بلقیس بانو : مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
ڈاکٹر سلیم خان
بلقیس بانو کے مجرمین کی قبل ازوقت رہائی پر وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس معاملے میں عدالت عظمیٰ کا کردار تو چائے سے گرم کیتلی کا سا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے بلقیس بانو عصمت دری معاملے میں ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرکے اپنا وقار بحال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ چیف جسٹس نے برہم ہوکر کہا گجرات سرکاری کو پارٹی بناو 2ہفتے میں جواب طلب کرو۔عدالت اگر پہلے سے یہی رویہ اختیار کرتی تو یہ قیدی رہا نہیں ہوتے۔ یہ بات پھر ایک بار سبھی کو معلوم ہوچکی ہے کہ گجرات میں گودھرا حادثے کے بعد رونما ہونے والے فسادات میں بلقیس بانو کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ فسادیوں نے ان کے خاندان میں کئی خواتین کی عصمت ریزی کرکے قتل کر دیا تھا۔ گجرات میں مودی سرکار اور انتظامیہ کی جانبداری نے بدمعاشوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی ۔ ریاست میں خوف و ہراس کا ماحول تھا اس لیے سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت احمد آباد سے ممبئی منتقل کر دی تھی۔ ممبئی کی عدالت نے مجرموں کے علاوہ پولیس اہلکار اور ڈاکٹر کو بھی سزا سنائی تھی ۔ بلقیس بانو معاملے میں عصمت دری اور قتل کے جرم کی وجہ سے گیارہ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔
ان میں سےایک مجرم رادھے شیام نے 15 سال 4ماہ کی سزا کاٹنے کے بعد قبل از وقت رہائی کی درخواست دی جسے گجرات ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر مسترد کردیا ۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ خود گجرات سرکار نے کہا ہے چونکہ یہ فیصلہ ممبئی کے ہائی کورٹ میں سنایا گیا اس لیے اسے وہاں کی سرکار سے رجوع کیا جائے۔ اس طرح گجرات ہائی کورٹ ایک ظلم کا حصہ بننے سے بچ گئی ۔ فاضل جج حضرات کو پتہ تھا کہ اگر سماعت شروع ہوجاتی ہے تو انہیں کیا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا جائے گا ؟ مذکورہ ناکامی کے بعد رادھے شیام نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ۔ بلقیس بانو کیس کے مجرمین کو15 سال سے زیادہ وقت جیل میں گزار نے کے باوجود قبل ازوقت رہائی کی خاطر مختلف رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ ان میں سب سے پہلی رکاوٹ تو یہی تھی کہ مہاراشٹر میں رائج قوانین کی روشنی میں ان کی رہائی مشکل تھی۔ رادھے شیام اسی لیے مہاراشٹر کے بجائے گجرات کی پالیسی کےمطابق فیصلہ کروانا چاہتا تھا ۔
گجرات کے قبل ازوقت رہائی قوانین میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی 2014کے اندر تبدیلیاں کی گئی تھیں اور وہ رادھے شیام کے راہوں کی دوسری رکاوٹ تھی اس لیے وہ چاہتا تھا کہ 1992 کی قبل از وقت رہائی پالیسی کے مطابق اس کی رہائی درخواست پر غور کرنے کا حکم دیاجائے ۔اس کے علاوہ مرکزی وزارت داخلہ نے 10 جون 2022 کو آزادی کی 76 ویں سالگرہ کے موقع پر بعض زمروں کے قیدیوں کی سزا کو معاف کرنے اور رہا کرنے کی تجویز رکھی اس میں بھی ایک سے زیادہ قتل اور ریپ کے معاملے میں عمر قید کی سزا پانے والے قیدیوں کو معاف نہیں کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ایسے مجرم جن کی تفتیش سی بی آئی کے ذریعہ کی گئی وہ بھی اس سہولت سے قانوناً محروم ہیں۔ اس لیے رادھے شیام کے لیے یہ نیا اعلان بھی کسی کام کا نہیں تھا لیکن سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان اجے رستوگی اور وکرم ناتھ نے ان ساری رکاوٹوں کو دور کرکے اس طرح رہائی کو آسان بنایا کہ عدلیہ کا سر شرم سے جھک گیا ۔ ان میں سے اجے رستوگی ایک زمانے میں گجرات کے اندر ہواکرتے تھے۔
عدالت عظمیٰ نے پہلے تو یہ کہا کہ فیصلہ مہاراشٹر میں ضرور ہوا مگر جرم کا ارتکاب گجرات کے اندر کیا گیا اس لیے موخرالذکر ریاست کا قانون لاگو ہوگا۔ اس طرح گویامقدمہ گجرات پہنچا دیا گیا جبکہ وہ وہاں کی عدالت اور حکومت جان چھرا رہی تھی ۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا چونکہ یہ فیصلے کے وقت 2014والی ترمیم نہیں ہوئی تھی اس لیے اس کااطلاق نہیں ہوگا یعنی اس معاملے میں 1992 کا قانون نافذ کیا جائے جس میں ان مجرمین کی رہائی سے متعلق کوئی شرط نہیں ہے ۔ اس طرح ایک فرسودہ قانون میں خاموشی کا غلط استعمال کرکے رہائی کی گنجائش نکالی گئی۔ 2014کی ترمیم دراصل سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نقص دور کرنے کی سعی تھی مگر رادھے شیام کو بچانے کی خاطر ناقص قانون استعمال کی اجازت دی گئی اور حکومت کے حالیہ حکمنامہ کو بھی نظر انداز کیا گیا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ گویا عدالت کسی نہ کسی طرح ان سفاک مجرمین کی رہائی پر تُل گئی تھی۔ دراصل اس معاملے میں سب سے بڑی چوک یہ ہوئی کہ اگر نربھیا کی مانند ان سفاک مجرمین کو سزائے موت دے دی جاتی تو یہ موقع ہی نہیں آتا ۔ نہ ہوتا بانس نہ بجتی بانسری۔
معروف صحافی برکھا دت نے اس با بت حال میں ٹویٹ کیا کہ : ’میں وہ رات نہیں بھول سکتی جس رات میں بلقیس بانو سے ایک ریلیف کیمپ میں ملی تھی، ان کا بازو ایک کاسٹ میں تھا جسے ان لوگوں نے توڑ دیا تھا جنھوں سب سے پہلے ان کی ماں، ان کی دو بہنوں کا ریپ کیا، ان کی تین سالہ بیٹی کو قتل کیا اور پھر باری باری حاملہ بلقیس پر حملہ کیا۔ بلقیس اور یعقوب نے اپنے نومولود کا نام اپنے مردہ بچے کے نام پر رکھا۔‘ اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے بعد برکھادت ایک اور ٹویٹ میں لکھتی ہیں :’ ایک ایسے ملک میں جہاں بہت سے لوگ انصاف کے نام پر انکاؤنٹر کو درست ٹھہراتے ہیں کیا وہاں ماں اور بیٹی کا خاندان کے دوسرے افراد کے سامنے ریپ کرنے والی حاملہ بلقیس کے سامنے اس کی تین سال کی بیٹی صالحہ کو قتل کر نے والوں کے لیے عمر قید کم سزا نہیں؟‘۔ ایک طرف تو سزا کم اور دوسری جانب اس میں بھی تخفیف یہ تو گویا عدل و انصاف کی آبرو ریزی ہے۔
حیدرآباد میں دِشا نامی ڈاکٹر کی آبروریرزی اور قتل کے بعد جب پولیس نے ملزمین کا انکاونٹرکیا تو ملک بھر میں خوشی منائی گئی اور چند ماہ بعد تفتیشی کمیٹی نے اسےجعلی قرار دے دیا ۔ اس کے برعکس عدالت میں ثابت ہوجانے کے باوجود بلقیس معاملے میں مجرموں کو صرف عمر قید کی سزا سنائی گئی اس لیے معروف صحافی راجدیپ سر دیسائی کا گینگ ریپ کے نربھیا سے بلقیس کا موازنہ قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے لکھا: ’ یہ فیصلہ کیسے کیا جائے کہ ایک گینگ ریپ اور قتل (نربھیا) کا معاملہ دوسرے کیس (بلقیس بانو) سے زیادہ گھناؤنا ہے۔ ایک کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کیا جاتا ہے، دوسرے کے لیے نہیں؟ کیا قانون/معاشرے کا اجتماعی ضمیر متاثرہ اور مجرم کی شناخت پر منحصر ہے؟‘ بدقسمتی سے مودی یگ کے اندر اس سوال کا جواب ’ہاں‘ ہے۔ جہاں تک اجتماعی ضمیر کا سوال ہے افضل گرو کو پھانسی دیتے وقت فاضل جج نے اجتماعی ضمیر کا سہارا لیا تھا۔ سابق وزیر قانون اور بی جے پی کے رکن شانتی بھوشن نے افضل گرو کی پھانسی کے فیصلے پر علی الاعلان تنقید کرتے ہوئے اسے غلط ٹھہرایا تھا لیکن بلقیس کے معاملے میں اس ضمیر کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
دہلی کے اندر 2012 میں نربھیا کے ساتھ جب اجتماعی ریپ اور قتل کا معاملہ کی مانندبلقیس کے مقدمہ میں بھی پھانسی دے دی جاتی تو آج دنیا بھر میں یہ رسوائی نہیں ہوتی ۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کے نائب صدر ابراہم کوپر کو یہ بیان نہیں دینا پڑتا کہ یو ایس سی آئی آر ایف گجرات فسادات کے دوران ایک حاملہ مسلم خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے اور مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کرنے والے گیارہ افراد کی قبل از وقت اور غیر منصفانہ رہائی کی مذمت کرتا ہے۔یو ایس سی آئی آر ایف کے کمشنر اسٹیفن شنیک یہ ٹوئٹ بھی نہیں کرتے کہ گجرات فسادات میں جسمانی اور جنسی تشدد میں ملوث مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام رہنا، انصاف کا مذاق ہے۔ا ن کے مطابق یہ معاملہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ تشدد کرکے سزا سے بچ جانے کی روایت کا حصہ ہے۔ اسی طرح کی حرکتوں کے سبب وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو امریکہ میں گھسنے پر پابندی لگا ئی گئی تھی جسے ان کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد مجبوراً اٹھانا پڑا لیکن کل جب ان کا عہدہ چھن جائے گا تو بعید نہیں کہ یہ پابندی پھر سے لگ جائے۔ مودی جی ایک طرف تو اپنے دامن سے گجرات فساد کے دھبے دھونا چاہتے ہیں اور دوسری جانب اس طرح کی حرکتیں انہیں مزید گہرا کردیتی ہیں ۔
ملک میں عدل و قسط کی دگر گوں صورتحال میں سپریم کورٹ کے اندر بلقیس بانو کے مجرموں سے متعلق درخواست پر اچھا فیصلہ ڈال سکتا ہے کیونکہ چیف جسٹس این وی رمنا پر مشتمل بنچ اس کی سماعت کرنے جارہی ہے۔ خواتین کے حقوق کی کارکن سبھاشنی علی، ریوتی لاول اور روپا ریکھا ورما نے ملزمین کی رہائی کو منسوخ کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے دوسری درخواست دائر کی ہے۔ اس مقدمہ پر سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور ایڈوکیٹ اپرنا بھٹ بحث کریں گے۔جب یہ معاملہ عدالت میں اٹھایا گیا تو سی جے آئی نے پوچھا کہ کیا یہ رہائی سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے ہوئی ہے ؟اس پر اپرنا بھٹ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے گجرات حکومت کو فیصلہ لینے کی اجازت دی تھی اس کے تحت رہائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سینیئر ایڈووکیٹ کپل سبل کی دلیل تھی کہ یہ چیلنج معافی کے اصولوں پر ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہمیں دیکھنے دیں۔‘ بھٹ کے پوچھنے پر کہ کیا عدالت اگلے دن اس معاملے پر غور کرے گی تو چیف جسٹس نے جواب تھا: ’دیکھتے ہیں۔‘ اس سنگین معاملے میں ساری دنیا کی نگاہیں سپریم کورٹ پر ٹکی ہوئی اور لوگ دیکھ رہے ہیں کہ آیا عدالتِ عظمیٰ میں کچھ دم خم باقی ہے یا یہ ادارہ پوری طرح سربسجود ہوچکا ہے؟
(۰۰۰۰۰۰جاری)
Comments are closed.