عہد نبوی اورعہد صحابہ میں خواتین کی تعلیم

مولاناانیس الرحمن قاسمی
چیئرمین ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن وقومی نائب صدرآل انڈیا ملی کونسل (نئی دہلی)

خواتین کی تعلیم وتربیت اوراس میں ان کی سبقت ابتداء نبوت سے نظر آتی ہے،چناں چہ جب غار حرا میں سے سب پہلی وحی نازل ہوئی تو اس وحی”سورہئ اقرا“کی ابتدائی آیات جس نے سب سے پہلے سنے اوران کو یاد کیا،وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین  حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ان آیات(سورہئ اقرا)میں پڑھنے اورانسانی تخلیق پر غور کرنے کا حکم تھا اوریہ حکم مردوخواتین دونوں کو تھا؛اسی لیے ابتداء عہد نبوی سے دونوں طبقے علم قرآن میں مشغول ہوگئے تھے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہااپنی وفات کے پہلے نبوت کے بعد دس سال آپ کے ساتھ رہیں اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ارشاد فرماتے اوروحی الٰہی قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا،وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سنتی اوران کو یاد رکھتی تھیں۔مکی ومدنی عہد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں قرآنی آیات کو سیکھتیں اوریاد کرلیتی تھیں،جس طرح مکہ کے مرد ایمان لاتے اورقرآن پڑھتے تھے،اسی طرح خواتین ایمان لاتیں اورقرآن یاد کرتی تھیں اوراس پر عمل کرتی تھیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے اوراس کے پہلے اپنی بہن فاطمہ کے گھر جانے اوران کو قرآن پڑھتے دیکھنے کا واقعہ سیرت واحادیث کی کتابوں میں درج ہے۔
مکہ میں جب قرآن کے سورۃ الشعراء کی آیات نازل ہوئیں اوران میں اپنے اعزہ واقارب کو اسلام کی دعوت دینے اوران کو تنبیہ وانذار کا حکم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رشتہ دار خواتین اوربیٹیوں کو جمع کیا اورفرمایا:
”اے اہل قریش! اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اپنی جانوں کو اس کے عذاب سے بچاؤ، اللہ کے معاملہ میں میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنی عبد مناف! اللہ کے معاملہ میں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب!اللہ کے معاملہ میں میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اے صفیہ، رسول اللہ کی پھوپھی! میں اللہ کے معاملہ میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے فاطمہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے لے لو؛مگراللہ کے معاملہ میں میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتا“۔ترجمہ(بخاری شریف،حدیث نمبر:4771)
عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چند گھر دعوت کا مرکز تھا،جہاں تعلیم ہوتی تھی اوردعوت اسلام دی جاتی تھی،ان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر پہلا تھا،جہاں قریش کے لوگوں کو کھانے پر بلاکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی دعوت دی۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ گھر خواتین کو علم ودین اورقرآن سکھانے کا مرکز تھا۔دوسرا مرکز’دارارقم‘تھا اورتیسرا گھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تھا،جہاں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تھے اورآپ کے ذریعہ ان کو دین کی باتیں سیکھنے کا موقع ملتا اوروہ قرآن کو پڑھتے اوریاد کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا بنیادی مقصد احکام الٰہی اورقرآن کی تعلیم وتزکیہ تھا۔ سورۃ الجمعہ میں ہے:
”اسی نے اٹھایا امیوں میں ایک رسول،انہی میں سے جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اوران کو پاک کرتا ہے اوران کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اوربے شک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے“۔ترجمہ (سورہ جمعہ:2)
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے کہ مجھے معلم کے طور پر بھیجا گیا ہے اورمیرا فرض ہے کہ میں لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے والا بنوں۔ایک تفصیلی واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا کہ:
”جو بی بی مجھ سے پوچھے گی، ان میں سے فوراً اسے خبر دوں گا؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا نہیں؛بلکہ مجھے آسانی سے سکھانے والا بنا کر بھیجا ہے“۔ترجمہ (مسلم شریف،حدیث نمبر:1478)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں مردوں کے ساتھ عورتوں کی بھی تعلیم وتربیت برابر کرتے تھے اورآپ کی دعوتی واصلاحی مجالس میں خواتین بھی شامل ہوتی تھیں اوروہ بھی ایسے ہی قرآن یاد کرتی تھیں،جس طرح مرد یاد کرتے تھے۔وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اورباتوں کواسی طرح یاد کرتی تھیں اوران پر عمل کرتی تھیں،جس طرح مرد یاد کرتے اورعمل کرتے تھے۔مکہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عم زاد ہمشیرہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کے گھرجایا کرتے تھے۔معراج کا واقعہ ان ہی کے گھر قیام کے دوران پیش آیا۔وہ کہتی ہیں کہ (معراج کا)یہ سفر جب پیش آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مکان میں تھے،آپ نے عشا کی نماز ادا کی،پھر سوگئے اورہم بھی،صبح صادق سے کچھ قبل آپ نے ہم سب کو بیدار کیا،آپ کی معیت میں ہم نے فجر کی نماز ادا کی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام ہانی!جیساکہ تم واقف ہو،عشا کی نماز میں نے تمہارے ساتھ ادا کی،پھر میں یروشلم گیا اوروہاں نماز ادا کی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسرا اورمعراج کا پورا واقعہ بیان کیا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام:2/43۔44)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آئے توحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ آئے اوردیگر صحابہ بھی اس کے بعد یا اس کے پہلے اپنے گھروالوں کے ساتھ مدینہ آئے،وہاں جب مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی تو مردوخواتین مسجد نبوی میں آتے،نمازیں ادا کرتے اورعلمی وتربیتی مجالس میں شریک ہوتے،نمازوں میں عشااورفجر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی بڑی سورتیں تلاوت فرماتے تھے،رات کی نماز ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو مسجد میں آکر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دی اورفرمایا کہ:
”جب تمہاری خواتین رات میں مسجد جانا چاہیں تو انہیں اجازت دے دو“۔ترجمہ (بخاری شریف،حدیث نمبر:865)
خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے ہمراہ نماز کے لیے مسجد آیا کرتی تھیں اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرتی تھیں؛مگر جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بچے کی رونے کی آواز سنتے تو نماز میں سورہ کی تلاوت کو مختصر کردیتے؛تاکہ بچہ کی ماں اپنے بچے کی نگہ داشت کرسکے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”امام کو چاہیے کہ نماز کو ہلکی کرے؛اس لیے جماعت میں بچے، بوڑھے، ناتواں اوربیمارہوتے ہیں اورجب اکیلے نماز پڑھے تو جس طرح چاہے پڑھے“۔ترجمہ (مسلم شریف،حدیث نمبر:467)
مسجد نبوی کی تعلیمی مجالس کے علاوہ خواتین اپنے مسائل کو پیش کرکے ان کے بارے میں صحیح جواب معلوم کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر آتیں اوراپنے سوال کا جواب پاتیں۔ایک بار ایک نوجوان خاتون حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گئی اوراس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
”اے اللہ کے رسول!میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے سے اس لیے کردی ہے؛تاکہ اس کی کم تر حیثیت برتر ہوجائے،میں اس نکاح سے خوش نہیں ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کے معاملہ کو اس کے اختیار میں دے دیا کہ چاہے وہ نکاح برقراررکھے اورچاہے تو اس سے علاحدگی اختیار کرے۔اس عورت نے عرض کیا کہ میں اپنے والد کے عمل پر اب راضی ہوں؛لیکن میں نے یہ اس لیے کیا کہ عورتوں کو معلوم ہوجائے کہ اولاد کے نکاح کے معاملے میں والدین کا ان پر ان کی مرضی کے خلاف کوئی حق نہیں ہے“۔ترجمہ(مسند احمد،حدیث نمبر:25043،نسائی،حدیث نمبر:3269،ابن ماجہ،حدیث نمبر:1874)
مدینہ منورہ میں اسلامی تعلیم کی اشاعت نے خواتین کے اندر اتنا شعور پیدا کردیا تھا کہ وہ خواتین اپنے اختیارات کو سمجھنے لگی تھیں اوراس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سوال کیا کرتی تھیں۔صحابیات نے اس کی بہتر مثالیں قائم کیں،وہ تحصیل علم میں تکلف وحیا سے کام نہ لیتی تھیں،ان کے سوالات کی نوعیت عورتوں کے مسائل،عمومی امور اوربچوں وبوڑھوں کے مسائل اورآخرت میں ثواب وعقاب،موت وعذاب وغیرہ سے متعلق ہوتی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوخواتین دونوں کو علمی سوال کرنے پر ہمت افزائی فرماتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”بلاشبہ جہالت کا علاج پوچھنا(سوال کرنا)ہے“۔ترجمہ(سنن ابوداؤد،حدیث نمبر:336)

اللہ جل شانہ نے ایمان والوں کو ہدایت کی ہے کہ سوال کے ذریعہ علم حاصل کرو۔
”اگر تم نہیں جانتے ہو تو ذکر والوں سے پوچھ لو“۔ترجمہ(سورہ نحل:43)
ازواج مطہرات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر سوالات کیا کرتی تھیں اوران کی علمی اوروعظ کی مجلسوں میں مسجد نبوی وغیرہ میں شریک ہوا کرتی تھیں۔خاص طور پر عیدین پر جمع ہوتی تھیں۔یہ حکم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات،صاحب زادیوں،عام خواتین اورلڑکیوں کو بھی تھا کہ وہ عیدین میں شریک ہوں،ایسے مواقع پر عیدین کی نماز کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خصوصی خطبہ دیا کرتے تھے۔اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ چاہے عورت حیض کی حالت میں ہو اورنماز نہ پڑھ سکتی ہو،پھر بھی وہ جائے اورذکر الٰہی اورعلم کی مجلس میں شریک ہوں۔(صحیح البخاری،باب شہود الحائض للعیدین)
ان مجلسوں میں خواتین مردوں کی طرح قرآن وحدیث سنتیں اورانہیں یاد کرتیں،وہ نہ صرف یاد کرتیں؛بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال واعمال کا بغور مشاہدہ کرتیں،انہیں اپنے دماغ کے ساتھ قلوب میں جاگزیں کرتیں اورجب واپس جاتیں تو اپنے گھر والوں کے علاوہ دوسرے مرد وخواتین کو جو وہاں نہ ہوتے ان کو مطلع کرتی تھیں۔عہد نبوی میں تحصیل علم کے لیے خواتین کی رغبت اورجان فشانی بہت تھی،وہ کوئی موقع خالی نہیں جانے دینا چاہتی تھیں۔خواتین یوں توعمومی مجلسوں میں شریک ہوا کرتی تھیں؛لیکن ان کے بعض مسائل کے استفسار میں شرم وحیا حائل ہوتی تھی؛اس لیے ان کی درخواست پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے سوالات کے جواب کے لیے ایک علاحدہ دن متعین فرمادیا تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے لیے الگ سے جگہ بھی متعین فرمادیتے تھے؛تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ سوال کرسکیں۔حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں:
”ایک عورت کی عقل میں فتور تھا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ سے کام ہے، (یعنی کچھ کہنا ہے جو لوگوں کے سامنے نہیں کہہ سکتی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں کی ماں (یعنی اس کا نام لیا)مجھے اس راستہ(یا گلی)کا پتہ بتاؤ جو تمہارے لیے مناسب ہے،میں وہاں پہنچ کر تمہاری بات کا جواب دوں“۔ترجمہ (مسلم شریف،حدیث نمبر:2326))
وہ عورت کسی معاملہ کے بارے میں گفتگو کرنے کی خواہاں تھی،جہاں کوئی نہ ہو اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منظور فرمالیا۔
بلاشبہ عہد نبوی میں صحابہ کرام اورصحابیات رضی اللہ عنہم وعنہن قرآنی علم کی بڑی شائق تھیں اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے سلسلہ وحی کے رک جانے سے بہت زیادہ غمزدہ ہوگئی تھیں۔روایت میں ہے کہ:
”حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضر ت عمر رضی اللہ عنہ سے کہاکہ وہ ان کے ساتھ ام ایمن کے یہاں چلیں؛کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام ایمن کے یہاں تشریف لے جاتے تھے،دونوں سے ان کی ملاقات ہوئی تو وہ رو رہی تھی، ان دونوں نے کہاکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے(وفات سے)اللہ کی رفاقت کہیں بہتر ہے۔ام ایمن نے جواب دیا:میں اس لیے نہیں رو رہی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی رفاقت میں ہیں؛بلکہ میرے رونے کا سبب یہ ہے کہ نزول وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ دونوں حضرات بھی رو پڑے“۔ترجمہ (مسلم شریف،حدیث نمبر:2454)
علم کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ سب سے آگے تھے۔ ازواج مطہرات علم کے لیے کوئی موقع ضائع نہیں کرتی تھیں،یہاں تک کہ وہ اگر گھریلوکاموں میں ہوتی اوریہ معلوم ہوجاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں کچھ بیان کررہے ہیں تو سارے کاموں کو چھوڑ کر سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہوجاتیں،چناں چہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہااپنا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ:
ایک دن وہ بالوں میں کنگھی کررہی تھیں،اتنے میں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر سے یہ خطاب کرتے ہوئے سنا:اے لوگو!یہ سنتے ہی انہوں نے(اپنے مشاطہ)کنگھی کرنے والی خاتون سے کہاکہ ان کے بال جلد باندھ دے(اورکنگھی کرنا چھوڑدے)،مشاطہ نے کہا:میں آپ پر قربان، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ لوگو!ام سلمہ نے جواب دیا:تف ہے تجھ پر،کیا لوگو میں ہم شامل نہیں ہیں،پھر جلدی جلدی انہوں نے اپنے بال باندھے اورمکان کے اس حصہ میں جاکھڑی ہوئیں،جہاں سے انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اے لوگو!قیامت کے دن جب میں حوض پر کھڑا ہوں گا تو تم گروہ در گروہ حاضر ہوگے،پھر تم میں سے بعض کو دوسری سمت لے جایا جائے گا،میں تمہیں آواز دوں گا کہ آؤ میری جانب آؤ،تب میری پشت پر پکارنے والا کہے گا،آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑدیجئے،یہ آپ کے بعد بدل گئے تھے؛تب میں کہوں گا:دورہو،دورہو“۔(تاریخ دمشق،تراجم النساء،ص:314)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی مجلسوں سے ازواج مطہرات استفادہ کے لیے مشتاق رہتی تھیں۔یہی حال مدینہ منورہ کی دوسری خواتین کا بھی تھا،وہ بھی اس موقع کو کسی بھی حال میں ضائع نہیں ہونے دینا چاہتی تھیں۔حضرت فاطمہ بنت قیس معروف صحابیہ ہیں،وہ مہاجرین کے اولین دستہ میں شامل تھیں،جہاں میں ان کے شوہر شہید ہوگئے تھے؛اس لیے عدت وفات میں عدت کے خاتمہ پر اذان کی آواز سنتے ہی مسجد نبوی میں گئیں،نماز ادا کی اورنماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر گئے اورآپ نے خطاب کیا،جسے انہوں نے یاد کرلیا،ان کی یہ روایت صحیح مسلم اوردیگر حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔خاص بات تھی کہ ان کو جب علم ہوا کہ نماز کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم خطاب فرمائیں گے تو وہ گھر کے بجائے مسجد نبوی میں نماز کے لیے گئیں۔یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام اورصحابیات دونوں علم وعمل میں ممتاز تھے اورانہوں نے مختلف علوم وفنون میں امتیاز حاصل کیا تھا،چاہے وہ قرآن وحدیث ہو،یا شعر وادب،لغت وطب ہو،یا تاریخ وخطاطی،یا مختلف دستکاری کے فنون ہوں،انہوں نے ہر ایک فن میں امتیاز حاصل کیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عہد نبوی میں اولاد کے لیے بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرنے اورتربیت کا ماحول قائم تھا۔عہد نبوی میں والدین اوائل عمر سے ہی بچوں کی تعلیم وتربیت پر توجہ کرتے تھے،ان کو علمی ودینی مجلسوں میں لے جاتے تھے،بچوں کو خواتین بھی تعلیم دیتی تھیں۔یہ بچے قرآن وحدیث اوراخلاقیات،شعروادب ودیگر علوم وفنون،ضروریات زندگی کی دستکاری،گھریلوکاموں کی انجام دہی کے طریقے حاصل کرتے تھے۔عہد نبوی وعہد صحابہ کی نئی نسل کی کامیابی کی ایک اہم وجہ بچپن میں ان کی ماؤں ودیگر خواتین کے ذریعہ ان کی اعلیٰ تعلیم وتربیت تھی،وہ کمسنی ہی میں احکام دین سے روشناس ہوجاتے اوران کے دلوں میں ایمان وتقویٰ راسخ ہوجاتا۔احادیث بیان کرنے میں اکثر اولاد اپنے ماں باپ سے سن کر یاد کرکے بیان کرتے،جس طرح اپنے علم وروایات حدیث کو خواتین صحابیات دیانت داری سے محفوظ رکھتیں،علم کے لیے محنت کرتیں،اس کا اثر بعد کی صدیوں میں بھی قائم رہا۔تقریبا ۲۱/سو صحابیات سے تو موجودہ حدیث کی کتابوں میں ان کی روایات درج ہیں اورعہد صحابہ کے بعد تابعین اورتبع تابعین اوربعد کے ادوار میں آٹھویں اورنویں صدی ہجری تک تو ایسی باکمال مفسرات قرآن ومحدثات خواتین کی تعداد ہر صدی میں سینکڑوں میں ملتء ہے اورہر صدی کے مرد محدثین وائمہ کرام نے خواتین محدثات ومفسرات قرآن سے علم حدیث حاصل کیا اوران سے روایت کی۔چاہے امام ابوحنیفہ ہوں،امام مالک ہوں،امام احمد بن حنبل ہوں،امام محمد بن شہاب زہری ہوں،بیشتر خواتین باضابطہ درس وتدریس کاکام انجام دیتی تھیں اوراس کا کوئی معاوضہ بھی نہیں لیتی تھیں،ایسے شوہروں کی بھی بڑی تعداد ہے،جنہوں نے باضابطہ اپنی بیویوں کی سند سے احادیث بیان کی ہیں۔صحاح ستہ جو احادیث کی معروف ومشہور کتابیں ہیں،ان میں 2539احادیث خواتین صحابیات سے نقل کی گئی ہیں،ایسی خواتین صحابیات جنہوں نے احادیث کو یاد رکھا اوران کو بیان کیا،ان کی تعداد دوہزار سے زائد ہے،یہی حال ان سے منقول دیگر علوم وفنون کا ہے،جو تعداد صحابیات عالمات ومحدثات کی تاریخ وحدیث کی کتابوں میں منقول ہے،ان کی علمی تحریک سے یہ تعداد بڑھتی رہی ہے اوربعض ایک ایک محدثین کے خواتین اساتذہ کی تعداد تین تین تک پہونچتی ہے۔خواتین کی اس علمی محنت،شغف اورتدریس کے لیے کوشش نے پورے عالم اسلام کو دسویں صدی ہجری تک علم وحکمت اوردیگر فنون میں آگے رکھا۔آج بھی اسی تحریک کی ضرورت ہے،ہر گھرکو علم وحکمت،تدریس ومطالعہ والا گھر ہونا چاہیے،یہی طریقہ اس امت کو آگے بڑھائے گا۔اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔آمین

Comments are closed.