لکھنؤ میں وکلا پر لاٹھی چارج اور بلڈوزر کی سیاست
(حافظ)افتخاراحمدقادری
iftikharahmadquadri@gmail.com
ہندوستان میں جمہوریت کی اصل طاقت صرف انتخابات، پارلیمنٹ یا حکومتوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی دیکھی جاتی ہے کہ ملک کے آئینی ادارے، انصاف فراہم کرنے والے نظام اور شہری حقوق کس حد تک محفوظ ہیں۔ عدالتیں اگر انصاف کا استعارہ ہیں تو وکلا اس نظام کی وہ بنیادی کڑی ہیں جو عام آدمی اور عدالت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن جب عدالتوں کے باہر کھڑے وہی وکلا جو برسوں سے قانون اور آئین کی تشریح کرتے آئے ہوں، خود لاٹھی چارج، بلڈوزر کارروائی اور سرکاری سختی کا شکار بن جائیں تو معاملہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں رہتا بلکہ یہ پورے جمہوری ڈھانچے پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
راجدھانی میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر بنے وکیلوں کے چیمبروں کو ہائی کورٹ کی جانب سے ناجائز قبضہ قرار دیے جانے اور اس کے بعد نگر نگم و پولیس کی مشترکہ کارروائی نے نہ صرف وکلا برادری کو مشتعل کیا بلکہ اس نے ملک میں بلڈوزر سیاست، انتظامی بے حسی، عدالتی فیصلوں کے نفاذ کے طریقہ کار اور ریاستی طاقت کے استعمال پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز نے پورے ماحول کو مزید سنگین بنا دیا۔ کہیں پولیس لاٹھیاں برساتے ہوئے نظر آئی تو کہیں وکیل پتھراؤ کرتے دکھائی دیے۔ ایک طرف سرکاری مشینری عدالتی حکم کی تعمیل کا دعویٰ کرتی رہی تو دوسری طرف وکلا اسے اپنی عزت، روزگار اور پیشہ ورانہ وقار پر حملہ قرار دیتے رہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر کسی جگہ ناجائز قبضہ ہے تو کیا اس کو ہٹایا نہیں جانا چاہیے؟ یقیناً قانون کی حکمرانی یہی تقاضا کرتی ہے کہ سڑکوں، سرکاری زمینوں اور عوامی مقامات پر غیر قانونی تعمیرات ختم کی جائیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر ناجائز قبضہ یکساں معیار سے دیکھا جاتا ہے؟ کیا قانون صرف کمزور طبقات، چھوٹے تاجروں، غریبوں، دکانداروں اور اب وکلا پر ہی نافذ ہوتا ہے یا طاقتور حلقوں پر بھی اسی شدت کے ساتھ کارروائی کی جاتی ہے؟ ہندوستان کے موجودہ سیاسی ماحول میں یہ سوال اس لئے بھی اہم ہوگیا ہے کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں بلڈوزر ایک انتظامی آلہ کم اور سیاسی علامت زیادہ بنتا جا رہا ہے۔ وکلا نے کارروائی رکوانے کے لئے سڑک کنارے ایک علامتی مندر تعمیر کر دیا تاکہ بلڈوزر اس حصے تک نہ پہنچ سکے۔ لیکن جب نگر نگم کی ٹیم نے اس علامتی ڈھانچے کو بھی منہدم کر دیا تو وکلا مشتعل ہوگئے اور مذہبی کتاب کی بے حرمتی کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج شروع کردیا۔ ہندوستان جیسے مذہبی حساسیت رکھنے والے ملک میں اس نوعیت کے واقعات محض قانونی تنازع نہیں رہتے بلکہ فوراً سیاسی اور سماجی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد ماحول کشیدہ ہوگیا اور پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ یہاں ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وکلا نے آخر اس حد تک جانے کی ضرورت کیوں محسوس کی کہ ایک علامتی مذہبی ڈھانچہ کھڑا کیا جائے؟ دراصل ہندوستان کی موجودہ سیاست میں مذہب کو جس طرح ایک حفاظتی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے، اس نے سماج کے مختلف طبقات کو یہ پیغام دیا ہے کہ شاید مذہبی شناخت ہی وہ واحد چیز ہے جس کے سامنے سرکاری طاقت رک سکتی ہے۔ یہ صورت حال خود ہمارے جمہوری مزاج کے لئے خطرناک ہے۔ جب قانون سے زیادہ اثر مذہبی علامتوں کا ہونے لگے تو پھر ریاستی عملداری اور آئینی توازن دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ وکلا کا یہ مؤقف بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے وہاں چیمبر بنا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تعمیرات واقعی غیر قانونی تھیں تو پھر اتنے برسوں تک انتظامیہ خاموش کیوں رہی؟ کیا سرکاری ادارے اس صورتحال سے ناواقف تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے بیشتر شہروں میں سرکاری زمینوں پر تعمیرات، تجاوزات اور غیر منظم ڈھانچے ایک تلخ حقیقت بن چکے ہیں۔ یہ سب کچھ اکثر مقامی انتظامیہ، سیاسی سرپرستی اور وقتی مفادات کے تحت پنپتا رہتا ہے۔ برسوں تک خاموشی اختیار کی جاتی ہے، پھر اچانک کسی عدالتی حکم یا سیاسی ضرورت کے تحت انہی تعمیرات پر بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی، روزگار اور شناخت ان جگہوں سے وابستہ کر لی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں وکلا پر لاٹھیاں برساتے ہوئے پولیس اہلکار صاف نظر آئے۔ اگرچہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس پر پتھراؤ کیا گیا اور حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کا استعمال آخری راستہ تھا یا پہلا ردعمل؟ ہندوستانی پولیس کا مزاج بدقسمتی سے اب بھی نوآبادیاتی دور کے اثرات سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکا۔ احتجاج، اختلاف یا مزاحمت کو اکثر امن و قانون کا مسئلہ سمجھ کر طاقت سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر معاملات مذاکرات سے حل ہونے کے بجائے تصادم میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
وکلا برادری کا احتجاج محض چیمبر بچانے کی لڑائی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک نفسیاتی اور سماجی بے چینی بھی موجود ہے۔ وکلا خود کو عدالتی نظام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ جب انہی وکلا کو عدالت کے باہر پولیس کے ڈنڈوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے انصاف کے پورے نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب وکلا اور پولیس آمنے سامنے آئے ہوں۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی ہو چکے ہیں۔ کئی مرتبہ وکلا نے پولیس پر زیادتی کا الزام لگایا اور کئی مرتبہ پولیس نے وکلا پر قانون ہاتھ میں لینے کا۔ لیکن ہر بار یہ سوال باقی رہ گیا کہ آخر ریاست اپنے ہی اداروں کے درمیان اعتماد کیوں قائم نہیں کر پا رہی؟ اس واقعہ میں ایک وکیل کی جانب سے خودکشی کی دھمکی دینا بھی معمولی بات نہیں۔ یہ دراصل اس شدید ذہنی دباؤ اور بے بسی کی علامت ہے جس کا سامنا وہ لوگ کرتے ہیں جن کے روزگار پر اچانک بلڈوزر چل جاتا ہے۔ ہندوستان میں جب بھی انہدامی کارروائیاں ہوتی ہیں تو سرکاری بیان یہی ہوتا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات ہٹائی جا رہی ہیں۔ لیکن اس پورے عمل میں انسانی پہلو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ان تعمیرات سے کتنے خاندانوں کا رزق وابستہ تھا، کتنے لوگوں نے اپنی پوری زندگی وہاں گزاری، اور اچانک بے دخلی کے بعد ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ کیا حکومت اور انتظامیہ نے وکلا کے لئے کوئی متبادل انتظام سوچا تھا؟ اگر چیمبر واقعی ہٹانا ناگزیر تھا تو کیا بار ایسوسی ایشن سے بات چیت کر کے کوئی متبادل جگہ فراہم نہیں کی جا سکتی تھی؟ کیا مرحلہ وار منصوبہ بندی ممکن نہیں تھی؟ بدقسمتی سے ہمارے انتظامی نظام میں انسانی وقار کے ساتھ مسائل حل کرنے کے بجائے طاقت کے مظاہرے کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بلڈوزر کارروائیاں ایک سیاسی بیانیہ بن چکی ہیں۔ حکومتیں انہیں قانون کی عملداری قرار دیتی ہیں جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ طاقت کے غیر متوازن استعمال کی علامت ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ غیر قانونی تعمیرات ہٹائی جائیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا قانون سب کے لئے برابر ہے؟ اگر بلڈوزر واقعی انصاف کی علامت ہے تو پھر وہ صرف مخصوص علاقوں، طبقات یا کمزور حلقوں تک محدود کیوں دکھائی دیتا ہے؟ وکلا کے خلاف کارروائی نے اس لئے بھی زیادہ توجہ حاصل کی کیونکہ یہ طبقہ سماج میں تعلیم یافتہ، منظم اور قانونی شعور رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہی طبقہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے تو عام آدمی کے احساسات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستان میں قانون اور انتظامیہ کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالتی احکامات کی تعمیل ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ انسانی وقار، سماجی حساسیت اور جمہوری اصولوں کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ عدالتوں کے باہر چیمبر بنانا کوئی نئی روایت نہیں۔ ملک کی کئی عدالتوں کے اطراف اسی طرح کے ڈھانچے برسوں سے موجود ہیں۔ ان میں سے اکثر غیر رسمی طریقے سے قائم ہوئے اور وقت کے ساتھ ایک نظام کا حصہ بن گئے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہندوستانی عدالتی ڈھانچہ خود اتنا منظم نہیں کہ ہر وکیل کو مناسب جگہ فراہم کر سکے۔ ایسے میں وکلا نے اپنی ضرورت کے تحت چھوٹے چھوٹے چیمبر قائم کئے۔ یقیناً اس کا مستقل حل ہونا چاہیے لیکن حل کا مطلب صرف انہدام نہیں ہوتا۔ عدالتیں اگر تجاوزات ہٹانے کے احکامات دیتی ہیں تو ان کا مقصد شہری نظم و نسق کو بہتر بنانا ہوتا ہے، لیکن عدالتوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ ہر حکم کے سماجی اثرات ہوتے ہیں۔ صرف قانونی نقطہ نظر کافی نہیں ہوتا، انسانی پہلو بھی اہم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی جمہوری ممالک میں عدالتی فیصلوں کے نفاذ کے دوران بحالی، متبادل انتظام اور مذاکرات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ وکلا کی تین روزہ ہڑتال نے عدالتی نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان عام سائلین کو ہوگا جو پہلے ہی برسوں تک انصاف کے انتظار میں عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ ہندوستانی عدالتی نظام پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں اگر وکلا اور انتظامیہ کے درمیان تصادم بڑھتا ہے تو اس کا اثر پورے انصاف کے نظام پر پڑے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، عدلیہ، بار ایسوسی ایشن اور انتظامیہ سب مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا مستقل اور انسانی حل تلاش کریں۔ طاقت کے استعمال سے وقتی خاموشی تو حاصل کی جا سکتی ہے لیکن اعتماد بحال نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت صرف احکامات سے نہیں چلتی بلکہ مکالمہ، برداشت اور انصاف کے احساس سے مضبوط ہوتی ہے۔ راجدھانی میں پیش آنے والا یہ واقعہ دراصل ہندوستان کے موجودہ سیاسی و سماجی منظرنامے کی ایک جھلک ہے جہاں قانون، سیاست، مذہب، انتظامیہ اور عوامی جذبات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگر ریاستی طاقت کا استعمال اسی انداز میں جاری رہا اور انسانی پہلو مسلسل نظر انداز ہوتے رہے تو یہ خطرہ موجود رہے گا کہ عوام اور اداروں کے درمیان خلیج مزید گہری ہوتی جائے گی۔ وکلا کے چیمبروں پر چلنے والا بلڈوزر صرف اینٹ اور سیمنٹ نہیں گرا رہا تھا بلکہ اس نے کئی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا قانون کی حکمرانی کا مطلب صرف انہدامی کارروائیاں ہیں؟ کیا جمہوریت میں احتجاج کی آواز کو لاٹھی سے دبایا جا سکتا ہے؟ کیا ریاستی طاقت کے استعمال میں انسانی وقار کی کوئی جگہ باقی رہ گئی ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ کیا ہندوستان واقعی ایک ایسا سماج بن رہا ہے جہاں مسائل کا حل مکالمے کے بجائے بلڈوزر اور لاٹھی چارج سے تلاش کیا جائے گا؟ یہ سوالات محض وکلا کے نہیں بلکہ پورے ملک کے ہیں اور جب تک ان سوالات کا منصفانہ جواب نہیں دیا جاتا تب تک انصاف کے دروازے پر کھڑی بے چینی ختم نہیں ہوگی۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Comments are closed.