مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

شخصیت کی نشو و نما اور ملازمت کی اہلیت کے موضوع پر ورکشاپ
علی گڑھ 1 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس کے پوسٹ گریجویٹ طلباء کے لئے یونیورسٹی کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس (جنرل) کے تعاون سے ‘پرسنالٹی ڈیولپمنٹ اینڈ ایمپلائبلٹی ورکشاپ’ کا اہتمام کیا گیا۔
افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نشاط فاطمہ (چیئرپرسن، شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس) نے کہا کہ ورکشاپ سے طلباء کو مختلف شعبہ جات میں ملازمت کے لئے اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کا موقع ملا ہے۔
پروفیسر نشاط نے کہا کہ ورکشاپ میں تین تکنیکی سیشن ہوئے۔ پرسنالٹی ڈیولپمنٹ اور کیرئیر کونسلنگ پر ٹی پی او (جنرل) جناب سعد حمید نے ایک سیشن کنڈکٹ کیا جب کہ ڈاکٹر مزمل مشتاق نے آجر سے پیدا ہونے والی توقعات اور رِچ اِسکل بینک پر ایک سیشن میں قیمتی معلومات فراہم کیں۔ ان کے علاوہ مسٹر احمد ندیم نے انٹرویو کا سامنا کرنے کے لئے درکار ہنر کے بارے میں گفتگو کی ۔
مسٹر سعد حمید نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنی سافٹ اسکلز کو بہتر کرنے پر توجہ دیں اور مثبت ذہن کے ساتھ منصوبہ بند طریقہ سے کام کریں۔
ڈاکٹر مزمل مشتاق نے طلباء پر زور دیا کہ وہ نظریاتی علم کے ساتھ ساتھ موضوع کے عملی پہلوؤں پر توجہ دیں۔
جناب احمد ندیم نے پرسنل انٹرویو کا سامنا کرنے کے طور طریقوں پر روشنی ڈالی اور ملازمت کی تفصیل اور آجروں کی ضروریات کے مطابق پرکشش سی وی ڈیزائن کرنے کے بارے میں قیمتی مشورے دئے۔ سبھی طلباء کو شرکت کا سر ٹیفکیٹ دیا گیا۔
پروگرام کی نظامت رومانہ نازی نے کی اور شاہد اختر نے شکریہ ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
الیکٹرانک لٹریچر اور مصنوعی ذہانت پر پانچ روزہ ـ’گیان‘ کورس کا اختتام
علی گڑھ، یکم نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی میں گلوبل انیشیئیٹیو آف اکیڈمک نیٹ ورکس (گیان) کے زیر اہتمام ”الیکٹرانک لٹریچر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ): تھیوری اینڈ پریکٹس آف ڈیجیٹل اسٹوری ٹیلنگ” موضوع پر ایک پانچ روزہ آن لائن کورس کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا۔
اختتامی تقریب میں پروفیسر پاولا کاربون نے ”ڈجیٹل اسٹوری ٹیلنگ کی تعریف” کے عنوان سے ایک خطبہ دیا، جب کہ پروفیسر محمد رضوان خان نے ”مصنوعی ذہانت اور روزگار” کے عنوان پر خطاب کیا۔ پروفیسر پاولا کاربون نے ایک دیگر سیشن میں ”ہائپر ٹیکسٹ ” پر گفتگو کرتے ہوئے مختلف تکنیکی پہلوؤں کا ذکر کیا۔ پروفیسر وبھا شرما کورس کے دوسرے دن کی ٹیچر انچارج تھیں۔
اس سے قبل کورس کے تیسرے دن کا آغاز اے آئی اور ہیومنیٹیز کے موضوع پر پروفیسر محمد رضوان خاں کے خطبہ سے ہوا۔ پروفیسر پاولا کاربون نے لوکل نیریٹیو کے عنوان پر خطاب کیا ۔ ان کا دوسرا لیکچر ”مقامی بیانیے کو کیسے پروجیکٹ کریں” موضوع پر تھا جس میں انھوں نے شرکاء کو میٹا ورس اور لوکل نیریٹیو کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے کہانی لکھنے کا طریقہ سکھایا۔
کورس کے چوتھے دن پروفیسر پاولا کاربون نے پوڈکاسٹ پر گفتگو کی اور فری ٹاک، اسکرپٹڈ فکشن وغیرہ پر اپنے تجربات بیان کئے۔
ٹیچر انچارج پروفیسر روبینہ اقبال نے تعلیمی شعبے میں کمپیوٹر پر مبنی لرننگ ٹولس ، پوڈ کاسٹ وغیرہ کے استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔
پانچویں دن پروفیسر پاولا کاربون نے اے آئی اور ڈجیٹل کلچر کے عنوان پر خطبہ دیا۔
اختتامی سیشن میں مہمان خصوصی پروفیسر عمر فاروق (شعبہ الیکٹرانکس، اے ایم یو) نے اے آئی کے مستقبل اور انسانی علوم پر اس کے ممکنہ اثرات پر گفتگو کی۔
شعبہ لسانیات کے پروفیسر ایم جے وارثی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورس نے بہت اچھے ریویو حاصل کیے ہیں۔
ایس انس احمد نے ورچوئل طریقہ سے تمام ریسورس پرسنز کو توصیفی اسناد پیش کئے، جب کہ بشریٰ احمد نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
٭٭٭٭٭٭
قومی یوم اتحاد پر مختلف پروگراموں کا انعقاد
علی گڑھ ، یکم نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور اس کے مختلف شعبوں میں راشٹریہ ایکتا دیوس (قومی یوم اتحاد ) کے موقع پر متعدد پروگرام منعقد کئے گئے ۔
سنٹر آف کنٹینیونگ اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن (سی سی اے ای ای) کے پروگرام میں پروفیسر عائشہ منیرہ رشید (ڈپٹی ڈائریکٹر) نے ملک کو متحد کرنے اور ہم آہنگی و امن کے لیے ایک تحریکی قوت کے طور پر کام کرنے میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر شمیم اختر نے سردار پٹیل کے پیغام کو یاد رکھنے کی اہمیت پر بات کی۔
پروفیسر عائشہ منیرہ اور ڈاکٹر شمیم نے بالترتیب انگریزی اور ہندی میں اتحاد کا حلف دلایا۔
شعبہ پلانٹ پروٹیکشن، فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز میں صدر شعبہ پروفیسر مجیب الرحمان خاں نے ’یوم اتحاد‘ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ملک کی تعمیر و ترقی میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سردار پٹیل ایک اعلیٰ اخلاقی کردار اور تدبر کے حامل انسان تھے، اور انہوں نے متحدہ ہندوستان کے اپنے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اولوالعزمی کے ساتھ کام کیا۔ انھیں بجا طور پر ‘آئرن مین آف انڈیا’ کہا جاتا ہے۔
پروفیسر محبوب حسن (چیئرمین، شعبہ پیتھالوجی، جے این میڈیکل کالج) نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
پروفیسر وینا مہیشوری نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ذات برادری اور مذہب سے بالاتر ہوکر امن و اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے کام کریں۔
ڈاکٹر شگفتہ قادری نے انگریزی میں جبکہ ڈاکٹر رقیہ افروز نے ہندی میں اتحاد کا حلف دلایا۔
جونیئر ریزیڈنٹس ڈاکٹر مادھوری اور ڈاکٹر میدھا نے ”کثرت میں وحدت ” کے موضوع پر پوسٹر بنائے جبکہ ڈاکٹر کراتی نے اتحاد پر اپنی ایک نظم سنائی۔ اس موقع پر کوئز مقابلہ بھی منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر بشریٰ صدیقی نے کی۔
ویمنس کالج میں قومی یوم اتحاد کے موقع پر ’’جدید ہندوستان کے معمار سردار پٹیل‘‘ کے موضوع پر حلف لینے کی تقریب کے ساتھ تقریر اور مضمون نویسی کا مقابلہ منعقد کیا گیا۔
پروگرام کنوینرپروفیسر نازیہ حسن اور ڈاکٹر صدف فرید نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے قومی یکجہتی کے وژن پر بات کی۔
نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) دفتر میں منعقدہ پروگرام میں پروگرام کوآرڈنیٹر ڈاکٹر ارشد حسین نے ہندوستان کے استحکام میں سردار پٹیل کی خدمات پر گفتگو کی۔
اے ایم یو سٹی گرلز ہائی اسکول میں قومی یوم اتحاد ایک ‘خصوصی اسمبلی’ کے ساتھ منایا گیا جس میں اساتذہ نے ملک میں اتحاد کی اہمیت پر بات کی۔
وائس پرنسپل محمد جاوید اختر نے کہا کہ ایک مضبوط اور متحد ہندوستان کی اقدار کو تقویت دینے اور ملک کے اتحاد و سا لمیت کو برقرار رکھنے کے لئے عزم کرنے کا یہ ایک خاص موقع ہے ۔
ہما صدیقی نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی زندگی اور خدمات پر بات کی ۔ اسمیتا چودھری نے پروگرام کی نظامت کی۔اس موقع پر سردار پٹیل کی زندگی پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔
اے ایم یو گرلز اسکول میں پرنسپل آمنہ ملک نے اتحاد کا حلف دلایا اور تمام ریاستوں کو متحد کرنے میں سردار پٹیل کے کردار پر گفتگو کی۔
ایس ٹی ایس اسکول میں ہونے والی تقریب میں پرنسپل فیصل نفیس نے طلباء اور اساتذہ کو حلف دلایا اور ان پر زور دیا کہ وہ قومی یکجہتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ اس موقع پر اسکول کے طلباء نے حب الوطنی کے نغمے بھی گائے۔ پروگرام کی نظامت نسرین فاطمہ نے کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے متعدد طلباء کا انتخاب
علی گڑھ، یکم نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے مختلف کورسز کے 19 طلباء کو یونیورسٹی کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس (جنرل) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک بھرتی مہم میں بنگلور کی ایجوکیشنل ٹکنالوجی کمپنی ’’ٹیک ڈیسٹینی‘‘نے بزنس ڈیولپمنٹ ایسوسی ایٹ کے عہدے کے لیے منتخب کیا ہے۔
ٹریننگ و پلیسمنٹ آفیسر (جنرل) مسٹر سعد حمید نے بتایا کہ منتخب طلباء میں زید حسیب (بی کام)، فائزہ حسن (بی کام)، ایس علینا علی (بی اے، جرمن)، رمشا فیاض (بی ایس سی، فزکس)، اطہر وائی ہاشمی (بی ایس سی، سی ایس)، اتل کمار ( بی اے، جرمن)، ایس سمین اختر (بی ایس سی، جیولوجی)، انجلی شرما (ایم اے، اکنامکس)، جنید جوہر (ایم بی اے)، فاطمہ زہرہ (ایم اے، سوشیالوجی)، عزیر ایس خان (بی اے، جرمن)، ملیحہ ناز (بی ٹیک)، ترون پی سنگھ (بی ایس سی، فزکس)، الپیش کے شرما (بی ایس سی، شماریات)، سیف اللہ حیدر (بی اے، چینی زبان)، دیپ کمل گپتا (بی اے، جرمن)، محمد خان (ایم اے، تاریخ)، محمدکمال (بی پی ایڈ) اور بلال عالم (بی ٹیک)شامل ہیں۔
ایک دیگر کیمپس بھرتی مہم میں نوئیڈا کی کمپنی نیوجن سافٹ ویئر ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (نیو جینیس) نے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، اے ایم یو کے 12 طلباء (2023 بیچ) کی خدمات حاصل کی ہیں۔
انجینئرنگ کالج کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر مسٹر محمد فرحان سعید نے بتایا کہ منتخب طلباء میں ویبھو شرما (بی ٹیک، الیکٹریکل)، پورتی وارشنے (بی ٹیک، الیکٹریکل)، محمد عبداللہ (بی ٹیک، الیکٹریکل)، محمد احمد خان (بی ٹیک، الیکٹریکل)، محمد مزمل (بی ٹیک الیکٹریکل)، پرسون جین (بی ٹیک، الیکٹریکل)، محمد ثاقب (بی ٹیک، الیکٹرانکس)، انور شیث (بی ٹیک، الیکٹرانکس)، شہزاد عالم (بی ٹیک، الیکٹرانکس)، مسکان وارشنے (بی ٹیک، کیمیکل)، سراج احمد (بی ٹیک ،کیمیکل)، اور امن سریواستو (بی ٹیک، مکینیکل) شامل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
جرمن وفد نے اے ایم یو کا دورہ کیا
علی گڑھ، یکم نومبر: جرمنی میں غیر یورپی تاریخ کے پروفیسر اور ڈین، فیکلٹی آف کلچرل اینڈ سوشل سائنسز، فرن یونیورسٹی، ہیگن( جرمنی) ڈاکٹر جورگین جی ناگل نے جرمن اسکالروں کے ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا دورہ کیا اور غیر ملکی زبانوں اور تاریخ کے شعبوں کے اساتذہ اور طلباء کے ساتھ اپنی بات چیت میں باہمی تعاون اور تبادلے پر زور دیا۔
جرمن پروفیسر 28پروفیسروں اور طلباء کے ایک وفد کی قیادت کر رہے تھے جس کا اہتمام اے ایم یو کے ایک سابق طالب علم کے ساتھ مل کر کیا گیا تھا جنھوں نے جرمن زبان کی تعلیم حاصل کی تھی۔
غیر ملکی زبانوں کے شعبہ میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے پروفیسر ناگل نے کہا ”چونکہ ہندوستان اور جرمنی کے تعلقات آگے بڑھ رہے ہیں اس لئے باہمی تعاون و اشتراک کے لئے یہ مناسب وقت ہے‘‘۔ انہوں نے اے ایم یو اور جرمن یونیورسٹیوں کے درمیان تعلیمی تبادلے کے سلسلہ میں تجاویز پیش کیں۔
پروفیسر جاوید اقبال (چیئرمین، شعبہ فارن لینگویجز اور ڈین، فیکلٹی آف انٹرنیشنل اسٹڈیز) نے کہا کہ اے ایم یو میں جرمن زبان کے طلباء کے لیے یہ ایک سنہرا موقع ہے ۔ انھیں جرمنی کے مقامی افراد سے گفت و شنید کا موقع مل رہا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ جرمن یونیورسٹیوں کے ساتھ اے ایم یو کے رابطے مستحکم کرنے میں معاون ہوگا۔
ڈاکٹر شیو پرکاش یادو نے افتتاحی اور اختتامی کلمات ادا کیے، جبکہ سید سلمان عباس نے سیشن کی صدارت کی۔
اے ایم یو کے غیر ملکی زبانوں کے شعبہ کے طلباء محمد انتظار اور حماد نے سرسید کی زندگی اور پیغام اور اے ایم یو-جرمنی کے تاریخی تعلقات پر بات کی۔
دوسری طرف سنٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز، شعبہ تاریخ میں ایک انٹرایکٹیو سیشن میں صدر شعبہ پروفیسر گلفشاں خاں نے اے ایم یو کے بانی سر سید احمد خاں کے جرمن اسکالروں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے کہا کہ 19ویں صدی کے معروف مستشرق اور دہلی کالج کے پرنسپل ایلوائز اسپرینگر (1913-93) نے ، جو بعد میں برن یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر ہوئے ، ہندوستان اور جرمنی کے درمیان فکری روابط اور تبادلے استوار کرنے میں سرسید کی مدد کی۔
پروفیسر گلفشاں نے اسپرینگر کی علمی خدمات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے بہت سے نادر عربی، فارسی اور اردو نسخے چھوڑے ہیں جو برلن اسٹیٹ لائبریری میں محفوظ ہیں۔
جرمن اسکالر کرشچن ڈبلیو ٹرول کے تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جرمن اسکالر کی کتب ’’سید احمد خاں: اے ری انٹرپریٹیشن آف مسلم تھیالوجی‘‘ اور ’’دی گوسپل ایکورڈنگ ٹو سید احمد خاں (1817-1998)‘‘ نے سرسید کے افکار و خیالات کو دنیا کے سامنے پیش کیا ۔
انہوں نے اے ایم یو کی تاریخ اور سرسید کی زندگی پر ایک پریزنٹیشن بھی دیا اور سرسید کی نایاب تصاویر اور اے ایم یو کی متعدد تاریخی عمارتوں جیسے کہ باب سید،ا سٹریچی ہال، یونیورسٹی کی جامع مسجد، مولانا آزاد لائبریری، میسٹن سوئمنگ پول، عبداللہ گرلز کالج، کینیڈی ہال آڈیٹوریم، موسیٰ ڈاکری میوزیم، معین الدین پکچر آرٹ گیلری اور اسٹوڈنٹس یونین ہال پر روشنی ڈالی۔
سرسید اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شاہد نے پروفیسر ناگل کو کرشچن ڈبلیو ٹرول کی کتابیں پیش کیں۔
فیکلٹی ممبران نے جرمن وفد کے لیے یونیورسٹی کے دورے کا بھی اہتمام کیا اور انہیں شعبہ تاریخ کے آرکیالوجی سیکشن، سرسید ہاؤس، اسٹریچی ہال، وکٹوریہ گیٹ، یونیورسٹی مسجد اور موسیٰ ڈاکری میوزیم سمیت دیگر مقامات دکھائے۔ ڈاکٹر محمد نذر الباری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
٭٭٭٭٭٭
جگر کے مریضوں کے پانچ روزہ طبی کیمپ شروع، پہلے دن تیس سے زائد مریضوں کی جانچ
علی گڑھ یکم نومبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ریڈیو ڈائیگنوسس شعبہ کے زیر اہتمام سرسید ڈے کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر جگر کے مریضوں کے لئے منعقدہ پانچ روزہ مفت لیور شیئر ویو ایلاسٹوگرافی کیمپ کے پہلے دن تیس سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔
صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک لوگوں کا چیک اپ کیا گیا اور انھیں مناسب طبی مشاورت بھی فراہم کی گئی۔
صدر شعبہ پروفیسر شگفتہ وہاب نے بتایا کہ اگر کسی شخص کا جگر خراب ہونا شروع ہو گیا ہے اور اس کی علامات ابتدا میں معلوم ہو جائیں تو بروقت علاج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں 5 نومبر تک جگر کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور مریض کیمپ میں آکر مفت طبی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
کیمپ کے دوران پروفیسر شگفتہ وہاب، پروفیسر ابن احمد، ڈاکٹر مہتاب احمد، ڈاکٹر سیف اللہ خالد، ڈاکٹر شائستہ صدیقی، ڈاکٹر سید محمد دانش قاسم، ڈاکٹر مدثر اشرف شاہ اور ڈاکٹر صائمہ کے علاوہ ریزیڈنٹس بھی موجود تھے۔

 

Comments are closed.