کیجریوال دھیرےدھیرے
محمدطفیل ندوی
جنرل سکریٹری! امام الہندفاؤنڈیشن ممبئی
آج سے تقریبا۱۱؍سال قبل ایک تحریک چلی تھی جس کانام تھا’’ اناہزارےتحریک‘‘ جنہیں گاندھیائی لیڈرکے لقب سے بھی نوازاگیاجس کاظاہرااولین مقصد لوک پال بل لاناتھا ،مذکورہ تحریک رام لیلامیدان میں بھوک ہڑتال سےشروع ہوئی اورآہستہ آہستہ جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اورسابقہ کامیاب تحریک میں اپنانام درج کرانےمیں کامیاب ہوگئی ،میڈیائی طورپر بھی اسے خوب شہرت ملی اور ہندوستان کی عوام نے بھی اس تحریک کو اپنی تحریک سمجھ کر مکمل تعاون پیش کیا، ملک کےمختلف ریاستوں میں اس کی کامیابی کیلئے ریلیاں نکالی،بڑے بڑے سیاسی لیڈران ،حکمراں طبقہ بھی اوراپوزیشن کاخیمہ بھی اس تحریک کواپنی کامیابی وناکامی کیلئے ایک چیلنج کےطورپردیکھنےلگے،اس تحریک میں لاکھوں کی تعدادتھی اوراسٹیج بھی کئی چہروں کو اپنی گودمیں جگہ دئیےہوئےتھا انہیں میں گاندھیائی لیڈرکے اردگرد چندچہرے خاص طورپرنمایاں تھے جس میں کماروشواس ،سپریم کورٹ کےوکیل پرشانت بھوشن،آشوتوش،کرن بیدی، یوگیندریادو،منیش سسودیااوردہلی کےوزیراعلی وعام آدمی پارٹی کےبانی اروندکیجریوال یہ وہ چہرےہیں جو خصوصی طورپرنمایاں تھے۔ ۱۶؍دن کے احتجاجی مظاہروں کےبعد یہ تحریک مکمل کامیاب تونہ ہوسکی مگرختم کردی گئی ،چندسال تک یہ تحریک سرخیاں بنتی رہی، اس کے خصوصی نمائندوں نے باضابطہ طورپر سیاسی میدان میں اپنی قسمت آزامائی کیلئے قدم رکھا، کسی نےکامیابی کی منازل طےکرتےہوئے اپنےقدم مضبوط کرلئےتوکسی نے ناکامی کودیکھتےہوئے اپنےقدم پیچھے کرلئے، اروندکیجریوال سیاسی میدان عمل میں آنےسےقبل ہندوستان کےکئی اہم عہدوں پراپنی ذمہ داری بحسن وخوبی انجام دےرہےتھے ،جب انہوں نے اپنی سیاسی عام آدمی پارٹی کی بنیادرکھی تواپنے قواعد وضوابط پیش کرتےہوئے کہاکہ ہم اچھی اورصاف ستھری سیاست کریں گے ،ملک کے جوموجودہ حالات ہیں تعلیم کی کمزوری، رشوت خوری، ہاسپٹل کی خراب حالت ،بیماروں اورکمزوروں کووقت پردوانہ ملنا ،خواتین کے تحفظ کافقدان ،ذات پات پرمبنی سیاست ان تمام چیزوں کوپیش کرتےہوئے کہاتھا کہ ہم ان تمام چیزوں کاخاتمہ کریں گے، اور ملک کو صاف ستھری سیاست دیں گے ،البتہ چندسالوں تک تواس پرعمل ہوتارہااورتقریبااب بھی ہورہاہےاوراس کے پس پشت کئی اہم قدم ایسےبھی اٹھائےگئےجوکسی ایک فرقےکیلئے افسوس کامقام رہا اسلئے ابھی اس چہرےکوپوری طرح سمجھنابہت مشکل ہےکیوں کہیہ حقیقت ہےکہ مختلف مواقع پر ان کی کارکردگی ایسی رہی جسے ثابت کرنےمیں ذارابھی دیرنہیں لگی کہ یہ ہندوستان کے تمام مذاہب کو لےکراپنی سیاست کوآگےبڑھاتورہےہیں مگر ایک فرقہ کی جانب کچھ عصبیت کی بوہے ،جب دہلی میںمسلم خواتین اپنے حقوق کیلئے شاہین باغ میں بیٹھی تو اس درمیان جوبھی واقعات ان کیساتھ پیش آرہےتھے اس سےوہ اپنےکوکلی طورپر الگ رکھا باوجوداس کےکہ دہلی فسادسے۱؍۲؍دن قبل کپل مشرانے جو شرمناک طورپر دھمکی آمیزلہجہ اختیارکیاتھا اس پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی کیوں کہ اس وقت الیکشن کاوقت تھا مزیدمذکورہ فسادکی جب تحقیقات سامنے آئی تو اس میں طاہرحسین کانام سامنےآیا بعدہ وبائی مرض نے جب پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لیاتو اس وقت بھی متعصبانہ رویہ اختیارکرتےہوئے مرکز نظام الدین پر جہاں دیگرممالک سے جماعتیں قیام پذیرتھی جنہیں کچھ مہلت بھی نہیں دی گئی اس مرکزپر ایف آئی آردرج کرانےکاحکم نامہ پیش کیا اورمختلف طریقےسےانہیں پریشان وحراساں کیاگیا لیکن اسی کورونا کےدورمیں کمبھ کامیلہ بھی اپنی پوری آب وتاب کیساتھ تیار تھا سب کو ڈرتھا کہ یہاں سے بھی مرض کےبڑھنےکاامکان ہےاتفاقایہی ہوابھی، مگر دہلی سے باقاعدہ بسیں بھی گئی ،وہاں سے غسل کرنیوالے اورشرکائے کمبھ دہلی آئیں جواپنے ساتھ کورونابھی لائیں لیکن ان پرکوئی کاروائی نہیں کی گئی ،خیراس وقت ریاست گجرات میں الیکشن ہےاورسب کو معلوم ہے کہ یہ اصل وزیراعظم نریندرمودی کامرکزہے اورساتھ ہی ساتھ وہ یہی کے رہنےوالے اورتین مرتبہ کےکامیاب وزیراعلی بھی ہیں ،ان سے بالواسطہ مقابلہ ہے اورسب کویہ بھی معلوم ہے کہ وزیراعظم کی شخصیت کس پہلوپر زیادہ وزنی ہے، ایسے مقابلےاورایسی شخصیت کےسامنے یقینامضبوطی سےمقابلہ کرناہے، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ عوام بھی اب تبدیلی چاہتی ہے ،لیکن مقابلہ آئین ہندکےتحت ہوناچاہیےخصوصاروزگار،تعلیم ،میڈیکل ،غرباءکی غربت کودورکرنا،تحفظ خواتین اورہرایک ہندوستانی کاتعاون وتحفظ یہ تمام نکات پیش نظرہوناچاہیےاوراسی مطالبےپر عوام سے ووٹ مانگناچاہیے مگران کوپس پشت ڈال کر مذہبی کارڈ کھیلنا اپنے موقف سے ہٹنےکے مترادف ہوگا شاید کیجریوال نےبھی اب یہ سوچ لیاہے کہ گجرات میں مذہبی کارڈ کھیلنا کامیابی کی اہم کڑی ہے، یہی وجہ ہےکہ انہوں نےمرکزی حکومت سے یہ مطالبہ کیاہےکہ ہندوستانی کرنسی پر گاندھی جی کےعلاوہ لکشمی اورگنیش جی کی تصاویرلگائی جائے یہ بات ،پیش کرتےہوئے انہوں نےدلیل دی ہے کہ یہ ملک کی گرتی معیشت کیلئے بہترہوگا کیوں کہ ہمیں اپنے (ہندوؤں)کے دیوی دیوتاؤں کے آشیرواد کی ضرورت ہے،ہم ہر صبح اپنے کاموں کی ابتداانہیںکے سامنے کھڑے ہوکر کرتےہیں،کیایہ مطالبہ کرتےہوئے انہیں یہ خیال نہیں آیا کہ وطن عزیز میں دیگرمذاہب کےلوگ بھی ہے،نیز ملک کاجوقانون وآئین ہے اس کاخیال نہیں آیا کہ ہم کیامطالبہ کررہےہیں ، ہمارے لئے یاکسی بھی دعویدارکیلئے یہ کہناکاصحیح ہوگاکہ ہم ان کی تصاویر کرنسی پرچھاپ دیں ،کیایہ کوئی دلیل ہے، ہرمذاہب کے لوگ صبح کام کی ابتدااپنےمذہب کے طورطریقےپرہی کرتےہیں توکیا ان کےمطالبےکوبھی قبول کیاجائے؟ کرنسی کاگرنا اورڈالرکامضبوط ہونا نیز مہنگائی کابوجھ عوام الناس پر ایک مضبوط چٹان کی طرح گرنایہ توہمیں پہلےسوچنا چاہیے کہ آخرمعاملہ کیاہے؟ آخر ہم اتنا پیچھےکیوںچلےگئے کہ جہاں ہماراملک امریکہ سے مقابلہ آرائی کیلئےخواب دیکھ رہاتھا وہاں ہم بنگلہ دیش سےبھی پیچھےہوگئے،روزبروزہما ری کرنسی کمزورہوتی چلی گئی ، ہم مہنگائی میں اتنا کیوں دب گئے ؟یہ تواس سے حل ہوگا کہ ہمارےملک میں جوفضولیات میں اخراجات ہورہےہیں( جیسے شہروں کانام تبدیل کرنا) اس کی روک تھام کی جائے،رشوت خوری کیساتھ مال میں جوخردبرد ہورہےہیں اس کو دورکیاجائے؟سڑکیں مضبوط ہوں اس طرح کمزورنہ ہو کہ افتتاح کےموقع پر ناریل پھوڑا جائے توسڑکیں اپنی کمزوری کاثبوت پیش کردیں ،وزیروزراءکی خریدوفروخت کرکے اربوں روپوںکی بربادی سےریاست کی حالت کومزیدخراب نہ کریں ان تمام نکات پربحث ہونےکیساتھ کام ہونا چاہیے، عام آدمی پارٹی کی بنیاد انہیں نکات پرتھی کہ ہم رشوت خوری اورجوخرد بردہورہےہیں اس کاخاتمہ کریں گے ،کہیں ایساتونہیں کہ وہ سیاست میں آنےکاایک بہانہ تھا البتہ اس میں کوئی دورائےنہیں کہ فی الوقت اسکول تعلیم ہاسپٹل ودیگر امورپر کام ہوئے لیکن کہیں نہ کہیں اب وہ اپنے راستےسے بھٹکتے ہوئے نظرآرہےہیں اورشاید وہ دھیرےدھیرےاسی آئیڈیالوجی پرعمل پیراہوجائے جو سیاست میں عام طورپردیکھاجاتاہے اورفی زمانہ سیاست میں مذہب کادخول بہت تیزی کیساتھ ہورہاہےاوراسے عملی جامہ بھی پہنایاجارہاہے ، خیر آگےآگےدیکھئےہوتاہےکیا ۔
Comments are closed.