جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ کی کرسی خطرے میں!
الیکشن کمیشن نے گورنر کو رپورٹ بھیجی ، ’’جب الیکشن کمیشن کی سفارش ہنوز ‘سیل بند ہے تو پھر کٹھ پتلی صحافیوں کو خبر کیسے لگی‘‘ : سورین کا سوال
رانچی۔۲۵؍اگست: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین مشکل میں ہیں۔ ان کی کرسی خطرے میں ہے۔ الیکشن کمیشن نے جھارکھنڈ کے سی ایم ہیمنت سورین کے خلاف رپورٹ گورنر کو بھیج دی ہے۔ اسمبلی کی رکنیت منسوخی کی رپورٹ بھجوا دی گئی ہے۔ ہیمنت سورین کے خلاف کان کنی کے معاملے میں تفتیش جاری ہے۔ یہ کیس ان کے اپنے نام پر کان کنی لیز الاٹمنٹ کیس سے متعلق ہے۔ ہیمنت پر عہدے کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے۔ واضح ہوکہ جھارکھنڈ کانکنی گھوٹالے کی تفتیش جاری ہے اور کل ہی 16 مقامات پر ای ڈی نے چھاپے مارے تھے۔ رانچی میں سی ایم ہیمنت سورین کے قریبی پریم پرکاش کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ پریم پرکاش کے گھر کے والٹ سے دو اے کے 47 رائفلیں برآمد ہوئی ہیں۔ اس کی تصاویر منظر عام پر آگئی ہیں۔پریم پرکاش کے پرانے دفتر میں بھی تفتیش جاری ہے۔ یہ دفتر پچھلے کچھ دنوں سے بند ہے۔ پریم پرکاش کے 11 مقامات پر چھاپے کا سلسلہ جاری ہے۔ پریم پرکاش کو جھارکھنڈ کی سیاست میں مضبوط دخل رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ای ڈی نے پریم کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔تاہم ای ڈی نے چند گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد اسے رہا کر دیا۔ مقامی پولیس کو بھی اس کاروائی کے بارے میں جاننے کی اجازت نہیں دی گئی۔یہ معاملہ آگے بڑھ سکتا ہے اور اگر ہیمنت سورین کی اسمبلی کی رکنیت گئی تو انہیں چھ مہینوں کے اندر وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑے گا۔جھارکھنڈ میں منافع والے عہدہ معاملے میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ گورنر کو سونپی گئی رپورٹ کو لے کر وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی اسمبلی رکنیت جانے کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ اس پر سورین نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ ہنوز سیل بند ہے، پھر اس کے بارے میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ سے لے کر ان کے کٹھ پتلی صحافیوں کو کیسے پتہ لگ گیا، اور وہ کس طرح خبریں چلانے لگے۔ یہ تو آئینی اداروں کا کھلے طور پر غلط استعمال ہے۔جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بی جے پی پر سرکاری اداروں کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اسمبلی رکنیت سے جڑے معاملے میں مرکزی الیکشن کمیشن اور گورنر کی طرف سے اب تک کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ لیکن انھیں ایسی خبروں کے بارے میں پتہ چلا ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ انتخابی کمیشن نے ان کی اسمبلی رکنیت رد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ سیل بند ہے، پھر اس کے بارے میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ سے لے کر ان کے کٹھ پتلی صحافیوں کو کیسے پتہ چلا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی نے جس طرح سے آئینی اداروں اور سرکاری ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا ہے، وہ انتہائی شرمناک ہے۔ بی جے پی ہیڈکوارٹر نے جس طریقے سے سرکاری اداروں پر قبضہ جما لیا ہے، ہندوستانی جمہوریت میں ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے بی جے پی لیڈروں، جن میں ایک رکن پارلیمنٹ اور ان کی کٹھ پتلی صحافی برادری ہے، نے خود سے الیکشن کمیشن کی رپورٹ کا مسودہ تیار کیا ہے، جو ابھی سیل بند ہے۔ وہ رپورٹ گورنر کے سامنے کھلے گی، لیکن اس سے پہلے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور کٹھ پتلی صحافیوں نے جو دعوے کیے ہیں وہ آئینی ادارے پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
Comments are closed.