سائرس مستری کی موت اورکاسا کا مردہ خانہ
جاوید جمال الدین
ممبئی کے شہریوں کو محکمہ ٹریفک پولیس کی ایک نئی ہدایت پر جلد ہی عمل شروع کرنا ہوگا اور اس ہدایت یا حکمنامہ کے مطابق اب کاروں میں۔ سفر کرنے والے پچھلی نشست پر بیٹھ کر سفر کر نے والوں کو بھی کمر سے بیلٹ باندھنا ہوگا،فی الحال اس ہدایت پر عمل آوری پر آئندہ دو ہفتے کے لیے اسٹے دے دیا گیا ہے۔دراصل اس طرح کی تجویز تب سے پیش کی جانے لگی جب ٹاٹا سٹز کے سابق چیئرمین سائرس مستری احمدآباد اور ممبئی کے درمیان سفر کے دوران بھیانک حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔بس وہیں سے پولیس ،انتظامیہ اور محکمہ نقل و حمل حرکت میں آگئے اور قومی شاہراہوں کو چھوڑ کر شہری علاقوں میں سخت قوانین وضوابط نافذ کرنے کا عمل شروع کردیا گیاہے۔
مذکورہ موضوع پر میں اس مرتبہ قلم کیوں اٹھایا ہے ،اس سلسلہ میں بعد میں تفصیل پیش کرونگا،میرے خاندان کے دو ارکان حادثے کا شکار ہوگئے تھے۔
ایک امیر آدمی اور مشہور صنعتکار سائرس مستری کی حادثے میں موت کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر کارروائی کو پیش کیا جارہا ہے۔اس تعلق سے بڑے پیمانے میں بیداری کی ضرورت ہے،مذکوری سنگین سڑک کار حادثہ میں زندہ بچ جانے والے ۶۰ سالہ پنڈولے نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ حادثہ کے وقت اُن کی اہلیہ تیز رفتارکار کوتیسری لین سے دوسری لین میں لے جانے کی کوشش کر رہی تھیں،لیکن ان کے آگے ایک دیگر کار ہونے کی وجہ سے ان کی گاڑی دوسری لین میں داخل نہیں ہوئی او کار ریلنگ سے جا ٹکرائی۔ یاد رہے کہ ڈیریٹس پنڈولے کی اہلیہ ڈاکٹر انا ہتا وہ کار چلارہی تھیں جس کے حادثہ میں سائر س مستری اور ان کے ساتھ بیٹھےجہانگیر پنڈولے کی موت ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر انا ہتا اور ان کے شوہر کار کی اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے اور حادثہ میں شدید زخمی ہوئے لیکن ان دونوں کی جان بچ گئی جبکہ پچھلی سیٹ پر بیٹھے سائرسں مستری اور جہانگیر پنڈولے کی موت ہوگئی تھی۔
پہلے جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اگلی سیٹ پر بیٹھے دونوں افراد نے سیٹ بیلٹ باندھ رکھا تھا اور پچھلی سیٹ والوں نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھا تھا۔ اسی بنیاد پر ممبئی کے محکمہ نقل وحمل نے یکم نومبر سے موٹر گاڑیوں میں سفر کرنے والے تمام مسافروں کو سیٹ بیلٹ پہنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس حادثے کے سلسلے میں پالگھر میں واقع کا کاساپولیس اسٹیشن میں حادثاتی موت کا کیس درج کیا گیا ہے۔ پولیس تفتیش کر رہی تھی کہ حادثہ کار کی ڈرائیور ڈاکٹر انابت کی غلطی سے ہوا یا نہیں۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ حادثہ ان کی غلطی سے ہوا تھا تو پولیس ڈاکٹر نا بتا کے خلاف لا پروائی کی بنا پر کسی کی موت کا سبب بننے کا کیس درج کرے گی۔ تاہم ڈیریٹس پنڈولے اور ڈاکٹر انا بتا اسپتال میں زیر علاج تھے اور اب انکشاف ہوا ہے کہ تیز رفتار کار کو تیزی سے دوسری لائن میں لینے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا تھا۔ ان کے بے ہوش ہونے کے سبب تفتیش آگے نہیں بڑھ رہی تھی ۔ البتہ حال ہی میں اُن کے اسپتال سے ڈسچارج ہونےکے بعد پولیس نے ان کا بیان درج کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کی کار تیسری لین میں تھی اور ان کی اہلیہ کار کو دوسری لین میں لے جانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن اس سے قبل ہی سڑک کی چوڑائی کم ہوکر مرلین میں تبدیل ہوگئی۔
واضح رہے کہ کار بنانے والی مرسڈیز کمپنی نے پولیس کو اپنی عبوری رپورٹ میں کہا ہے کہ حادثہ سے قبل کار تقریبا ۱۰۰،کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے چل رہی تھی اور اسکے ٹکرانے سے محض ۵ سیکنڈ قبل بر یک لگا یا گیا تھا جس سے کار تقریبا ۸۹ کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے ٹکرائی تھی۔ واضح رہے کہ مرسڈیز کار میں ہوائی جہاز کے بلیک باکس کے طرز پر ایک چپ لگی ہوتی ہے جس سے حادثہ کے وقت کار کی اہم معلومات حاصل ہوسکتی ہے۔ حادثہ والی جگہ پر زیادہ سے زیادہ ۸۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے کی اجازت ہے۔
اس سے قبل آر ٹی او نے بھی اپنی رپورٹ پالگھر پولیس کے سپرد کر دی تھی کہ آر ٹی او نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جب حادثہ ہوا تو چار ایئر بیگ کھلے ہوئے تھے۔ ان میں سے تین ایئر بیگز ڈرائیور کے سامنے، نیچے اور سر کے قریب کھلے تھے۔ جبکہ ڈرائیور کے بغل والی سیٹ کا ایک ایئر بیگ کھلا تھا۔خیال رہے کہ 4 ستمبر کو احمد آباد-ممبئی ہائی وے پر پیش ہونے والے ہولناک حادثہ کے دوران ٹاٹا گروپ کے سابق چیئرمین سائرس مستری ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی مرسڈیز جی ایل سی 220 کار ہائی وے پر موجود سوریا ندی کے پل پر ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی تھی۔ اس حادثے میں مستری اور ان کے دوست جہانگیر پنڈولے ہلاک ہو گئے۔ گاڑی چلاتے ہوئے ڈاکٹر انایتہ پنڈولے اور ان کے شوہر داریوس پنڈولے زخمی ہو گئے تھے۔
مذکورہ ممبئی – احمد آباد ہائی وے پر کاسا کے اُس مقام پر روزانہ حادثات پیش آتے ہیں،۲۹،مئی ۲۰۱۳ ء کی صبح میری دو خواتین رشتہ دار احمد آباد سے ممبئی آتے ہوئے سڑک حادث کا شکار ہوگئے ،اس حادثے میں بیس افراد ہلاک ہوئے تھے،آج بھی میرے خاندان کے دل ودماغ پر حادثہ تروتازہ ہے۔
حکومت اُس وقت حرکت میں نظر آرہی ہے جب ایک اعلی صنعت کار سائرس مستری جان گنوا بیٹھا ہے اور طرح طرح کے منصوبے تیار کیے جارہے ہیں ،لیکن گزشتہ دس سال سے اس شاہراہ کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔اس مقام سے کاسا کا اسپتال اور مردہ خانہ ایک خستہ حال عمار میں واقع ہے اور دومنٹ بھی وہاں ٹھرانہیں جاسکتا ہے۔ مرکزی وزیربائر نقل وحمل نتین گڈکری کے بڑے بڑے دعوے یہاں کھوکھلے ثابت ہوجاتے ہیں۔دوعوں کے بجائے ایک جامع وٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔
javedjamaluddin@gmail.com,
9867647741
Comments are closed.