دردخاموش ہے درویش سمندرکی طرح

سمیع اللہ ملک
پاکستان میں جاری سیاسی تماشے دیکھ کرآج اپنے ایوانِ اقتدارمیں بیٹھے قومی رہنماں اورسیاست دانوں کے احوال دیکھ کربنو امیہ،بنوعباس اورمغل بادشاہوں کے اختتامی دورکے رنگین مزاج حکمرانوں کی سیاہ تاریخ یاد آتی ہے۔بنوامیہ کی حکومت عیاش و ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی سیاہ کاریوں کی بدولت روبہ زوال تھی۔معاشرتی انحطاط وانتشارسے عاجز عوام سراپااحتجاج تھے، قبائل کی بغاوت اورعباسی دعوت کے آغازسے اموی اقتدارکابیڑاسنگین بحرانوں کاشکارتھا۔مگراپنے عظیم پیشروعمربن عبدالعزیز کے چہلم سے پہلے ان کی نافذ کردہ اصلاحات منسوخ کرنے والاعیاش خلیفہ یزیدبن عبدالملک،ان تمام باتوں سے بے نیاز ’’بس عشق زندہ باد‘‘کاخاموش نعرہ لگاکراپنی حسن پریوں حبابہ اورسلامہ کی قربتوں میں مدہوش تھا۔
خلیفہ سے بات کرنے کے منتظرامرامحل میں بیٹھے تھے اوروہ کمبخت شاہی باغ کے جھولے میں اپنی محبوبہ کے ہونٹوں سے ہونٹ ملاکراسے انگورکھلارہاتھاکہ اچانک انگورکاایک دانہ سیدھاحبابہ کی سانس کی نالی میں جاپھنسااوروہ چند لمحوں میں اس کی بانہوں میں دم توڑگئی اورپھرسب لوگ اسے ملک میں بہنے والے خون اورتاج وتخت کودرپیش خطرات یاددلاکر، رب ذوالجلال کے واسطے دیتے رہے لیکن وہ اپنی محبوبہ کی لاش سے لپٹ کرزاروقطارروتارہا۔شایدیہ لکھتے ہوئے تاریخ دان نے بھی اپناسر پیٹاہوگاکہ اس بدبخت خلیفہ نے تین دن تک اس محبوبہ کی لاش کودفنانے نہ دیا۔آخرکارجب لاش سخت تعفن کاشکارہوئی،تولوگوں نے اسے بہلاپھسلاکرلاش سے الگ کیااورخاموشی سے دفنادیا۔وہ حبابہ کی جدائی میں پاگل ہوااورچوتھے ہی روز’’بس عشق زندہ باد‘‘کاخاموش نعرہ لگاکرہمیشہ کیلئے خاموش ومردہ بادہوگیا۔شباب وشراب کارسیاایک اوراموی خلیفہ ولیدثانی ہم جنس پرستی اور فسق وفجرکی ساری حدیں عبورکرگیاتواسے لوگوں نے محل میں گھس کرقتل کرڈالا۔
پاکستان کی75سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی وحال کے اکثروبیشترخدادادپاکستان کے حکمران،جن میں ایسے رنگیلے حکمراں بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی ایک نازنیں ’’ترانہ کوقومی ترانہ‘‘اوردوسرااپنے ہاں گانے بجانے کی محفلوں میں کبھی اپنے سرپرجام رکھ کررقص کرتا تھااورکبھی بھانڈوں کی بھری محفل میں گلوکاری کے جوہردکھاکردادِ عیش وصول کرتاتھااوراسی محفل میں ملک کے سب سے بڑے ادارے ایف بی آرکاسربراہ حیاکاجنازہ نکالتے ہوئے رقص کرکے سب کادل بہلارہاتھا۔پھرچشم فلک نے یہ بھی دیکھاکہ نئے اور پرانے پاکستان کے انقلابی لیڈراوردیسی بدیسی لیڈر،عیاں یادرپردہ اس عیاش اموی خلیفہ یزیدبن عبدالملک کی تصویراورزن عشق زندہ بادکے خاموش نعرے رہے ہیں۔ہمارے اکثرو بیشترجوان وبڈھے سیاستدان بغل میں حسن کے’’ایٹم بم‘‘لئے،قوم کے مصائب و آلام بے نیازرنگ برنگی عیاشیوں میں مست ومدہوش رہے ہیں۔
لاکھوں افرادکی قربانی دینے کے بعدآزادی جیسی نعمت حاصل کرنے والے اس ملک میں ہمارے ایک حکمران کی آغوش میں صرف’’تازہ جوان خون‘‘ہی نہیں ہواکرتاتھابلکہ وہ سینے سے ڈالروں کابریف کیس لگائے،دولت کی مقدس دیوی کے جنون میں ’’زرعشق زندہ باد‘‘کاخاموش نعرہ لگانے میں سب کوپیچھے چھوڑگئے۔اس کی تصدیق تب ہوئی جب ملک کی خوبصورت 21سالہ ماڈل’’یان علی‘‘کواسلام آبادائیرپورٹ میں ڈالروں کی اسمگلنگ میں دھرلیاگیا،حکومتی کارندوں کی دوڑیں لگ گئیں،بڑے بڑے نام اس کی رہائی کیلئے موقع پر پہنچ گئے اوراس وقت کاوزیرداخلہ بھی اس کوچھڑانے کیلئے لرزاں وترساں تھاکہ ان لاکھوں ڈالروں کے بارے میں پاکستانی میڈیامیں مختلف چہ میگوئیاں کی جارہی تھیں کہ پچھلے دو سالوں سے جاری اس سلسلے کاتعلق(پی پی پی)کی ایک اعلیٰ شخصیت کے ساتھ جڑاہواہے۔ماڈل ایان علی کوفوری طورپراڈیالہ جیل میں وہ تمام شاہانہ سہولتیں فراہم کردی گئیں اوران کی وکالت کیلئے پی پی پی کے ایک سرکردہ رہنمااورسابق گورنرپنجاب لطیف کھوسہ کواس ماڈل کے کیس کی پیروی سونپ دی گئی اوراس قابل ترین وکیل نے اپنی تمام صلاحتیں اس کی بریت کیلئے استعمال کرتے ہوئے اس وقت تک سکھ کاسانس نہیں لیاجب تک اس ماڈل کواڈیالہ جیل سے نکال کردبئی کے محل تک نہیں پہنچادیا۔یہ الگ داستان ہے کہ اس کیس کی تحقیقات کرنے والے ایماندارافسرکوبڑی بیدردی سے راستے سے ہٹادیاگیااوراس کی بیوہ اوریتیم بچے اس ملک میں انصاف کی دیوی کی آنکھوں پربندھی پٹی کوہٹانے میں ناکام رہے۔
اس قوم کویہ روزبدبھی دیکھناپڑاکہ قوم بدترین سیلاب کی طوفانی موجوں میں ڈوب رہی تھی لیکن انقلاب خان اورخودکوعلم ودانش کاپہاڑسمجھنے والا قادری انہیں بچاناحکومتی فریضہ قرار دیکران رنگ رنگیلے دھرنوں میں مدہوش بہ رقص ونغمہ تھے،جہاں مابعد شائع ہونے والی پریس تصویروں کے مطابق ان کی اس وقت تک کی’’خفیہ محبوبہ‘‘ریحام خان کی موجودگی ہی شایدخان صاحب کیلئے کل سرمایہ ہستی تھی۔اورآہ !کہ جب سانحہ پشاورسے افسردہ قوم حالتِ صدمہ میں تھی،قبلہ خان صاحب’’بس عشق زندہ باد‘‘کا خاموش نعرہ لگاکراپنی دیومالائی محبوبہ کے جشن قربت کارنگین وسادہ اہتمام کررہے تھے لیکن یادرہے کہ ہمارے سیاسی کلچر میں شہدائے ماڈل ٹاؤن کااحتجاج بھی اسی میوزیکل شوزاوررقص ونغمات کی محافل سجاکر کیا جاتا رہالیکن ہزاروں افرادکے دلوں کی دھڑکن اورمرشدقادری صاحب اوران کے مریدان بھی ان مجالس کوتقویت تو فراہم کرتے رہے لیکن اس کواسلامی شعائرکے خلاف کہنے کی ہمت نہ کرسکے۔۔
انہی دنوں قوم لوڈشیڈنگ کے عذابی اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی مگرایک دیندارگھرانے کانون لیگی وزیرضعیم قادری چکاچوند روشنیوں کے سیلاب میں برپاہونے والی شراب و شباب کی محافل میں مدہوش میڈیاکی نظروں میں آگیا۔یہاں عوام پٹرول اورگیس کی بندش اورقاتل مہنگائی پرسراپااحتجاج تھے لیکن عائلہ ملک اورسمیراملک کے اپنے اپنے محبوب راہنماؤں کے ساتھ رنگین فوٹو سیشن پورے سوشل میڈیا پر آوارہ گرد گھوم رہے تھے۔صحرائے تھرمیں مفلسان قوم بھوک اور پیاس سے دم توڑرہے تھے،کرپشن کنگ زرداری کابے بی بوائے اورآج کاوزیرخارجہ بلاول زرداری اوران کے ساتھی جیالے وڈیرے،جشن سندھ کے نام پرسندھ کلچرکے نام پرمجرے سجاکرشرمیلافاروقی او رسسی پلیجو جیسی روح پرور مٹیاروں کے سنگ محورقص نظرآتے رہے۔
بدنصیب آنکھوں کویہ بھی دیکھنے کوملاکہ کراچی کی سڑکوں پربے گناہ معصوموں کاخون چیختارہامگرگورنرہاس میں ثقافتی شوزکے نام پراکٹھی ہونے والی’’نامعلوم‘‘ہستیوں کی سدا بہار محافل شراب وشباب جاری تھا۔بلوچستان میں گیس پائپ لائنیں اڑرہی ہوں یاکوئٹہ میں عوام الناس کالہوبہے،بلوچی وڈیروں کی داشتائیں اوربلوچ باغیوں کوافغان سرحد کے اس پارسے آنے والے بھارتی اسلحہ کے ساتھ ساتھ ممبئی وچنائی برانڈ حسن پریوں کی گرماگرم کمک بھی ہمہ وقت پہنچ رہی ہے۔آئے دن ارضِ وطن کے سپوت اپناخون دیکراس دھرتی کا قرض اتارہے ہیں لیکن سوشل میڈیامیں ان کی قربانیوں کوپش پشت ڈال کراپنے اقتدارکیلئے ان کورگیداجا رہاہے۔کیاکوئی جرنلسٹ یامیڈیائی دانشوراس حقیقت سے انکارکرسکتا ہے کہ اسلام آبادمیں دھرنوں کے خون رنگ ہنگامہ سیاست کے دوران بھی اسلام آبادپارلیمنٹ لاجزمیں ممبران پارلیمنٹ اورایوان اقتدارکے خواص خوبصورت ماڈلوں کی نغماتی آغوشوں میں میڈیائی مناظرسے محظوظ ہوتے رہے۔
ابھی کل کی بات ہے کہ صاحبان اقتدارکے سرکاری اورذاتی محلات میں بھارت ماتاکے برخودارسیفما کے وہ پتلے اوربھارتی کٹھ پتلیاں نئے تماشہ سجائے بیٹھے تھے جوماضی میں سیاسی قیادتوں اورعسکری اداروں میں ٹکراکی محرک رہیں۔سرکارپربھارت سے والہانہ محبت اورامن کی آشاکا بھوت اس حدتک سوارتھاکہ ان کیلئے بھارت کاپوترنام لینابھی اک پاپ ٹھہرتاتھا۔اب بھی بعض اوقات گمان ہوتاہے کہ سب سیاسی کبوتروں نے انگنت بلیاں دیکھ کرسداکیلئے آنکھیں بندکررکھی ہیں مگرعسکری اداروں کی سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں حکومت کے تلوں میں تیل نہ ہونے کاپیشگی ادراک ہوچکاہے،اسی لئے شایدحکومت کی ’’قومی غیرت‘‘سے دل برداشتہ عسکری اورحساس اداروں نے بھارتی دہشتگردی کی مذمت اورہندوتواکی غنڈہ گردی کاسد باب خود ہی سے کرنے کی ٹھان رکھی ہے لیکن تعجب تواس بات پرہے کہ جن کی بدولت ہم دن کومحفوظ اوررات کوچین کی نیندسوتے ہیں، دشمن کوتقویت پہنچانے کیلئے انہی کے خلاف پروپیگنڈہ کامحاذگرم کررکھاہے۔
آج حکومت کی انتظامی وخارجی کارکردگی اورمسلم لیگیوں کانظریہ پاکستان کی علمبرداری کا’’کھسروانہ مظاہر ہ‘‘گواہ ہے کہ جب پوری دنیا سے جرات مندانہ ٹکرلیکرایٹمی دھماکے کرنے والے جمہوری وزیراعظم میں مودی کومنہ توڑجواب دینے اوربھارتی جارحیت کی مذمت اورملکی سا لمیت کے خلاف کام کرنے والے جاسوس کلبھوشن کے خلاف بیان دینے تک کاحوصلہ نہ رہاتو مجبورا یہ’’مردانہ شعبہ‘‘بھی عسکری اداروں کوسنبھالناپڑالیکن اس کوکیاکہاجائے کہ ہمارے خان صاحب نے قومی اسمبلی میں اس کی رہائی کیلئے قانون سازی کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرناشروع کردیں اورآج مسئلہ کشمیرپرہماری بزدلی کایہ عالم ہے کہ مودی کھلے عام کشمیری آبادی کاتناسب تبدیل کرنے میں شب وروزمصروف ہے۔
ادھرآل شریف اورزرداری کالوٹاہوادھن لانے کے انتخابی وعدے فریب عاشقی ثابت ہونے پرعوام کوممکنہ ریلیف ملنے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں کہ موجودہ حکمرانوں نے حکومت سنبھالتے ہی جس طرح نیب کادھڑن تختہ کیاہے اس کے بعدنیب کوبندکرنازیادہ بہترہوگاتاکہ اس سفیدہاتھی کے اخراجات سے قوم کونجات مل جائے کیونکہ بڑھتے ہوئے قرضوں اورسودکے بوجھ تلے سسکتی قوم ناامیدی کے کفرپرمجبورہے۔دشتِ کرب وبلاجیسی دھرتی کی قوم منتظرہے کہ شاید یہ فریضہ بھی کوئی جرنیل صاحب ہی اداکریں گے۔
دہشتگردی کے سدباب کی دعویدارحکومت نے اپنے رائیونڈ محل کیلئے حفاظتی دیوارتوتعمیرکرلی ہے لیکن مساجد وامام بارگاہوں سے سکولوں اور پبلک مقامات سے تھانوں تک کی حفاظت میں جب کلی ناکام ثابت ہوگئی تھی تو’’ضرب عضب اوردالفساد‘‘میں ہمارے سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی جانون کی قربانیاں دیکراس ارضِ وطن کوآئے دن دہماکوں سے محفوط کیاکیونکہ پولیس اور سول انتظامیہ کاکردارصرف ان حکمرانوں کے پروٹوکول اورحفاطت پرہی رہ گیاہے اور’’ڈنگ ٹپاؤرمال بناؤ‘‘ے سوااورکچھ نہیں۔ اشیائے صرف کی قیمتوں پرملٹی نیشنل کمپنیوں اورذخیرہ اندوزمافیوں کاراج ہے۔ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کوجس طرح بدحال کردیاگیاہے،اس کے پیچھے چھپی سازشوں کابھی انکشاف ہورہاہے وراگرانہیں کنٹرول کرنے کاذمہ داربیوروکریٹ مافیہ بھی جیب میں پرس اوربی ایم ڈبلیومیں تازہ مٹیارلئے مست ہے،توکیاافسرشاہی کے مونہہ زورگھوڑے کیخلاف کسی غضب ناک اپریشن کی ذمہ داری بھی کسی جنرل کواٹھانی ہوگی؟
قوم اعلیٰ عدلیہ سے مایوس ہوکراب یہ پوچھنے پرمجبورہے ،کیاسانحہ بلدیہ ٹاؤن اورماڈل ٹاؤن کی تحقیقیات میں ثابت شدہ’’نامعلوم‘‘بھتہ خورقاتلوں کوبھی کوئی جنرل صاحب ہی
پھانسی گھاٹ تک پہنچائیں گے؟لیکن افسوس کہ اس ساری صورت حال میں ریاست کاچوتھاستون یعنی میڈیابھی،حالات کی اصل تصویردکھانے کی بجائے اشتہارات کے اندھے حصول کیلئے یاتوبھارتی سٹارزکے معاشقوں اورامن کی آشامیں’’زرعشق زندہ باد‘‘کانعرہ بن چکاہے یاپھرکسی ایک مقبول سیاسی جماعت کی ڈیوڑھی کادربان بن کراپنی ریٹنگ بڑھانے میں مصروف ہے۔جمہویت کے مداحین سے بصدمعذرت میرادعوی ہے کہ بس’’عشق زندہ بادیازرعشق زندہ باد ‘‘یا’’غریب نواز‘‘سلطانی جمہورسے عاجزومظلوم لوگ، جلد ہی کسی’’تیسری قوت‘‘سے امیدِمسیحائی پرمجبورہوجائیں گے اور تیسری قوت جس نے خودکومکمل طورپرنیوٹرل کرلیاہے،اس کوبارباراپنے ہرخطاب اورپریس کانفرنسزمیں برملا اپنی مددکیلئے جو پکاراجارہاہے،اس نے بڑی ہمت اورحوصلہ کے ساتھ اس بھاری پتھرکوچوم کرسیاستدانوں کے حوالے کرچھوڑاہے جب تک قوم کوجاری جعلی جمہوریت کے اس زہریلے دودھ سے زہربادہوکر ابکائیاں آناشروع نہیں ہوجاتی۔
قومی امید کانشان سمجھاجانے والے خان صاحب صرف مادرپدرآزادتہذیب کے علمبرداراورسیاسی سوجھ بوجھ سے مکمل نابلد ہیں، وہ جہاں ہراہم مقام پرراہ بدلتے ہوئے مسٹر یو ٹرن اورہرلحاظ سے اخلاقی کرپٹ ثابت ہوئے ہیں وہاں اپنے زورخطابت میں ریاست کے اہم اداروں اورافرادکودہمکیاں دیکراپنے ہاتھوں کنواں کھودکراس میں چھلانگ لگا چکے ہیں جس کی بناپراب پیمراکی پابندیوں کی زدمیں آگئے ہیں۔افسوس کہ وہ جن پیشہ ورسیاستدانوں اورکرپشن کنگزکیخلاف جہادکرنے کانعرہ لگاکرعملی سیاست میں آئے تھے، اب وہی بیشترکرپشن کنگزان کے ساتھ ہیں اورالیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعدتاحیات نااہلی کامگرمچھ بھی اپنامنہ کھولے ان کی سیاست کونگلنے کیلئے تیاربیٹھاہے۔ممکن ہے کہ کل مجبورو مایوس عوام یہ نعرہ لگانے کاگناہِ کبیرہ کربیٹھیں کہ ایسی ’’دردناک کھسرا جمہوریت‘‘ سے لاکھ بہترہے کہ پاکستانی قوم کوایوب ویحیٰی یاضیاومشرف جیسانہیں،صلاح الدین ایوبی جیسا ایک ایساجرنیل مل جائے جوحلقہ یارانِ امن کیلئے بریشم کی طرح نرم اوربھارت جیسی دہشتگردقوتوں کیلئے فولادی مومن ہو۔تماشہ محشرمفلساں جاری رہاتووہ وقت دورنہیں کہ جب درودیوارپہ لکھاجائے گا..خداراکوئی مارشل لالگادولیکن ہاں اگرخدانخواستہ پھرکوئی مشرف جیساہی آن ٹپکا تو؟؟
دردخاموش ہے درویش سمندرکی طرح
خامشی بن کے فغاں حشرفشاں ٹھہرے گی

Comments are closed.