جمعہ نامہ : آفاق و انفس کی نشانیاں اور بشارت

 

ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے:’’    عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی۰۰۰‘‘۔    ایسا کرنے سے کیا  ہو گا؟  اس سوال کا جواب آیت کے دوسرے حصے میں دیا گیا ہے، فرمایا :’’یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۰۰۰ ‘‘۔ اس طرح اللہ تعالیٰ منکرین کے لیے قبولیت حق  کا اضافی سامان کرتا ہے حالانکہ اس کی خاطر :’’ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟‘‘  بے شک  حق کے آگے سر نگوں ہونے کے لیے رب کائنات کا خبردار و گواہ ہونا  ہی کافی ہے لیکن یہ  خالق کائنات کی مہربانی اور  آسانی ہے۔  سورۂ حٰم سجدہ  کی  اس آیت کے مخاطب وہ منکرین حق  ہیں جن کے بارے میں فرمایا:’’اے نبیؐ، اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور تم اِس کا انکار کرتے رہے تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اِس کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟ ‘‘لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آفاق و انفس کی نشانیوں پر  غور و تدبر اہل ایمان کے علم میں اضافہ کا سبب بنتا ہے ۔

قرآن حکیم میں آفاق و نفس کی نشانیوں پر غوروفکر کرنے والے مومنین کے بارے میں ارشادِ حق ہے: ’’ جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں‘‘۔ یہاں پر خدا کی یاد کے  ساتھ فکر و تدبر کے ہم آہنگ ہونے    والی کیفیت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :’’(وہ بے اختیار بو ل اٹھتے ہیں) پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے‘‘۔ یعنی انہیں غایتِ  کائنات کے حوالے سے مقصدِ حیات کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس مرحلے میں پہنچ کر انسان اپنی فلاحِ آخرت کی بابت فکر مند ہوجاتا ہے اور  روز جزا کے مالک سے یہ التجا کرتا ہے کہ :’’  پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے‘‘۔ کیونکہ ’’ تو نے جسے دوزخ میں ڈالا اسے در حقیقت بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا‘‘۔

 آفاق و انفس کی نشانیاں  توحید خالص سے تو روشناس کردیتی ہیں لیکن اپنے آقا و مالک کی رضا جوئی  کے  لیے  کتاب  و رسالت کی  رہنمائی لازم  ہے۔ اس لیے راہِ ہدایت پر گامزن ہو کر بندۂ مومن گواہی دیتا ہے:’’ مالک! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی‘‘۔  اس عظیم ترین نعمت سے سرفراز ہونے کے بعد وہ کبر و غرور کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کے عجز و انکسار میں بے شمار اضافہ ہوجاتا ہے ۔اس کے حالتِ قلب کااظہار   مناجات و استغفار میں اس طرح ہوتا ہے کہ:’’ پس اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انہیں دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر‘‘۔ اس  دعا  میں  دنیا کے اندر  سرزد ہونے والی خطاوں کی معافی  مانگی گئی ہے۔ انسانی نفس کے اندر در آنے والی برائیوں سے چھٹکارہ طلب کیا گیا ہے  اور آخری سانس تک ایمان پر قائم رکھنے کی آرزو  صاف جھلکتی  ہے تاکہ جہانِ فانی سے  خاتمہ بالخیر  ہو۔ 

 مومن کا اصل مطمح نظر چونکہ اخروی کامیابی ہے اس لیے  یہ دعا بھی  کی گئی ہے کہ  :’’خداوندا! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں اُن کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا‘‘۔ یہاں پر جو اعتراف ہے  اس بابت قرآن حکیم   رب کائنات کے   وعد وں کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ مثلاً ارشادِ قرآنی ہے  : ’’ اللہ نے صاحبانِ ایمان وعمل صالح سے مغفرت اور عظیم اجر کا وعدہ کیا ہے ‘‘۔ اس اخروی بشارت کے دنیا سے متعلق یہ وعدہ بھی موجود ہے کہ ’’ اُن لوگوں سے اللہ نے وعدہ فرمایا کہ  جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ، وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے والوں  کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی حالت خوف کو امن سے بدل دے گا ‘‘۔ مایوس کن حالات میں یہی بشارت مومنین کو پر امید رکھتی ہے اور وہ  اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضاجوئی میں   دین حق کی سر بلندی کے لیے  مصروف ِ عمل رہتے ہیں ۔   رب کعبہ ان دعاوں کو ہمارے حق میں قبول فرمائے۔

Comments are closed.