مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے انجینئرنگ کالج سے فارغ التحصیل پروفیسر سید جاوید زیدی کی عزت افزائی
علی گڑھ 25 اگست: ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے اپنے سابق طالب علم پروفیسر سید جاوید زیدی کی قطر میں یونیسکو کے یونیٹون (UNITWIN) پروگرام کے تحت پورے خلیجی خطے میں پانی صاف کرنے کے لیے یونیسکو کے پہلے چیئر کے طور پر تقرری کے لئے عزت افزائی کی۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر زیدی نے کہا کہ میں اس یونیورسٹی کا مقروض ہوں کہ اس نے مجھ جیسے بے شمار لوگوں کی زندگی اور کیریئر کی تعمیر کی اور مادرِ علمی میں تعلیم و تربیت کی بدولت انھیں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
انہوں نے 20 فروری 1949 کے جلسۂ تقسیم اسناد میں مولانا ابوالکلام آزاد کے خطاب کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے کہا تھا: ’’آپ کا فرض ہے کہ آپ پرانی روایات کو دوبارہ زندہ کریں اور اپنی یونیورسٹی میں علم کے تمام شعبوں میں تحقیق و جستجو کا ماحول پیدا کریں اور وسیع القلبی رواداری اور اخلاقیات کی تبلیغ کریں‘‘۔
پروفیسر زیدی نے سبھی فیکلٹیوں کے طلباء سے کہا کہ وہ اپنے ریسرچ پروجیکٹوںکے سلسلہ میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ان سے رابطہ کریں۔ انھوں نے اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔
قبل ازیں اے ایم یو کے سابق پرو وائس چانسلر پروفیسر ظہیرالدین نے پروفیسر زیدی کی محنت اور ان کی اختراعی تحقیق کی تعریف کی اور طلباء پر زور دیا کہ وہ پروفیسر زیدی کے نقش قدم پر چلیں اور اپنی مادر وطن کی خدمت کے لیے کامیابی حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آئیں۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر ایم ایم سفیان بیگ (پرنسپل، زیڈ ایچ سی ای ٹی)، پروفیسر سید اخلاق احمد (چیئرپرسن، شعبہ کیمیکل انجینئرنگ) اور پروفیسر صدف زیدی (چیئرپرسن، پوسٹ ہارویسٹ انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی) نے پروفیسر زیدی کی زندگی اور اے ایم یو میں ان کے تجربات پر مبنی قصے بیان کئے۔
پروفیسر جنید خلیل (شعبہ کیمیکل انجینئرنگ) اور مسٹر نسیم احمد (سابق چیئرپرسن، شعبہ کیمیکل انجینئرنگ) نے بھی پروفیسر زیدی کو یونیسکو کے چیئر کے طور پر تقرری اور معروف جرائد میں ان کے تحقیقی مقالوں کی اشاعت اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کے لئے مبارکباد پیش کی۔
اس موقع پر پروفیسر زیدی نے زیڈ ایچ سی ای ٹی اور مولانا آزاد لائبریری کو اپنی کتاب ’ریورس اوسموسِس سسٹمس‘ پیش کی۔
پروگرام کی نظامت آصف سعود (ریسرچ اسسٹنٹ، قطر یونیورسٹی) نے کی جس میں تقریباً 150 لوگوں نے شرکت کی جن میں طلباء، اساتذہ اور سربراہان شعبہ شامل تھے۔
٭٭٭٭٭٭
انتریپرینیورشپ کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوع پر ورکشاپ کا اہتمام
علی گڑھ، 25 اگست: فرینک اینڈ ڈیبی اسلام انتریپرینیورشپ انکیوبیشن سینٹر ، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں طالبات، گھروں میں رہنے والی ماؤں، سوشل میڈیا اِنفلوئنسرس اور کاریگروں نے حال ہی میں ’’انتریپرینیورشپ کے ذریعے خواتین کی اختیاردہی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک ورکشاپ میں کاروبار کے مالک کے طور پر خواتین کے کردار کو سمجھا اور مباحثوں میں شرکت کی۔
فرینک اینڈ ڈیبی اسلام انتریپرینیورشپ انکیوبیشن سینٹر نے سی ایم ایس واتاورن کے ساتھ مل کر ورکشاپ کا انعقاد کیا ۔ یہ ورکشاپ ’’پروجیکٹ ہر اینڈ ناؤ‘‘ کا حصہ تھی جس میں وزارت ہنر فروغ و انتریپرینیورشپ ، حکومت ہند اور جی آئی زیڈ کا تعاون شامل تھا۔
پروفیسر سلمیٰ احمد (ڈین، فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ) نے خواتین کو تاجر اور کاروباری بننے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا ’’ ترقی یافتہ ممالک میں مرد اور خاتون کاروباریوں کے درمیان زیادہ توازن پایا جاتا ہے تاہم نابرابری کی خلیج اب بھی گہری ہے اور پیش رفت سست ہے۔ خواتین معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کے کردار کو ترقیاتی فریم ورک سے الگ نہیں کیا جا سکتا‘‘ ۔
پروفیسر جمال اے فاروقی (چیئرمین، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن) نے کہا: ’’کاروبار کی چاہت اور اہلیت ہونے کے باوجود بہت سی نوعمر خواتین اپنا کاروبار شروع کرنے میں ناکام رہتی ہیں اور اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خواتین کے لیے یہ مشکل کیوں لگتا ہے؟ اس مسئلے کی ایک وجہ یہ ہے کہ مردانہ غلبہ کا ماحول، تاجر و کاروباری کے کردار میں ایک خاتون کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا- عزت و رتبے اور سرمایہ کا حصول خواتین کے لیے جدوجہدبھرا ہوجاتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے‘‘۔
انھوں نے مزید کہاکہ خاتون انتریپرینئرس کی تعداد کم ہونے کی وجہ گھر اور خاندان سے تعاون کی کمی اور ہمارا سماجی و اقتصادی نظام ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بیداری اس مسئلے کو ختم کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے اور زیادہ تعداد میں ایسے پروگراموں کے انعقاد سے یقینی طور پر خواتین کو کامیاب کاروبار شروع کرنے کی ترغیب ملے گی۔
سی ایم ایس واتاورن کے مقررین نے پدری نظام، صنفی تعصب، کمیونٹی کی جانب سے حوصلہ شکنی جیسی رکاوٹوں کو دور کرکے خواتین کو صنعت کار بننے کے لئے متحرک کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے خواتین کی انتریپرینیورشپ پر مختصر فلمیں بھی دکھائیں اور گروپ مباحثوں کا انعقاد کیا۔
پروفیسر عائشہ فاروق (کوآرڈینیٹر، انتریپرینیورشپ کمیٹی) نے بتایا کہ کس طرح فرینک اینڈ ڈیبی اسلام انتریپرینیورشپ انکیوبیشن سینٹر اور اس کے فیکلٹی ممبران اور طلباء انتریپرینیورشپ سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔
محمد معاذ حسین (انکیوبیشن منیجر، فرینک اینڈ ڈیبی اسلام انتریپرینیورشپ انکیوبیشن سینٹر) نے اظہار تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو ایکسیز پروگرام کی تقریب کا انعقاد
علی گڑھ، 25 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یوجی سی -ایچ آر ڈی سنٹر میں انگلش ایکسیز مائیکرو اسکالرشپ پروگرام کے ذریعے اے ایم یو کے اسکولوں کے طلباء کے لئے انگریزی زبان سکھانے کا اے ایم یو ایکسیز پروگرام لانچ کیا گیا۔
تقریب میں امریکی سفارت کار ڈاکٹر روتھ گُڈ، ڈائریکٹر ،ریجنل انگلش لینگویج آفس ، امریکی سفارت خانہ اور اے ایم یو وائس چانسلرپروفیسر طارق منصور نے شرکت کی۔ ڈاکٹر روتھ نے اس موقع پر اے ایم یو اسکولوں کے طلباء کو اِنرولمنٹ سر ٹیفکیٹ پیش کیا۔
اے ایم یو نے 2007ء میں امریکی سفارت خانہ کے ریجنل انگلش لینگویج آفس کے ساتھ یادداشت نامہ مفاہمت پر دستخط کئے تھے۔ اے ایم یو میں کامیابی سے چلائے جانے والے اس پروگرام کا یہ ساتواں دور ہے۔
ڈاکٹر روتھ گُڈ نے کہا کہ اس پروگرام نے نوجوانوں کو انگریزی زبان میں مہارت پیدا کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے ڈاکٹر روتھ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو کا امریکی سفارت خانہ کے ساتھ تعلق بہت گہرا اور طویل ہے اور ایکسیز پروگرام سے اسے تقویت ملی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اے ایم یو کے اسکول ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ کے ڈائرکٹر پروفیسر اصفر علی خاں نے کہا کہ ان پروگراموں سے اے ایم یو کے اسکولوں کے طلباء میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔
ایکسیز پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فیض زیدی اور ایکسیز ٹیچر ڈاکٹر ساجد الاسلام نے ایکسیز پروگرام کے سفر اور اے ایم یو کے ساتھ اس کی وابستگی کے بارے میں ایک پرزنٹیشن دیا۔ محترمہ رچنا شرما، ایکسیز پروگرام کوآرڈینیٹر، ریجنل انگلش لینگویج آفس اور محترمہ پوجا راناڈے نے ایکسیز پروگرام سے وابستہ اسکولی طلباء کے ساتھ مکالمہ کیا ۔
معروف ماہر امراض اطفال ڈاکٹر حمیدہ طارق نے عالمی زبان کے طور پر انگریزی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے طلباء پر زور دیا کہ وہ روزمرہ کی سرگرمیوں میں انگریزی زبان میں اظہار خیال کے موقع سے استفادہ کریں۔
پروفیسر اے آر قدوائی، اکیڈمک ایڈوائزر، اے ایم یو ایکسیز پروگرام نے کہا کہ کئی برسوں میں اس پروگرام نے اے ایم یو اسکولوں کے طلباء کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔
ڈاکٹر فائزہ عباسی، ڈائریکٹر، یوجی سی-ایچ آر ڈی سنٹر ، اے ایم یو نے امریکی سفارت خانہ کے ریجنل انگلش لینگویج آفس کے کردار کو سراہا۔
تقریب میں اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز، ویمنس کالج کی پرنسپل پروفیسر نعیمہ خاتون اور محترمہ تنویر بدر بھی موجود تھیں۔
اس موقع پر ایوارڈ تقریب کے ساتھ مکالمہ بھی منعقد کیا گیا جس میں ایکسیز پروگرام کے 125 موجودہ اور سابق طلباء شریک ہوئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو فیکلٹی ممبر کو کینسر کی روک تھام سے متعلق دریافت کے لیے پیٹنٹ سے نوازا گیا
علی گڑھ، 25 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ علم الحیوانات کے ڈاکٹر حفظ آر صدیق اور ان کی ٹیم نے کینسر کے خلیوں کی نشو و نما کو روکنے کے سلسلہ میں ایک نئی دریافت کی ہے جو علمی حلقہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کررہی ہے۔
اے ایم یو میں ان کی لیباریٹری کو حال ہی میں کینسر کے خلیوں کی نشوونما اور ان کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق سورافینیب (Sorafenib) کے ساتھ ’معجون سورنجن‘‘ مرکب دریافت کرنے کے لئے پیٹنٹ سے نوازا گیا ہے۔
ڈاکٹر صدیق نے کہا’’معجون سورنجن‘‘ کے اجزا اینٹی انفلیمیٹری اور ہیپاٹو پروٹیکٹیو ہیں۔ ہم نے اس مرکب فارمولیشن کو سورافینیب کے ساتھ ملایا جو کینسر کے خلیوں کی نشوونما اور پھیلاؤ کو روکتا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ معجون سورنجن نے سورافینیب کے ساتھ مل کر خلیہ کے نمو کو روکنے میں زیادہ اثر دکھایا۔ یہ کمپاؤنڈ فارمولیشن، کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکتاہے اور سورافینیب پر مبنی تھیریپی سے گزرنے والے کینسر کے مریضوں کے لئے ممکنہ طور پر اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر صدیق نے مزید کہا’’چونکہ ایف ڈی اے سے منظور شدہ سورافینیب، جسے کینسر کے ابتدائی مراحل میں مؤثر پایا گیا ہے،فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ، اس لیے کینسر کے علاج کے لیے نئے اور مؤثر عناصر کی تلاش کرنے کی ضرورت تھی جو موجودہ ادویات کے مضر اثرات کو کم کرسکیں‘‘۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پیٹنٹ کا حصول اے ایم یو کی تجربہ گاہوں میں بین موضوعاتی تحقیق کے معیار کا بھی ثبوت ہے۔
ڈاکٹر صدیق نے کہا ’’وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور ہمیشہ اے ایم یو فیکلٹی ممبران اور محققین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ بین موضوعاتی تحقیق پر کام کریں‘‘۔
انہوں نے ریسرچ اسکالر دیپتی سنگھ اور محمد افسر خاں کے ساتھ مل کر یہ دریافت کی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو وائس چانسلر نے دو ہال میگزینوں کا اجراء کیا
علی گڑھ، 25 اگست: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے بیگم عزیز النساء ہال کی میگزین ’فرسٹ گزٹ (2019-22) اور سرسید ہال جنوبی کے صدی شمارے ’’ہاؤس آف علیگس‘‘ کا اپنے دفتر میں ایک خصوصی تقریب سے اجراء کیا۔
پروفیسر صبوحی خان (پرووسٹ، بیگم عزیز النساء ہال) نے کہا’’ ہال میگزین ’فرسٹ گزٹ (2019-22)‘ میں اے ایم یو کے بانی سر سید احمد خاں کی والدہ بیگم عزیز النساء کی زندگی اور خدمات پر ایک دلچسپ مضمون شامل ہے۔ گزٹ میں خواتین کی تعلیم سے متعلق سرسید کے کام ، بیگم عزیز النساء ہال کے قیام کی دستاویزی تفصیلات، طالبات کی تعلیمی اور غیرنصابی سرگرمیوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ قارئین گزٹ کی ورق گردانی کرکے ایک بنجر زمین سے ہزاروں درختوں سے گھرے ہاسٹل تک اس اقامتی ہال کے سفر کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
میگزین کی ایڈیٹر ڈاکٹر فوزیہ فریدی اور شریک مدیران ڈاکٹر غزالہ یاسمین اور رباب خان اور ادارتی بورڈ کے دیگر اراکین نے کہا کہ یہ میگزین طلباء کے لیے بیگم عزیز النساء ہال، یونیورسٹی اور طلباء و اساتذہ کی نمایاں حصولیابیوں کو جاننے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
سرسید ہال جنوبی کے پرووسٹ پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے کہا کہ سرسید ہال جنوبی کی میگزین ’’فرسٹ گزٹ‘‘ کا صدی شمارہ اے ایم یو کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کی توجہ مبذول کرے گا جو ایم اے او کالج کے قیام سے لے کر مسلم یونیورسٹی کے قیام اور اس کے صد سالہ سفر کااحاطہ کرتا ہے۔ اس میں انگریزی ، ہندی اور اردو میں طلباء اور فیکلٹی ممبران کے مضامین شامل ہیں۔رسم اجراء تقریب میں ڈاکٹر عبدالعزیز خاں (ریزیڈنٹ وارڈن) اور محمد احتشام الاسلام خاں (ایڈیٹر اِن چیف) بھی شریک تھے۔
محمد غزالی اس خصوصی شمارے کے انگریزی سیکشن کے مدیر اور نسیم الدین اور محمد سلمان بالترتیب ہندی اور اردو سیکشن کے مدیر ہیں۔
وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے متعلقہ افراد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ’’میں بیگم عزیز النساء ہال اور سرسید ہال (جنوبی) میں مقیم طلباء کے روشن مستقبل کے لئے اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور میگزین کی عمدہ اشاعت کے لئے متعلقہ پرووسٹ، وارڈن صاحبان اور ادارتی ٹیم کی محنت کو سراہتا ہوں‘‘۔
Comments are closed.