کمال مولیٰ مسجد معاملہ: مسلمانوں کی قوت برداشت کو بے بسی سمجھنا سنگین غلطی ہوگی!
مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
بابری مسجد سے لے کر گیان واپی، شاہی عیدگاہ اور اب کمال مولیٰ مسجد جیسے معاملات نے ہندوستانی مسلمانوں کے اندر ایک گہری بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے کمال مولیٰ مسجد کے خلاف فیصلہ نے اس احساس کو مزید مضبوط کیا ہے کہ ملک میں مذہبی معاملات میں انصاف کا پیمانہ یکساں نہیں رہا۔ اگر صدیوں سے قائم عبادت گاہوں کی حیثیت کو مسلسل چیلنج کیا جائے گا تو یہ صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ آئینی اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کا بھی سوال بن جائے گا۔
ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، مساوات اور انصاف کی ضمانت دیتا ہے۔ جب کسی ایک مخصوص طبقے کی عبادت گاہیں بار بار تنازعات کا شکار بنتی ہیں تو فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی انصاف یکساں طور پر نافذ ہو رہا ہے یا سیاسی طاقت اور اکثریتی دباؤ فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں مذہبی جذبات کو سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر عدالتوں کے فیصلے بھی اسی فضا کے موافق دکھائی دیں تو اقلیتوں کے خدشات بڑھنا لازمی ہیں۔ مسلمانوں کا یہ احساس کہ ان کی مذہبی شناخت اور تاریخی ورثے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، محض جذباتی ردِّعمل نہیں بلکہ مسلسل پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ ہے۔
جج کا مذہب، ذات یا ذاتی نظریات کچھ بھی ہوں، ان کا اصل منصب انصاف ہے۔ عدالت کی کرسی پر بیٹھنے والا شخص صرف ایک فرد نہیں رہتا بلکہ وہ آئین کی روح کا نمائندہ بن جاتا ہے۔ اگر کوئی جج مذہبی یا سیاسی دباؤ سے متاثر ہو کر فیصلہ کرے تو یہ عدلیہ کے وقار اور عوام کے اعتماد دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی صبر و تحمل کی پالیسی اور ان کی قوتِ برداشت کو ہرگز ان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ایک مہذب اور باشعور قوم ہونے کے ناطے مسلمان آج بھی قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں، مگر اس خاموشی اور برداشت کو بے بسی یا کمزوری سمجھنا سنگین غلطی ہوگی۔
Comments are closed.