مما اپ اللہ کا شکر کیوں ادا نہیں کرتیں؟ 

 

مظاہر حسین عماد عاقب قاسمی

10/11/2022

 

الحمد للّہ میں طالب علمی کے زمانے سے ہی دوران سفر نمازوں کا اہتمام کرتا ہوں اور اپنے مولویانہ لباس کرتے پائجامے میں ہی سفر کرتا ہوں ، چونکہ مجھے گرمی زیادہ لگتی ہے ، اور پسینے زیادہ آتے ہیں ، اس لیے ہر وقت ٹوپی نہیں پہنتا ، البتہ نماز کے دوارن ٹوپی ضرور پہنتا ہوں ، ہر وقت ٹوپی پہنوں یا نہ پہنوں ، میرے جیب میں ٹوپی ہمیشہ رہتی ہے ، اور میں بغیر ٹوپی کے نماز نہیں پڑھتا. 

 

گذشتہ دنوں پانچ ،چھ ،سات نومبر کو مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر برہان پور میں فقہ اکیڈمی انڈیا کا اکتیسواں سیمینار تھا ، اور اس میں زیر بحث آنے والے چار موضوعات میں سے دو موضوعات پر میں نے بھی مقالہ لکھا تھا ، اور اس سیمینار میں شرکت کے لیے مجھے بھی فقہ اکیڈمی کی طرف سے دعوت ملی تھی.

الحمد للّہ دو ہزار آٹھ سے فقہ اکیڈمی انڈیا کے لیے مقالے لکھتا ہوں اور اس کے سیمیناروں میں شرکت کرتا ہوں.

میں تین نومبر کو صبح سوا دس بجے اپنے مقر جامعہ اسلامیہ شانتاپرم کیرالا سے روانہ ہوا ، جامعہ اسلامیہ شانتاپرم سے سوا کلو میٹر کے فاصلے پر پٹیکاڈ ریلوے اسٹیشن ہے جو ستر کلو میٹر لمبے نیلمبور شورنور روٹ کے بالکل وسط میں ہے ، پونے گیارہ بجے پٹیکاڈ ریلوے اسٹیشن پر نیلمبور شورنور اکسپریس آئی اور اس نے مجھے ساڑھے گیارہ بجے شور نور پہونچا دیا.

 

شور نور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ایک چھوٹی سی مسجد ہے ، وہاں گیا اور وضو وغیرہ کے بعد مسجد میں ہی قرآن پڑھنے لگا ، ساڑھے بارہ بجے چند لوگ آئے جن میں ایک وضع قطع سے مولانا صاحب لگ رہے تھے ، ان کی قیادت میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھی ، یعنی پہلے انہوں نے قصر کے ساتھ ظہر کی دو رکعت پڑھائی ، اس کے بعد عصر کی دو رکعت نماز پڑھائی ، اس کو فقہ کی اصطلاح میں جمع و قصر کہا جاتا ہے ،

میں فاضل دیوبند ہوں اور تقریبا تمام مسائل میں فقہ حنفی کی ہی تقلید کرتا ہوں ، مگر کسی کسی مسئلے میں بعض پریشان کن حالات میں فقہ مالکی ، فقہ شافعی اور فقہ حنبلی پر بھی عمل کرلیتا ہوں.

اکیلے سفر کی حالت میں ٹرین میں بھیڑ بھاڑ کو دیکھتے ہوئے میں بھی ظہرین ( ظہر اور عصر ) اور عشائین ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ پڑھ لیتا ہوں ، تاکہ میری نماز سے غیروں کو زیادہ تکلیف نہ پہونچے.

احناف کے یہاں قصر تو ہے جمع نہیں ہے ، بقیہ تینوں مشہور مذاہب فقہیہ ، مالکیہ ، شافعیہ ، اور حنبلیہ کے یہاں قصر بھی ہے اور جمع بھی ، یعنی سفر میں ظہر کے وقت ظہر کی نماز کے فورا بعد ظہر کے وقت میں ہی عصر کی نماز پڑھ سکتے ہیں ، اسی طرح مغرب کی نماز فرض کے فورا بعد عشاء کی نماز پڑھ سکتے ہیں. 

اس مسئلے کو تقریبا ہر عالم جانتا ہے ، عوام کے لیے میں نے اس کی طرف صرف اشارہ کیا ہے ، جمع و قصر کے مکمل احکام یہاں لکھنا مقصود نہیں ہے.

بتانا صرف اتنا ہے کہ میں نے ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھ لیں ، اس کے بعد مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر کھانا کھایا اور آدھا گھنٹہ لیٹ گیا ، اس کے بعد پھر قرآن پڑھنے میں مشغول ہوگیا ، اس مسجد میں پونے تین بجے تک تھا ، اس درمیان میں تین پارے قرآن بھی پڑھے ، میں الحمدللہ حافظ قرآن ہوں ، مگر راجدھانی ایکسپریس کی رفتار سے قرآن نہیں پڑھتا ، مجھے ایک پارہ ختم کرنے میں پینتیس یا چالیس منٹ لگ جاتے ہیں.

ساڑھے تین بجے ارناکلم نظام الدین منگلا لکشادیپ اکسپریس پر سورا ہوا ، مغرب ،عشاء اور فجر کی نمازوں کو اپنی سیٹ کے پاس ہی پڑھا ، میری سیٹ سائڈ لور تھی ، ٹرین جنوب سے شمال کی طرف چل رہی تھی ، اس لیے نماز پڑھنے میں دقت نہیں ہوئی ، ہر کمپارٹمنٹ میں آٹھ سیٹیں ہوتی ہیں ، دو سیٹیں سائڈ میں ہوتی ہیں اور چھ سیٹیں درمیان میں ہوتی ہیں ، تین سیٹیں ایک طرف اور تین دوسری طرف ، ان کے درمیان پاؤں رکھنے کی جگہ ہوتی ہے ، 

میری سائڈ والی سیٹ تھی جو مغرب کی طرف تھی ، میں نے درمیان میں بیٹھے لوگوں سے کہا کہ آپ جوتے چپل اتار کر پاؤں اوپر کرلیں ، انہوں نے بڑی خوش دلی سے پاؤں اوپر کرلیے ، اور میں نے مغرب کی تین رکعات ، عشاء کی قصر کے ساتھ دو رکعات اور وتر کی تین رکعات پڑھیں ، ان نمازوں میں سورہ اخلاص جیسی چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھیں. 

چار نومبر کی فجر کی دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض بھی وہیں پر پڑھیں ،

چار نومبر کو ساڑھے بارہ بجے کے قریب ہماری ٹرین پنویل ( بمبئی سے قریب) پہونچی ، وہاں تین اپاہج سوار ہوئے ، پہلا تھوڑا لنگڑا کر چل رہا تھا ، دوسرا بیساکھی کے سہارے کود کود کر چل رہا تھا ، یہ بہت بڑا مذہبی اور جوشیلا لگ رہا تھا ، اس نے جو شرٹ پہنی تھی اس پر سینکڑوں کی تعداد میں رام رام بنا ہوا تھا ، اور تیسرے کے دونوں پاؤں پوری طرح ڈیمیج تھے ، وہ گھسک گھسک کر آیا تھا ، وہ بالکل بھی چل نہیں سکتا تھا ، اس کے لیے ویل چیئر تھا ، ان تینوں کے ساتھ بارہ پندرہ سالہ دو بچے بھی تھے جو پوری طرح تندرست اور خو بصورت تھے ، ان کے پاس سامان بھی زیادہ تھا اور ویل چیئر نے کافی جگہ گھیر رکھی تھی ، اب یہاں پر نماز پڑھنا بہت مشکل تھا ، جگہ بھی نہیں تھی اور ایسا محسوس ہوا کہ شاید ان کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے جگہ بھی نہیں ہوگی ، میں نماز پڑھنے کی جگہ تلاش کرنے کے لیے نکلا ، میری ہی بوگی میں چند کمپارٹمنٹ کے بعد تبلیغی جماعت کے چند افراد دکھائی دیے ، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ حضرات نے نماز پڑھ لی ؟

انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ، آپ کو پڑھنا ہے ، انہوں نے ایک لمبا بیگ جس میں شاید کمبل تھا ، سترہ کے طور پر میرے سامنے رکھا اور میں نے دو رکعت ظہر کی نماز پڑھ لی ، میں دو بارہ کھڑا ہوا کہ عصر بھی پڑھ لوں ، تو اوپر بیٹھے ایک صاحب نے کہا ، دو رکعت ہی پڑھی جاتی ہے ، میں سمجھ گیا ، میں نے سوچا کہ ان کو یہی بتایا گیا ہے ، اور اس مسئلے میں وہ دوسری آراء کو نہیں جانتے اور ان کے سامنے اپنے فضائل بیان کرنا مناسب نہیں ہے ، میں نے کہا اچھا جب آپ عصر کی نماز پڑھیں تو مجھے بتادیں میری سیٹ نمبر سات ہے. 

عصر کے وقت ایک صاحب آئے اور کہا چلو عصر کی نماز پڑھ لو، میں نے کہا ابھی وضو کرکے آتا ہوں ، تبلیغی جماعت والے دو دو آدمی جماعت بنا کر نماز پڑھتے ہیں ، میں نے ان کے ساتھ عصر اور مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی. 

عشاء کی نماز پڑھنے کے وقت ان میں سے ایک صاحب بلانے کے لیے آئے ، میں نے کہا مجھے برہان پور اترنا ہے ، اور یہ ٹرین پونے نو بجے برہان پور پہونچ جائے گی ، اور میں وہیں پہونچ کر عشاء اور وتر پڑھوں گا ، 

 

اب واپسی کا قصہ پڑھیں:

برہان پور سے واپسی آٹھ نومبر کو ، نظام الدین ارناکلم منگلا لکشادیپ اکسپریس سے تھی اور برہان پور میں اس کا وقت رات کو نو بج کر 53 منٹ تھا ، مگر وہ پونے تین گھنٹے لیٹ تھی ، اور وہ سوا بارہ بجے شب کو برہان پور پہونچی تھی ، برہان پور دو گھنٹہ بائیس منٹ لیٹ پہونچی تھی ،

سلیپر فور (S4) میں باسٹھ نمبر میری سیٹ تھی ،اس بوگی میں تل رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی ، بڑی مشکل سے سیٹ کے پاس پہونچا ، میری سیٹ پر بھی ایک صاحب سورہے تھے ، میں نے انہیں جگایا اور اپنے دونوں بیگ سمیت اوپر چلا گیا ، نیچے سیٹ کے نیچے بیگ رکھنے کی جگہ بھی نہیں تھی ، بڑی مشکل سے سویا ، بیگ رکھنے کے بعد جگہ کم ہوگئی تھی ، لوگ باتیں کر رہے تھے ، جنرل ٹکٹ والے اور ویٹنگ والے تھے ، کوئی زور زور سے فون پر باتیں کر رہا تھا ، تو کوئی اپنے موبائل کا اسپیکر آن کرکے گانے سن رہا تھا. 

نیند کے غلبے سے کبھی کبھی آنکھ لگ جاتی تھی مگر شور شرابے کی وجہ سے بار بار آنکھ کھل جاتی تھی.

نو نومبر کو فجر کی نماز پڑھنے کے لیے وضو کیا ، اور دیکھا کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے تو اپنی سیٹ (جو سب سے اوپر تھی ) پر دو رکعت فجر کی سنت اور دو رکعت فجر کی فرض پڑھ لیا ،

ساڑھے آٹھ بجے صبح کو میری ٹرین پنویل پہونچی ، نوے فیصد بھیڑ یہیں اتر گئی ،

برہان پور سے میرے ساتھ ایک بوہرہ فیملی سوار ہوئی تھی ، وہ تین افراد تھے ، میاں بیوی اور چودہ پندرہ سالہ ان کی ایک بچی ، میاں کی عمر تقریبا پچپن سال کے قریب تھی اور بیوی میاں سے پانچ دس سال چھوٹی تھی ، بوہروں کے مردوں اور عورتوں کا خاص لباس ہوتا ہے ، مرد ایک مشت یا اس سے بڑی داڑھی رکھتے ہیں ، لمبا کرتا پہنتے ہیں ، پائجامہ پہنتے ہیں ، وضع قطع مکمل طور سے عالمانہ ہوتا ہے. 

بوہرہ برادری کے مرد ہمیشہ سر پر ایک خاص قسم کی سفید ٹوپی پہنتے ہیں جس پر سنہری رنگ کا سونے کی چمک جیسا دائرہ بنا ہوا ہوتا ہےجبکہ خواتین دو حصوں پر مشمل مختلف رنگوں کا ایک برقع زیب تن کرتی ہیں جسے ’ردا‘ کہا جاتا ہے۔اس کی بناوٹ اور تراش خراش ، یہاں تک کہ اس کے رنگ اور سلائی کڑھائی بھی عام برقعوں سے قطعی مختلف ہوتی ہے۔ بوہرہ خواتین چہرے پر حجاب نہیں پہنتیں البتہ سر ڈھکا ہوتا ہے۔

 

سفید رنگ کا پاجامہ، قمیص اور شیروانی مردوں کا لباس ہے۔ عورتین لمبا سا لہنگا زیب تن کرتی ہیں جسے ’گھاگرا‘ کہا جاتا ہے۔مردوں کے لئے داڑھی رکھنا ضروری ہے ۔ اس کا منڈوانا گناہ تصور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی بالغ بوہرہ داڑھی کے بغیر نظر نہیں آتا۔

میرے ساتھ برہان پور سے سفر کرنے والی فیملی بھی پنویل  اتر گئی.

 

اب وہ قصہ سنیے جس کے ایک جملے کو میں اس مضمون کی سرخی بنائی ہے ،

پونے ایک بجے تھے ،ٹرین چپلون اور رتناگری کے درمیان دوڑ رہی تھی ، کھانے بیچنے والا سامنے سے گذرا ، میں نے اسی روپے میں سبزی بریانی خریدی ، اور کھانے کو ایک طرف رکھ کر وضو کرنے چلا گیا ، وضو کر کے آنے کے بعد میں نے اپنے بیگ سے مصلی نکالا.

چھ سیٹوں والے کیبن میں مجھ سمیت چھ افراد تھے ، میری سیٹ باسٹھ نمبر والی تھی سنتاون اور ساٹھ نمبر والی سیٹیں ایک ہندو فیملی کی تھیں ان کے ساتھ چار پانچ سالہ ایک بچی بھی تھی ، وہاں پر موجود تین افراد کی سیٹیں کنفرم نہیں تھیں یا وہ جنرل ٹکٹ والے ، دو اوپر والی دونوں سیٹوں پر سورہے تھے اور انسٹھ نمبر والی سیٹ پر بیٹھا تھا ، میں نے انسٹھ نمبر پر بیٹھے نوجوان سے کہا تم ادھر پورب کی طرف منہ کرکے بیٹھو ،

سنتاون نمبر سیٹ والا جو سنتاون اور انٹھاون نمبر سیٹوں کے درمیان بیٹھا تھا ، اس نے میرے ہاتھ میں مصلی دیکھ کر کہا کیا نماز پڑھنا ہے ، میں نے کہا ہاں ! وہ کھڑا ہوگیا ، میں نے کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں آپ صرف اور کھڑکی طرف کھسک جائیں ، مگر وہ میرے کئی بار کہنے کے باوجود کھڑا ہوگیا اور میرے پیچھے چلا گیا ، اس کی بیوی جو ساٹھ اور اکسٹھ نمبر سیٹ کے درمیان بیٹھی تھی ، اسے کہا ان کے نماز کے کپڑے سے پاؤں نہیں لگنی چاہیے ، وہ خاتون بھی پاؤں اوپر کرکے کھڑکی سے لگ کر بیٹھ گئی ،

مجھے نماز کے لیے کھڑے ہوتے دیکھ کر اس جوڑے کی چار پانچ سالہ ذہین بچی نے پوچھا کہ مما نماز کیوں پڑھتے ہیں ، اس کی مما نے جواب دیا ، جب کھانا کھاتے ہیں تو اللہ یعنی بھگوان کا شکر ادا کرنے کے لیے نماز پڑھتے ہیں ،

چونکہ وہ بچی بالکل پاس بیٹھی تھی اس لیے دوران قیام میری نظر اس پر پڑ رہی تھی اور میں دیکھ رہا تھا کہ وہ میری نماز کی ایک ایک حرکت کا بغور مطالعہ کر رہی ہے ، نماز کے بعد بھی وہ مجھے بہت دیر تک دیکھتی رہی ، تقریبا ایک گھنٹے گذرنے کے بعد اس نے اپنی مما سے بڑا عجیب سوال کیا ،

مما اپ کھانے سے پہلے نماز پڑھ کے اللہ کا شکر کیوں ادا نہیں کرتی ،

اس بچی کے ماں نے کہا ” میں شکر ادا کرتی ہوں نا ”

بچی جسے اس کے والدین لالی کہ کر پکار رہے تھے ، اس نے کئی بار یہ سوال دہرائے

*مما اپ کھانے سے پہلے نماز پڑھ کے اللہ کا شکر کیوں ادا نہیں کرتی ،*

اور اس کی مما نے یہی جواب دیا

” *میں شکر ادا کرتی ہوں نا "*

میرے دل سے دعا نکلی اے اللہ اس بچی کو ہزاروں کی ہدایت کا ذریعہ بنا ،

جو حضرات سفر میں اپنے کپڑے بدل لیتے ہیں اور عالم یا مسلمان نہ دکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان سے گذارش ہے کہ وہ ایسا نہ کریں.

آپ جہاں بھی رہیں اسلام کے ترجمان بن کر رہیں ، سفر میں بھی نمازوں کا مکمل اہتمام کریں ، قرآن پڑھیں ، تحریر و تقریر سے زیادہ مؤثر عمل ہوتا ہے ، اور اپنے اعمال سے اسلام کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیں.

Comments are closed.