اسلام نے سب سے پہلے خواتین کو وراثت میں حقداربنایا،اسلام کاقانون وراثت عدل وانصاف پرمبنی:محمدنافع عارفی

 

آل انڈیاملی کونسل اورالفلاح انگلش عربک پھلواری شریف،پٹنہ کے اشتراک سے تحفظ شریعت ورکشاپ کا انعقاد

پٹنہ:17مئی (پریس ریلیز)

آل انڈیاملی کونسل کے شعبہ اصلاح معاشرہ وتحفظ شریعت کے زیراہتمام ایک علمی ورکشاپ الفلاح عربک انگلش اسکول پھلواری شریف پٹنہ میں منعقد ہوا،خواتین کے لیے خاص اس ورکشاپ کاانعقادالفلاح عربک انگلش عربک اسکول کے اشتراک سے اسکول کے کانفرنس ہال میں ہوا،جس میں ملت کالونی اوراسکول کے قرب وجوارکی خواتین نے بڑی تعدادمیں حصہ لیا۔یہ ورکشاپ”اسلام کانظام وراثت حقائق اورغلط فہمیاں“کے عنوان سے منعقد ہوا،اس ورکشاپ کومخاطب کرتے ہوئے آل انڈیاملی کونسل بہارکے صدرمولاناڈاکٹرمحمدعالم قاسمی نے سماج میں خواتین کے کردارپر تفصیلی گفتگوکی۔انہوں نے فرمایاکہ اسلام میں سب سے پہلے خواتین کو وراثت میں حصہ عطاکیااورسماج میں اسے باوقارزندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔مولانامحمدعالم قاسمی نے مزیدکہاکہ اولادکی تربیت میں ماں کاکردارنہایت ہی اہم ہے اس لیے اللہ نے ماں کو بڑااونچامقام عطاکیاہے۔اس ورکشاپ میں کلیدی خطاب آل انڈیاملی کونسل،بہارکے جنرل سکریٹری مولانامفتی محمدنافع عارفی کاتھا،انہوں نے اسلام کے نظام وراثت میں خواتین کے حقوق پرگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اسلام کے قانون میراث میں جن رشتہ داروں کو مقدم رکھاگیا ہے اورجوکسی حال میں ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتے،وہ چھ ہیں،جن میں تین مردہیں:باپ،بیٹااورشوہر،تین عورتیں ہیں:ماں،بیٹی اوربیوی،اس کے علاوہ خصوصی اہمیت ان حقداروں کوحاصل ہے،جن کو”ذی الفروض“کہاجاتاہے،یعنی وہ اعزہ جن کے حصے مقررکردیے گئے ہیں،ان میں مردوں سے زیادہ تعدادخاتون رشتہ دارکی ہے،اس لئے مردچھ حالتوں میں ذوی الفروض میں شمارکیاجاتاہے اورعورت 71/حالتوں میں،اس حیثیت سے میراث کی مستحق ہوتی ہے؛چناچنہ یہاں حصوں کاتناسب اوران کی مستحق خواتین کاذکر کیاجاتاہے۔مفتی عارفی نے اس کی متعددصورتیں بھی بیان کیں اوربتلایاکہ کبھی عورتوں کاحصہ مرودں سے کم ہوتاہے توکئی ایسی صورتیں ہیں،جس میں عورتوں کو مردوں سے زیادہ اورکبھی مردوں کے برابرملتاہے،وراثت میں ایسی صورت بھی ہے،جب مردمحروم ہوجاتے ہیں؛لیکن عورت کومیراث ملتاہے،مولاناعارفی نے اس ورکشاپ کو مخاطب کرتے ہوئے مردوں کے مقابلے میں ن عورتوں کاحصہ کم ہونے کی حکمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں شبہ نہیں کہ جولوگ لازمی طورپرمیراث میں حصہ پاتے ہیں،یعنی باپ،ماں،بیٹی اورشوہروبیوی،ان میں مردوں کاحق عورتوں سے زیادہ یادوہرارکھاگیاہے؛لیکن اس کومردوں اورعورتوں کے درمیان جنس کی بنیادپرتفریق نہیں سمجھناچاہیے،یہ اس اصول پرمبنی ہے کہ جس کی ذمہ داریاں زیادہ ہوں گی،ان کے حقوق بھی زیادہ ہوں گے،اورجن کی ذمہ داری کم ہوگی،اس کے حقوق کم ہوں گے۔اس اصول کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ارشادسے واضح فرمایا:”الخراج بالضمان“(ابوداؤد)اس کا ماحصل یہ ہے کہ جونقصان برداشت کرے گا،وہی فائدہ کابھی حقدارہوگا۔انہوں نے ورکشاپ کے مقاصدکاذکرکرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے ورکشاپ کامقصدیہ ہے کہ خواتین قانون اسلامی میں اپنے حقوق کو سمجھے اوراسلام پرہونے والے اعتراضات کادفاع کریں۔آل انڈیاملی کونسل کے قومی کارگزارصدرحضرت مولاناانیس الرحمن قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ خواتین سماج کانصف حصہ ہیں،اسلام کی تبلیغ واشاعت میں انہوں نے اہم کرداراداکیاہے،عہدرسالت سے لے کرآج تک مسلم خواتین نے ہردوراورزندگی کے ہرشعبہ میں کلیدی خدمات انجام دی ہیں،آج جب کہ عورتوں کی آڑمیں اسلام پربے جااعتراضات کیے جارہے ہیں اوراسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کیاجارہاہے،توضرورت ہے کہ خواتین صف اول میں آکراسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈوں کا جواب دیں اوروہی کرداراداکریں،جوصحابیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اداکیا۔مولاناقاسمی نے مزیدفرمایاکہ اسلام کانظام وراثت ہویانظام نکاح وطلاق،ہرجگہ اسلام نے عورتوں کے حقوق کی مکمل رعایت کی ہے۔آل انڈیاملی کونسل،بہارکے سکریٹری مولاناسیدعادل فریدی نے بھی اسلام کی اشاعت میں خواتین کی کرادرپرتاریخی حوالوں سے گفتگوکی اوراسلام کے نظام وارثت کے سلسلے میں ہونے والوں پروپیگنڈوں کاجائزہ لیتے ہوئے اسلام کے عادلانہ قانون پرسیرحاصل گفتگوکی،اخیرمیں الفلاح انگلش عربک اسکول پھلوای شریف،پٹنہ کے ڈائریکٹراوراس ورکشاپ کے میزبان مولاناعبدالماجدقاسمی چترویدی نے مختلف حوالوں سے اسلام کے قانون وراثت کی حقانیت اوروراثت میں خواتین کو دیے گئے حقو ق پرگفتگوکی نیزمثالوں کے ذریعے یہ بات واضح کی کہ عورتوں کے اسلام نے مشفقانہ سلوک کیاہے اوراسے کہیں بے یارومددگارنہیں چھوڑا؛بلکہ اس کی ایک ایک ضرورت کا خیال رکھاہے۔واضح رہے کہ اس ورکشاپ کا آغازآٹھویں درجہ کی طالبہ حافظہ صوفیہ کی تلاوت قرآن سے ہوا،حمدآٹھویں درجہ ہی کی طالبہ فاطمہ فاطمہ خاتون نے حمدپیش کیاجب کہ عارفہ نشاط نے نعت نبی اورحدصہ صدیقہ اورام سلمہ نے نظم پڑھی،پروگرام کی نظامت چوتھی درجہ کی طالبہ اردواورانگریزی میں کی۔حضرت مولاناانیس الرحمن قاسمی کے دعاپریہ ورکشاپ ظہرسے پہلے اختتام کوپہونچا۔

Comments are closed.