دماغی صحت کی بربادی اک روبوٹ کے ذریعے

مبرّا جبیں (ڈاہرانوالہ)

آج کل کی نوجوان نسل جس چیز کے استعمال میں اپنا زیادہ وقت برباد کر رہی ہے وہ کہنے کو ایک بہت ہی چھوٹی سی چیز ہے لیکن وہ اپنےاندر پوری دنیا سموئے ہوئے ہے اور دنیا کے جس بھی کونے میں چلے جائیں آپکو وہ ہر کسی کے ہاتھ میں نظر آئے گی خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، بچہ ہو یا بوڑھا۔ جی ہاں، میں بات کر رہی ہوں چھے لفظوں پر مشتمل موبائل کی جس کو اگر میں روبوٹ کہوں تو شاید یہ غلط نہیں ہو گا، اک ایسا روبوٹ جو آج تک کئی لوگوں کے ذہنی سکون کو برباد کر چُکا ہے اور آئندہ ناجانے مزید کتنے لوگ اس روبوٹ کے ذریعے خود کو برباد کریں گے۔ آج کل کی نوجوان نسل پورا دن اس موبائل پر اسکرولنگ کرتے ہوئے گزارتی ہے۔ وجہ کیا ہے؟؟؟ وجہ صرف یہ ہے ہم میں سے بہت سے لوگ اس کے استعمال کا سہی طریقہ جانتے نہیں ہیں یا شاید جانتے ہوئے بھی انجان بن جاتے ہیں۔ یہ موبائل تو جیسے ہمیں خود سے بھی زیادہ عزیز ہو گیا ہے، کسی دوست سے بات ہو رہی ہو چاہے نہ، ہم ہر وقت اس روبوٹ پر نظریں جمائے بیٹھے رہتے ہیں۔ نہ کھانے کی ہوش ہے نہ پینے کی، نہ اپنی پروا ہے نہ اپنے پیارے فیملی ممبرز کی، دُکھ کی بات تو یہ ہے کہ سب ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے ہوئے بھی، ایک گھر میں ایک چارپائی پر ہوتے ھوئے بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ ہر کوئی اپنے موبائل میں مصروف ہوتا ہے اور اُدھر ماں بیچاری اپنی اولاد کی کمپنی کو ترستی ہے، اکیلی رات کُچھ دیر بیٹھتی ہے اور پھر سو جاتی ہے، جاگ کر بھی کیا کرے گی وہ ماں جس کی اولاد کو اس سے زیادہ اپنا موبائل عزیز ہے۔ کسی کو کسی کی پروا نہیں، نہ ماں باپ کی نہ بہن بھائی کی، پروا ہے تو صرف اس کی کہ ہم نے صبح اٹھتے ہی اپنا دیدار موبائل کو کروانا ہے اور اس کے بعد ہی کسی اور کام کو ہاتھ لگانا ہے، پروا ہے تو صرف اس کی کہ ہم نے رات سونے سے پہلے بھی اپنے موبائل کو اپنا منہ دکھانا ہے۔ رات دیر تک جاگ کر نیند میں بھی اپنی آنکھیں اس سکرین کے سامنے ہم جمائے رکھتے ہیں، اگر کبھی رات کو آنکھ کھل گئی تو بجائے اس کے کہ ہم اللہ کا نام لے لیں، ہم موبائل کا ڈیٹا آن کرتے ہیں دیکھتے ہیں ایک نظر اور پھر بستر پر ڈھیر ہو جاتے ہیں۔

تو ایسے میں کیا ہمارا ذہنی سکون برباد نہیں ہو گا؟؟؟

کُچھ قصور تو آج کل کے والدین کا بھی ہے اس میں۔ چلیں سرسری سی نظر ڈالتے ہیں۔ ابھی بچہ بولنے کے قابل ہی بمشکل ہوتا ہے کہ اُسے موبائل پکڑا دیا جاتا ہے، بعض اوقات بچہ تنگ کر رہا ہو تب بھی اُسے موبائل پکڑا دیا جاتا ہے کہ یہ لو یہ استعمال کرو، گیم کھیل لو، کارٹون دیکھ لو۔ بچوں کا دماغ بہت نازک ہوتا ہے بلکل اُنکی طرح ہی اور یہ سکرین تو بڑوں کو بیمار کر دیتی ہے پھر چھوٹے بچے کیا چیز ہیں؟؟؟ بچہ رو رہا ہے تب بھی موبائل کا لالچ دیتی ہیں مائیں کہ بیٹا یہ موبائل دوں گی روؤ نہیں۔۔۔

کبھی سوچا ہے ہم کیا سکھا رہے ہیں بچوں کو، بچوں کی تربیت پے کیا اثر پڑ رہا ہے اس سب کا؟؟

بچہ صرف یہی سیکھ رہا ہے کہ موبائل ہی سب کچھ ہے، موبائل ہی باعثِ خوشی ہے صرف۔۔۔

اور بچے جو دیکھ رہے ہیں کارٹونز موبائل پر اُن میں خیر سے کوئی اچھی چیز تو ہوتی نہیں۔

بات کی جائے بہیم والے کارٹونز کی تو جناب ہمارے مسلمان بچے سیکھ رہے ہیں کہ ہم میں کوئی طاقت آئے گی اور ہم سب کر لیں گے۔۔۔ اُن کارٹونز میں کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ نے طاقت دی یا کُچھ بھی ایسا۔۔۔

ہمارے بچے تباہ ہو رہے ہیں، اُنکی سوچ برباد ہو رہی ہے۔

میں ایک بات بتاتی ھوں۔

میرے کُچھ رشتہ دار ہمارے پاس آئے کُچھ ماہ پہلے، بچوں کو تو آپ سب جانتے ہی ہیں کیسے ہوتے ہیں، کہا گیا کارٹونز دکھائیں آپی۔ جب اُن کو جواب ملا کہ آپ یہ کنیز فاطمہ والے دیکھ لو اور پلے کیے گئے تو سب کے منہ کے مختلف پوز بن رہے تھے اور سب کہہ رہے تھے ہم نے موٹو پتلو دیکھنے ہیں بلا بلا۔ جب پوچھا کہ یہ کنیز فاطمہ والے کارٹونز کیسے لگے تو جواب ملا بس سہی ہی ہیں، موٹو پتلو اور بہیم والے بہت اچھے ہوتے ہیں۔

جانتے ہیں کیوں ؟؟؟

کیوں کہ کینیز فاطمہ والے کارٹونز بہت کچھ سکھا رہے تھے۔

آپ خود اب سوچ لیں کیسی تربیت ہو رہی ہے بچوں کی۔

خدارا بچوں کو موبائل کا اچھا استعمال سکھائیں، اُنھیں ایسے کارٹونز دکھائیں جس میں کُچھ سیکھنے کے لیے ہو۔

جس طرح ہر چیز کا اچّھا اور برا استعمال ہوتا ہے، ہم پے منحصر ہے کہ ہم کس طرح سے اُسے استعمال کرتے ہیں، اسی طرح موبائل کا سہی اور غلط استعمال بھی ہم پر ہی ہے کہ ہم کس طرح استعمال کرتے ہیں اسے، اپنے فائدے کے لیے یا اپنے وقت کے ضیاع کے لیے۔آج کل کی نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اپنے دن کا آغاز اس موبائل نما روبوٹ سے نہیں کریں بلکہ اللہ کے ذکر سے کریں۔

Comments are closed.