تقابلی ذہن خطرناک ہے

 

محمد صابر حسین ندوی

 

تقابل ترقی کا ضامن ہے، مگر اس کے دائرے طے ہیں، اگر ان میں تحاسد کا ایک ذرہ بھی پایا گیا تو پھر یہی تقابل زہر بن جاتا ہے اور پورا معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے، آخر یہ کیا ضروری ہے کہ ہر انسان خود کو دوسروں سے compare کرے، اپنی صلاحیتوں، قابلیتوں اور کارناموں کو دوسروں کے ترازو میں رکھ کر سوچے، اپنی زندگی کا موازنہ وہ دوسروں سے کرے، ہر بات میں پیمائش و پیمانے تلاش کرے، یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق اپنے آپ میں نایاب ہے، سبھی اپنے آپ میں انفرادیت، تنوع، نیرنگی اور خوبصورتی کا شاہکار ہیں، اس کی اندرونی صفات اور بیرونی ساخت کا کوئی جواب نہیں، دیکھنے اور سمجھنے والوں کیلئے عبرت کا نشان ہیں، انسانوں ہی کے درمیان نیرنگ و خوش رنگ چہرے مہرے دنیا کی رعنائیوں میں اضافہ کرتے ہیں، ہر ذرہ یہاں کا مہ پارہ ہے، سیارہ ہے، یہ ہماری بڑی نادانی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے تقابل کر کے اس کی صفات و ساخت کو گزند پہنچاتے ہیں، اس کی خوبصورتی کو داغ دار کرتے ہیں، دراصل یہ ہماری جانب سے سخت ترین ناشکری کا عمل ہے، ہم گویا اللہ تعالیٰ پر اشکال کرتے ہیں، اس کی فوقیت و علو مرتبت پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں، ہمارا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم رب العالمین کی ربوبیت سے مطمئن نہیں، اس کی خلاقیت اور رزاقیت سے کوئی اعتراض ہے، یہ ایسا ہی ہے کہ ایک غلام اپنے مالک پر دھونس جمائے اور کہے کہ اس کے ساتھ ویسا ہی رویہ اختیار کیا جائے جیسا کی وہ چاہتا ہے، حالانکہ اس کا سارا وجود اسی کی رہیں منت ہے، اس کی ایک ایک سانس اسی کی بدولت ہے، اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی بڑی وجہ یہی تقابلی ذہن ہے، کوئی بھی شخص اطمینان کی سانس لینا نہیں چاہتا، اسے یہ نہیں لگتا کہ جو کچھ رب ذوالجلال نے عطا کیا ہے اس کے حق میں وہی بہتر ہے، اس کا رب سب کچھ جانتا ہے، اس کیلئے کیا خیر ہے اور کیا شر؛ وہی سب سے بہتر اور زیادہ جاننے والا ہے، ہمارا علمی دائرہ تنگ ہے، حواس خمسہ کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں، ہم سوچنے سمجھنے کی اگرچہ صلاحیت رکھتے ہیں؛ لیکن پس پردہ سے واقف ہونا ہمارے بَس کی بات نہیں ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ ہے جو ہر چیز کو جانتا ہے، وہ پس دیوار اور نوشتہ دیوار ہر چیز سے واقف ہے.

حقیقت تقابلی ذہن پیدا ہونے کی وجہ بھی یہی بے اطمینانی اور ایمان کی کمی بنتی ہے، انسان اپنی عقل کو کل تسلیم کر لیتا ہے، جہان فانی کو دائمی زندگی اور تندرستی کو زوال پر فوقیت دینے لگتا ہے، اس سے گھر بگڑتے ہیں، معاشرہ تباہ ہوتا ہے اور ممالک بھی قحط میں پڑ جاتے ہیں، اسی طرح یہ تقابلی مزاج انسانوں کی کمزوری ہے، چنانچہ یورپ نے اس تقابلی عنصر کو پرکھا اور اسے ایک کمزور نَس جان کر خوب دباتا چلا گیا، فرد و جماعت کو احساس کمتری یا احساس برتری میں مبتلا کر کے معاشرے کا توازن بگاڑ دیا، سب سے زیادہ اسے نَر و مادہ کے درمیان تعلقات اور مسائل کو اٹھانے اور ایک دوسرے کو مدمقابل کھڑا کرنے کیلئے استعمال کیا گیا، ایک ایسا معاشرہ بنا دیا گیا کہ جہاں مرد اور عورت ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے اور فوقیت ثابت کرنے کو ضروری سمجھیں اور اسی فکر میں بربادی ان کا مقدر بن جائے، قرآن مجید نے ایسے تقابلی اذہان کو مخاطب کیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ وَ سْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا. (نساء:٣٢) "اﷲ نے تم میں سے بعض کو بعض پر جو فضیلت عطا فرمائی ہے ، اس کے بارے میں ہوس مت کرو ، مردوں نے جو عمل کئے ہیں ، وہ ان کا حصہ ہے ، اورعورتوں نے جو عمل کئے ، وہ ان کا حصہ ہے ، ہاں !اﷲ سے اس کے فضل و کرم کی التجا کرتے رہو ، بے شک اﷲ ہرچیز سے خوب واقف ہیں ۔” – – – دراصل بعض خواتین کو رشک ہوا کہ مرد جہاد میں شریک ہوتے ہیں اور ہم عورتیں اس فضیلت سے محروم ہیں ، میراث میں بھی مردوں کا حصہ بہ مقابلہ عورتوں کے زیادہ ہے ، اسی موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی ، ( ابن کثیرؒ : ۱؍۵۹۷ ) مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب واقف ہیں کہ کس میں کیا صلاحیت ہے ؟ کس سے کیا ذمہ داریاں متعلق ہونی چاہئیں ؟ اور ذمہ داریوں کی نسبت سے کن کے کیا حقوق ہوں گے ؟ اس لئے ایسی چیزوں پر حسد نہ ہونا چاہئے ، آج پوری دنیا میں عورتوں کی آزادی کے نام پر جو تحریک چلائی جارہی ہے اور عورتوں اور مردوں کو ایک صف میں کھڑا کردینے کی کوشش کی جارہی ہے ، یہ اسی نا سمجھی کا نتیجہ ہے ، جب انسان کی تخلیق اللہ نے کی ہے ، تو یقیناً اللہ اس بات سے واقف ہیں کہ کس کے کیا فرائض ہونے چاہئیں ؟ اس کی رعایت کئے بغیر غیر فطری مساوات پیدا کرنے کی کوشش سے مساوات تو پیدا نہ ہوسکے گا ؛ لیکن فطرت سے بغاوت کی سزا انسان کو ضرور ملے گی ، مغرب میں خاندانی نظام کا بکھراؤ ، ازدواجی زندگی کی بے ثباتی اور قلبی سکون سے محرومی کی جو کیفیت ہے ، وہ اسی بغاوت کی سزا ہے. (دیکھئے: آسان تفسیر قرآن مجید)

Comments are closed.