تعلیم نسواں کی اہمیت

 

تسنیم فاطمہ 
متعلمہ نتیشور کالج، مظفرپور 
  تمام مرد و زن کا علم کی دولت سے بہره ور ہونا بہت ضروری ہے. علم کے بغیر دنیا اندھیر ہے. کور نظری سے کچھ سجھائی نہیں دیتا. وہی قوم ترقی کرتی ہے جس کے افراد نور علم سے آراستہ ہوتے ہیں. ترقّی یافتہ ملک کی مثال ہمارے سامنے ہے. کسی ملک میں جس قدر علم زیادہ ہوگا اسی قدر وہ ملک ترقّی یافتہ ہوگا. جو ممالک پسماندہ ہیں ان میں علم کا فقدان ہے. وہاں کے لوگ ناخواندہ اور غیر تہذیب یافتہ ہوتے ہیں. سچ تو یہ ہے کہ بغیر علم کے لوگ خدا کو بھی نہیں پہچان سکتے، نہ ہی دنیا کے کام صحیح طریقے سے انجام دیے جا سکتے ہیں. 
اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی حصول علم مرد عورت دونوں کے لیے لازمی ہے. اسلام میں حصول علم کے لئے بطور خاص تاکید کی گئی ہے چاہے اس کے لئے دور دراز بھی جانا پڑے. ہم اگر اپنے سماج اور ملک کو تہذیب سے آراستہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں زیور علم سے آراستہ ہونا ہوگا. علم اندھیرے میں اجالا کرتا ہے زندگی میں نکھار اور وقار علم سے ہی آتا ہے. مرد اور عورت علم کے دو پہیے ہیں. عورت اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے یا جب وہ تعلیم یافتہ ہو. کیونکہ تعلیم ہی انسان میں شعور زندگی پیدا کرتی ہے ، اسلام نے عورتوں کو وہ مقام عطا کیا ہے جو کبھی بھی کسی زمانے میں اسے حاصل نہ تھا. اگر کوئی مرد علم کے ذریعے شہرت پا سکتا ہے تو عورت بھی ان بلند درجات تک جاسکتی ہے. اب وہ زمانہ جاہلیت نہیں ہے کہ عورت کو تعلیم حاصل کرنے سے روکا جائے. اب تو عورتوں کے لئے الگ سے بہت سارے تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں تاکہ وہ پڑھ لکھ کر ترقّی کریں. ملک کا نام روشن کریں. کبھی عورت کو تعلیم دینا گناہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ لوگ سمجھتے تھے کہ تعلیم حاصل کرنے سے عورت آزاد خیال اور ہے راہ ہوجاتی ہے. اور خود کمانے کے قابل ہوجانے کے بعد خاوند کی وفا شعار نہیں رہتی مگر یہ خیال اب ان لوگوں کے ہیں جو صرف تعلیم کی افادیت سے ناآشنا ہیں یا عورت کو ہمیشہ محکوم اور غلام دیکھنے کے عادی ہیں.
 علم اگر مرد کے عقل کو جلا بخشتا ہے تو عورت کی عقل بھی اس سے روشنی حاصل کرتی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنے سے عورت میں نہ صرف تہذیبی شعور پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ اور سلیقہ مند ہو جاتی ہے. تعلیم نسواں بے حد ضروری ہے. اس کی بدولت ہی ملک کی ترقی اور قوم کی خوش حالی کا کام کیا جا سکتا ہے.

Comments are closed.