دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس کے اجلاس سے مدارس کے لئے اچھے مستقبل کی توقع ، اللہ تعالی اجلاس کو کامیاب بنائے

 

( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

ہندوستان ایک بڑا اور عظیم الشان ملک ھے ، ہزاروں برس سے پر مشتمل اس کی شاندار روایت ھے ، اس ملک میں ہمیشہ مختلف مذاہبِ کے لوگ بستے آرہے ہیں ، میل و محبت ، آپسی بھائی چارہ اور قومی یکجہتی اس ملک کا طرہ امتیاز ہے ، اس کی وجہ سے اس ملک کو مقبولیت حاصل ہے ،

ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کو مضبوط کرنے میں مدارس اور خانقاہوں کا اہم رول رہا ھے ، اور ہر دور میں ان اداروں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار پیش کیا ھے ،

ملک پر جب انگریزوں کا تسلط ہوگیا ، اور ملک غلامی کی زنجیر میں جکڑ گیا تو ملک کو آزاد کرانے اور تعلیم کے ذریعہ مجاہدین آزادی کو پیدا کرنے کے لئے دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا ، دارالعلوم دیوبند کی تحریک پر ملک میں ہزاروں مدارس قائم کئے گئے ، ان کا مقصد ملک کو آزاد کرنے کے مجاہدین آزادی پیدا کرنا اور تعلیم کو فروغ دینا تھا ، علماء اپنی تحریک میں کامیاب ہوئے اور ان مدارس نے ہزاروں مجاہدین آزادی کو پیدا کردیا ، جنہوں نے اپنی تحریر ،تقریر اور اپنی کوششوں سے ملک میں آزادی کی تحریک کو تیز کردیا، اور برادران وطن کے ساتھ مل کر ملک کو آزاد کرایا ، اس طرح ملک کے تمام مدارس کا تعلق دارالعلوم دیوبند سے ھے ، البتہ ان میں سے کچھ مدارس ایسے ہیں جو دارالعلوم دیوبند سے مربوط ہیں ، ان ہی مربوط مدارس کا اجلاس دارالعلوم دیوبند میں منعقد ہورہا ھے

دارالعلوم دیوبند کی عظیم الشان تاریخ ھے ، جہاں ہندوستان کی عزت و شہرت میں ملک کے دیگر اقدار کا رول ھے ، پوری دنیا میں اس ادارہ نے بھی ہندوستان کے نام کو روشن کیا ھے ، اور پوری دنیا کے بسنے والے بالخصوص مسلمان عالم ، حکومتیں اور سبھی اس ادارہ کی وجہ سے ہندوستان کو عزت و قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں ، یہی نہیں ، بلکہ مدارس اور ان کے فارغین علماء نے ہر موقع پر حب الوطنی کا ثبوت پیش کیا ھے ، ہندوستان کے مسلم سماج اور دیگر برادران وطن میں جو جذبہ حب الوطنی نظر آتا ھے ،اس میں مدارس اور ان کے فارغین علماء کا اہم رول ھے ، ان اداروں نے ہر سطح پر حکومت کی مدد کی ھے ، مسلم سماج میں تعلیم کو عام کرنے میں مدارس کا اہم رول ھے ، اس طرح شرح خواندگی بڑھانے مدارس حکومت کے مددگار ہیں ، یہ ایک اچھا اور مثالی شہری بنانے کا کام کرتے ہیں ، چھوٹے چھوٹے بچوں کی تربیت کرکے ان کو بہتر شہری بناتے ہیں ، جس کام کے لئے حکومت بڑی مقدار میں رقم خرچ کرتی ھے ، مدارس اس کام کو فری میں انجام دیتے ہیں ، اس طرح مدارس حکومت کے لئے معاون و مددگار ہیں ، ملک میں کوئی حادثہ پیش اجائے ، آگ لگ جائے ، سیلاب اجائے ، ہر موقع پر اہل مدارس مستعد رہتے ہیں ، یہ ھے مدارس کا ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ھے ، یہی وجہ ھے کہ ہر دور میں حکومت نے مدارس کی تعلیم کی اور ان کے کردار کی تعریف کی ھے ، یہ تعلیمی ادارے ہیں ، ان کو اسی نظریہ سے دیکھنے کی ضرورت ھے، یہ اسی طرح کے ادارے ہیں ، جس طرح دیگر تعلیمی ادارے ہیں ، ہمارے ملک میں کئی مذاہبِ کے لوگ رہتے ہیں ، سبھی کے اپنے ادارے ہیں ، اسی طرح مدارس بھی ادارے ہیں ،اس میں تعلیم و تربیت کے کام انجام دیئے جاتے ہیں

ہمارے ملک کی حکومت قابل ستائش ھے کہ وہ جہاں دوسرے تعلیمی اداروں کو تعاون دیتی ھے ، وہیں اس نے مدارس کے فروغ کے لئے بھی مدرسہ بورڈ قائم کئے ہیں ، بہت سے اسٹیٹ میں مدرسہ بورڈ قائم ہیں ، جس کو حکومت چلاتی ہے ، مدرسہ بورڈ سے ملحق اداروں کے علاؤہ ملک میں آزاد مدارس بھی ہیں ، جو عوامی چندہ اور صدقہ و زکوۃ کی رقم سے چلتے ہیں ، ان مدارس میں ان کا اپنا نصاب تعلیم چلتا ھے ، ان کے نصاب تعلیم کے پرائمری درجات میں ہندی ،انگریزی ، حساب ، سائنس وغیرہ عصری مضامین شامل ہیں ، مگر ناواقفیت کی وجہ سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان میں عصری مضامین نہیں پڑھائے جاتے ہیں ، جبکہ یہ صحیح نہیں ھے ،

مدارس کے ذمہ داروں کے مطابق مدارس اقلیتوں کو ملک کے آئین میں دیئے گئے حقوق کے مطابق چل رہے ہیں ، اس لئے یہ ملک کے آئین کے مطابق ہیں

ویسے آزادی کے بعد ملک میں دو تعلیمی پالیسی کا نفاذ عمل میں آیا ھے ، رائٹ ٹو ایجوکیشن اور قومی تعلیمی پالیسی ، ماہرین تعلیم ، وکلاء اور دانشوران کے مطابق رائٹ ٹو ایجوکیشن سے مدارس مستثنی ہیں ، جہانتک قومی تعلیمی پالیسی کی بات ھے تو اس میں مدارس کے نصاب پر بحث نہیں ھے ، پھر بھی اس کی ضرورت ھے کہ آزاد مدارس میں نصاب تعلیم ، درجہ بندی ، ہاسٹل کا نظام ، درجات ، وغیرہ کے مناسب انتظام پر غور و فکر کیا جائے نیز ادارہ کے کاغذات ، ادارہ کا باضابط ریکارڈ ، سرکار کے ریکارڈ میں شامل کرنے کے لائحہ وغیرہ پر غور و خوض کے بعد گائڈ لائن جاری کیا جائے ،

دارالعلوم دیوبند میں اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہورہا ھے ، جبکہ ہر سطح پر مدارس پر گفتگو جاری ھے ، ایسے میں سب کی نظر دارالعلوم دیوبند پر تھی ، دارالعلوم دیوبند نے بروقت اجلاس کرنے کا فیصلہ کیا ، یہ اقدام قابل ستائش ھے ، امید ھے کہ اجلاس میں مدارس کے تحفظ ، نصاب تعلیم ، نظام تعلیم اور دیگر ضروری امور پر غور و فکر کیا جائے گا ، اور لائحہ تیار کر کے اہل مدارس کی رہنمائی کی جائے گی ، اللہ تعالی اجلاس کو کامیاب اور مدارس و ملت اسلامیہ کے لئے فال نیک بنائے.

Comments are closed.