اردو صحافت کی تعمیر و ترقی میں مدارس اسلامیہ کا کردار کے موضوع پر ہونے والے سیمینار کی تیاریوں کے حوالے سے آن لائن میٹنگ کا انعقاد
ممبئی (محمد طاہر ندوی/بی این ایس)
ہندوستان میں اردو صحافت کو دو سو سال مکمل ہوچکے ہیں، دوسوسال مکمل ہونے پر پورے ملک میں دوسو سالہ جشن اردو صحافت منانے کا سلسلہ جاری ہے، اس سلسلے میں بصیرت آن لائن اور رابطہ صحافت اسلامی ہند نے بھی اردو صحافت کی تعمیر و ترقی میں مدارس اسلامیہ کا کردار کے عنوان سے سیمینار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، گذشتہ دنوں بصیرت آن لائن نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کا اعلان بھی جاری کیا تھا، آج 31 اکتوبر بروز پیر رات 9 بجے اسی سلسلے میں ایک آن لائن میٹنگ منعقد کی گئی تھی تاکہ سیمینار کے تعلق سے مشورہ کیا جائے اور مشورہ کی روشنی میں سیمینار کی تیاریوں کو آگے بڑھایا جائے، یہ ان لائن میٹنگ بھوپال کے معروف عالم دین اور سینئر صحافی ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی، پروگرام کا آغاز بصیرت آن لائن کے سب ایڈیٹر مولانا محمد طاہر ندوی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا، میٹنگ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے رابطہ صحافت اسلامی ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا غلام مصطفی عدیل قاسمی نے میٹنگ کی کارروائی کو آگے بڑھایا اور میٹنگ کا ایجنڈا شرکا کے سامنے رکھا، بصیرت آن لائن کے چیف ایڈیٹر مولانا غفران ساجد قاسمی نے ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں موضوعات کا انتخاب کرنا ہے، پھر اس کے بعد مقالہ نگاروں کا انتخاب اور مقالات و مضامین کی ترتیب اور اس کی نشرواشاعت کے لیے مجلہ کمیٹی کی تشکیل، مولانا قاسمی نے تمام شرکا سے خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنے اپنے طور پر موضوعات کا انتخاب کرکے گروپ میں شئیر کریں، اسی طرح مقالہ نگاروں کے نام بھی منتخب کرکے گروپ میں اپنی رائے رکھیں، اس کے بعد مولانا غفران ساجد قاسمی نے مولانا غلام مصطفی عدیل قاسمی اور مفتی توصیف قاسمی کو ذمہ داری سونپی کہ وہ بقیہ اراکین کے مشورے سے مجلہ کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائیں، جس پر شرکاء نے مولانا غفران ساجد قاسمی کی تائید کی.
واضح رہے کہ سیمینار کے حوالے سے ابتدائی کوششیں شروع کی جاچکی ہیں اور ملک کے موقر تعلیمی ادارے اور ان کے سربراہان کو خطوط بھیجے جارہے ہیں، اس آن لائن میٹنگ میں شرکت کرنے والوں میں بصیرت آن لائن کے اسسٹنٹ ایڈیٹر نفیس اختر ،مفتی غلام رسول قاسمی، مولانا عبدالرحمن قاسمی چمپارنی، مولانا توفیق قاسمی چمپارنی وغیرہ قابل ذکر ہیں.
Comments are closed.