عالم عرب تباہی کے دہانے پر
تحریر:محمدصابرحسین ندوی
سعودی عرب کی تازہ ترین تصاویر سے روح اب بھی بے چین ہے، آخر خود کو کیا کہہ کر تسلی دیں؟ مہبط وحی کی پامالی آنکھوں کے سامنے ہو تو کیا حیلہ کیا جائے؟ سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ کو گزند پہنچانے کی کوشش کی جائے تو کیسے سکون ہو؟ کمزور ترین ایمان والے بھی اسے برداشت نہیں کرسکتے؛ ورنہ پھر ایمان ہی کیسا؟ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ. (احزاب:٦) اب تک ہم مغربی ممالک کو کوستے تھے، ان کے ننگے پن، شیطانیت اور دجالیت پر طعن کرتے تھے، انہیں گندگی، خباثت اور دیوسیت کی آماجگاہ جانتے تھے، مگر یہ کیا کہ کعبہ مقدسہ کے پاسبان ہی حرم کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں مصروف ہیں، کعبہ کا غلاف بیچ ڈالنے اور اپنی ہوس و خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہوئے سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سرزمین کو ناپاک کرنے میں سبقت لئے جارہے ہیں، قدیم زمانے کی بات ہے کہ اسلام کو تاتاریوں کے سخت ترین حملے کا سامنا ہوا، انہوں نے مسلمانوں کی نسلیں مٹا دیں، عالم عرب کو چورہ چورہ کردیا، بغداد کو تخت و تاراج کر کے وہاں کے امیر المؤمنین کو جانور کی کھال میں بھر کر گھوڑے کے ٹاپو تلے کچل کر رکھ دیا، ان کی عیاشی، برادر نوازی، شیطان دوستی کی یہ سزا تھی؛ لیکن اسلام کی تابندگی پر کوئی زد نہ آئی، جہاں سے صفیں ختم ہورہی تھیں ٹھیک وہیں سے ایک نئی صف تاتار سے شروع ہوگئی، پاسباں مل گیے کعبہ کو صنم خانے سے، چنانچہ ترکان سلجوقی، ترکان تیموری، ترکان صفوی اور ترکان عثمانی نے عالم اسلام کی خدمت کی، جب ان میں بھی خرابیاں پیدا ہوئیں تو انہیں بھی زمین پر دے مارا گیا، پھر اس زوال کے بعد اسی کا دور دوراں تھا، مغرب نے لگام سنبھالی اور پورے عرب کو غلام بنا لیا، فکری و ثقافتی تسلط کے ساتھ حکمرانی بھی حاصل کر لی، مگر جلد ہی انہیں ان خونی پنجوں سے ظاہری نجات ملی، اندازہ تھا کہ کم از کم عالم عرب کا اتحاد بن جائے گا، وہ اسلام کی پیش رفت کا سامان کریں، یورپ کی چالوں اور ان کی شیطانیت کے درمیان اللہ تعالیٰ نے عرب کو زمینی و فضائی خزانے بھی عطا کئے تو مزید لگا کہ وہ مضبوط ہوں گے، مگر عالم یہ ہے کہ وہ اس وقت تاتار سے بدتر کردار ادا کر ہے ہیں، انہوں نے گردنیں کاٹی تھیں، لاشوں کے انبار لگائے تھے، مگر یہ تو اسلام کی جڑ ہی کاٹنے میں مصروف ہیں، انہوں نے اپنے آپ کو امریکہ و اسرائیل کے سامنے گویا بچھا دیا ہے، ان کے چشم ابرو کے غلام ہوگیے ہیں، ان کی جانب سے آنے ملی مسموم فضا بھی باد نسیم بن گئی ہے، ان کا خونی کھیل ان کیلئے عزیز ترین سامان ہوگیا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خواہ مغربی ممالک نرم پڑ جائیں، انہیں اسلام کی آفاقیت اور اہمیت کا اندازہ ہو اور وہ اسلام سے مشرف ہو کر اس کے خادم بن جائیں؛ لیکن عرب اب سمجھنے والے نہیں بلکہ الٹے پاؤں لوٹتے ہوئے زمانہ جاہلیت کی ایک ایک نشانی پر عمل پیرا ہو کر ہی رہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ عرب کیلئے تباہی ہے، ان کیلئے بربادی ہے جو قریب ترین ہے، حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ويل للعرب من شر قد اقترب – – – – حضرت زینب نے پوچھا کہ ہم میں نیک لوگ ہوں گے تب بھی ہم ہلاک ہوجائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نعم إذا كثر الخبث – ہاں! جب تم میں بہت زیادہ خباثت عام ہوجائے گی. (صحيح بخاری:٦٦٥٠) – – – – – واقعہ یہ ہے کہ وہ قریب ترین مدت سر پر کھڑی ہے، خباثت کا ظہور ہوچکا ہے اور ہوتا ہی جارہا ہے، اس وقت متحدہ عرب امارات اور اب سعودی عرب بدترین خباثت کی مثال پیش کر رہے ہیں، اب ان کے ایک ایک پردے چاک ہورہے ہیں، جو انہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا وہ سب ہٹائے جارہے ہیں، اب یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ برطانیہ اور امریکہ کے حکم پر قائم شدہ ریاستیں صرف انہیں کی خدمت پر مامور ہیں، انہیں دین اسلام سے کوئی مطلب نہیں ہے، اسلام کی فوقیت، ابدیت اور جامعیت کو وہ بھلا چکے ہیں، اسلام کو حکومت سے نکال بھگایا ہے، عوامی تحریکوں سے رخصت کردیا ہے، علم و تحقیق اور تفقہ سے خارج کردیا ہے، ان کے پاس صرف اسلام کا ہیولہ ہے، اس کا ڈھانچہ ہے جسے وہ دکھا رہے ہیں، دنیا کے سامنے سیکولزم، جمہوریت اور حقوق انسانی کے نام پر تو کہیں دین کی آڑ میں بے دینی کو راہ دی جارہی ہے، کعبہ مکرمہ کے سایے میں وہ گندہ کھیل کھیلا جارہا ہے کہ روح تڑپ اٹھے، اگر کسی کے اندر ایمانی غیرت کی غین بھی ہے تو اس کیلئے کسی لمحے سکون میسر نہ آئے گا، آخر وہ کیسے برداشت کرے گا کہ جس کعبہ کے سایے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بسر کی، راحت کی سانس لی، مشرکین کا کعبہ سے مقابلہ کرتے ہوئے اور کلمہ توحید کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اسلام کا پیغام عام کیا، جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے ایمان کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں، اپنا گھر بار، اپنا پرایا، مال و جائیداد سب کچھ چھوڑا، آج اسی سرزمین پر ہیلووین کا تہوار منایا جارہا ہے، جس دجالیت سے انہیں نکالنے کیلئے جام شہادت نوش کیا تھا وہ اسی دجال کی صورت بنایے گھوم رہے ہیں، جس شیطان سے دشمنی مول لیکر پوری دنیا سے نبرد آزما ہوگئے تھے آج اسی شیطان کا سا چہرہ بنا کر حجاز مقدس پر ٹہل رہے ہیں، مستی، میوزک پر تھرکتے ہوئے اپنے پیچھے تمام اسلامی تعلیمات، اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگ لگا رہے ہیں، دل جل رہا ہے، طبیعت بے قرار ہے، عرب کی تباہی پر ماتم کرنے کا مَن کرتا ہے، آہ! جو اسلام کو ایک نیا عروج دے سکتے تھے وہی اسے دفن کرنے پر تلے ہوئے ہیں!
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
Comments are closed.