گجرات کے مسلمان کسے ووٹ دیں!

 

شکیل رشید

گجرات اسمبلی الیکشن جیسے جیسے قریب آ رہا ہے ویسے ویسے بڑے بڑے قائدین سرگرم ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔ عام آدمی پارٹی ( آپ ) نے زوردار مہم شروع کر رکھی ہے ۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا ، جو ’ آپ ‘ کے سربراہ بھی ہیں ، گجرات میں آنا جانا لگا ہوا ہے ۔ ان کا سارا زور ، ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ، نشانہ بنانے پر ہے ۔ انہوں نے دہلی کی طرح ہی گجرات میں بھی ’ ریوڑیاں ‘ تقسیم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ، یعنی پانی اور بجلی وغیرہ کی مفت تقسیم۔ اور بی جے پی میں کچھ حد تک ان کی زوردار الیکشن مہم سے گھبراہٹ نظر آنے لگی ہے ۔ مودی اور ان کے دستِ راست ’ آج کے چانکیہ ‘ کہلانے والے امیت شاہ اب تک یہ سمجھ رہے تھے کہ گجراتیوں کے ووٹ ان کی جیب میں ہیں ، لیکن اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ، کیجریوال کی نکتہ چینیوں اور ’ فری بی ‘ کے اعلانات نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس بار جیت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا ، اسی لیے بی جے پی نے گجرات میں نئے سرے سے محنت شروع کر دی ہے ۔ لیکن اب بہت سے لوگ بالخصوص کسان بی جے پی پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ پانچ سالوں کے دوران حالات ان کے لیے بدلے نہیں ہیں ۔ ’ آپ ‘ کے لیے بھی ڈگر آسان نہیں ہے ، لیکن کانگریس کے مقابلے اس لے لیے حالات قدرے بہتر ہیں ۔ گذشتہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس نے سوراشٹر میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن اس کے اچھے خاصے ممبران اسمبلی دل بدلی کر کے بی جے پی میں شامل ہو گیے ہیں ۔ ہاردک پٹیل کچھ دن کانگریس میں رہے مگر اب بی جے پی کے لیڈر بن چکے ہیں ۔ ووٹروں کا یہ کہنا ہے کہ اگر کانگریس والے یوں ہی روپیے پیسے لے کر پارٹیاں بدلتے رہیں گے تو ان کو ووٹ دینا بےمعنیٰ ہوگا ، اس کے مقابلے ’ دلّی والی پارٹی ‘ ہی اچھی ہے ۔ یعنی ’آپ ‘ ۔ گویا یہ کہ ’ آپ ‘ بی جے پی اور کانگریس دونوں کو ہی نقصان پہنچاتی نظر آ رہی ہے ۔ ایم آئی ایم بھی گجرات اسمبلی کے الیکشن میں کودنے کے لیے تیار ہے ، ایم پی اسد الدین اویسی کئی بار گجرات کے دورے پر جا چکے ہیں ، ان کا سارا زور مسلم ووٹوں پر ہے ۔ اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ بی جے پی سے تو مسلمانوں کو کوئی امید نہیں ہے ، وہ کسی مسلمان کو امیدوار تک نہیں بنائے گی ۔ کانگریس نے بھی گجرات میں مسلمانوں کو تقریباً فراموش کر رکھا ہے ، بلکہ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ اس کی اور بی جے پی کی پالیسیاں یکساں ہیں ۔ کانگریس ان دنوں راہل گاندھی کی قیادت میں ’ بھارت جوڑو یاترا ‘ میں مصروف ہے ، اگر راہل نے گجرات کے مسلمانوں کو ’ جوڑنے ‘ کی کوشش نہ کی تو مسلم ووٹ کانگریس سے کٹ سکتے ہیں ۔ ’ آپ ‘ کا بھی گجرات کے مسلمانوں کے تعلق سے کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے ، بلکہ یوں لگتا ہے کہ کیجریوال وہاں مسلمانوں کی بات کرنا ہی نہیں چاہتے ۔ ان حالات میں اویسی کو فائدہ پہنچ سکتاہے ، مسلم ووٹ ان کی جھولی میں آ سکتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صرف مسلم ووٹ حاصل کر کے اویسی کتنی سیٹیں جیت سکیں گے ؟ انہیں جو مسلم نہیں ہیں ان کے ووٹ بھی حاصل کرنا ہوں گے ، اور ایسی منصوبہ بندی کرنا ہوگی کہ اگر بی جے پی کو کم سیٹیں ملتی ہیں ، اور کوئی غیر بی جے پی پارٹی ان کی مدد سے حکومت سازی کر سکتی ہے ، تو وہ اس کی مدد کر سکیں ۔ گجرات کے مسلمانوں کے حالات بہت اچھے نہیں ہیں ، ان کی نفسیات پر ۲۰۰۲ ء کے فسادات کے اثرات اب تک ہیں ۔ ان سے انتہائی متعصبانہ رویہ امنایا جاتا ہے ، روزی روزگار اور تعلیم میں ان کی شرح بہت کم ہے ، لہذا اویسی کو ان امور پر توجہ کرنا ہوگی ۔ صرف جذباتی تقاریر سے کام نہیں چلنے والا ۔ بی جے پی ووٹوں کو منتشر کرانے کے لیے ، ان کا اس طرح استعمال کر سکتی ہے ، کہ انہیں اپنے استعمال ہونے کا احساس بھی نہیں ہوگا ۔ مضبوط امیدواروں کے سامنے کئی کئی امیدوار کھڑا کرنے اور جو امیدوار کھڑے ہوں گے ان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں بیجے پی کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ مسلم امیدوار نہ جیت سکیں ، ان کے مد مقابل بی جے پی کے لیے نرم رخ رکھنے والے امیدوار جیت جائیں ، اس کے لیے بی جے پی مسلم امیدواروں کے سامنے ’ بکاؤ مسلم امیدواروں ‘ کی فوج کی فوج کھڑی کر سکتی ہے ، وہ ایسا کرتی رہی ہے ، لہذا بہت احتیاط کی ضرورت ہے ، ورنہ اویسی بی جے پی کے ہاتھ کا کھلونا بن سکتے ہیں ۔ اویسی کو ایک اچھا موقعہ ملا ہے کہ وہ خود پر لگنے والے اس الزام کو کہ وہ اور ان کی پارٹی بی جے پی کے اشارے پر کام کرتی ہے ، دھو سکیں ۔ گیند ان کے پالے میں ہے ۔ گجرات کےمسلمانوں کے سامنے بھی یہ اہم سوال ہے کہ وہ کسے ووٹ دیں ؟ ابھی الیکشن میں کچھ وقت ہے ، وہ اس سوال پر سنجیدگی سے غور کریں ، اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں اور جسے بھی ووٹ دیں متحد ہو کر دیں ۔

Comments are closed.