ڈوبتا ملک اور قومی سیاست
حاجی محمد لطیف کھوکھر
ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی، معیشت کی بدحالی اور سیاسی گرما گرمی، احتجاج ،جلسے جلوس، لوڈ شیڈنگ، بجلی کے نرخوں میں آئی ایم ایف کی ایماء پر بے جا بوجھ، مختلف ٹیکسز کے ادراک نے پہلے ہی عوام کا جینا دو بھر کردیا ہے ان حالات میں قدرتی آفات کا آنا عوام کیلئے قیامتِ صغرٰی سے کم نہیں ہے – آفات دو طرح کی ہوتی ہیں ایک خالصتاً اللہ پاک کی طرف سے جس کا حفاظتی تدابیر و بچائو کے سوا کوئی سدِباب نہیں ہوسکتا ، دوسری قدرتی آفات کی قسم ہماری اپنی کوتاہی ، ہٹ دھرمی عدم تحفظ کی منصوبہ بندی سے وابستہ ہے اگر ڈیم ہوتے، پانی کے معقول اخراج و استعمال کا منظم انتظام ہوتا تو شاید یہ تباہی نہ پھیلتی – سیلاب کے اسباب میں اس بات پر تو کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ان قدرتی آفات میں سے ہے جنھیں روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، البتہ اس کے نقصانات کو کم سے کم تک محدود کرنے کے لیے تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں اورملک میں ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے جو تدابیر اختیار کی جانی چاہییں تھیں یا اختیار کی جا سکتی تھیں، وہ بروقت اختیار نہیں کی گئیں۔ جبکہ ملکی معیشت و سالمیت جہاں دیگر ناپید مسائل سے دو چار ہے وہاں سیلاب کی سالانہ بنیاد تباہ کاریاں بھی جاری ہیں گزشتہ سالوں کی طرح اِمسال بھی سیلاب ملک میں تباہی کا پیغام لے کر آیا ہے اس سال بھی سیلاب کی تباہ کاریسے زرعی فصلیں اور ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ۔ حالانکہ محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر سیل نے متاثرہ اضلاع میں قبل از وقت تنبہیہ کر دی تھی لیکن افسوس ناک عمل یہ ہے کہ سالانہ بنیاد پر آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائو کیلئے تاحال کوئی موثر حکمت عملی مرتب نہیں کی گئی ہمیشہ کی طرح قصے کہانیاں سننے کو ملتے ہیں کہ سیلاب کا سبب ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے دشمنی کی بنا پر واٹر وار کے تحت ڈیموں سے اضافی پانی پاکستان کے دریائوں میں چھوڑا جس سے دریائوں میں پانی کی حد تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے جس سے یہ تباہی پھیلتی ہے – ہمارے ملک میں ڈیموں کی تعداد انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے پانی کے اضافی بوجھ کو روکنا ممکن نہیں-کالاباغ ڈیم کا منصوبہ بھی تاحال کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکا – مختلف سیاسی ، لسانی ، سماجی علاقائی اختلافات کی زد میں آکر یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے بھارت نے ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی پاداش میں لا تعداد ڈیم قانونی اور غیر قانونی بنا ڈالے- OICاور عالمی اداروں کی خاموشی پاکستان کیلئے خاموش پیغام ہے کہ اپنے وسائل بروئے کار لا کر اس’’ واٹر وار‘‘ کا سامنا کرنا ہوگا – جب بھی پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا موسم آتا ہے تو بھارت ہمیشہ کی طرح اپنی منافقانہ دشمن سوچ کے تحت وہ اپنے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑ دیتا ہے جس سے دریائوںمیں پانی کی حدِ تناسب خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے جس سے سیلاب کی صورت میں تباہی پھیلتی ہے – شہری اور دیہی علاقے اس لیے متاثر ہوتے ہیں کہ ایک دریاکے ہیڈ میں پانی کے گزرنے کی گنجائش 4.5لاکھ کیوسک ہے اور اگر اس میں پانی کی حد 9لاکھ کیوسک فٹ آجائے تو پھر اس ہیڈ و دریا کو محفوظ رکھنے کیلئے کم آبادی والے علاقوں میں دریائوں اور بندوں پر شگاف ڈالاجاتا ہے تاکہ پانی کے اخراج اور خطرناک حدِ تناسب کو کم کیا جائے ، اس شگاف سے اخراج شدہ پانی اور اْس کی زد میں آنے والے علاقوں، بستیوںاور فصلوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے-جب سیلاب آتا ہے تو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کام بھی کیے جاتے ہیں اور آئندہ کیلئے سیلاب سے بچنے کی ممکنہ پالیسی بھی وضع کی جاتی ہے روایتی انداز اور روایتی عمل کے تحت چند دنوں کے بعد ہم سیلاب اور اْس کی تباہ کاریوں کو تاریخ کا حصہ سمجھ کر بھول جاتے ہیں لیکن یاد رکھیں جو قومیں اپنی تاریخ سے راہِ فرار اختیار کرتی ہیں وہ ہمیشہ ناکامی و رسوائی کا سامنا کرتی ہیں ، تاریخ انہیں مٹا دیتی ہے ، بھلا دیتی ہے ، ایسا ہی کچھ سیلاب کے آنے اور چلے جانے کے بعد ہمارے ملک و عوام کے ساتھ ہوتا ہے جہاں حکومتی مشینری سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن میںسر گرم عمل نظر آتی ہیں وہاں فلاحی ادارے، این جی اوزبھی اس موقع پر اپنی مدد آپ کے تحت جذبہ ہمدردی و خیر سگالی پر عمل پیر ا ہوتے ہوئے سیلاب سے متاثرین کی بھر پور مدد کرتے نظر آتے ہیں – حالیہ بارشوں نے ملک کے کئی شہری و دیہی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ بالخصوص بلوچستان میں لوگ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں تقریباً چھ ہزار گھر منہدم ہوچکے ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ مجموعی طور پہ ملک میں تین سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔اگرچہ بارشوں اور سیلاب کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن یہ ممکن ہوتا ہے کہ بروقت اور ٹھوس انتظامی اقدامات کے ذریعے ان کی تباہ کاریوں کو محدود کیا جاسکے۔ پاکستان میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر متعدد اداے قائم ہوچکے ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی طویل المیعاد حکمت عملی اور منصوبے موجود نہیں ہیں، جس کا نتیجہ ہے ہر سال کئی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں، مکانات کو نقصان پہنچتا ہے، انفراسٹرکچر متاثر ہوتا اور معیشت کو دھچکا لگتا ہے۔ حالیہ برس سیاسی عدم استحکام نے بھی مسئلے کو پس پشت ڈال دیا ہے، اور سیاستدان اس پر کوئی بات کرتے ہی نظر نہیں آتے۔وطن عزیز میں غیرمتوقع بارشوں اور سیلاب کا سلسلہ جب ایک معمول بن چکا ہے اور ماہرین کے مطابق وقت کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جائے گا، تو ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے نمٹنے کے لیے باضابطہ مؤثر پالیسی تشکیل دے تاکہ اس کے نقصان کو محدود کیا جاسکے۔
Comments are closed.