مغربی بنگال کی بگڑتی صورت حال اور وندے ماترم کی لازمیت باعث تشویش :امیر شریعت
پھلواری شریف پٹنہ: 18 مئی(پریس ریلیز)امیر شریعت بہار اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال حضرت مولانا سیداحمد ولی فیصل رحمانی نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اس وقت پورے ملک کی جو صورتحال ہے وہ انتہائی تشویش ناک ہے ،خصوصاََ مغربی بنگال میں نئی حکومت کےاقتدارمیں آنے کے بعد مسلمانوں کی جان و مال عزت و آبرو مساجد وغیرہ کو خطرات لاحق ہیں ،وہاں جو تشدد پھوٹ پڑا ہے اس کے سب سے زیادہ شکار مسلمان ہیں، نفرت کی ایسی آ بیاری کی گئی ہے کہ گنگا جمنی تہذیب کا جنازہ نکل رہا ہے،بھائی چارگی اور محبت کی جگہ نفرت نے لے لی ہے ، امن وامان کو خطرہ لاحق ہے ، ہر شہری بے چین اور خوف محسوس کررہا ہے ،جو لااینڈ آڈر پر سوالیہ نشان کھڑا کررہا ہے ،ایسی صورت حال میں حضرت امیر شریعت کا حکومت مغربی بنگال سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ اپنے صوبہ میں امن وامان کی فضاء قائم رکھے بدامنی اور نفرت کا خاتمہ کرے ہرشہری کو اس کا واجب حق دے، عدل و انصاف کی راہ اختیار کرے ،آئین اور دستور کی بالادستی قائم کرے ،صوبہ میں جاری تشدد اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی مہم کو سختی سے روکا جائے تاکہ حالات معمول پر آئیں اور ہند وستان کی دیرینہ گنگا جمنی تہذیب محفوظ رہ سکے ۔
دوسری حکومت مغربی بنگال کی طرف سے وندے ماترم کے سلسلہ میں جاری سرکولر کو لےکر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امیر شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے فرمایا کہ نظم وندے ماترم کی اصل روح دیوی ،درگاہ کی حمد وثناء پر مبنی ہے ، اس کو لازمی قرار دینا مذھبی اور شخصی آزدی کے قطعی خلاف ہے۔انہوں نےمزید فرما یاکہ ملک آئین ودستور سے چلے گا کیونکہ دستور کے معماروں نے ملک کے دستور کو سیکولر ڈھانچہ میں تشکیل دیا ہے ، جس میں تمام مذاہب وادیان کو مذہبی آزادی حاصل ہے ، یہاں کے تمام باشندے اپنے مذہب وعقیدے پر آزادانہ طریقہ پر عمل کرتے ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے اور وندے ماترم گیت میں دیوی دیوتا ؤں کو ماں تصور کرنے کا نظریہ پیش کیا گیا ہے ، ماضی میں بھی یہ قضیہ کھڑا ہواتھا ملک کے پہلے وزیر اعظم جناب جواہر لال نہرو نے واضح کردیا تھا کہ یہ ترانہ اپنے مخصوص تہذیب میں روایت سے وابستہ ہے ، اس کو ملکی وحدت قرار دینے سے مشکلات پیداہوں گی ، تحریک آزادی کے قائد اور ملک کےپہلے وزیر تعلیم حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ اس طرح کے ترانوں سے قومی یکجہتی میں شگاف پیدا ہوسکتا ہے ، بالآخر یہ مسلمانوں کے ایمان وعقیدے کے منافی ہے جس کو ہم کسی طرح تسلیم نہیں کریں گے ، کیوں کہ مذہبی آزادی ہمارا بنیادی حق ہے ۔
ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ ،جھارکھنڈومغربی بنگال جناب مولانا مفتی محمد سعیدا لرحمن قاسمی صاحب نے فرمایاکہ ملکی عدالتوں نے اس ترانے کو سیکولر اقدار کے منافی قرارد یا ہے، اس کے باجود مغربی بنگال حکومت کا وندے ماترم گانے پر اصرارکرنا دستور وآئین اورعدالتی فیصلوں کے قطعی خلاف ہے، اس سےیکجہتی قائم نہیں رہ سکتی ہے ، لہٰذا ملکی وحدت وسالمیت کے پیش نظر حکومت اپنے نوسرکولر کو واپس لے تاکہ جمہوری اقدار قائم رہیں ، انہوں نے مزید فرمایاکہ اس ملک کو بنانے وسنوارنےاورانگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، ہزاروں کی تعدا د میں مسلمان شہید ہوئے ، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، ان کی سرفروشانہ کوششوں کے نتیجہ میں ملک آزاد ہوا،اور یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ قرار پایا اور تمام مذاہب وادیان کا خیال رکھتے ہوئے دستور بنایا گیا،لہذا ان پر کوئی ایسے نامناسب کلمات وگیت کو قومی ترانہ کا نام دے کر پڑھنے پر مجبور کرنا کسی طرح بھی قبول نہیں ہے ۔ اس لیے ہمارا حکومت مغربی بنگال سے مطالبہ ہے کہ فورا ًاس کو واپس لے تاکہ امن وامان قائم رہے اور محبت وبھائی چارگی کی فضا ہموار ہو۔
Comments are closed.