حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اﷲ علیہ

تحفظ ختم نبوت کی تاریخ کا سنہرا باب

شاہ عالم گورکھپوری
استاذ و نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دار العلوم دیوبند

پیران پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کے چشم وچراغ حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کو خالق کائنات اللہ رب العزت نے تحفظ ناموس رسالت صلی اﷲ علیہ وسلم اور تحفظ ختم نبوت کے قابل رشک خدمت کے لئے منتخب فرمایا تھا۔علم عمل کے پیکر حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ۱۸۳۹ء میں بتائی جاتی ہے اور آپ کی وفات ۱۹۳۷ء میں ہوئی۔اور اپنے وطن گولڑہ میں مدفون ہیں۔ آپ نے مقامی تعلیم سے فراغت کے بعدجب ارض مقدس میں قیام کا ارادہ کیا تو وہاں سرخیل علمائے دیوبند حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی ؒسے بھی تصوف و سلوک میں کسب فیض کیا ہے ۔اس طرح آپ حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے پیر بھائی ہوتے تھے ۔
حضرت پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو نہ ہم نے دیکھا ہے اور نہ آپ نے دیکھا، میرے سامعین میں سے شاید کسی نے ان کو نہیں دیکھا ہوگا لیکن پیر صاحب ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کو آج بھی ان کی تحریرات کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ان کی تقاریر اور بیانات کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ان کو ان کے علم اور رسوخ فی العلم کی روشنی دیکھا جاسکتا ہے ۔ان کے عمل بالکتاب و السنۃ کے باب میں ان کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ان کو قرآن و سنت سے مستنبط تصوف اور سلوک کے میدان میں دیکھا جاسکتا ہے ۔
حضرت پیر صاحب کے قلم سے لکھے ہوئے جملوں اور الفاظ کی روشنی میں ان کو ایسے ہی دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے جیسے کہ لوگ ان کو ان کی حیات عارضی اور زندگی میں دیکھا کرتے اور سمجھا کرتے تھے ۔پیر صاحب کے منہ سے جو کلمات نکل کر دنیا وی کاغذ پر ثبت ہوگئے ،ان پاکیزہ کلمات کی روشنی میں آج بھی ان کو ویسے ہی دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے جیسے کہ لوگ ان کو دنیاوی زندگی میں دیکھا اور سمجھا کرتے تھے۔
آپ ان کی تصنیفات کو پڑھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مادرزاد ولی تھے، دنیا سے جیسی بے رغبتی ان کو اوائل عمر تھی ویسی ہی بے رغبتی عمر کے اخیر حصہ میں بھی دیکھنے میں آتی ہے ۔ ان کی سوانح عمری لکھنے والوں نے لکھا ہے اور بہت کچھ لکھا ہے کہ ان کو شہر اور شہرت سے طبعی دوری تھی، سات سال کی عمر میں گھر سے نکل کر ویرانے میں وقت گذارنے کو پسند کرتے تھے،آج آپ کو ان کی تحریروں کی روشنی میں ان کودیکھیں، ان کے الفاظ اور جملوں کی تابانی اور صدق بیانی میں دکھیں تو معلوم ہوگا کہ کہ واقعی پیر صاحب کو جیسا کہ ان کے لکھنے والوں نے لکھا ہے وہ ویسے ہی تھے۔
بدبحت مرزا غلام احمدقادیانی کا حال یہ ہے کہ آج بھی اس کی تحریرات زمین کا بوجھ اور اس کے پیروکاروں کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہیں مرزا قادیانی کو اس کی تحریروں کی روشنی میں دنیا کی کوئی طاقت اور حکومت نہ آج تک عزت دے سکی ہے اور مستقبل میں کبھی عزت دے سکے گی ،مرزا قادیانی کی تحریریں ہمیشہ مرزائیوں کے گلے کی ہڈی بنی رہے گی ۔آپ اس کی تحریروںکو اٹھاکر دیکھئے کہ جب بھی پیر صاحب کا نام لکھتا ہے تو اس کی زبان کی طرح اس کا قلم بھی ٹیڑھا ہوجاتا ہے۔ منھ سے گالیوں کی جھاگ نکلتی ہے ۔منہ بھر بھر کے پیر صاحب کو گالیاں بکتا ہے۔
لیکن سنت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم کے سچے پیروکار ، عاشق زار،حضرت پیر صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کا حال یہ ہے کہ دو جملہ فرماکر مرزا کی ساری غلاظت اس کے منہ پر دے مارتے ہیں اور فرماتے ہیں ’’ بتر زانم کہ خواہی گفت آنی ۔ کبھی خواجہ حافظ کے الفاظ میں اس کو سبق سکھاتے ہیں ، بدم گفتی و خور سندم عفاک اﷲ نکو گفتی ۔اے مرزاقادیانی آپ مجھے برا کہنا چاہتے ہو ،جی بھر کے کہلو ،کہ میں تو اس سے زیادہ برا ہوں ۔ لیکن سنو ! براہ کرم کتاب اللہ میں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اور اجماع امت میں دخل نہ دو۔ پیر صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ گالیوں کو ہماری ذات تک محدود رکھیں لیکن ہمارہ منہ سے جو کلمات نکلتے ہیں ان کو گالیاںنہ دیں کیونکہ آپ کے مخالفین یعنی ہمارے منہ سے وآیات قرآنیہ واحادیث نبویہ بھی نکلتی رہتی ہیں۔ بدبخت مرزا قادیانی کے کلمات سنیے وہ پیر صاحب کے بارے میں لکھتا ہے ’’ ہو خبیثٌِ و خبیثٌ ما یخرج من شَفَتیہ ‘‘ کہ وہ پلید ہے اور جو کچھ اس کے منہ سے نکلتا ہے وہ پلید ہے۔حضرت پیر صاحب فرماتے ہیں کہ واہ صاحب کہیں آپ اپنے ان کلمات کی وجہ سے ماخودذنہ ہوجائیں۔
اللہ اکبر! اپنے ایسے بدترین دشمن کے مقابلے میں اسے کہتے ہیں سنت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم پر عمل کرنا۔
پیر صاحبؒ نے مرزا قادیانی کے لاف وگزاف اور ڈینگیں مارنے والی کتاب کے ایک ایک سطر کو لے کر ایسا معقول اور علمی جواب دیا ہے کہ دنیا آج بھی کسی کورٹ وکچہری میں مقدمہ داخل کر کے حق وباطل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔شمس الہدایۃ ،سیف چشتیائی ،ضمیمہ سیف چشتیائی ، ہدایت الرسول ، وغیرہ آپ کی تمام کتابیں آپ پڑھ جائیں ان میں مرزا غلام احمد قادیانی پر ایسی علمی گرفت ملے گی کہ مرزا قادیانی جلتے توے پر مچھلی کی مانند تڑپ کر رہ جاتا تھا لیکن کسی ایک گرفت کا جواب اس سے نہیں بن پڑتا تھا،بلکہ کمال کی بات ہے اور پیر صاحب کی زندہ کرامت ہے کہ آج بھی اس کے متبعین سے جواب نہیں بن سکتا ۔حضرت پیر صاحب کی تصانیف میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ملے گا کہ آپ اسے مرزا قادیانی کی شان میں گستاخی یا گالی کہ سکیں ۔نہایت نرم ،عطر وعنبر سے دھلی ہوئی زبان ، شستہ و سلیس انداز بیان ، خالص علمی اور عام فہم تعبیرات ،کا مرقعہ ہیں۔ گو کہ پیر صاحب کا مشغلہ تصنیف و تالیف کا نہیں تھا جس کا وہ باربار ، دوران تصنیف اظہار بھی فرماتے ہیں کیوں کہ اس میں یک گونہ شہرت و ناموری کا شائبہ پایا جاتا ہے اس لیے پیر صاحب تصنیفات و تحریرات سے گریزاں رہنے کو ترجیح دیتے تھے لیکن خداداد ملکہ اور تائید ربانی ، اسے کہتے ہیں کہ یہ کتابیںملت اسلامیہ کا صدیوں سے سرمایہ بنی ہوئی ہیں ۔اور تمام مکاتب فکر کے لوگ پیر صاحب ؒ کی تصنیفات کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
پیر صاحب ان خوش نصیبوں میں سے ہیں کہ تحفظ ختم نبوت کے میدان میں مقبول خدمات کی بنا پر رہتی دنیا تک بھلائے نہیں جا سکتے، آج اس پوری صدی میں تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر تصنیف پانے والی کتابوں میں اگر دیکھا جائے تو ہر دوسری تیسری کتاب میں پیرمہر علی شاہ صاحب کا ذکر خیر ضرور ملے گا۔اسی طرح تحفظ ختم نبوت کے اسٹیج کا ہر دوسرا تیسرا خطیب و مقرر پیر صاحب کا ذکر ضرور کرے گا۔ بغیر پیر صاحب کے تذکرے کے رد قادیانیت کی تاریخ ادھوری مانی جائے گی۔
۲۵؍اگست۱۹۰۰ء کا دن اس صدی کی اسلامی تاریخ میں ایک ایسا یادگاردن ہے کہ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف ،مشترکہ ہندوستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء اور صلحاء ، اہل مدارس اور اہل خانقاہ ،کیا انفرادی اور کیا اجتماعی ،سب کے سب پیر صاحب کے ہاتھ پر جمع نظر آتے ہیں۔ تاریخ میں ایسے واقعات بہت کم آتے ہیں کہ جس میں پوری ملت اسلامیہ اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائے۔انہی نادر و کم یاب تاریخ میں سے ۲۵؍اگست ۱۹۰۰ء کی تاریخ بھی ہے ۔جس میں لاہور کی شاہی مسجد میں حاضر ہوکر پیر صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کو للکارا ،مگر وہ اپنی دعوت و دعوے کے باوجود پیر صاحب کے سامنے آنے کی ہمت نہ کرسکا ۔اس طرح سے یہ دن مرزایت کی رسوائی کے لیے خاص ہوکر رہ گیا ۔ اور تمام مسلمان۲۵ ؍اگست کے دن کو جشن فتح کے نام سے مناتے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ ہم سب کو تحفظ ختم نبوت کی خدمت کے لیے قبول فرمائے اور حضرت پیر صاحب کے علمی ذخائر سے مستفید ہونے کی توفیق نصیب فرمائے ، آمین۔تحفظ ختم نبوت و رد قادیانیت کے موضوع پر پیر صاحب کی جملہ تصنیفات ،احتساب قادیانیت ترتیب جدید‘‘میں مرکز التراث الاسلامی دیوبند سے شائع ہوچکی ہیں۔

Comments are closed.