شوہرکے حقو ق اور بیوی کی گھریلو ذمہ داریاں

 

از: قاضی  محمدفیاض عالم قاسمی

قاضی شریعت دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ممبئی
8080697348

شوہرکے حقوق اور بیوی کی ذمہ داریوں میں اپنے شوہرکی جائزامورمیں اطاعت وفرمانبرداری اور جنسی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ شوہر کی عزت وآبروکی حفاظت اورگھریلوکام کاج کرنا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:جو عورتیں نیک ہیں وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کرتی ہیں اور شوہر کی عدم موجودگی میں اپنے نفس اور شوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہیں، ان میں کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں کرتیں۔ (سورۃ النساء:٣٤)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایاکہ میں تمہیں مرد کا سب سے بہترین خزانہ نہ بتاؤں؟ وہ نیک عورت ہے، جب شوہر اس کی طرف دیکھے تو وہ شوہر کو خوش کردے، جب شوہر اس کو کوئی حکم کرے تو شوہر کا کہنا مانے۔ اگر شوہر کہیں باہر سفر میں چلا جائے تو اس کے مال اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔ (سنن ابوداؤد:١۶۶٤) 

نفس کی حفاظت کامطلب یہ ہے کہ بیوی کاکسی غیرمحرم سے ناجائزتعلق نہ ہو، کسی مرد سے یاری  دوستی  نہ ہو، اس میں یہ  بھی داخل ہے کہ کسی غیرمحرم سے سخت مجبوری کےبغیر بات چیت نہ کرے۔کیوں کہ یہی دوستی اورناجائز  تعلقات کاپیش خیمہ ہے۔ہاں اگر ضرورت کے مطابق بات چیت کرناپڑے تو اگر چہ بات چیت شائستہ ہو؛لیکن لب ولہجہ میں ایسی نرمی نہ ہوکہ اس کے دل میں کوئی براخیال جاگ جائے۔اللہ  تعالیٰ کا ارشادہے:اے پیغمبرکی بیویو! تم اورعورتوں کی طرح نہیں ہو،اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو تو( کسی اجنبی سے ) نرمی سے بات نہ کیا کرو ، کہ جس کے دل میں بیماری ہے ، وہ لالچ کرنے لگے اور (البتہ ) بہتر بات کہا کرو ۔(سورۃ الاحزاب:٣٢)

شوہرکے مال کی حفاظت کامطلب یہ ہے کہ  شوہر کی اجازت کے بغیران کے  مال میں سےاپنے لئے کچھ نہ لے، اور نہ ان  کی اجازت کے بغیر کسی کو دے۔اعتدال کے ساتھ گھریلوسازوسامان کی خریداری،اور پکوان وغیرہ میں خرچ کرے،اگر شوہرماہانہ یاہفتہ کے اعتبارسے پیسہ دیتاہے تو اخیر میں اس کاحساب بھی دیدیاکرے۔اپنے کسی رشتہ دارمثلاماں باپ، بھائی بہن، دوست واحباب کے لئے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ نہ خریدے۔ ہاں اگر شوہربیوی کے ذاتی مصرف اورجیب خرچ کے لئے پیسہ دے اوراس کاحساب نہ لے تو پھر اس میں سے دوسروں کے لئے خریداری کرنے کی گنجائش ہے، اس میں بھی بہتر  ہے کہ اپنے شوہر سے مشورہ کرے۔تاکہ وہ کسی غلط فہمی میں مبتلاء نہ ہوں۔(تحفہ زوجین، ازتھانویؒ:٢۹)

گھر کے اندرونی نظام کو چلانا :

رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عورت اپنے شوہر کے گھراوراس کے بچوں کی نگہبان اور ذمہ دار ہے اور اس سے اس کےگھراور بچوں کی تربیت وغیرہ کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ (صحیح بخاری:٥٢۰۰)۔رسول اللہ ﷺ نےگھریلو کاموں کوحضرت علی رضی اللہ عنہ  اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان اس طرح تقسیم فرمادیاتھا کہ مثلا ً چکی پیسنے ،جھاڑو دینےاور کھانا پکانےکے کام وغیرہ حضرت فاطمہ رضیَ اللہُ عنہَا کرتی تھیں اور باہر کے کاممثلاً بازار سے سودا سلف لانا، اونٹ کو پانی پلانا وغیرہحضرت  علی کَرَّمَاللہُ وَجہَہُ الْکریم کے ذمّہ داریوں میں شامل تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج8، ص157، ردالمحتار:3/579)،لہذاعرف کے مطابق گھریلونظام عورت کو چلاناچاہئے، یعنی کچن کاپورانظام، برتن اورچھوٹے موٹے سازوسامان،کپڑوں کی  دھلائی اورگھرکی صاف صفائی کاپورانظام عرف کے مطابق عورت کے ذمہ ہے، اوراس سے متعلق عورت سے پوچھاجائے گا۔

جس علاقہ میں جو کام بیوی کاکام سمجھاجاتاہے و ہ بیوی پر واجب ہےاورجس علاقہ میں بیوی کاکام نہیں سمجھاجاتاہے وہ بیوی پر واجب نہیں،مثلامشرقی اورشمالی ہند جیسےآسام،بنگال،بہار،اترپردیش وغیرہ میں سبزی وغیرہ بازارسے لانا مردکےذمہ سمجھاجاتاہے، مگر مغربی اورجنوبی ہندجیسے ممبئی،گجرات،آندھراپردیش ، کرناٹک وغیرہ میں عورت کے ذمہ سمجھاجاتاہے۔ پس اسی لحاظ سے عورت پر یہ کام انجام دینا اخلاقی طورپرلازم ہوگا، قانونی طورپرنہیں۔

اسی طرح گھراوربرتن کی صفائی کرنا بعض گھروں میں اوربعض خاندانوں میں  شریف خواتین  کاکام نہیں ہوتاہے،بلکہ اس کے لئے نوکرانی رکھی جاتی ہے، پس ایسی شریف خاتون یاایسے خاندانوں میں بیوی پر گھراوربرتن کی صفائی لازم نہیں ہوگی۔کھاناپکانے کابھی یہی حکم ہےکہ پورے ہندوستان میں کھاناپکانا عرف کے مطابق عورت کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، پس بیوی پر دیانۃ کھانا پکانا واجب ہوگا، البتہ  قضاء اورقانونی طورپربہرحال واجب نہیں ہوگا۔( ہندیہ:١٥٤۸،ردالمحتار:٣/٥۷۹)

واضح رہے کہ  گھر یلو کام کاج کو نوکرانیوں پر نہیں چھوڑنا چاہئے کہ وہ جس طرح چاہیں کرتی رہیں ؛بلکہ عورت کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کے داخلی تمام امور پر نگاہ رکھے۔

  ساس وسسرکی خدمت:

ساس وسسر کی خدمت گرچہ عورت پر واجب نہیں ہے، لیکن اخلاقاً ان کی خدمت کرنی چاہئے۔حضرت فاطمہ رضیَاللہُعنہَا حضرت علی کَرَّمَ اللہُوَجہَہُ الْکریم کی والدہ ماجدہ کی خدمت بھی کیا کرتی تھیں،گھریلوکام کاج میں ان کا ہاتھ بٹاتی تھیں، چنانچہ حضرت علی کَرَّمَاللہُ وَجہَہُ اپنی والدی سے کہتی کہ فاطمہ نے آپ کواپنے گھریلوکام جیسےپانی لانے، چکی  پیسنے اور آٹاگوندھنے وغیرہ سے بے فکرکردیاہے۔ (الاصابہ، ج 8، ص269ملخصاً)

شوہرکے لئے زیب وزینت( میک اَپ)کرنا:

قرآن کریم میں میاں بیوی میں سے ہر ایک کو دوسرے کالباس کہاگیاہے۔(سورۃ البقرۃ:١۸۷)اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ جس طرح لبا اس انسان کےلئے زیب وزینت کا سبب ہے،اسی طرح میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کے لئے زینت ہے۔ اس میں ایک  لطیف اشارہ یہ ہے کہ زوجین کو زیب وزینت اختیارکرناچاہئے۔دوسری جگہ ارشادہے کہ بیویاں اپنے شوہرکے لئے زینت کوظاہر کرسکتی ہیں۔(سورۃ النور:٣١)اس سے یہ بھی واضح ہے کہ عورتوں کواپنے شوہروں کے لئے زیب وزینت اختیار کرناچاہئے۔زیب وزینت اختیارکرنے میں نہانا،عمدہ کپڑا زیب تن کرنا،تیل لگانااوربالوں کو آراستہ رکھنا، ہاتھوں میں کنگن،انگلیوں میں انگوٹھی،پیروں میں پازیب،ناک میں پھول اورکانوں میں  بالی یاجھمکا پہننااورہاتھوں میں مہندی لگانا شامل ہےنیز بوقت ضرورت پاؤڈروکِریم وغیرہ کے استعمال کرنے کی بھی گنجائش  ہےتاہم یہ  یاد رہے کہ کوئی حرام  چیز کا استعمال نہ کیاجائے اور نہ ہی میک اَ پ کرکےغیرمحرموں کودکھایاجائے۔(حلا ل وحرام:٢۰۶)

بچوں کی تربیت کرنا:

 قدرت نے عورتوں کی خلقت میں نزاکت اورہمدردی کامادہ وافر مقدارمیں رکھاہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے پیشاب پاخانہ کوبلاجھجک صاف کرجاتی ہیں، بچوں کے دُکھ دَرد کو اپنا؛بلکہ اپنے سے زیادہ محسوس کرتی ہیں، اس کا تقاضہ ہے کہ بچوں کا بچپن ماں کی گود اور اس کے ارد گرد گزرے، اوران کی تربیت کی ذمہ داری ماں پر ڈالی جائے۔چنانچہ حضرت ابوبکر اورحضرت عمررضی  اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ماں کا تھوک بچوں کے لئے تمہارے شہد سے بھی بہترہے، (قاموس الفقہ)۔حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب صحابۂ کرام اپنی بیٹی یا بہن کو رخصت کرتے تھے تو اس کو شوہر کی خدمت اور بچوں کی بہترین تربیت کی خصوصی تاکید کیاکرتے تھے۔ اس لیے عورت کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی دینی اور اخلاقی کے اعتبارسے تربیت کرے۔

خاوند جسے ناپسند کرتا ہواسے گھر میں نہ آنے دینا:

خاوند کا بیوی پر یہ بھی حق ہے کہ وہ اس کے گھر میں اسے داخل نہ ہونے دے جسے اس کا خاوند ناپسند کرتا ہو ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی بھی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ خاوند کی موجودگی میں ( نفلی ) روزہ رکھے؛ اس کی اجازت سے رکھ سکتی ہے ، اورکسی کوبھی اس کے گھرمیں داخل  نہ کرے؛لیکن اس کی اجازت ہو توپھر داخل کرے۔( صحیح بخاری، حدیث نمبر:٤۸۹۹)

Comments are closed.