Baseerat Online News Portal

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

 

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی
جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

کچھ چیزیں ایسی ہیں، جن کی انسان کو گھڑی دو گھڑی ضرورت پڑتی ہے، اور کچھ چیزیں وہ ہیں، جن کی انسان کو ہر لمحہ ضرورت پڑتی رہتی ہے، ایسی ہی چیزوں میں علم بھی ہے، علم میں تازگی، عصریت اور ارتقاء ضروری ہے، اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور ارشادات کے سوا کوئی علم نہیں، جس کو دوام اور ہمیشگی حاصل ہو، جو چیز اپنے زمانے کا ساتھ نہ دے اُسے پس پشت ڈال دیا جاتا ہے، ہم لوگوں نے اپنی مختصر سی عمر میں دیکھا کہ ایک زمانہ میں جوتے چپل کی دنیا میں باٹا (BATA ) کا نام سکہ رائج الوقت تھا، ہر آدمی اسی کمپنی کا جوتا چپل لینا چاہتا تھا، یہ اور بات ہے کہ بعض لوگ گراں ہونے کی وجہ سے اس کے لینے سے قاصر رہتے تھے؛ لیکن باٹا نے اپنے ماضی کی شہرت ومقبولیت پر تکیہ کر لیا اور بدلتے ہوئے مزاج کے مطابق نئے ڈیزائن اور نئی سہولتوں کی طرف توجہ نہیں دی، نتیجہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس کی مقبولیت کا گراف گرتا جا رہا ہے، ابھی کل کی بات ہے کہ موبائل کی دنیا میں نوکیا (NOKIA) بلا شرکت غیر تختۂ اقتدار پر براجمان تھا، ہر چھوٹا بڑا نوکیا کا سیٹ حاصل کرتا تھا، نوجوان فخریہ کہتے تھے کہ ان کے پاس نوکیا کا موبائل ہے؛ لیکن نوکیا والے نوشتۂ دیوار پڑھ نہیں سکے کہ کسی انسان کے زندہ رہنے کے لئے سانس لیتے ہوئے پیدا ہو جانا کافی نہیں ہے؛ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر لمحہ سانس اس کا ساتھ دے، نتیجہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس کمپنی کا نام بھی لوگوں کے ذہن سے ختم ہوگیا۔
علم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، جو علم زندگی کا ساتھ دیتا ہے، زندگی کی رفتار کے ساتھ چلتا ہے، اور قدم قدم پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے، وہ باقی رہتا ہے، اور جو علم زمانہ کے ساتھ نہیں چل پاتا، اس کی جگہ آثار قدیمہ کا میوزیم ہے، ہمارے دینی مدارس ایک شاندار روایت رکھتے ہیں، انھوں نے اس ملک میں اس طبقہ تک تعلیم پہنچائی ہے، جو حکومت وعوام سبھی کی بے توجہی کا شکار تھا، یہاں خدمت کے تصور کے ساتھ تعلیم دی جاتی ہے؛ حالاں کہ موجودہ دور میں تعلیم خدمت نہیں ہے، تجارت ہے، تعلیم کا مقصد انسانیت کی بھلائی نہیں، صرف اور صرف پیسے کمانا ہے، جب معلم کو اخلاق کا داعی نہیں؛ بلکہ اخلاق کا قاتل بنایا جاتا ہے، یعنی اگر مادی منفعت میں اخلاق رکاوٹ بن رہا ہو تو اس کو اس طرح پھینک دیا جائے، جیسے صاف وشفاف پانی میں کوئی پتنگا آگیا ہو؛ مگر ان حالات میں بھی یہی مدارس ہیں، جو نئی نسل کو اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں، دنیا طلبی کی اندھی لالچ کے مقابلہ انسانی خدمت کا جذبہ ابھارتے ہیں؛ مگر ان ساری خوبیوں کے باوجود ایک کمی یہ ہے کہ بعض لوگوں نے نصاب تعلیم کے ہر جز کو ناقابل تبدیل سمجھ لیا؛ حالاں کہ ایسا نہیں ہے، یقیناََ قرآن وحدیث میں ایک نقطہ کی تبدیلی بھی ناقابل قبول ہے، ہندوستان میں پورے قرآن مجید کی تفسیر اور حدیث کے نواہم مجموعوں کی حرف بہ حرف خواندگی چاہے بعض حصے تفصیل سے پڑھائے جائیں اور بعض سرسری طور پر، بہت ہی مفید طریقہ ہے، دنیا کے بہت سے ملکوں میں قرآن کی مختلف سورتوں اور کتب حدیث کی منتخب کتابوں کے منتخبات پڑھانے کا جو رواج ہے، وہ ناکافی ہے؛ لیکن دوسرے علوم سے متعلق جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، ان میں نئے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
یہ بات ظاہر ہے کہ دینی مدارس میں جو کتابیں شامل درس ہیں، وہ نصابی نقطۂ نظر سے نہیں لکھی گئی ہیں؛ لیکن اس کتاب کی افادیت کی وجہ سے اس کو داخل درس کر لیا گیا، اس زمانہ میں طلبہ اپنی تعلیم کے لئے بھی کافی وقت لگاتے تھے، اور وہ ان تمام کتابوں کو مکمل کرتے تھے، موجودہ دور میں طلبہ کی نفسیات کو سامنے رکھ کر نصابی کتابیں مرتب کی جاتی ہیں، زیادہ تر ایک فرد کے بجائے چند افراد مل کر نصاب تیار کرتے ہیں، اس میں طلبہ کی عمر کے لحاظ سے عبارتوں کو آسان بنایا جاتا ہے، مثالوں اور نقشوں کے ذریعہ مضمون کو فہم سے قریب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، بعض دفعہ یہ کام تصویروں سے لیا جاتا ہے، ہر مضمون کے ساتھ مشق اور ہوم ورک رکھا جاتا ہے؛ تاکہ تعلیم وتعلم میں طلبہ کی شرکت ہو سکے، اگر کوئی مضمون کئی سالوں میں داخل نصاب ہو تو کس سال کتنا پڑھایا جائے؟ اس کی درجہ بندی کی جاتی ہے، اس طرح طلبہ کے لئے کتابوں کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کہ لوگوں سے ان کے فہم کے مطابق بات کرو ’’کلموا الناس علیٰ قدر عقولھم ‘‘ کے عین مطابق ہے، قرآن وحدیث اور مختلف اسلامی علوم وفنون کے بنیادی کتابوں کو چھوڑ کر اسی نہج پر کتابیں مرتب کی جائیں اور پڑھائی جائیں تو کتنا بہتر ہوگا، اس طرح بچے مشکل الفاظ میں الجھ کر نہ رہ جائیں گے اور اصل مضمون کے بجائے عبارت کو حل کرنے میں ہی ان کی صلاحیت خرچ نہ ہو جائے گی۔
بعض کتابیں ایسی ہیں کہ آج بھی ان کی افادیت اپنی جگہ قائم ہے، مثلاََ فقہ کی کتاب ’’ قدوری‘‘ ہے، جو بہت ہی سلیس متن ہے، جس میں ناپ تول کر الفاظ کا انتخاب کیا گیاہے؛ لیکن اس کے باوجود وہ عام فہم ہے، ایسی کتابوں کے اوپر محنت کرنے کی ضرورت ہے، مثلاََ ذیلی عناوین لگائے جائیں ، مسلسل عبارت کے بجائے پیراگراف قائم کیا جائے، تمرینات قائم کی جائیں، جس باب میں جو نئے مسائل آئے ہیں، باب کے آخر میں ان کا اضافہ کر دیا جائے، اس طرح قدیم متن کو جوں کا توں رکھتے ہوئے اس کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ مدارس کی مشترکہ نصاب تعلیم کمیٹی ہو، جس میں باصلاحیت فضلاء اور تجربہ کار اساتذہ مسلسل نصابی کتابوں پر نظر رکھیں؛ تاکہ ہمارا نصاب وقت کے تقاضوں کے مطابق ہو۔
مدارس کے نظام تعلیم میں ایک بڑی ضرورت ہے کہ اس کو مراحل میں تقسیم کیا جائے، یہ طریقہ کار کہ جو ’’ میزان الصرف‘‘ کی جماعت میں داخلہ لے وہ بخاری پڑھ کر ہی مدرسہ سے باہر نکلے، ایک غیر فطری طریقہ ہے، نہ ہر طالب علم کی صلاحیت یکساں ہوتی ہے اور نہ ملت کے تمام کاموں کے لئے یکساں صلاحیت کے حامل لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک طالب علم کو آئندہ نورانی قاعدہ کی تعلیم دینا ہے، ایک کو ناظرۂ قرآن پڑھانا ہے، ایک کو عالمیت وفضیلت کی اعلیٰ کتابیں پڑھانا ہے، ایک کو عصری درسگاہوں میں اسلامیات کا ٹیچر بننا ہے، تو ان سبھوں کو ایک ہی درجہ کی صلاحیت کی ضرورت نہیں ہے؛ اس لئے ہمیں عصری تعلیمی اداروں کی طرح تعلیم کو مختلف مراحل میں تقسیم کرنا چاہئے، ہر مرحلہ کی الگ الگ سند جاری کرنی چاہئے؛ تاکہ لوگ اپنی صلاحیت کے مطابق خدمت انجام دے سکیں اور قوم وملت کے لئے مفید بن سکیں، اس تقسیم کے نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے طلبہ کو خواہی نہ خواہی عالمیت یا فضیلت تک پڑھنا پڑتا ہے، اس کے بعد اُن کے سامنے تدریس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہوتا، بے صلاحیت یا کم صلاحیت اساتذہ کی یہ بھیڑ تعلیم کے معیار کو متأثر کرتی ہے، پھر جو لوگ اپنی صلاحیت کی وجہ سے تدریس میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں، وہ بلا ضرورت مدرسہ کھول کر بیٹھ جاتے ہیں، یہ مدارس تعلیمی ادارے سے زیادہ معاش کا ذریعہ ہوتے ہیں، جن پر قوم کے ڈھیر سارے پیسے ضائع ہوتے ہیں؛ اس لئے اگر طالب علم ایک مرحلہ کو مکمل کر لے اور وہ اگلے مرحلہ کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو تبھی اگلے مرحلہ میں اس کا داخلہ قبول کیا جائے۔
ایک زمانہ میں دارالعلوم دیوبند میں ایک شعبہ’’ دارالصنائع ‘‘کا تھا، اس میں کچھ دستی صنعتیں سکھائی جاتی تھیں، جن میں زیر تعلیم طلبہ کا بھی داخلہ ہوتا تھا اور فارغ شدہ طلبہ کا بھی، اس زمانہ میں ہنر کی تعلیم کا دائرہ بہت محدود تھا، اب ووکیشنل کورسیز کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے، لڑکوں کے لئے بھی اور لڑکیوں کے لئے بھی، ایسے کورسیز بھی ہیں، جن کو ناخواندہ حضرات بھی سیکھ سکتے ہیں اور ان کے ذریعہ باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں، جن کے پاس وقت کی کمی ہو یا جن کا ذہن اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے ساتھ نہ دیتا ہو، یا جن پر اپنے گھر کی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ ہو، وہ کسی مرحلہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایسے کورسوں میں داخلہ لے سکتے ہیں، اور حسب موقع دین کی خدمت کرتے ہوئے اپنے لئے باعزت روزگار کا راستہ نکال سکتے ہیں، اس طرح وہ اپنے آپ کو مفید تر ثابت کر سکیں گے اور سماج کے سرمایہ دار لوگوں کی تحقیر سے بھی اپنے آپ کو بچا سکیں گے، پہلے زمانہ میں مدارس میں طلبہ کی تعداد بہت کم ہوا کرتی تھی، اور خطرہ ہوتا تھا کہ اگر ان حضرات نے معاش کا کوئی اور ذریعہ اختیار کیا تو دینی خدمات کے میدان میں خلا پیدا ہو جائے گا؛ مگر اب صورت حال ایسی نہیں ہے، اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اس وقت دیہات وقریہ جات کے لئے دینی خدمت گزار نہیں مل پاتے ہیں، جو باصلاحیت فضلاء ہوتے ہیں، وہ ایسی جگہوں پر جانا نہیں چاہتے ہیں اور جو نسبتاََ کم صلاحیت کے ہوتے ہیں، وہ اس وجہ سے نہیں جانا چاہتے ہیں کہ معاشی اعتبار سے یہ جگہیں ان کے لئے مناسب نہیں ہوتیں، تو کم تنخواہ کے ساتھ اگر وہ ہنر مند بھی ہوں تو یہ مہارت ان کے لئے زندگی کے گزران کو آسان بنا دے گی؛ اس لئے ضرورت ہے کہ مدارس میں چھوٹے پیمانہ کی صنعت کی تعلیم دی جائے، اگر بزنس مینجمنٹ کا چھوٹا موٹا کورس مرتب کیا جا سکتا ہو تو اسے پڑھایا جائے اور ان کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ اپنی دینی شناخت کے ساتھ مختلف میدانوں میں کام کر سکیں۔
یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اس وقت ہندوستان کی بعض مرکزی دینی جامعات سے یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ دینی مدارس میں عصری تعلیم شامل ہونی چاہئے؛ بلکہ میٹرک تک کی تعلیم ضرور ہی ہونی چاہئے، متعدد مدارس نے اپنے بچوں کو اوپن اسکول سے میٹرک اور انٹر کا امتحان دلانا شروع کیا ہے اور ماشاء اللہ مدارس کے طلبہ نے اچھے نتائج حاصل کئے ہیں، کاش، کم سے کم آج سے پچاس سال پہلے یہ کوشش شروع کی گئی ہوتی تو آج کی صورت حال بہت مختلف ہوتی، ہندوستان میں علماء کی ایسی نسل موجود ہوتی جو زندگی کے تمام گوشوں میں انسانیت کی رہنمائی کرتی؛ مگر اس حقیر نے وہ منظر بھی دیکھا ہے کہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کو بعض حضرات متہم کرتے تھے اور مدارس میں بقدر ضرورت عصری تعلیم کی شمولیت کو بری نظر سے دیکھتے تھے، اس حقیر نے بھی کئی بار احتیاط کے ساتھ یہ بات لکھی ہے، پھر بھی ہمارے بزرگوں اور دوستوں نے اسے بہکی ہوئی بات اور آوارہ خیالی سمجھا، مدارس کا ایک حلقہ ایسے مشوروں کو الحاد ودہریت کے درجہ میں رکھا کرتا تھا، اس کا نتیجہ ہے کہ دینی مدارس کے فضلاء اور نوجوان نسل کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا ہو گئی، وہ ایک دوسرے کو اپنی بات سمجھانے کے لائق نہیں رہے، غور کیجئے کہ اسلام کے خلاف ہونے والی فکری یورشوں کے اس ماحول میں اگر ہم دوسروں کی بات سمجھ نہیں سکے اور اپنی بات ان کو سمجھا نہیں سکے تو کیسے ہم اس فکری معرکہ میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، اور اپنی نئی نسل کو ایمان پر قائم رکھ سکتے ہیں؟ اس لئے یہ بات بہت اہم ہے کہ تمام قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مدارس کے نصاب تعلیم کو اس طرح جدید علوم سے آراستہ کیا جائے کہ مدرسہ رہتے ہوئے یہاں عصری تعلیم کا انتظام ہو، ایسا بھی نہ ہو کہ اس پر پوری طرح اسکول کا اطلاق ہو جائے، ایسی صورت میں اسکولوں سے متعلق قوانین کا اطلاق ہونے لگے گا اور قانونی بندشیں مدارس اسلامیہ کو جکڑ لیں گی۔
بہر حال حالات بہت نازک ہیں؛ لیکن کوئی دشواری ایسی نہیں، جس کا حل موجود نہ ہو، اور کوئی شام ایسی نہیں جس کے لئے صبح مقدر نہ ہو، ضرورت ہے غور وفکر کے ساتھ قدم آگے بڑھانے کی اور حکمت وجرأت کے ساتھ تمام کاموں کو انجام دینے کی!!!(بصیرت فیچرس)

You might also like