صحافت یا سیاہ آفت؟

مفتی محمد عبید اللہ قاسمی، دہلی
صحافت کو غیر جانبدار اور نیوٹرل (neutral) ہونا چاہیے. صحافت کا بنیادی کام "سچ” کو دِکھانا ہوتا ہے. اگر صحافت "سچ” سے گریز کرنے لگے تو وہ صحافت نہیں، "سیاہ آفت” ہے کیونکہ وہ ایسا کرکے عوام کو تاریکی میں دھکیل رہی ہے۔
سخت افسوس ہے کہ موجودہ زمانے کی صحافت "سچ” سے ہٹ کر زعفرانیت کی علمبردار اور جانبدار بن چکی ہے. ہندی اور انگریزی زبان میں صحافت کی جاری ایسی روش کو تو ابھی چھوڑیئے، خود اردو صحافت کا ہی ذرا جائزہ لیکر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ وہ بھی "سچ” سے منھ موڑ کر اور اسے شائع کرنے سے گریز کرکے صحافت کی بجائے "سیاہ آفت” بنی ہوئی ہے. ایسی اردو صحافت ,جن کے قارئین صرف مسلمان ہوتے ہیں, ان کو دھوکہ دے رہی ہے. دیکھا یہ جارہا ہے کہ مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں مگر ایسی "صحافت” یہ کہکر ان خبروں کو cover نہیں کرتی ہے، اداریئے نہیں لکھتی ہے کہ وہ کسی مخصوص مذہب کی طرفداری نہیں کرسکتی ہے. سوال یہ ہے کہ اگر کسی مخصوص اہلِ مذہب پر مظالم ہورہے ہوں تو کیا ان خبروں کو شائع کرنا جانبداری کہلائے گا یا "سچ” کی رپورٹنگ؟ کیا صحافت کا ایسا کرنا بجائے خود جانبداری اور کتمانِ صداقت اور اپنے قارئین کو دھوکہ دینا نہیں ہے؟ صحافت کا یہ نعرہ ہوتا ہے کہ "نہ سیاہی کے ہیں دشمن، نہ سفیدی کے ہیں دوست. ہم کو آئینہ دِکھانا ہے دِکھا دیتے ہیں.” مگر موجودہ وقت میں اردو صحافت آئینہ تو ضرور دِکھارہی ہے مگر صرف ان چیزوں میں جن میں آئینہ "سچ” کی بجائے جھوٹ اور الٹا دِکھاتا ہے. کون نہیں جانتا ہے کہ آئینہ سیدھی تحریر کو الٹی بتاتا ہے، دایاں کو بایاں بتاتا ہے، بعض آئینے (محدب) خوبصورت اور متناسب الاعضاء انسان کی شکل بھی اتنا بگاڑ کر دِکھاتے ہیں کہ اسے خود کو چپت رسید کرنے کو جی چاہتا ہے۔
ملک کی موجودہ اردو صحافت جو اب "سیاہ آفت” بنتی جارہی ہے سب کے لئے لمحہِ فکریہ ہے. ملت کو سعی اور تدبیر اختیار کرنی چاہئے کہ صحافت "سچ” کی علمبردار بنے اور reversed جانبدار نہ بنے. اردو قارئین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

 

 

Comments are closed.