جدیو کے رہتے ہوئے مدارس پر کوئی آنچ نہیں آسکتی : وجے چودھری

 

جمعیۃ علماء کے وفد نے ایم ایل سی خالد انور کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ وجے چودھری سے ملاقات کی

 

کشن گنج – پٹنہ 18 مئی (نامہ نگار) بہار خصوصاً سیمانچل کے دینی مدارس کو حالیہ دنوں میں جاری کیے گئے سرکاری نوٹس اور مدارس کو درپیش مختلف مسائل کے سلسلے میں جمعیۃ علماء بہار کے ایک اہم وفد نے حضرت مولانا عباس قاسمی صاحب کی قیادت میں معروف قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) جناب خالد انور کے دولت کدے پر بہار کے نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے کمار چودھری سے اہم ملاقات کی۔

 

وفد نے نائب وزیر اعلیٰ کو سیمانچل کے مدارس کو موصول ہونے والے نوٹس، خصوصاً زمین کے کاغذات، عمارتوں کے نقشہ جات اور مالی حسابات سے متعلق پیدا شدہ دشواریوں سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ علماء کرام نے مؤقف پیش کیا کہ بیشتر مدارس کی عمارتیں دس، پندرہ بلکہ بیس برس قبل تعمیر ہوئی ہیں، اُس وقت نقشہ منظوری کا کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا، لہٰذا موجودہ حالات میں ان امور کو بنیاد بنا کر مدارس کو پریشان نہ کیا جائے اور نوٹس کے بعض نکات پر نظرِ ثانی کی جائے۔

 

اس موقع پر علماء نے حکومتِ بہار کی سابقہ سیکولر پالیسیوں اور وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کے دور میں مدارس کے ساتھ مثبت رویے کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسی طرزِ عمل کو برقرار رکھا جائے تاکہ دینی ادارے بلا خوف و رکاوٹ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں۔

 

نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے چودھری نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت مدارس اور مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور آئندہ بھی تعاون جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے ذمہ داران اپنے تمام ضروری کاغذات درست کرکے متعلقہ محکموں میں جمع کریں، حکومت ہر ممکن سطح پر مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور کسی بھی مدرسے کے بند ہونے کی نوبت نہیں آنے دی جائے گی۔

 

اس ملاقات میں مولانا عباس قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء بہار)، مولانا محمد الیاس مخلص معاون نگران اصلاح معاشرہ کمیٹی جمعیتہ علماء صوبہ بہار، ماسٹر زاہد الرحمن، ڈاکٹر فیض احمد قادری، مفتی نسیم (ارریہ) سمیت سیمانچل کے درجنوں علماء شریک تھے۔

 

اس موقع پر ایم ایل سی جناب خالد انور نے نہ صرف اس اہم ملاقات کا اہتمام کیا بلکہ علماء کرام کی بھرپور میزبانی و خدمت انجام دی۔ انہوں نے وفد کے مطالبات کو نائب وزیر اعلیٰ کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا اور ترجمانی کی ذمہ داری بھی بخوبی نبھائی، جس پر وفد نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Comments are closed.