حضورؐ کی ختم نبوت کا تحفظ سب سے بڑی عبادت: مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی

تحفظ ختم نبوت ؐ و تحفظ حدیث کانفرنس کی تیاریوں کے تعلق سے اجیت گنج و بانسمنڈی میں علماء و دانشوران کی نشستیں منعقد
کانپور(پریس ریلیز)جمعیۃ علماء شہر و مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کے زیراہتمام شہر کے تاریخی میدان رجبی گراؤنڈ پریڈ میں 6/نومبر بروز اتوار کو منعقد ہو رہی عظیم الشان ’تحفظ ختم نبوت و تحفظ حدیث کانفرنس‘ کی تیاریاں شہر بھر میں جاری ہیں۔ اسی ضمن میں مسجد محمودیہ اجیت گنج میں بابوپوروہ، قدوائی نگر، مچھریا، جوہی نہریا، لال کالونی سمیت حلقہ ساؤتھ اور مسجد خیر بے بیز کمپاؤنڈ میں بانسمنڈی، ڈپٹی پڑاؤ، چمن گنج سمیت دیگر حلقوں کے علمائے کرام ائمہ مساجد و دانشواران کی اہم نشستیں منعقد ہوئیں۔
نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے تحفظ ختم نبوت کانپو ر کے صدر و کانفرنس کے روح رواں مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے ذمہ داران اور خواص سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں ہماری صفوں میں کچھ لوگ دینداروں کا لبادہ اوڑھ کر باطل فتنوں کے پیروکار عام فہم مسلمانوں کا عقیدہ خراب کرنے میں لگے ہوئے ہیں، ابجبکہ نبی کو آنا نہیں ہے،،صحابہ دنیا میں رہے نہیں، خیر القرون کا دور ختم ہو گیاتو اب ہمیں اور آپ کو ہی اللہ کی توفیق سے لوگوں کے عقائد کو بچانے کا کام کرنا ہے اور اس یقین کے ساتھ کرنا ہے کہ اللہ ہمارا یہی کام انشاء اللہ قبول کریں گے۔ اس لئے اگر ہم بھی اس اہم کام کی فکر نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ اگر ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیا تو اللہ کیلئے دوسری قوموں سے کام لینا کوئی مشکل نہیں ہے، اس لئے دین و عقائد کی حفاظت کے کام کو ہم اپنے لئے سعادت کی بات سمجھیں۔ حضورؐ کی ختم نبوت کا تحفظ سب سے بڑی عبادت ہے۔ مولانا نے بتایا کہ ہمارا ایمان و عقیدہ ہے کہ نبی کریم حضرت محمدﷺ واجب الاطاعت ہیں اور اطاعت تبھی ممکن ہے جب ہمیں یہ یقین ہو کہ نبیؐ کی تعلیمات محفوظ ہیں، اب اگر کوئی آکر یہ کہے کہ حضور ؐ کے بعد کوئی دوسرا نبی آسکتا ہے تو اس مطلب یہ ہوا کہ ابھی نبیؐ کی تعلیمات میں تحریف بھی ہو سکتی ہے یا کوئی احادیث کا انکار کرنے والا یہ کہے کہ احادیث کا اعتبار نہیں تو معاذ باللہ نبی ؐ کی تعلیمات محفوظ نہیں رہ جائیں گی اور جب نبیؐ کی تعلیمات ہی محفوظ نہیں رہ جائیں گی تو اللہ کے نام کے ساتھ ساتھ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، مدرسہ، مسجد، خانقاہیں،دعوت و تبلیغ سمیت دین سمجھ کرکئے جانے والے تمام کام مشکوک ہو جائیں گے۔ اس لئے ختم نبوتؐ کے تحفظ کی اہمیت و ضرورت کو سمجھا جائے، دین کے نام پر لوگوں کے عقائد میں خرابی پیدا کرنے والوں سے عوام کو بچایا جائے۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہاں کسی کے ساتھ بحث اور دیگر چیزوں میں الجھ کر معاملات خراب نہیں کئے جا سکتے ہیں لیکن اپنے عوام کو صحیح عقائد سے واقف تو کرا ہی سکتے ہیں، اتنی اجازت تو ہمیں آئین اور قانون بھی دیتا ہے کہ صحیح بات لوگوں تک پہنچائیں، انہیں گمراہ ہونے بچائیں۔
مسجد محمودیہ اجیت گنج کے امام وخطیب مولانا انصار احمد جامعی نے کہا کہ امت کے عقیدہ کی حفاظت کرنا اور گمراہی سے بچانا فرض عین ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے شہر کے رجبی گراؤنڈ میں ایک اہم پروگرام تحفظ ختم نبوت و تحفظ حدیث کے عنوان سے 6نومبر کو رجبی گراؤنڈ پریڈ میں رکھا گیا ہے۔ جس میں دار العلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانامفتی ابو القاسم نعمانی،نائب مہتمم مفتی محمد راشد اعظمی، ہردوئی سے مولانا شاہ افضال الرحمن، لکھنؤ سے مولانا عبد العلیم فاروقی، مہاراشٹر سے مولانا سید محمد طلحہ قاسمی نقشبندی کے علاوہ ملک کے دیگر اکابر علمائے کرام تشریف لا رہے ہیں۔ ہمیں اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کیلئے ہر لائن سے اپنا تعاون دینا ہے، عوام کو عقائد کی اہمیت بتلاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں کانفرنس میں ان کی شرکت کو یقینی بنانا ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کے نائب ناظم مولانا امیر حمزہ قاسمی نے کہا کہ ختم نبوت، حجیت حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حدیث کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی ہے، قرآن وحدیث میں فرق یہ ہے کہ قرآن میں لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہیں، حدیث میں لفظ رسول اللہﷺکے ہیں لیکن مراد اللہ کے ہیں۔حدیث کو ماننے اور رسول اللہﷺ کی اطاعت کا حکم قرآن میں کئی جگہمذکورہے بلکہ جہاں جہاں پر اللہ کی اطاعت کا حکم دیا گیاہے وہاں پر اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ حدیث کے بارے میں یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ حدیث محفوظ نہیں ہے حالانکہ جب اللہ نے حدیث کو ماننے اور رسولﷺ کی اطاعت کا حکم دے دیا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس حدیث کو محفوظ بھی رکھیں گے۔ احادیث کے منکر درحقیقت اللہ تعالیٰ اعتراض کرتے ہیں کہ حدیث محفوظ نہیں ہے، گویا وہ یہ مانتے ہیں کہ دین محفوظ نہیں ہے۔انہیں عقائد کی باتوں کو تفصیل سے عوام کے سامنے بیان کرنے کیلئے 6نومبر کو رجبی گراؤنڈ پریڈ میں بڑے پیمان پرکانفرنس منعقد کی جا رہی ہے جس میں اکابر علمائے کرام تشریف لائیں گے۔ زیادہ سے زیادہ عوام کو اس میں پہنچنے کیلئے آمادہ کرکے عقائدکی حفاظت کے کام میں اپنا حصہ لگانا ہے۔
نشستوں میں شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں،زبیر احمد فاروقی، کنوینر کانفرنس مفتی اظہار مکرم قاسمی، مولانا آفتاب عالم قاسمی، مولانا کلیم احمد جامعی، مفتی محمد سعید خاں قاسمی، مولانا ظفر عالم ندوی،مولانا کامران غنی، مولانا ارشد قاسمی، مولانا محمد رضوان جامعی، حافظ اشتیاق رسول، مولانا محمد عفان جامعی، مولانا شکیل عالم ندوی، مولانا توحید احمد ندوی، حافظ محمد زبیر، مولانا محمد طفیل، حافظ محمد توفیق، حافظ فضل الرحمان، مولانا مطلوب عالم ندوی، مولانا محمد سلمان قاسمی، حافظ نجم الہدی، مولانا یٰسین جامعی،مولانا عدیل ندوی، مولانا ابرار، حافظ علی احمد، مولانا نور محمد، مولانا حذیفہ خرم، حافظ شارق، قاری عبید، حافظ فیضان، محمد زید، عبد الرحمن، صادق امین کے علاوہ کثیر تعداد میں علمائے کرام، ائمہ مساجد و دانشوران موجود رہے۔

Comments are closed.