پاپائیت کے رکھوالے ہوش کے ناخن لیں!
تحریر: محمد صابر حسین ندوی
پاپائیت، پادریت، کلیسائی نظام نے ہزاروں سال حکومت کی، دنیا کے ایک بڑے حصے پر اپنا اثر و رسوخ رکھا، ان کی اجازت کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا، مگر ایک وقت ایسا آیا کہ ان کلیساؤں میں بیٹھے پادریوں کو بھاگنے کی جگہ نہ ملی، روشن خیال کہے جانے والے اور سیکولزم کے حامیوں نے پرزور چیلنج کیا، عوام کو باغی بنایا، تختہ دار کو سجایا، جان کی قربانیاں پیش کیں؛ پھر بھی پہلا انقلاب کارگر نہ ہوسکا، ہزاروں سالوں پر محیط پادریت اگرچہ ڈگمگا گئی؛ لیکن اس کی جڑیں نہیں اکھڑ سکیں، مگر بات بہت آگے نکل چکی تھی، اب جدید اذہان کے پاس واپسی کا کوئی موقع نہ تھا، اور کوئی جواز بھی نہ تھا کہ کلیسائی نظام کو برداشت کریں، چنانچہ دوبارہ سمندری طوفان بن کر اٹھے اور حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر قابو پالیا، انہوں نے صاف صاف کہا کہ کلیسا کو سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے، وہ صرف اپنی عبادت گاہوں میں بیٹھیں اور روحانی باتیں کریں، اس طرح مذہب کو ذاتی زندگی بنا کر رکھ دیا گیا اور یورپ میں ایک دین بیزار حکومت و سیاست کی طرح پڑ گئی – – – – اس موضوع پر تاریخ کے ہزاروں صفحات سیاہ کیے گئے ہیں، لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے، مگر جب قرآن مجید خود ان پاپاؤں، پادریوں اور رہبانوں کی حقیقت بیان کرچکا ہے تو مزید اس پر کیا لکھا جائے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پادریوں کے اندر پائی جانے والی بنیادی غلطی پر بات کی جائے، اگر آپ غور کریں گے تو پائیں گے کہ ان میں سب سے مرکزی غلطی اور جرم ناانصافی کو فروغ دینا تھا، وہ عوام کو اپنے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنا چکے تھے، جنت و جہنم کو کھلواڑ اور خیر و شر کو اپنی فکر و سوچ کے مطابق ڈھالنے لگے تھے، اپنی اخلاقی تنزلی کے ساتھ ساتھ ان میں اس قدر لالچ، ہوس اور دنیا طلبی پیدا ہوگئی تھی کہ کسی دوسرے کے حقوق اور ضروریات کا کوئی پاس ہی نہیں رہتا تھا، وہ ظالم بن گئے تھے، ظلم ان کا پیشہ ہوگیا تھا، وہ من مانی کیا کرتے تھے، قانون کے نام پر زیادتی کے سوا کچھ نہیں تھا، اپنی رعایا کو مایوس کرنا، انہیں اندھیرے میں رکھنا، ان کی غلطی پر سخت گرفت کرنا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس کو چاہا حق کا پروانہ دے دیا اور جسے چاہا ظالم کہہ کر سولی دے دی، اس سلسلہ میں سب سے زیادہ غریب، عوام اور مجبور طبقہ پستا تھا، ظلم آخر ظلم ہے، یہ سب دین عیسوی یا موسوی کے نمائندہ تھے، مگر ان کے مظالم جب حد سے بڑھنے لگے تو عوام نے بغاوت کردی، وہ سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اس نظام کو اکھاڑ پھینکا، مایوسی اور اندرونی غم و غصہ اتنا تھا کہ وہ صرف انتظامی معاملات پر ہی کلیسا سے ناراض نہیں تھے؛ بلکہ پورے دینی نظام اور روحانی طاقت سے بھی بیزار ہوچکے تھے، وہ ہر حال میں ربانیت، للہیت اور بندگی کا چوغہ اتار پھینکنا چاہتے تھے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ دین سے دستبرداری، دوری کا عام رواج ہوچلا، دینی مزاج رکھنے والوں کو سولی دی جانے لگی، چرچ میں جا کر عبادت کرنے والوں کو قتل کیا جانے لگا، دیکھتے ہی دیکھتے کلیسا کی ہوا اکھڑ گئی اور اسی کا تسلسل ہے کہ اب یورپ دین کو ایک گالی جانتا ہے – – – ہم قرآن پڑھتے وقت بھی پاتے ہیں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع میں بھی دیکھتے ہیں کہ پادریت، پاپائیت کا کیا حال ہوا؟ اس کے باوجود حیرت کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ کا ایک گروہ بھی اسی پاپائیت اور کلیسائیت سے متاثر ہے؛ بلکہ یہ طبقہ بالخصوص بڑا طبقہ ہے، ان میں بھی وہی بیماریاں در آئی ہیں جو پچھلی قوموں میں تھیں، وہ گویا اس روایت پر عمل پیرا ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں، پارسی اور نصرانی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر اور کون۔“ (صحيح بخاری:٧٣١٩) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی حرف بہ حرف صادق نظر آتی دکھائی دیتی ہے، دین کو اپنے گھر کی جائیداد سمجھ کر اس میں من مانی کرنے والے خوب شہرت پارہے ہیں، انہیں پلکوں پر بٹھایا جارہا ہے اور وہ اسلامی روح کو کچل رہے ہیں، انہوں نے گویا دین کو ہائی جیک کر لیا ہے، وہ دین کے نام پر ادارے بناتے ہیں، جامعات کھولتے ہیں، مگر ان سب میں عام طور پر اسی پادریت اور پاپائیت کو جگہ دے رکھی ہے، حق و باطل کا کوئی امتیاز نہیں رہ گیا ہے، وہ جیسا چاہیں ویسا کرتے ہیں، وہ دین اور اس کی خدمت کی جو تشریح کریں وہی مناسب ہے، ان کے سامنے کسی کی نہیں چلتی، وہ انسان کی کیا اب خدا کی بھی نہیں سنتے! ان کے ظاہر پر اگر فتوی لگایا جائے اور باطن کو رن کے حوالے کردیا جائے تب بھی تکلیف دہ حقیقت کھل کر سامنے آئے گی؛ بلکہ جو کچھ دل سے ہو کر ان کی زبان سے نکلتا ہے اس سے ان پر (نعوذباللہ) کفر بھی لازم آسکتا ہے، وہ جو کہیں حق سو حق ہے، جو کہیں باطل سو باطل ہے، اگر یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب مسلمانوں میں دین بیزاری بغاوت تک پہنچ جائے گی، اس لئے کہ وہ بیزاری تو داخل ہوچکی ہے، خود اس کے علماء و دعاۃ کا ایک گروہ باغی ہو چکا ہے؛ بلکہ ان ظالموں کے خلاف کھڑا ہو چکا ہے، لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس نے جو غلط فہمیاں دور کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سفید پوشوں کا کالا سچ دیکھ لیا گیا، وہ دن قریب ہے کہ بغاوت کا شعلہ پھٹے، اور دین بیزاری ایک تحریک بن جائے، اور ان کی وجہ بننے والوں پر اللہ تعالیٰ کا کوڑا پڑے، وہ ان کے اپنوں ہی کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوں اور ان سے پاپائیت اور رہبانیت کا ناجائز خِلعہ چھین لیا جائے۔
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
Comments are closed.