بلقیس بانو کے مجرموں کو سزا دینا کیوں ضروری؟

 

 

مفتی حنیف احرار قاسمی سوپولوی

قومی نائب صدر: آل انڈیا امامس کونسل

 

بلقیس بانو کے 11 مجرموں کی غیر قانونی رہائی غنڈا راج کی نشانی ہے، جب ملک میں غنڈا راج نافذ ہوتا ہے تو مجرموں کو رہا کیا جاتا ہے، ان کی رہائی سے خوش ہونے والے دراصل ان کے غیر انسانی اور بدترین کام کی حوصلہ افزائی کرنے والے ہیں، جو ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

اس تعلق سے ہمیں تین باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے:

پہلی بات یہ کہ بلقیس بانو کیس 2002 کے مجرم، صرف ایک جرم کے ارتکاب کرنے والے نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے اسی فیملی کے سات افراد کو بےرحمانہ طور پر قتل کیا ہے، جس میں تین سال کی معصوم بچی بھی شامل ہے۔ اور اتنا ہی نہیں پانچ مہینے کی حاملہ خاتون (بلقیس بانو) کے ساتھ گینگ ریپ کیا۔ اپنا منہ کالا کیا ہے۔ جس کی وجہ سے آج اس خاتون کی سماجی زندگی رسوائی کی تصویر بن چکی ہے۔

ایسے حیوان درندوں کو انسانی سماج کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ ان کو انسانی سماج میں رکھنے کا مطلب اپنی ماؤں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کو ان درندوں کا لقمۂ تر بنانے کے مترادف ہے؛ نیز ان درندوں کی رہائی دراصل ان کے جرموں کو بڑھاوا دینا ہے۔

کیا گجرات میں ایسے مجرموں کو جمع کرکے پھر کسی بڑے فساد کی پلاننگ کی جا رہی ہے؟ ایسے فاسد عناصر کی کڑی نگرانی ہونی چاہیے اور ان کو قانون کی نگرانی میں عبرت ناک سزا دینی ضروری ہے۔

دوسری بات: یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ رہا ہونے کے بعد ان کا استقبال کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ ”یہ لوگ برہمن ہیں اور ان کے اچھے سنسکار ہیں۔“ یہ دراصل برہمن وادی اور منووادی نظریے کو کھلے عام دستور سے اوپر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ برہمن کے علاوہ کسی کی عزت و زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ برہمنوں کے لیے کسی کی عزت کے ساتھ کھیلنا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔ وہ جب جس کی چاہے عزت نوچ سکتا ہے، لوٹ سکتا ہے، مار سکتا ہے۔

اب ہندستانی عوام کو فیصلہ لینا ہوگا کہ کیا یہ سوچ ہمارے لیے اور ہماری آئندہ نسل کے لیے خطرناک ہے یا نہیں؟ اور کیا وہ اس نظریے سے اتفاق رکھتے ہیں یا اس کو ختم کرنے کے لیے کمر بستہ ہیں؟

تیسری بات: بلقیس بانو ایک نام نہیں ہے؛ بلکہ ہاتھرس، اناؤ، کشمیر، ایم پی، بہار اور بنگال میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ ہوے ظلم و ستم کی ایک داستان اور لمبی تاریخ کی ایک تصویر ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ان حیوانی درندوں کی رہائی کسی درخواست پر نہیں ہوئی ہے؛ بلکہ خود حکومت نے اپنی طرف سے کرائی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اب یہ درندے لوگ حکومت کے آلۂ کار ہوں گے اور ہر طرح کی غیر قانونی سرگرمی انجام دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ان سے سماج کو کتنا بڑا خطرہ ہے ایسے افراد کے سماج میں رہنے سے کتنا خطرناک انجام ہو سکتا ہے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایسے موالیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے؛ ہندستانی عوام، میڈیا اور سیکورٹی ایجنسیز کی ذمے داری ہے کہ ان پر کڑی نگاہ رکھیں اور ان کو سخت قانونی سزا دلانے کے لیے آگے آئیں۔

 

اس لیے تمام ہندستانی عوام سے گزارش ہے کہ اس جرم و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اور حکومت اور عدالت سے گزارش کریں کہ ایسے افراد سماج کی سلامتی کے لیے بہت ہی خطرناک ہیں۔ اس لیے ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ان مجرموں کو فورا جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے، اور سخت دفعات کے تحت ان پر قانونی کارروائی کی جائے۔ جب تک ان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں ڈالا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی تب تک ہمارا ملک اور ملک کے عوام چین و سکون اور امن و سلامتی کی سانس نہیں لے سکیں گے۔

Comments are closed.