطن تک رسول اللہ ﷺکی تعلیمات بھر پور طریقے سے پہنچانے کی کوشش کریں۔فی زنامہ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں اور متعلقہ ایجنسیاں شعائر اسلام اور اسلامی شناخت پر حملوں اور مسلمانوں کی نسل کشی کے اعلانات کو روکنے اور ان کا سد باب کرنے میں عدم دل چسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔جب لا اینڈ آرڈر ناکام کردیا جائے، جب ”انصاف کا نظام“لوگوں کے جینے کا حق اور دیگر بنیادی حقوق کی حفاظت میں عدم دل چسپی کا ثبوت فراہم کرے،اور جب فسطائی طاقتوں کو مکمل چھوٹ دے دی جائے، تو اس کے بعد مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ Right to private defenceکا استعمال کریں۔یہ اجلاس ملک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند طریقے سے نفرت کا ماحول فروغ دیا جارہا ہے۔یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔یہ اجلاس طئے کرتا ہے کہ اس سلسلہ میں چند افراد پر مشتمل ایک نگراں کمیٹی تشکیل دی جائے،جو اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مناسب لائحہ عمل اور پروگرام ترتیب دے۔یہ اجلاس نسل نو کی اسلامی بنیادوں پر تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں اپنی گہری فکر مندی کا اظہار کرتا ہے۔اور اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ اس تعلق سے مناسب عملی اقدام کیے جائیں گے۔امت کے باشعور اور فکر مند لوگوں سے یہ اجلاس اپیل کرتا ہے کہ مقامی سطح پر وفاق/رابطہ کمیٹی کی تشکیل کرنے کی کوشش کریں۔اور امت کے تمام امور اجتماعیت اور اتحاد کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کریں۔یہ اجلاس،سوشل میڈیا کے ذریعہ اسلام مخالف مواد کی ترویج واشاعت پر اپنے گہرے تشویش کا اظہار کرتا ہے۔اس کا جواب دینے کی مناسب تدبیر مسلمانوں کو کرنی چاہیے۔یہ اجلاس امت مسلمہ سے اپیل کرتا ہے کہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کی خاطر بعض مسلم دشمن ایجنسیوں کی مسلسل سرگرمیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ایسے میں ہر سطح پر امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت دو چند ہوجاتی ہے۔یہ اجلاس علماء،مسلم دانشوروں اور تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ اپنے داخلی اختلافات کو انگیز کرتے ہوئے،موجودہ اسلام مخالف چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دیگر اقلیتوں اور مظلوم طبقات کو ساتھ لے کر صف بستہ ہوں۔یہ اجلاس بعض میڈیا اور سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ اداروں،مولانا کلیم صدیقی،عمرگوتم اورتنظیموں بالخصوص PFIکے خلاف پروپگنڈہ مہم کے ذریعہ بدنام کرنے اور ان پر پابندی عائد کرنے کے منصوبوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔یہ اجلاس ملک کے تمام خواتین کی جان،عزت وآبرو کی حفاطت کو یقینی بنانا ضروری سمجھتا ہے۔نربھیا معاملہ میں بھی ہمیں اس کا احساس ہوچکا ہے۔مگر اب دوہرا معیار اپناتے ہوئے بلقیس بانو کے مجرمین کو رہا کیا جانا دنیا بھر کی خواتین کی سب سے بڑی توہین اور انہیں دیا گیا سب سے بڑا صدمہ ہے۔یہ اجلاس میڈیا کے اس طبقہ کی سراہنا کرتا ہے جو ایسے ناگفتہ بہ حالات میں بھی انصاف کا پرچم بلند کیے ہوئے ہے اور حق گوئی سے کام لیتا ہے۔یہ اجلاس، متفقہ طور پر منظور کی گئی قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک Working Groupکی تشکیل پر متفق ہے۔

Comments are closed.