لو جہاد اور گھر واپسی کی حقیقت اور فسانہ
ڈاکٹر سلیم خان
لوجہاد اور گھر واپسی کا شور مچانے والے ہندو سماج کا کریہہ چہرا اس وقت کھل کر سامنے آجاتا ہے جب کوئی برہمن لڑکی کسی دلت نوجوان سے شادی کرلیتی ہے۔ گزشتہ سال ایک برہمن لڑکی سے شادی کرنے والے دلت نوجوان انیش کمار چودھری کو اس کی بیوی دیپتی مشرا کے گھر والوں نے وزیر اعلیٰ کے حلقہ انتخاب گورکھپور میں قتل کردیا ۔انیش اور دیپتی نے پنڈت دین دیال اپادھیائے یونیورسٹی، گورکھپور سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شادی کرلی تھی اور دو سال ازدواجی زندگی گزار چکے تھے مگر اس شادی سے دیپتی کے والدین کی نا راضی ختم نہیں ہوئی ۔دیپتی کا خیال تھا کہ وہ دونوں بالغ اور ملازمت پیشہ ہیں اس لیے گھر والے اس شادی کی مخالفت نہیں کریں گے اور اگر کی بھی تووہ ان کو راضی کرنے میں کا میاب ہو جائیں گی۔ اس نے اپنے گھر والوں کو بھی بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ راضی نہیں ہوئے بالآخر ان لوگوں نے اپنے داماد کو قتل کردیا ۔
انیش کا تعلق کسی غریب یا ناخواندہ گھرانے سے نہیں ہے۔ اس کا کنبہ خوشحال ہے ۔اس کے والد اور چچا بینکاک اور سنگاپور جیسے شہروں کام کرتے ہیں ۔ بھائی انیل چودھری گورکھپور کے انولی ڈوبولی گاؤں میں 10 سال تک پردھان رہے ہیں۔ 2015 میں پردھان کا عہدہ خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا تو انل نےکی بیوی گیتا دیوی بھی الیکشن جیت گئیں لیکن اس سیاسی طاقت پر نسلی منافرت غالب آگئی اور انیش کو جان گنوانی پڑی ۔انیل چودھری کہتے ہیں کہ انہوں نے کئی بار دیپتی کے گھر والوں سے مل کر اس رشتے کو تسلیم کرنے کی درخواست کی لیکن وہ راضی نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس وہ لوگ ان کے گھر آکر انہیں دھمکیاں دینے لگے اور بالآخر انیش کو کاٹ کر مار ڈالا۔ اس معاملے کے سنسکاری برہمن ملزمین دیپتی کے والدنِلن مشرا اور بھائی ابھینو مشرا کے علاوہ منی کانت ، ونئے مشرا ، اپیندر ، اجے مشرا ، انوپم مشرا ، پریانکر ، اتولیہ ، پریانشو ، راجیش ، راکیش ، تریوگی نارائن ، سنجیو ہیں۔ جانچ کرنے والے پولیس آفیسر (سی او) انجنی کمار پا نڈے بھی بھی اتفاق سے برہمن ہیں۔
پانڈے جی سے پوچھا گیا کہ کیا قتل کی وجوہات میں کوئی دوسرا پہلو بھی سامنے آیا ہے تو انہوں نفی میں جواب دیا لیکن کب تک وہ اس موقف پر قائم رہیں گے اور پھرجب اپنی برادری کی محبت غالب ہوجائے گی تو کیا کریں گے یہ کہنا مشکل ہے۔ اب یہ معاملہ کسی یونیورسٹی کی شانتی شری کے سامنے نہیں بلکہ عدالت میں چلے گا ۔ وہاں اگر پرتیبھا سنگھ جیسی کوئی منو سمرتی کو ماننے والی جج تعینات ہو تو دیپتی یا انیش کے گھر والوں کو کیاانصاف ملے گا؟ دیپتی مشرا نےتمام ملزمان اور اپنے پورے خاندان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ پورا خاندان کسی نہ کسی طرح سے اس معاملے میں ملوث ہے اس لیے ہر ایک کو پھانسی دی جانی چاہیے۔ اس کے لیے وہ ہر سطح پر لڑائی کریں گی۔حاملہ دیپتی اپنے شوہر کی تصویر ہمیشہ اپنے پاس رکھتی ہیں اورکہتی ہیں کہ انیش نے جو خاندان چھوڑا ہے وہ اب اس کی دیکھ بھال کریں گی۔ وہ تو یہاں تک کہتی ہیں کہ اگر قانون انیش کے قاتلوں کو سزا نہیں دیتا ہے یا ااس میں ناکام ہوجاتا ہے تو وہ خود تمام ملزمان کو سزا دیں گی۔ یہ بہت بڑا دعویٰ ہے لیکن کئی سالوں تک عدالتوں کے چکر کاٹنے کے بعد اس پر قائم رہنا اور عمل کرنا اس معاشرے میں تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔
شادی بیاہ تو خیر بہت بڑا معاملہ ہے پچھلے ہفتے مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ایک 15؍ سالہ دلت لڑکی کو 9؍ افراد نے محض اس لیے بے دردی سے پیٹا کیونکہ وہ مندر کے سامنے سے گزری تھی ۔ یہ معاملہ آدیواسی اکثریتی علاقہ کھلوا کے ”بھوگانوا“ گاؤں کا ہے۔ متاثرہ پرینکا کٹارے کے مطابق 19؍ اگست کو جنم اشٹمی کی رات گاؤں کے بھیلٹ بابا مندر کے پاس مٹکی پھوڑنے کا پروگرام چل رہا تھا۔ وہ وہاں سے اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی کہ شاردا، کشما اور رادھو نے کہا یہ نچلی ذات کی لڑکی مندر کے سامنے ہمارے پروگرام میں کیسے آگئی؟ تب پرینکا نے شاردا سے کہا: تم مجھ سے ”بھیدبھاؤ“ کاسلوک کر رہی ہو۔ اس بات کو لے کر کملا اور گنیش نے اسے ذات پات پر مبنی گالی دی اور ڈنڈوں سے مارا۔ اس کے نتیجے میں دائیں طرف کی پسلی پر چوٹ آئی۔ شاردا بائی، انیتا بائی اور شما بائی نے بھی اسے لاتوں اور گھونسوں سے مارابلکہ جتنے لوگ وہاں موجود تھے، سب نے مار پیٹ کی ۔اس کی چیخ و پکار سن کر بڑی بہن، ماں اور رشتہ دار اسے بھیڑ سے دور لے گئے۔ ان ظالموں نے دھمکی دی کہ دوبارہ پروگرام میں مت آنا ورنہ جان سے مار دیں گے۔ یہ زندہ منو سمرتی کی ایک مثال جس کو ڈاکٹر امبیڈکر نے نذرِ آتش کیا تھا۔
ذات پات کا مسئلہ صرف شمالی ہندوستان تک محدود نہیں ہے بلکہ جنوب میں بی جے پی کی نئی تجربہ گاہ کرناٹک میں بھی یہ فتنہ زور پکڑ رہا ہے۔ وہاں پر ضلع کوپل میں مندر کے اندر قدم رکھنے کی غلطی کرنے والے دو سالہ دلت بچے کے والد پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا گیا ۔ اس بچے کے باپ کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی سالگرہ کے موقع پر مندر کے باہر کھڑے ہو کر پوجا کر رہا تھا ۔ اس وقت وہاں ہلکی بارش ہونے لگی تو معصوم بچہ دوڑ کر مندر میں چلاگیا حالانکہ اس کا باپ فوراً اپنے بیٹے کو پکڑکر لےگیا۔ اس کے باوجود گاوں کی ایک میٹنگ میں بزرگوں نے مندر کو پاک کرنےکے جرم میں اس پر 25،000 سے 30،000 روپے جرمانہ عائد کر دیا۔چندرو کے لیے اس رقم کی ادائیگی ممکن نہیں تھی اس لیے اس نے اپنی برادری سے مشورہ کرنے کے بعد پولیس تھانے سے رابطہ کیا لیکن خوف و ہراس کے باعث باضابطہ طور پر شکایت درج کرنے سے ڈر گیا۔ اس بیچارے کو خدشہ تھا کہ اس طرح کے واقعات بعد میں دہرائے جا سکتے ہیں۔
یہ معاملہ جب کوپل کے ڈپٹی کمشنر وکاس کشور سلکر کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ایک دلت بچے کے مندر میں جانے کی وجہ سے مندر گندا نہیں ہوتا بلکہ اصل گندگی ہمارے ذہن میں ہے۔کشور سلکر بیداری اور بھاشن کے ذریعہ یہ مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس کے لیے ان کے پاس قانون موجود ہے لیکن اپنے لوگوں کے خلاف اقدام کرنے سے ذات پات کی تفریق روکتی ہے اور اسی سبب سے یہ مسئلہ حل ہونے کا نام نہیں لیتا ۔ یہ اس ملک کا سب سے سنگین مسئلہ ہےلیکن اس کو انتظامیہ حل نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہاں نام نہاد اونچی ذات کے لوگوں کا دبدبہ ہے۔ سیاستداں اس کا فائدہ اٹھا کر انتخاب جیتتے ہیں ۔ ان دلتوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں اور میڈیا ان مسائل کو گوں ناگوں وجوہات کی بناء پر نظر انداز کرکے ہندو مسلم کھیلتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذات پات کی تفریق ختم ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ کرناٹک کے ٹمکور ضلع میں چند ماہ قبل ایک ہندو جلوس راستے میں رک گیا کیونکہ درمیان میں ایک دلت کالونی آگئی ۔ اس جلوس میں شامل نام نہاد اعلیٰ ذات کے لوگوں نے کہا کہ وہاں سے گزرنے پر ان کے دیوتا ناپاک ہوجائیں گے ۔ دلت طبقہ کے جو لوگ اس جلوس میں موجود تھے انہوں نے ذلت محسوس کرنے کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی لیکن پولیس والے بھی اگر وہی سوچ رکھتے ہوں تو قانون کیا کرے گا؟
نسلی امتیاز کی جڑیں اس قدر گہری ہیں کہ موت کے بعد بھی قائم و دائم رہتی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے گونا ضلع میں ایک دلت خاندان کو شمسان گھاٹ کے چبوترے پر لاش کی آخری رسومات ادا کرنے سے روک دیا گیا ۔ چاندپور گاوں میں کنہیا اہیروار نامی 70؍سالہ بزرگ کا انتقال ہوگیا تو ان کے اہل خانہ لاش کو شمسان گھاٹ میں لے گئے۔ وہاں موجود نرائن سنگھ مینا ، رام بھروسے مینا اور دلیپ مینا نے کنہیا کے اہل خانہ کو چبوترے کے اوپر لاش کو نذرِ آتش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے نتیجے میں زمین پر ہی آخری رسومات ادا کرنی پڑی۔ کسی سر پھرے نے اس واقعہ کی ویڈیو بناکر وائرل کردی۔ اس کے بعد پولیس نے تینوں مجرمین کو گرفتار کرکےپسماندہ طبقات و قبائل کے قانون کی پامالی کا مقدمہ درج کرلیا ۔ دنیا میں شاید ہی کہیں موت کے بعد بھی تفریق و امتیاز کا ایسا معاملہ کیا جاتا ہو۔ اس کے باوجود کئی دانشور، جج ، صحافی اور سیاستداں نہ صرف اس ظالمانہ تہذیب و ثقافت پر فخر کرتے ہیں۔ وہ لوگ مختلف بہانوں سے اس کی حمایت بھی کرتے ہیں اور اسے جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے ذات پات کی بنیاد پرظلم و ستم جاری رہتا ہے اور اس پر زبانی لیپا پوتی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ اس ملک میں 75 نہیں بلکہ پچھلے 5000 سال سے یہی ہورہا ہے اور یہ کب ختم ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اشتراکیت ، جمہوریت اور سیکولرزم جیسے باطل نظریات اس کو ختم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ۔ اسلامی نظام سیاست کے علاوہ اس کا کوئی حل نہیں ہے اور اسی خوف سے لوجہاد اور گھر واپسی کا اہنگامہ کھڑا کیا جاتا ہے۔
Comments are closed.